<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 23:55:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 05 Jun 2026 23:55:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>9 اپریل کو رات گئے عدالت کھولنے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کی وضاحت
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1180580/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ نے سنیچر کے روز رات دیر گئے عدالت کے دروازے کھولنے کی وضاحت کی ہے جب سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد کی تقدیر کا فیصلہ ہونا باقی تھا اور یہ افواہیں پھیل رہی تھیں کہ عمران خان ’آخری گیند تک کھیلنے‘ کی اپنی کوشش میں آرمی چیف کو ڈی نوٹیفائی کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1684617/matter-of-extreme-urgency-can-be-brought-before-court-anytime"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق اس رات اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا کہ عدالت عمران خان کو جنرل قمر جاوید باجوہ کو آرمی چیف کے عہدے سے ڈی نوٹیفائی کرنے سے روکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1180451/"&gt;وزیر اعظم کو جنرل باجوہ کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے روکنے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی ایک اور درخواست میں عدالت سے آئینی بحران کو ٹالنے اور سپریم کورٹ کے 7 اپریل کے حکم پر عمل درآمد کروانے کی استدعا کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیر کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ 9 اپریل 2022 کو رات گئے پٹیشنز کی فائلنگ کو غلط رپورٹ کیا گیا ہے اور سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ کیا طے شدہ عدالتی اوقات کے بعد درخواستیں پیش کی جا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنے بیان میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے 11 نومبر 2019 اور 10 فروری 2021 کو جاری کیے گئے دو سرکلرز کا حوالہ دیا جس میں ’عدالتی وقت کے بعد درخواستوں کو پیش کرنے کا طریقہ‘ بتایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان سرکلرز کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ نے مطلع کیا تھا کہ کسی شہری کی جان یا آزادی یا کسی اور اہم معاملے کو لاحق خطرے کی صورت میں رجسٹرار آفس درخواست وصول کر سکتا ہے اور عدالتی اوقات کار کے بعد بھی اسے چیف جسٹس تک پہنچا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1180342/"&gt;آئینی بحران کے دوران سپریم کورٹ کی مداخلت کی مختصر تاریخ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ ایک آئینی عدالت کے طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ انتہائی ہنگامی نوعیت اور اہمیت کے حامل مقدمات کو طے شدہ اوقات کے بعد بھی کسی بھی وقت پیش کیا جائے اور معزز چیف جسٹس اگر سمجھتے ہوں کہ معاملہ انتہائی ہنگامی نوعیت کا ہے، تو وہ کسی بھی وقت کیس لگانے کا حکم دے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;9 اپریل کے واقعات کی وضاحت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر نے عدالت سے رجوع کیا اور آئین کے آرٹیکل 187 کے تحت درخواست دائر کرنے کے بارے میں استفسار کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پھر اسلام آباد ہائی کورٹ کے بیان میں ان درخواستوں کا حوالہ دیا گیا جس میں ایک ’پیشگی‘ آئینی پٹیشن بھی شامل تھی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ اس وقت کے وزیر اعظم کو آرمی چیف کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے روکا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سلسلے میں کہا گیا کہ اس دوران کچھ اور درخواستیں پیش کی گئیں جنہیں معزز چیف جسٹس کی رہائش گاہ پر پہنچا دیا گیا، جو اس بات پر مطمئن تھے کہ نہ تو درخواستیں کارروائی شروع کرنے کی ضمانت دیتی ہیں اور نہ ہی انہیں عدالتی حکم کی منظوری کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1180570"&gt;وزیراعظم کی جانب سے مراسلے کی تحقیقات کی پیش کش، پی ٹی آئی نے مسترد کردی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت نے کہا کہ لہٰذا واضح ہوا کہ مذکورہ بالا سرکلرز کی روشنی میں انتہائی ہنگامی نوعیت سے متعلق ایک درخواست عدالت کے طے شدہ اوقات کے بعد کسی بھی وقت پیش کی جا سکتی تھی اور اگر چیف جسٹس مطمئن تھے کہ ایسے حالات موجود ہیں تو درخواست کو سماعت کے لیے بھی مقرر کیا جا سکتا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد ہائی کورٹ نے سنیچر کے روز رات دیر گئے عدالت کے دروازے کھولنے کی وضاحت کی ہے جب سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد کی تقدیر کا فیصلہ ہونا باقی تھا اور یہ افواہیں پھیل رہی تھیں کہ عمران خان ’آخری گیند تک کھیلنے‘ کی اپنی کوشش میں آرمی چیف کو ڈی نوٹیفائی کرسکتے ہیں۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1684617/matter-of-extreme-urgency-can-be-brought-before-court-anytime">رپورٹ</a></strong> کے مطابق اس رات اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا کہ عدالت عمران خان کو جنرل قمر جاوید باجوہ کو آرمی چیف کے عہدے سے ڈی نوٹیفائی کرنے سے روکے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1180451/">وزیر اعظم کو جنرل باجوہ کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے روکنے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر</a></strong> </p>

<p>سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی ایک اور درخواست میں عدالت سے آئینی بحران کو ٹالنے اور سپریم کورٹ کے 7 اپریل کے حکم پر عمل درآمد کروانے کی استدعا کی گئی تھی۔</p>

<p>اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیر کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ 9 اپریل 2022 کو رات گئے پٹیشنز کی فائلنگ کو غلط رپورٹ کیا گیا ہے اور سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ کیا طے شدہ عدالتی اوقات کے بعد درخواستیں پیش کی جا سکتی ہیں۔</p>

<p>اپنے بیان میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے 11 نومبر 2019 اور 10 فروری 2021 کو جاری کیے گئے دو سرکلرز کا حوالہ دیا جس میں ’عدالتی وقت کے بعد درخواستوں کو پیش کرنے کا طریقہ‘ بتایا گیا تھا۔</p>

<p>ان سرکلرز کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ نے مطلع کیا تھا کہ کسی شہری کی جان یا آزادی یا کسی اور اہم معاملے کو لاحق خطرے کی صورت میں رجسٹرار آفس درخواست وصول کر سکتا ہے اور عدالتی اوقات کار کے بعد بھی اسے چیف جسٹس تک پہنچا سکتا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1180342/">آئینی بحران کے دوران سپریم کورٹ کی مداخلت کی مختصر تاریخ</a></strong></p>

<p>بیان میں کہا گیا کہ ایک آئینی عدالت کے طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ انتہائی ہنگامی نوعیت اور اہمیت کے حامل مقدمات کو طے شدہ اوقات کے بعد بھی کسی بھی وقت پیش کیا جائے اور معزز چیف جسٹس اگر سمجھتے ہوں کہ معاملہ انتہائی ہنگامی نوعیت کا ہے، تو وہ کسی بھی وقت کیس لگانے کا حکم دے سکتے ہیں۔</p>

<p>9 اپریل کے واقعات کی وضاحت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر نے عدالت سے رجوع کیا اور آئین کے آرٹیکل 187 کے تحت درخواست دائر کرنے کے بارے میں استفسار کیا۔</p>

<p>پھر اسلام آباد ہائی کورٹ کے بیان میں ان درخواستوں کا حوالہ دیا گیا جس میں ایک ’پیشگی‘ آئینی پٹیشن بھی شامل تھی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ اس وقت کے وزیر اعظم کو آرمی چیف کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے روکا جائے۔</p>

<p>اس سلسلے میں کہا گیا کہ اس دوران کچھ اور درخواستیں پیش کی گئیں جنہیں معزز چیف جسٹس کی رہائش گاہ پر پہنچا دیا گیا، جو اس بات پر مطمئن تھے کہ نہ تو درخواستیں کارروائی شروع کرنے کی ضمانت دیتی ہیں اور نہ ہی انہیں عدالتی حکم کی منظوری کی ضرورت ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1180570">وزیراعظم کی جانب سے مراسلے کی تحقیقات کی پیش کش، پی ٹی آئی نے مسترد کردی</a></strong></p>

<p>عدالت نے کہا کہ لہٰذا واضح ہوا کہ مذکورہ بالا سرکلرز کی روشنی میں انتہائی ہنگامی نوعیت سے متعلق ایک درخواست عدالت کے طے شدہ اوقات کے بعد کسی بھی وقت پیش کی جا سکتی تھی اور اگر چیف جسٹس مطمئن تھے کہ ایسے حالات موجود ہیں تو درخواست کو سماعت کے لیے بھی مقرر کیا جا سکتا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1180580</guid>
      <pubDate>Tue, 12 Apr 2022 13:18:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملک اسد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/04/62550fc64325b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/04/62550fc64325b.jpg"/>
        <media:title>اسلام آباد ہائی کورٹ نے وضاحت کی کہ انتہائی ہنگامی نوعیت اور اہمیت کے حامل مقدمات کو طے شدہ اوقات کے بعد بھی کسی بھی وقت پیش کیا جا سکتا ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
