<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 14:24:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 14:24:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مردوں کے لیے مانع حمل دوا کی تیاری میں پیشرفت
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1179564/</link>
      <description>&lt;p&gt;سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مردوں کے لیے مانع حمل دوا کو تیار کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;منہ کے ذریعے دی جانے والی اس دوا کے چوہوں پر تجربات کے دوران اسے 99 فیصد تک مؤثر دریافت کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کے مطابق اس دوا کے استعمال سے کسی قسم کے نمایاں مضر اثرات بھی مرتب نہیں ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اب انہیں توقع ہے کہ انسانوں پر اس کے ٹرائلز 2022 کے آخر تک شروع ہو جائیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس دوا پر ہونے والے &lt;a href="https://www.sciencealert.com/new-attempt-at-a-side-effect-free-male-contraceptive-has-proven-effective-in-mice"&gt;&lt;strong&gt;تحقیقی کام&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے نتائج امریکن کیمیکل سوسائٹیز اسپرنگ میٹنگ میں پیش کیے گئے اور ماہرین کو توقع ہے کہ اس سے مردوں کے لیے برتھ کنٹرول آپشنز بڑھانے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ خواتین کے لیے مانع حمل ادویات تو 1960 کی دہائی سے دستیاب ہیں مگر مردوں کے حوالے سے ایسا کوئی آپشن موجود نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکا کی مینیسوٹا یونیورسٹی کے عبداللہ النعمان نے بتایا کہ متعدد تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ اب تک مردوں کے لیے دوا کی شکل میں مانع حمل آپشن دستیاب نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خواتین کے لیے دستیاب ادویات کے کچھ مضر اثرات بھی ہوتے ہیں جیسے ہارمونز متاثر ہونا، وزن بڑھنا اور دیگر۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے سائنسدانوں نے مردوں کے لیے نان ہارمونل دوا کو تیار کیا جو ایک پروٹین ریٹینوک ایسڈ ریسیپٹر (آر اے آر) ایلفا کو ہدف بناتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جسم کے اندر وٹامن اے مختلف اقسام میں بدل جاتا ہے جن میں آر اے آر بھی شامل ہے، جو خلیات کی نشوونما، اسپرم کی تشکیل اور دیگر میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ریٹینوک ایسڈ کو ان افعال کے لیے آر اے آر سے رابطے کی ضرورت ہوتی ہے اور لیبارٹری تجربات میں ثابت ہوا کہ چوہوں میں آر اے آر جینز کے بغیر دوا مؤثر ثابت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے لیے محققین نے ایک مرکب تیار کیا جو آر اے آر کو بلاک کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کیمیکل کو وائے سی ٹی 529 کا نام دیا گیا ہے جو آر اے آر ایلفا، آر اے آر بیٹا اور آر اے آر گیما سے رابطے کے لیے ڈیزائن کای گیا تاکہ ممکنہ مضر اثرات کو کم از کم رکھا جاسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے چوہوں کو 4 ہفتوں تک استعمال کرایا تو اسپرم کاؤنٹ میں ڈرامائی کمی آئی اور حمل کی روک تھام میں 99 فیصد تک مؤثر ثابت ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے جسمانی وزن، کھانے کی خواہش اور مجموعی جسمانی سرگرمیوں کو بھی مانیٹر کیا اور کسی قسم کے مضر اثرات دریافت نہیں کیے، مگر ان کا کہنا تھا کہ وہ سردرد یا مزاج میں تبدیلیوں جیسے اثرات کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ چوہے اس کو رپورٹ نہیں کرسکتے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس دوا کا استعمال ترک کرنے کے 4 سے 6 ہفتوں بعد چوہوں کی اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت ایک بار پھر پہلے والی سطح پر آگئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کے مطابق انسانی ٹرائلز پر کام شروع ہونے کے بعد کامیابی ملنے پر ممکن ہے کہ آئندہ 5 برس تک یہ مارکیٹ میں دستیاب ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مردوں کے لیے مانع حمل دوا کو تیار کیا ہے۔</p>

<p>منہ کے ذریعے دی جانے والی اس دوا کے چوہوں پر تجربات کے دوران اسے 99 فیصد تک مؤثر دریافت کیا گیا۔</p>

<p>محققین کے مطابق اس دوا کے استعمال سے کسی قسم کے نمایاں مضر اثرات بھی مرتب نہیں ہوئے۔</p>

<p>اب انہیں توقع ہے کہ انسانوں پر اس کے ٹرائلز 2022 کے آخر تک شروع ہو جائیں گے۔</p>

<p>اس دوا پر ہونے والے <a href="https://www.sciencealert.com/new-attempt-at-a-side-effect-free-male-contraceptive-has-proven-effective-in-mice"><strong>تحقیقی کام</strong></a> کے نتائج امریکن کیمیکل سوسائٹیز اسپرنگ میٹنگ میں پیش کیے گئے اور ماہرین کو توقع ہے کہ اس سے مردوں کے لیے برتھ کنٹرول آپشنز بڑھانے میں مدد ملے گی۔</p>

<p>خیال رہے کہ خواتین کے لیے مانع حمل ادویات تو 1960 کی دہائی سے دستیاب ہیں مگر مردوں کے حوالے سے ایسا کوئی آپشن موجود نہیں۔</p>

<p>امریکا کی مینیسوٹا یونیورسٹی کے عبداللہ النعمان نے بتایا کہ متعدد تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ اب تک مردوں کے لیے دوا کی شکل میں مانع حمل آپشن دستیاب نہیں۔</p>

<p>خواتین کے لیے دستیاب ادویات کے کچھ مضر اثرات بھی ہوتے ہیں جیسے ہارمونز متاثر ہونا، وزن بڑھنا اور دیگر۔</p>

<p>اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے سائنسدانوں نے مردوں کے لیے نان ہارمونل دوا کو تیار کیا جو ایک پروٹین ریٹینوک ایسڈ ریسیپٹر (آر اے آر) ایلفا کو ہدف بناتی ہے۔</p>

<p>جسم کے اندر وٹامن اے مختلف اقسام میں بدل جاتا ہے جن میں آر اے آر بھی شامل ہے، جو خلیات کی نشوونما، اسپرم کی تشکیل اور دیگر میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔</p>

<p>ریٹینوک ایسڈ کو ان افعال کے لیے آر اے آر سے رابطے کی ضرورت ہوتی ہے اور لیبارٹری تجربات میں ثابت ہوا کہ چوہوں میں آر اے آر جینز کے بغیر دوا مؤثر ثابت ہوتی ہے۔</p>

<p>اس کے لیے محققین نے ایک مرکب تیار کیا جو آر اے آر کو بلاک کرتا ہے۔</p>

<p>اس کیمیکل کو وائے سی ٹی 529 کا نام دیا گیا ہے جو آر اے آر ایلفا، آر اے آر بیٹا اور آر اے آر گیما سے رابطے کے لیے ڈیزائن کای گیا تاکہ ممکنہ مضر اثرات کو کم از کم رکھا جاسکے۔</p>

<p>محققین نے چوہوں کو 4 ہفتوں تک استعمال کرایا تو اسپرم کاؤنٹ میں ڈرامائی کمی آئی اور حمل کی روک تھام میں 99 فیصد تک مؤثر ثابت ہوا۔</p>

<p>محققین نے جسمانی وزن، کھانے کی خواہش اور مجموعی جسمانی سرگرمیوں کو بھی مانیٹر کیا اور کسی قسم کے مضر اثرات دریافت نہیں کیے، مگر ان کا کہنا تھا کہ وہ سردرد یا مزاج میں تبدیلیوں جیسے اثرات کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ چوہے اس کو رپورٹ نہیں کرسکتے۔</p>

<p>اس دوا کا استعمال ترک کرنے کے 4 سے 6 ہفتوں بعد چوہوں کی اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت ایک بار پھر پہلے والی سطح پر آگئی۔</p>

<p>محققین کے مطابق انسانی ٹرائلز پر کام شروع ہونے کے بعد کامیابی ملنے پر ممکن ہے کہ آئندہ 5 برس تک یہ مارکیٹ میں دستیاب ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1179564</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Mar 2022 20:14:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/03/623c87f1cfffc.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/03/623c87f1cfffc.jpg"/>
        <media:title>یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں دریافت کی گئی — پکسا بائے فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
