<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 05:16:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 05:16:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انٹار کٹیکا کی اسلام آباد سے بھی بڑی آئس شیلف اچانک غائب ہوگئی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1179611/</link>
      <description>&lt;p&gt;انٹار کٹیکا میں اسلام آباد سے بھی بڑے رقبے پر پھیلی آئس شیلف کے ڈرامائی اختتام کا مشاہدہ &lt;a href="https://www.cnet.com/science/climate/antarctic-ice-shelf-almost-as-big-as-los-angeles-completely-collapses/"&gt;&lt;strong&gt;سیٹلائیٹ تصاویر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مشرقی انٹار کٹیکا کے ساحل پر کونگر آئس شیلف 15 مارچ کو مکمل طور پر منہدم ہوگئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس آئس شیلف کا رقبہ 1200 اسکوائر کلومیٹر تھا اور اگر آپ کو علم نہ ہو تو اسلام آباد کا رقبہ 906 کلومیٹر سے کچھ زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ووڈز ہول اوشین او گرافک انسٹیٹوٹ ناسا کی ماہرین کیتھرین والکر نے سیٹلائٹ تصاویر کو 24 مارچ کو ٹوئٹر پر شیئر کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;    &lt;span&gt;
        &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
            &lt;a href="https://twitter.com/CapComCatWalk/status/1507137389432434739"&gt;&lt;/a&gt;
        &lt;/blockquote&gt;
    &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ٹوئٹ میں موجود جی آئی ایف میں دکھایا گیا کہ 14 مارچ سے آئس شیلف غائب ہونا شروع ہوئی اور 16 مارچ کی تصویر میں بالکل غائب ہوگئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلیا کی موناش یونیورسٹی کے ماہر اینڈریو میکینٹوش نے بتایا کہ کونگر آئس شیلف وہاں موجود تھی اور اچانک غائب ہوگئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئس شیٹس اس برطانوی براعظم کے سمندر میں برف کے بہاؤ کو روکے رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں اور اینڈریو میکنٹوش نے بتایا کہ اگر وہ منہدم ہوجائیں تو برف کے بہاؤ کی رفتار بڑھ جائے گی جس کا نتیجہ سمندروں کی سطح میں اضافے کی شکل میں نکلے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;    &lt;span&gt;
        &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
            &lt;a href="https://twitter.com/icy_pete/status/1507196466699378691?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1507196466699378691%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https://www.cnet.com/science/climate/antarctic-ice-shelf-almost-as-big-as-los-angeles-completely-collapses/"&gt;&lt;/a&gt;
        &lt;/blockquote&gt;
    &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انٹار کٹیکا کو حال ہی میں غیرمعمولی شدید درجہ حرارت کا سامنا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مشرقی انٹار کٹیکا میں موجود کنکورڈیا اسٹیشن کے مطابق اس خطے میں درجہ حرارت مارچ کے وسط میں منفی 11.8 سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا جو کہ سال کے اس حصے کی اوسط سے 30 ڈگری زیادہ تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ درجہ حرارت اس خطے میں چلنے والی گرم ہوا کا نتیجہ تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ جاننا تو بہت مشکل ہے کہ زیادہ درجہ حرارت اس آئس شیلف کے منہدم ہونے کا باعث بنی مگر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کونگر کے ارگرد کا ماحول کس حد تک بدل گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ زیادہ بہتر طریقے سے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مشرقی انٹارکٹیکا میں میں گرم موسم نے برف کے پگھلنے پر کس حد تک اثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1061155"&gt;&lt;strong&gt;جولائی 2017 میں انٹارکٹیکا کے برفانی خطے لارسن سی سے 5800 اسکوائر کلومیٹر بڑا تودہ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; الگ ہوا تھا جس وزن ایک کھرب ٹن تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس برفانی تودے کے الگ ہونے سے کئی سال پہلے ہی ایک بہت بڑی دراڑ نمودار ہونے لگی تھی مگر مئی 2017 کے آخر میں یہ دراڑ 17 کلو میٹر تک پھیل گئی تھی جبکہ جون کے آخر میں اس کی رفتار تیز ہوگئی اور روزانہ دس میٹر سے زائد تک پہنچ گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سائنسدانوں کے پاس انٹارکٹیکا میں موسم کی صورتحال کے حوالے سے مستقبل کی معلومات موجود نہیں جس نے انہیں زیادہ فکر مند کیا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمپیوٹر کی پیشگوئی سے عندیہ ملتا ہے کہ اگر اسی شرح سے زہریلی گیسوں کا فضا میں اخراج جاری رہا تو دنیا بھر کا موسم زیادہ گرم ہوگا جس کے نتیجے میں برفانی براعظم کے مختلف حصے تیزی سے پگھل جائیں گے جس سے اس صدی کے آخر تک سمندری سطح میں چھ فٹ یا اس سے زائد کا اضافہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سائنسدانوں کے مطابق کسی تحقیق کے نتائج سامنے آنے میں کئی برس لگ جائیں گے مگر سمندری سطح کی رفتار بڑھنے کے حوالے سے فوری تفصیلات جاننا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ابھی سائنسدانوں کو معلوم نہیں کہ انٹارکٹیکا کے مختلف حصے کب تک پگھل کر سمندر کا حصہ بن جائیں گے مگر کچھ بدترین پیشگوئیاں یہ ہیں کہ ایسا رواں صدی کے وسط میں ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انٹار کٹیکا میں اسلام آباد سے بھی بڑے رقبے پر پھیلی آئس شیلف کے ڈرامائی اختتام کا مشاہدہ <a href="https://www.cnet.com/science/climate/antarctic-ice-shelf-almost-as-big-as-los-angeles-completely-collapses/"><strong>سیٹلائیٹ تصاویر</strong></a> میں کیا گیا ہے۔</p>

<p>مشرقی انٹار کٹیکا کے ساحل پر کونگر آئس شیلف 15 مارچ کو مکمل طور پر منہدم ہوگئی۔</p>

<p>اس آئس شیلف کا رقبہ 1200 اسکوائر کلومیٹر تھا اور اگر آپ کو علم نہ ہو تو اسلام آباد کا رقبہ 906 کلومیٹر سے کچھ زیادہ ہے۔</p>

<p>ووڈز ہول اوشین او گرافک انسٹیٹوٹ ناسا کی ماہرین کیتھرین والکر نے سیٹلائٹ تصاویر کو 24 مارچ کو ٹوئٹر پر شیئر کیا۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>    <span>
        <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
            <a href="https://twitter.com/CapComCatWalk/status/1507137389432434739"></a>
        </blockquote>
    </span></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس ٹوئٹ میں موجود جی آئی ایف میں دکھایا گیا کہ 14 مارچ سے آئس شیلف غائب ہونا شروع ہوئی اور 16 مارچ کی تصویر میں بالکل غائب ہوگئی۔</p>

<p>آسٹریلیا کی موناش یونیورسٹی کے ماہر اینڈریو میکینٹوش نے بتایا کہ کونگر آئس شیلف وہاں موجود تھی اور اچانک غائب ہوگئی۔</p>

<p>آئس شیٹس اس برطانوی براعظم کے سمندر میں برف کے بہاؤ کو روکے رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں اور اینڈریو میکنٹوش نے بتایا کہ اگر وہ منہدم ہوجائیں تو برف کے بہاؤ کی رفتار بڑھ جائے گی جس کا نتیجہ سمندروں کی سطح میں اضافے کی شکل میں نکلے گا۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>    <span>
        <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
            <a href="https://twitter.com/icy_pete/status/1507196466699378691?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1507196466699378691%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https://www.cnet.com/science/climate/antarctic-ice-shelf-almost-as-big-as-los-angeles-completely-collapses/"></a>
        </blockquote>
    </span></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>انٹار کٹیکا کو حال ہی میں غیرمعمولی شدید درجہ حرارت کا سامنا ہوا ہے۔</p>

<p>مشرقی انٹار کٹیکا میں موجود کنکورڈیا اسٹیشن کے مطابق اس خطے میں درجہ حرارت مارچ کے وسط میں منفی 11.8 سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا جو کہ سال کے اس حصے کی اوسط سے 30 ڈگری زیادہ تھا۔</p>

<p>یہ درجہ حرارت اس خطے میں چلنے والی گرم ہوا کا نتیجہ تھا۔</p>

<p>یہ جاننا تو بہت مشکل ہے کہ زیادہ درجہ حرارت اس آئس شیلف کے منہدم ہونے کا باعث بنی مگر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کونگر کے ارگرد کا ماحول کس حد تک بدل گیا ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ زیادہ بہتر طریقے سے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مشرقی انٹارکٹیکا میں میں گرم موسم نے برف کے پگھلنے پر کس حد تک اثر کیا ہے۔</p>

<p>اس سے قبل <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1061155"><strong>جولائی 2017 میں انٹارکٹیکا کے برفانی خطے لارسن سی سے 5800 اسکوائر کلومیٹر بڑا تودہ</strong></a> الگ ہوا تھا جس وزن ایک کھرب ٹن تھا۔</p>

<p>اس برفانی تودے کے الگ ہونے سے کئی سال پہلے ہی ایک بہت بڑی دراڑ نمودار ہونے لگی تھی مگر مئی 2017 کے آخر میں یہ دراڑ 17 کلو میٹر تک پھیل گئی تھی جبکہ جون کے آخر میں اس کی رفتار تیز ہوگئی اور روزانہ دس میٹر سے زائد تک پہنچ گئی تھی۔</p>

<p>سائنسدانوں کے پاس انٹارکٹیکا میں موسم کی صورتحال کے حوالے سے مستقبل کی معلومات موجود نہیں جس نے انہیں زیادہ فکر مند کیا ہوا ہے۔</p>

<p>کمپیوٹر کی پیشگوئی سے عندیہ ملتا ہے کہ اگر اسی شرح سے زہریلی گیسوں کا فضا میں اخراج جاری رہا تو دنیا بھر کا موسم زیادہ گرم ہوگا جس کے نتیجے میں برفانی براعظم کے مختلف حصے تیزی سے پگھل جائیں گے جس سے اس صدی کے آخر تک سمندری سطح میں چھ فٹ یا اس سے زائد کا اضافہ ہوسکتا ہے۔</p>

<p>سائنسدانوں کے مطابق کسی تحقیق کے نتائج سامنے آنے میں کئی برس لگ جائیں گے مگر سمندری سطح کی رفتار بڑھنے کے حوالے سے فوری تفصیلات جاننا ضروری ہے۔</p>

<p>ابھی سائنسدانوں کو معلوم نہیں کہ انٹارکٹیکا کے مختلف حصے کب تک پگھل کر سمندر کا حصہ بن جائیں گے مگر کچھ بدترین پیشگوئیاں یہ ہیں کہ ایسا رواں صدی کے وسط میں ہوسکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1179611</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Mar 2022 16:48:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/03/623d96c88c616.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/03/623d96c88c616.jpg"/>
        <media:title>یہ واقعہ 15 مارچ کو پیش آیا — فوٹو بشکریہ ناسا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
