<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 09:18:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 09:18:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کے جمہور ہی آئین کے حقیقی نگہبان ہیں
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1180470/</link>
      <description>&lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2022/04/625219e2a87c5.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2022/04/625219e2a87c5.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2022/04/625219e2a87c5.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2022/04/625219e2a87c5.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="لکھاری وکیل ہیں۔" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;لکھاری وکیل ہیں۔&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جس روز ڈپٹی اسپیکر  نے اسمبلیاں تحلیل کیں اس روز بلاول بھٹو زرداری  نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم کسی بھی صورت میں آئین پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ عدالتِ عظمیٰ کو آگے بڑھ کر اسے چیلنج کرنا ہوگا اور یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہمارا آئین صرف کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں ہے۔ اگر ہم قومی اسمبلی میں آئین کو نافذ نہیں کرسکتے تو پھر ہم کہیں بھی آئین کی بالادستی کا خواب نہیں دیکھ سکتے‘۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ٹوئیٹ کے پیچھے آئین کے حوالے سے دلچسپ مفروضے تھے جن کو گہرائی میں دیکھنا بہت ضروری ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگرچہ ہمیں مزید ثبوتوں کی ضرورت تو نہیں تھی لیکن پھر بھی حالیہ واقعات نے ظاہر کردیا ہے کہ ہماری انتظامیہ خود کو کسی طرح کے دستوری قوانین کے تابع نہیں سمجھتی۔ اس  نے ایک بار پھر ہمیں اس سوال کا جواب تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے کہ آئین کا محافظ کون ہے؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بلاول بھٹو کی ٹوئیٹ میں سپریم کورٹ سے ڈپٹی اسپیکر کے اقدام کو ’آگے بڑھ کر چیلنج‘ کرنے کے مطالبے سے یہ تاثر جاتا ہے کہ سپریم کورٹ ہی آئین کی سب سے بڑی محافظ ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے دستوری نظام سے امیدیں لگانا قابل فہم ہے۔ نہ صرف سیاسی جماعتیں بلکہ ترقی پسند سول سوسائیٹی اور دانشور بھی آئین کو اپنا رہنما تصور کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاریخِ پاکستان اس بات کی گواہ ہے کہ جب جب آئینی حدود کو پامال کیا گیا ہے تب تب ہمیں ناقص حکمرانی اور قانون کی کم ہوتی حکمرانی دیکھنے کو ملی ہے۔ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ 7 اپریل کو سپریم کورٹ کی جانب سے قومی اسمبلی بحال کرنے کا فیصلہ بلاول بھٹو کی امیدوں کے عین مطابق تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم یہاں ایک اہم بات کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ یہ کہنا کہ سپریم کورٹ کو ثالث ہونا چاہیے اس کا یہاں یہ مطلب نہیں ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے آئین کی تشریح بھی ہمیشہ درست ہوگی۔ اسے دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ ان ’مقاصد‘ یا آزاد حقائق کی پابند ہے جو آئین بیان کرتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس وجہ سے یہ سوال کھڑا ہوتا ہے کہ اگر سپریم کورٹ خود آئین کی پابند ہے تو یہ کوئی حتمی فیصلہ دینے والا ادارہ کیسے ہوسکتا ہے؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنے حالیہ فیصلے کے باوجود  آئین کی پاسداری کے حوالے سے سپریم کورٹ کا ریکارڈ ملا جلا ہی ہے۔ صرف یہی نہیں کہ سپریم کورٹ نے ہر فوجی بغاوت کی توثیق کی بلکہ بدنیتی کی بنیاد پر اسمبلیاں تحلیل کرنے کے فیصلوں کو بھی برقرار رکھا۔ شاید سپریم کورٹ بنیادی حقوق کی بھی اچھی محافظ نہیں رہی۔ یہ ہیبیس کارپس کے حق کے تحفظ میں ناکام رہی، اس نے سویلینز کے مقدمات کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کو برقرار رکھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ سوال کہ ہم سپریم کورٹ پر کیوں انحصار کریں دراصل ایک ایسے تضاد کی طرف جاتا ہے جو دستوری نظام کی بنیاد ہے۔ وہ سوال یہ ہے کہ آخر کیسے ہم ایک فرد یا ادارے کو آئین کے نفاذ کا اختیار دیتے ہیں اور پھر یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ آئین کے پاس ہی تمام تر قوت ہے؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ تضاد صرف اسی وقت دُور ہوسکتا ہے جب ہم یہ تسلیم کرلیں کہ آئین کے اوپر بھی ایک قوت موجود ہے۔ ہمارے آئین کی تمہید میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ ’۔۔۔ہم، جمہورِ پاکستان ۔۔۔بذریعہ ہذا، قومی اسمبلی میں اپنے نمائندوں کے ذریعے یہ دستور منظور کرکے اسے قانون کا درجہ دیتے ہیں اور اسے اپنا دستور تسلیم کرتے ہیں‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہاں ’جمہور‘ ایک مبہم اور بے ترتیب چیز کی طرح لگتے ہیں، آخر کس طرح جمہور آئین کے نفاذ میں کوئی براہِ راست کردار ادا کرسکتے ہیں؟ یہ کوئی حیران کن بات نہیں ہے کہ پاکستان میں ہم بھول چکے ہیں کہ بڑی عوامی تحاریک بھی ممکن ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ کئی سالوں میں ہم نے ایسی کوئی تحریک نہیں دیکھی۔ تاہم ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عوامی احتجاج کے ذریعے غیر آئینی اقدامات کو ختم کیا جاسکتا ہے اور غیر قانونی حکومتوں کو گرایا بھی جاسکتا ہے۔ یہ عموماً اس وقت ہوتا ہے جب ’جمہور‘ ایک منظم قوت بن جائیں جو مزاحمت کرسکیں اور طاقت اپنے ہاتھ میں لے سکیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عالمی تاریخ کے اس موڑ پر جب نیو لبرل ازم کی قوتیں ناقابلِ تسخیر نظر آتی ہیں اور لبرل جمہوریت خطرے میں ہے، ہمیں عوامی تحریکوں کی ایسی مثالیں نظر آتی ہیں جو آئینی تبدیلی کا سبب بن رہی ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چلی میں ہونے والی حالیہ پیشرفت مقبول دستوری حکومت کے امکانات کی ایک شاندار مثال پیش کرتی ہے۔ 2019ء میں چلی میں صدر کی اقتصادی پالیسیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوئے۔ اکتوبر 2019ء میں 10 لاکھ سے زائد لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور صدر کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ نومبر 2019ء میں چلی کی نیشنل کانگریس  نے اگستو پینوچت دور کے آئین کو تبدیل کرنے کے حوالے سے ریفرنڈم کی ہامی بھری اور چلی کی عوام  نے نئے آئین کے حق میں ووٹ دیا۔ گزشتہ سال حقیقی طور پر جمہوری طریقے سے غور و خوص کے بعد چلی کے 155 شہریوں کو نئے آئین کا مسودہ تیار کرنے کے لیے چنا گیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہم نے دیکھا کہ کس طرح چلی میں عوامی تحریک کے ذریعے آئینی اصلاحات کی گئیں۔ یہ اس سیاسی عمل کے بالکل برعکس ہے جہاں سنگین سیاسی ڈیڈ لاک کے دوران آئین کی وضاحت غیر نمائندہ ججوں کا بینچ کرتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بلاول بھٹو کی ٹوئیٹ کی آخری سطر ہماری سیاسی جماعتوں کے تصور کی حد بیان کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اگر ہم قومی اسمبلی میں آئین کو نافذ نہیں کرسکتے تو پھر ہم کہیں بھی آئین کی بالادستی کا خواب نہیں دیکھ سکتے‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپوزیشن جماعتوں کو آئینی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے ’جمہور‘ کو پکارنا بھی گوارا نہیں ہوتا۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ ہمارے موجودہ حکمرانوں کی جانب سے اقتدار پر غیر قانونی قبضے کو چیلنج کرنے کے لیے عوام کی زبردست قوت کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی سیاسی طاقت پر اعتماد کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بلآخر دستوری قانون کے بجائے سیاسی قوتیں جمہوری مستقبل کی طرف بڑھنے یا اس راہ میں رکاوٹ کا سبب بنیں گی۔ اگرچہ ہم سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے مطمئن ہیں لیکن ہمیں ان غیر جمہوری قوتوں کا بھی ادراک کرنا چاہیے جو ہمیں سیاسی بحران کی جانب  لے جاتی ہیں۔ ہم یہ دکھاوا نہیں کرسکتے کہ آئینی خلاف ورزیوں کا تدارک ہوجانے کے بعد ہمارا سیاسی بحران ٹھیک ہوجائے گا اور ہم ان سیاسی قوتوں کو نظر انداز نہیں کرسکتے جو پاکستان میں جمہوریت کو ناکام بنا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جمہوریتوں کی تعمیر ان اصولوں کو مضبوط کرنے کا عمل ہے جو طاقت پر اجارہ داری رکھنے والوں کے اختیارات کو محدود کرتے ہیں، تاکہ حکمرانی کے ادارے ایک دوسرے کے احتساب کے ذریعے اپنی حدود میں رہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ آئینی اصول صرف اعلیٰ عدالتوں کے لیے ہی نہیں بلکہ سیاسی عمل میں بھی موجود ہوتے ہیں۔ اس وقت ہمارے سامنے یہ سوال ہے کہ کیا پاکستان تحریک انصاف حکومت میں رہے گی یا نہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایسی جمہوری سیاست کی تعمیر کرسکتے ہیں جہاں ہماری آئینی اقدار کا ادراک ہوسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;یہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1684307/who-defends-the-constitution"&gt;مضمون&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; 10 اپریل 2022ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2022/04/625219e2a87c5.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2022/04/625219e2a87c5.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2022/04/625219e2a87c5.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2022/04/625219e2a87c5.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="لکھاری وکیل ہیں۔" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">لکھاری وکیل ہیں۔</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p><strong>جس روز ڈپٹی اسپیکر  نے اسمبلیاں تحلیل کیں اس روز بلاول بھٹو زرداری  نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم کسی بھی صورت میں آئین پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ عدالتِ عظمیٰ کو آگے بڑھ کر اسے چیلنج کرنا ہوگا اور یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہمارا آئین صرف کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں ہے۔ اگر ہم قومی اسمبلی میں آئین کو نافذ نہیں کرسکتے تو پھر ہم کہیں بھی آئین کی بالادستی کا خواب نہیں دیکھ سکتے‘۔</strong></p>

<p>اس ٹوئیٹ کے پیچھے آئین کے حوالے سے دلچسپ مفروضے تھے جن کو گہرائی میں دیکھنا بہت ضروری ہے۔ </p>

<p>اگرچہ ہمیں مزید ثبوتوں کی ضرورت تو نہیں تھی لیکن پھر بھی حالیہ واقعات نے ظاہر کردیا ہے کہ ہماری انتظامیہ خود کو کسی طرح کے دستوری قوانین کے تابع نہیں سمجھتی۔ اس  نے ایک بار پھر ہمیں اس سوال کا جواب تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے کہ آئین کا محافظ کون ہے؟</p>

<p>بلاول بھٹو کی ٹوئیٹ میں سپریم کورٹ سے ڈپٹی اسپیکر کے اقدام کو ’آگے بڑھ کر چیلنج‘ کرنے کے مطالبے سے یہ تاثر جاتا ہے کہ سپریم کورٹ ہی آئین کی سب سے بڑی محافظ ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے دستوری نظام سے امیدیں لگانا قابل فہم ہے۔ نہ صرف سیاسی جماعتیں بلکہ ترقی پسند سول سوسائیٹی اور دانشور بھی آئین کو اپنا رہنما تصور کرتے ہیں۔</p>

<p>تاریخِ پاکستان اس بات کی گواہ ہے کہ جب جب آئینی حدود کو پامال کیا گیا ہے تب تب ہمیں ناقص حکمرانی اور قانون کی کم ہوتی حکمرانی دیکھنے کو ملی ہے۔ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ 7 اپریل کو سپریم کورٹ کی جانب سے قومی اسمبلی بحال کرنے کا فیصلہ بلاول بھٹو کی امیدوں کے عین مطابق تھا۔</p>

<p>تاہم یہاں ایک اہم بات کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ یہ کہنا کہ سپریم کورٹ کو ثالث ہونا چاہیے اس کا یہاں یہ مطلب نہیں ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے آئین کی تشریح بھی ہمیشہ درست ہوگی۔ اسے دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ ان ’مقاصد‘ یا آزاد حقائق کی پابند ہے جو آئین بیان کرتا ہے۔ </p>

<p>اس وجہ سے یہ سوال کھڑا ہوتا ہے کہ اگر سپریم کورٹ خود آئین کی پابند ہے تو یہ کوئی حتمی فیصلہ دینے والا ادارہ کیسے ہوسکتا ہے؟</p>

<p>اپنے حالیہ فیصلے کے باوجود  آئین کی پاسداری کے حوالے سے سپریم کورٹ کا ریکارڈ ملا جلا ہی ہے۔ صرف یہی نہیں کہ سپریم کورٹ نے ہر فوجی بغاوت کی توثیق کی بلکہ بدنیتی کی بنیاد پر اسمبلیاں تحلیل کرنے کے فیصلوں کو بھی برقرار رکھا۔ شاید سپریم کورٹ بنیادی حقوق کی بھی اچھی محافظ نہیں رہی۔ یہ ہیبیس کارپس کے حق کے تحفظ میں ناکام رہی، اس نے سویلینز کے مقدمات کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کو برقرار رکھا۔</p>

<p>یہ سوال کہ ہم سپریم کورٹ پر کیوں انحصار کریں دراصل ایک ایسے تضاد کی طرف جاتا ہے جو دستوری نظام کی بنیاد ہے۔ وہ سوال یہ ہے کہ آخر کیسے ہم ایک فرد یا ادارے کو آئین کے نفاذ کا اختیار دیتے ہیں اور پھر یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ آئین کے پاس ہی تمام تر قوت ہے؟</p>

<p>یہ تضاد صرف اسی وقت دُور ہوسکتا ہے جب ہم یہ تسلیم کرلیں کہ آئین کے اوپر بھی ایک قوت موجود ہے۔ ہمارے آئین کی تمہید میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ ’۔۔۔ہم، جمہورِ پاکستان ۔۔۔بذریعہ ہذا، قومی اسمبلی میں اپنے نمائندوں کے ذریعے یہ دستور منظور کرکے اسے قانون کا درجہ دیتے ہیں اور اسے اپنا دستور تسلیم کرتے ہیں‘۔ </p>

<p>یہاں ’جمہور‘ ایک مبہم اور بے ترتیب چیز کی طرح لگتے ہیں، آخر کس طرح جمہور آئین کے نفاذ میں کوئی براہِ راست کردار ادا کرسکتے ہیں؟ یہ کوئی حیران کن بات نہیں ہے کہ پاکستان میں ہم بھول چکے ہیں کہ بڑی عوامی تحاریک بھی ممکن ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ کئی سالوں میں ہم نے ایسی کوئی تحریک نہیں دیکھی۔ تاہم ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عوامی احتجاج کے ذریعے غیر آئینی اقدامات کو ختم کیا جاسکتا ہے اور غیر قانونی حکومتوں کو گرایا بھی جاسکتا ہے۔ یہ عموماً اس وقت ہوتا ہے جب ’جمہور‘ ایک منظم قوت بن جائیں جو مزاحمت کرسکیں اور طاقت اپنے ہاتھ میں لے سکیں۔ </p>

<p>عالمی تاریخ کے اس موڑ پر جب نیو لبرل ازم کی قوتیں ناقابلِ تسخیر نظر آتی ہیں اور لبرل جمہوریت خطرے میں ہے، ہمیں عوامی تحریکوں کی ایسی مثالیں نظر آتی ہیں جو آئینی تبدیلی کا سبب بن رہی ہیں۔ </p>

<p>چلی میں ہونے والی حالیہ پیشرفت مقبول دستوری حکومت کے امکانات کی ایک شاندار مثال پیش کرتی ہے۔ 2019ء میں چلی میں صدر کی اقتصادی پالیسیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوئے۔ اکتوبر 2019ء میں 10 لاکھ سے زائد لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور صدر کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ نومبر 2019ء میں چلی کی نیشنل کانگریس  نے اگستو پینوچت دور کے آئین کو تبدیل کرنے کے حوالے سے ریفرنڈم کی ہامی بھری اور چلی کی عوام  نے نئے آئین کے حق میں ووٹ دیا۔ گزشتہ سال حقیقی طور پر جمہوری طریقے سے غور و خوص کے بعد چلی کے 155 شہریوں کو نئے آئین کا مسودہ تیار کرنے کے لیے چنا گیا۔ </p>

<p>ہم نے دیکھا کہ کس طرح چلی میں عوامی تحریک کے ذریعے آئینی اصلاحات کی گئیں۔ یہ اس سیاسی عمل کے بالکل برعکس ہے جہاں سنگین سیاسی ڈیڈ لاک کے دوران آئین کی وضاحت غیر نمائندہ ججوں کا بینچ کرتا ہے۔ </p>

<p>بلاول بھٹو کی ٹوئیٹ کی آخری سطر ہماری سیاسی جماعتوں کے تصور کی حد بیان کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اگر ہم قومی اسمبلی میں آئین کو نافذ نہیں کرسکتے تو پھر ہم کہیں بھی آئین کی بالادستی کا خواب نہیں دیکھ سکتے‘۔ </p>

<p>اپوزیشن جماعتوں کو آئینی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے ’جمہور‘ کو پکارنا بھی گوارا نہیں ہوتا۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ ہمارے موجودہ حکمرانوں کی جانب سے اقتدار پر غیر قانونی قبضے کو چیلنج کرنے کے لیے عوام کی زبردست قوت کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی سیاسی طاقت پر اعتماد کرتے ہیں۔</p>

<p>بلآخر دستوری قانون کے بجائے سیاسی قوتیں جمہوری مستقبل کی طرف بڑھنے یا اس راہ میں رکاوٹ کا سبب بنیں گی۔ اگرچہ ہم سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے مطمئن ہیں لیکن ہمیں ان غیر جمہوری قوتوں کا بھی ادراک کرنا چاہیے جو ہمیں سیاسی بحران کی جانب  لے جاتی ہیں۔ ہم یہ دکھاوا نہیں کرسکتے کہ آئینی خلاف ورزیوں کا تدارک ہوجانے کے بعد ہمارا سیاسی بحران ٹھیک ہوجائے گا اور ہم ان سیاسی قوتوں کو نظر انداز نہیں کرسکتے جو پاکستان میں جمہوریت کو ناکام بنا رہی ہیں۔</p>

<p>جمہوریتوں کی تعمیر ان اصولوں کو مضبوط کرنے کا عمل ہے جو طاقت پر اجارہ داری رکھنے والوں کے اختیارات کو محدود کرتے ہیں، تاکہ حکمرانی کے ادارے ایک دوسرے کے احتساب کے ذریعے اپنی حدود میں رہیں۔</p>

<p>یہی وجہ ہے کہ آئینی اصول صرف اعلیٰ عدالتوں کے لیے ہی نہیں بلکہ سیاسی عمل میں بھی موجود ہوتے ہیں۔ اس وقت ہمارے سامنے یہ سوال ہے کہ کیا پاکستان تحریک انصاف حکومت میں رہے گی یا نہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایسی جمہوری سیاست کی تعمیر کرسکتے ہیں جہاں ہماری آئینی اقدار کا ادراک ہوسکے۔</p>

<hr />

<p>یہ <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1684307/who-defends-the-constitution">مضمون</a></strong> 10 اپریل 2022ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1180470</guid>
      <pubDate>Tue, 12 Apr 2022 11:24:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سارہ ملکانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/04/62527d56a82ec.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/04/62527d56a82ec.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
