<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 13:32:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 13:32:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جے یو آئی (ف) کی سپریم کورٹ سے ریفرنس جواب کے بغیر واپس بھیجنے کی درخواست
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1179693/</link>
      <description>&lt;p&gt;جمعیت علمائے اسلام (ف) کا ماننا ہے کہ اپنی سیاسی جماعت سے انحراف کرنے والے رکن کو بطور سزا تاحیات نااہل کرنے کا فیصلہ ان کے حلقے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کا مؤقف ہے کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے پر صدارتی ریفرنس بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے کیوں کہ اس میں آرٹیکل 63 (5) کے تحت دیا گیا اپیل کا حق بھی واپس لینے کا مطالبہ شامل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1682020/jui-f-asks-sc-to-return-reference-unanswered"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم بینچ کی ہدایات پر اپنے تحریری جوابات جمع کرائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1179532/"&gt;آرٹیکل 63 اے میں پارٹی ہدایات کے خلاف ووٹ ڈالنے پر نااہلی نہیں، سپریم کورٹ بار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ بینچ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے دائر ریفرنس کے ساتھ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں اراکین اسمبلی کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جے یو آئی (ف) کی جانب سے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ’ووٹوں کی گنتی ہوئے بغیر‘ منحرف اراکین کے خلاف آرٹیکل 63 اے کے تحت تاحیات نااہلی جیسے شدید نتائج سے پہلے سے کمزور جمہوریت مزید مجروح ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جے یو آئی (ف) کا خیال ہے کہ متنازع ریفرنس پر عدالت کا کوئی بھی فیصلہ پارلیمنٹ کی بالادستی کو متاثر کرے گا اس لیے عدالت عظمیٰ کو قرار دینا چاہیے کہ ریفرنس آئین کی دفعہ 186 کے دائرہ کار سے متجاوز اور پارلیمان کو مجروح کرنے کی کوشش ہے اور بغیر جواب کے واپس بھیج دینا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جے یو آئی (ف) نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ صدر چاہتے ہیں کہ عدالت اپنے دائرہ کار سے تجاوز کرے اور عدم اعتماد کی صورت میں قانون سازوں کے لیے ایسا قانون تیار کیا جائے جو صرف پی ٹی آئی کی خواہش کے مطابق ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1179537/"&gt;رکن کے ڈالے گئے ووٹ پر یہ کہنا کہ شمار نہیں ہوگا، ووٹ کی توہین ہے، چیف جسٹس&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، حکمراں جماعت کی وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں ہونے والے کور کمیٹی کے اجلاس میں شریک تھے اور آئین و حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی عمل کا حصہ بن رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صدارتی ریفرنس پر اپنے جواب میں پی پی پی نے واضح کیا کہ پاکستان، انٹرنیشنل کویننٹ آن سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس پر دستخط کرنے والوں میں شامل ہے اس لیے ریاستوں کی نہ صرف آئینی ذمہ داری ہے کہ بنیادی حقوق کا نفاذ یقینی بنائیں بلکہ ان ہدایات کی پابندی کرنے یا ان پر عمل درآمد کرنے سے انکار کرنے کی ذمہ داری بھی ہے جو ’شہری اور سیاسی آزادی کے استعمال میں رکاوٹیں یا پابندیاں لگاتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پیپلز پارٹی کے جواب میں کہا گیا کہ آرٹیکل 4 کے تحت تمام شہریوں بشمول اراکین قومی اسمبلی کو آزادی، نقل و حرکت اور سلامتی کا حق حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جمعیت علمائے اسلام (ف) کا ماننا ہے کہ اپنی سیاسی جماعت سے انحراف کرنے والے رکن کو بطور سزا تاحیات نااہل کرنے کا فیصلہ ان کے حلقے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔</p>

<p>دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کا مؤقف ہے کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے پر صدارتی ریفرنس بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے کیوں کہ اس میں آرٹیکل 63 (5) کے تحت دیا گیا اپیل کا حق بھی واپس لینے کا مطالبہ شامل ہے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1682020/jui-f-asks-sc-to-return-reference-unanswered">رپورٹ</a></strong> کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم بینچ کی ہدایات پر اپنے تحریری جوابات جمع کرائے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1179532/">آرٹیکل 63 اے میں پارٹی ہدایات کے خلاف ووٹ ڈالنے پر نااہلی نہیں، سپریم کورٹ بار</a></strong></p>

<p>مذکورہ بینچ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے دائر ریفرنس کے ساتھ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں اراکین اسمبلی کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کر رہا ہے۔</p>

<p>جے یو آئی (ف) کی جانب سے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ’ووٹوں کی گنتی ہوئے بغیر‘ منحرف اراکین کے خلاف آرٹیکل 63 اے کے تحت تاحیات نااہلی جیسے شدید نتائج سے پہلے سے کمزور جمہوریت مزید مجروح ہوگی۔</p>

<p>جے یو آئی (ف) کا خیال ہے کہ متنازع ریفرنس پر عدالت کا کوئی بھی فیصلہ پارلیمنٹ کی بالادستی کو متاثر کرے گا اس لیے عدالت عظمیٰ کو قرار دینا چاہیے کہ ریفرنس آئین کی دفعہ 186 کے دائرہ کار سے متجاوز اور پارلیمان کو مجروح کرنے کی کوشش ہے اور بغیر جواب کے واپس بھیج دینا چاہیے۔</p>

<p>جے یو آئی (ف) نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ صدر چاہتے ہیں کہ عدالت اپنے دائرہ کار سے تجاوز کرے اور عدم اعتماد کی صورت میں قانون سازوں کے لیے ایسا قانون تیار کیا جائے جو صرف پی ٹی آئی کی خواہش کے مطابق ہو۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1179537/">رکن کے ڈالے گئے ووٹ پر یہ کہنا کہ شمار نہیں ہوگا، ووٹ کی توہین ہے، چیف جسٹس</a></strong></p>

<p>دوسری جانب پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، حکمراں جماعت کی وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں ہونے والے کور کمیٹی کے اجلاس میں شریک تھے اور آئین و حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی عمل کا حصہ بن رہے ہیں۔</p>

<p>صدارتی ریفرنس پر اپنے جواب میں پی پی پی نے واضح کیا کہ پاکستان، انٹرنیشنل کویننٹ آن سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس پر دستخط کرنے والوں میں شامل ہے اس لیے ریاستوں کی نہ صرف آئینی ذمہ داری ہے کہ بنیادی حقوق کا نفاذ یقینی بنائیں بلکہ ان ہدایات کی پابندی کرنے یا ان پر عمل درآمد کرنے سے انکار کرنے کی ذمہ داری بھی ہے جو ’شہری اور سیاسی آزادی کے استعمال میں رکاوٹیں یا پابندیاں لگاتے ہیں‘۔</p>

<p>پیپلز پارٹی کے جواب میں کہا گیا کہ آرٹیکل 4 کے تحت تمام شہریوں بشمول اراکین قومی اسمبلی کو آزادی، نقل و حرکت اور سلامتی کا حق حاصل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1179693</guid>
      <pubDate>Sun, 27 Mar 2022 13:53:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ناصر اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/03/623ff5138fcb6.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/03/623ff5138fcb6.jpg"/>
        <media:title>جے یو آئی (ف) کا خیال ہے کہ متنازع ریفرنس پر عدالت کا کوئی بھی فیصلہ پارلیمنٹ کی بالادستی کو متاثر کرے گا —فائل فوٹو: سپریم کورٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
