<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 09:30:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 09:30:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں ’سازش‘ کا لفظ شامل نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1180707/</link>
      <description>&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/Badw6rR4fwg?enablejsapi=1&amp;showinfo=0&amp;rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے اعلامیے میں ’سازش‘ کا لفظ شامل نہیں ہے جبکہ آرمی چیف اپنی مدت میں توسیع نہیں چاہتے، وہ رواں سال نومبر میں ریٹائر ہوجائیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پریس بریفنگ کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی میں بحث کے نکات پر بات نہیں کر سکتا، لیکن میرا خیال ہے کہ اجلاس کے اعلامیے میں ’سازش‘ کا لفظ شامل نہیں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h4 id='625822887849c'&gt;’آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے‘&lt;/h4&gt;

&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع چاہتے ہیں نہ اسے قبول کریں گے، وہ اپنی مدت پوری کرکے رواں سال 29 نومبر کو ریٹائر ہوجائیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکا کی جانب سے فوجی اڈے مانگے جانے کے حوالے سے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان سے اڈوں کا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا، اگر مطالبہ کیا جاتا تو فوج کا مؤقف بھی سابق وزیر اعظم کی طرح ’ایبسولوٹلی ناٹ‘ ہوتا۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پریس کانفرنس کے اہم نکات:&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے اعلامیے میں ’سازش‘ کا لفظ شامل نہیں ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;کسی نے پاکستان سے فوجی اڈے نہیں مانگے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع چاہتے ہیں نہ قبول کریں گے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;فوج کسی کو این آر او دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;پاکستان میں اب کوئی مارشل نہیں آئے گا۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;’نیوٹرل‘ کا لفظ فوج کے کردار کو بیان نہیں کرتا۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;فوج ’ڈس انفارمیشن مہم‘ کا بہت بڑا ٹارگٹ ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;فوج میں کسی قسم کی تقسیم نہیں ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;ایٹمی ہتھیاروں پر بات کرتے ہوئے محتاط رہنا چاہیے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;اسٹیبلشمنت کی طرف سے کوئی آپشن دیا گیا اور نہ رکھا گیا۔&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک سوال کے جواب میں انکشاف کیا کہ سابق وزیر اعظم نے سیاسی بحران کے حل کے لیے آرمی چیف سے رابطہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;h4 id='6258228878509'&gt;سوشل میڈیا پر زیر گرد افواہوں میں کوئی سچائی نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر&lt;/h4&gt;

&lt;p&gt;میجر جنرل بابر افتخار نے اسٹیبلشمنٹ کی اپوزیشن جماعتوں سے ملاقات کے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’اس بات میں کوئی سچائی نہیں ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے بھی ایسا سنا ہے، تحقیقاتی صحافت بہت آگے بڑھ چکی ہے، اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو سامنے لائے، ایسا کوئی رابطہ نہیں ہوا، کوئی ڈیل نہیں ہوئی اور ایسی کوئی بات نہیں ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر جو کچھ ہورہا ہے اسے بیرونی اثرورسوخ کے ذریعے بڑھایا جارہا ہے، کچھ دراڑیں ضرور وجود رکھتی ہیں جنہیں بیرونی اثرو رسوخ سے بڑھایا اور پھر اس کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1180611"&gt;‘فوج اور سوسائٹی ’میں تقسیم سے متعلق پروپیگنڈا مہم کا نوٹس&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ سیاست اور قومی سلامتی سے متعلق خیالات کو منفی شکل دی جارہی ہے، اس میں کچھ خیالات حقیقی بھی ہوسکتے ہیں لیکن اس کو بیرونی اثرورسوخ سے اس تیزی کے ساتھ بڑھایا جارہا ہے جسے بغیر تصدیق کے آگے شیئر کردیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اپنی سوسائٹی کو ان اثرات سے بچانے کے لیے ہمیں بہت مربوط اقدامات کرنے پڑیں گے، یہ حکومتی سطح پر بھی کرنا پڑے گا اور انفرادی سطح پر بھی کرنا پڑے گا، تمام اداروں کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا، ہم نے بحیثیت ادارہ اس حوالے سے اپنے طورپر اقدامات اٹھائے ہیں، ڈس انفارمیشن کیمپین کا بہت بڑا ٹارگٹ ہماری فوج ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم نے جو جنگ لڑی ہے وہ اپنے عوام کے بل بوتے پر لڑی ہے، اگر عوام فوج کے ساتھ نہ کھڑے ہوں تو جن ملکوں میں یہ حالات تھے آج ان کے حالات دیکھ لیں، کدھر گئی وہ فوج اور کیا حالت ہے اس ملک کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فوج کے خلاف سوشل میڈیا مہم سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ مختلف تنظیموں کے سوشل میڈیا سیلز بنے ہوئے ہیں، ان سوشل میڈیا سیلز ذریعے سیاسی اختلافات اور ماضی سے متعلق اپنی اپنی رائے کو لے کر بحث و مباحث ہوتے ہیں جنہیں بعد میں بیرونی اثرورسوخ کے ذریعے بڑھاوا دیا جاتا ہے، یہ سارا ڈیٹا ہمارے اداروں کے پاس آچکا ہے، جب اس کے تانے بانے مل جائیں گے تو انشااللہ وہ بھی آپ کے ساتھ شیئر کریں گے، فی الوقت یہ ملاجلا معاملہ ہے جس میں اندرونی اختلافات کو بیرونی عناصر کے ذریعے بڑھاوا دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h4 id='625822887852f'&gt;’جس جانب چیف آف آرمی اسٹاف دیکھتا ہے، آرمڈ فورس بھی اسی جانب دیکھتی ہے‘&lt;/h4&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مشرقی بارڈر پر کوئی خطرہ نہیں ہے، ہم نے اس پر نظر رکھی ہوئی ہے، بھارت کی جانب سے فالس فلیگ آپریشن کیے جاتے رہے ہیں اس حوالے سے اہتمام بھی رہتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فوج کے اندر جانبدار اور غیر جانبدار کی لڑائی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ آپ کو شاید معلوم نہیں ہے کہ فوج ’یونیٹی آف کمانڈ‘ کے فیکٹر پر چلتی ہے، چیف آف آرمی اسٹاف جس جانب دیکھتا ہے اسی جانب آرمڈ فورس بھی دیکھتی ہے، آج تک اس میں نہ تبدیلی آئی ہے نہ انشااللہ آگے کبھی آئے گی، الحمداللہ فوج کے اندر کسی قسم کی کوئی تقسیم نہیں ہے اور پوری فوج اپنی لیڈرشپ پر فخر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کا دارومدار سیاسی استحکام پر ہے، دفاع اس کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے، سیاسی استحکام اصل عنصر ہے جو معیشت اور سیکیورٹی سمیت تمام چیزوں کو آگے بڑھاتا ہے، اگر ملک میں سیاسی عدم استحکام ہوگا تو اسے یقینی طور پر قومی سلامتی کو نقصان پہنچے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اسٹیبلشمنٹ کہہ لیں یا فوج کہہ لیں لیکن  حکومت کے ساتھ ہمارے بہترین تعلقات ہیں، کوئی اختلافات نہیں ہیں، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ بہت اچھا اور احترام کا تعلق رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پچھلے دنوں جو کچھ ہوا وہ ایک سیاسی عمل کا حصہ تھا، جمہوریت میں یہ چیزیں ہوتی رہتی ہیں لیکن اس دوران عدم استحکام ضرور آیا، جس دن نئی حکومت آئی اس دن اسٹاک ایکسچینج اوپر گئی اور ڈالر نیچے آیا، یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ کسی حدتک استحکام آرہا ہے، اس کو برقرار رہنے کے لیے تھوڑا وقت لگے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;h4 id='6258228878553'&gt;’آرمی چیف کی طبیعت ناساز تھی، اس لیے وزیراعظم کی حلف برداری میں شرکت نہیں کرسکے‘&lt;/h4&gt;

&lt;p&gt;آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف کی تقریب حلف برداری میں شرکت نہ کرنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا اس روز ان کی طبیعت ناساز تھی، وہ آفس بھی نہیں آئے تھے، اس کی اور کوئی وجہ نہیں تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ امریکی انخلا سے افغانستان میں ویکیوم آیا تھا، ابھی تک وہاں کی موجودہ حکومت کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، ان کی فوج اور ایجنسیز ابھی اس طرح سے کام ہیں کررہیں اس لیے وہاں خلا موجود ہے جس کا فائدہ وہاں موجود دہشتگردوں نے اٹھایا، ان کے خلاف وہ بھی کاروائیاں کررہے ہیں، الحمداللہ ہم اس قابل ہیں کہ دہشتگردی کی اس لہر کو پیچھتے دھکیل سکیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میں کسی ملک کا نام نہیں لوں گا لیکن اگر سی پیک کسی ملک کے مفاد میں نہیں ہیں تو عین ممکن ہے کہ وہ اس کو مؤخر کرنے کے لیے اقدامات کریں لیکن الحمد اللی سی پیک جاری ہے، اس کے تحفظ کی ذمہ داریاں ہاک فوج خود سرانجام دے رہی ہے، یہ ایک بہت بڑا اسٹریٹجک پراجیکٹ ہے اور ہماری چین کے ساتھ دوستی کا بہت بڑا مظہر ہے، جو کچھ بھی ہوتا رہا ہے ہم نے اس دوران سی پیک کی رفتار کو کم نہیں ہونے دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;h4 id='6258228878574'&gt;’مسلح افواج اور ادارے صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں‘&lt;/h4&gt;

&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس بریفنگ کا آغاز کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج آپ کو پاکستان کی قومی سلامتی، پاکستان آرمی کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں ، آپریشن ردالفساد کے تحت حالیہ اقدامات کے بارے میں آگاہ کرنا ہے اور فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں ہونے والی بات چیت پر بھی آگاہی دینا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دو روز قبل آرمی چیف کی زیر صدارت فارمیشنز کور کمانڈر کانفرنس ہوئی اور اس میں پاکستان آرمی کے تمام فارمیشن کمانڈرز نے شرکت کی، کانفرنس کے شرکا کو پاک فوج کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اور خطے کے حالات کے تناظر میں درپیش سیکیورٹی چیلنجز ان کے حوالے سے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس بریفنگ دی گئیں جبکہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وضع کردہ حکمت عملی سے بھی آگاہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج کی بارڈر سیکیورٹی مکمل طور پر برقرار ہے اور مسلح افواج اور متعلقہ ادارے کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میجر جنرل بابر افتخار نے بتایا کہ فارمیشن کمانڈر بریفنگ میں آپریشن ردالفساد کے تحت انٹیلی کی بنیاد پر آپریشنز اور مغربی سرحدوں کی مینجمنٹ کے حوالے آگاہ کیا گیا، پچھلے چند مہینوں میں بلوچستان اور قبائلی اضلاع میں دہشت گردوں نے امن عامہ کو خراب کرنے کی بے انتہا کوشش کی لیکن ہمارے بہادر آفیسرز اور جوانوں نے ان مذموم عزائم کو بھرپور طریقے سے ناکام بنایا۔&lt;/p&gt;

&lt;h4 id='6258228878589'&gt;’دہشت گردوں کے خلاف جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی‘&lt;/h4&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اس سال کے پہلے تین ماہ کے دوران 128 دہشت گردوں کو ہلاک اور 270 کو گرفتار کیا گیا اور ان آپریشنز کے دوران 97 افسران اور جوانوں نے شہادت نوش کی، پوری قوم ان بہادر سپوتوں اور ان کے لواحقین کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف ہماری جنگ انشااللہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اسی دوران عالمی امن کے قیام کی خاطر اقوام متحدہ کے تحت امن مشن کانگو میں تعینات پاکستان آرمی کے چھ آفیسرز اور جوانوں نے 29مارچ کو فرائض کی ادائیگی کے دوران جام شہادت نوش کیا، اب تک پاکستان فوج کے 168 افسران اور جوان مختلف اقوام متحدہ مشن کے دوران بین الاقوامی امن کی کوششوں کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، ان قربانیوں کا اعتراف اقوام متحدہ میں اعلیٰ ترین سطح پر کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1180368/"&gt;بلوچستان: دہشت گردوں سے فائرنگ کا تبادلہ، 2 اہلکار شہید&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ فارمیشن کمانڈرز نے ملکی سلامتی کے حوالے سے لیے گئے اقدامات بالخصوص اندرونی سیکیورٹی کی مد میں پاکستان آرمی کی آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی یقینی بنانے کے سلسلے میں مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور اسے درست سمت میں بہترین قدم قرار دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوئی ایسے مذاکرات اب نہیں ہورہے، ہم ان کے خلاف کارروائی کررہے ہیں اور ہم نے ان کو ٹھیک ٹھاک نقصان پہنچایا ہے، قبائلی علاقوں میں ہم نے ان کی صلاحیت کو بھرپور نقصان پہنچایا ہے، اس کے لیے ہمارے افسران نے بڑی قربانیاں دی ہیں اور انشااللہ ہم ان کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;h4 id='625822887859e'&gt;’مسلح افواج اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوشش قومی مفاد کے منافی ہے‘&lt;/h4&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ سب نے اتفاق کیا کہ جمہوریت، اداروں کی مضبوطی، قانون کی بالادستی اور سب اداروں کا آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنا ہی بہترین ملکی مفاد کی ضمانت ہے، عوام کی حمایت مسلح افواج کی طاقت کا منبع ہے، اس کے بغیر قومی سلامتی کا تصور بے معنی ہے، اس لیے مسلح افواج اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کا سبب بننے والی کوئی دانستہ یا غیردانستہ کوشش وسیع تر ملکی قومی مفاد کے منافی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تعمیری تنقید مناسب ہے لیکن افواہ سازی کی بنیاد پر سازشوں کے تانے بانے بننا اور بے بنیاد کردار کشی کرنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں، اس حوالے سے افواج پاکستان اور اس کی قیادت کے حوالے سے ایک منظم گھناؤنا پروپیگنڈا مہم چلائی جا رہی ہے اور حتیٰ کہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے معاشرے میں عوام اور فوج کے درمیان تقسیم اور انتشار پھیلایا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ غیرقانونی، غیراخلاقی اور ملک کے مفاد کے سراسر خلاف ہے، جو کام دشمن سات دہائیوں میں نہیں کر سکا، وہ کام ہم اب بھی نہیں ہونے دیں گے، عوام اور سیاسی جماعتوں سے درخواست ہے کہ فوج کو سیاست میں مت گھسیٹیں، ہم اس سے باہر رہنا چاہتے ہیں، یہ مہم پہلے کامیاب ہوئی تھی نہ یہ آگے کامیاب ہو گی، بہتر ہو گا کہ ہم اپنے فیصلے قانون پر چھوڑ دیں کیونکہ قانون پر عملدرآمد سے ہی معاشرے ترقی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1179925/"&gt;مراسلہ پاکستان کے معاملات میں مداخلت ہے، سفارتی جواب دیں گے، قومی سلامتی کمیٹی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جہاں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں عسکری قیادت کا مؤقف بھرپور طریقے سے دے دیا گیا تھا اور اس کے بعد اس اجلاس کا ایک اعلامیہ جاری ہوا، اجلاس میں کیا بات ہوئی میں وہ ڈسکس نہیں کر سکتا کیونکہ وہ رازداری کی بات ہے، اس اجلاس کے اعلامیے کو اگر دیکھیں تو جو کچھ اس اجلاس میں طے ہوا وہ اس اعلامیے میں موجود ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں دن رات ایسی دھمکیوں اور سازشوں کے خلاف چوکنا ہیں اور اس کے خلاف کام کررہی ہیں، اگر کسی نے پاکستان کے خلاف کوئی بھی سازش کرنے کی کوشش کی تو اسے کامیاب نہیں ہونے دیں گے، اگر کسی نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو اسکی آنکھ نکال دی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اعلامیے میں بڑے واضح الفاظ میں لکھا ہوا ہے کہ کیا تھا یا کیا نہیں تھا، اس اعلامیے میں میرا نہیں خیال کہیں بھی ’سازش‘ کا لفظ موجود ہے، اس میٹنگ کے منٹس کو حکومت ڈی کلاسیفائی کر سکتی ہے اور ایک دو روز قبل وزیراعظم نے کہا ہے کہ وہ پارلیمانی سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس بلائیں گے اور مسلح افواج کے سربراہ اس اجلاس میں بھی جا کر وہی ’اِن پُٹ‘ اب بھی دے دیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1179907/"&gt;حکومت کے خلاف 'غیر ملکی سازش کے ثبوت' پر مبنی خط پر صحافیوں کو بریفنگ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مراسلے میں سازش نہ ہونے کے باوجود ڈیمارش دیے جانے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ڈیمارش دیے جاتے ہیں، ڈیمارش صرف سازش پر نہیں دیے جاتے، کئی وجوہات ہوتی ہیں، جیسے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اس اعلامیے میں لکھا ہوا ہے کہ غیر سفارتی زبان استعمال کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس اعلامیے میں لکھا ہوا ہے کہ جو بات چیت کی گئی ہے وہ مداخلت کے مترادف ہے، اس لیے اس کے اوپر ڈیمارش دیا جاتا ہے، یہ ایک سفارتی طریقہ کار ہے، یہی وہ الفاظ ہیں جن پر اتفاق کیا گیا اور ڈیمارش دیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ 27 مارچ کو اسلام آباد میں ایک جلسے کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ان کی بیرونی پالیسی کے سبب ’غیر ملکی سازش‘ کا نتیجہ ہے اور انہیں اقتدار سے ہٹانے کے لیے بیرون ملک سے فنڈز بھیجے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1179905/"&gt;دھمکی آمیز خط پارلیمان میں ان کیمرا رکھنے جارہے ہیں، فواد چوہدری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں اس خط کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کا 37 واں اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اجلاس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے میں قومی سلامتی کمیٹی  نے کہا تھا کہ یہ مراسلہ مذکورہ ملک کی جانب سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت کے مترادف ہے جو ناقابل قبول ہے، پاکستان سفارتی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ ملک کو مضبوط سفارتی رد عمل جاری کرے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے مراسلہ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غیر ملکی عہدیدار کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان کو غیر سفارتی قرار دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ روز پشاور میں سابق وزیراعظم عمران خان نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں اداروں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سلامتی ان لٹیروں کے ہاتھ میں ڈال رہے ہو، بیرونی سازش کے ذریعے حکومت میں آنے والے کیا جوہری طاقت کا تحفظ کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='62582288785b1'&gt;’ایٹمی اثاثوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے‘&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;جوہری تنصیبات اور اثاثوں پر عمران خان کے بیان پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہمیں جوہری اثاثوں کے حوالے سے تھوڑا محتاط رہنا چاہیے، یہ کسی ایک سیاست قیادت کے ساتھ منسلک نہیں ہیں، جب سے پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع ہوا، جتنی حکومتیں آئیں انہوں نے پوری محنت، دیانت داری اور ملک کے ساتھ وفاداری کے ساتھ اس ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھایا اور یہاں تک پہنچایا جہاں پر ہم ہیں، تو یہ کسی ایک کا نہیں ہے اور ہماری سیاسی قیادت نے بھرپور طریقے سے پاکستان کی سالمیت کے اس پروگرام کو آگے بڑھایا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہمارے ایٹمی اثاثوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور ہمیں اسے اپنے سیاسی مباحثوں کا حصہ نہیں بنانا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک اور سوال کے جواب میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ نیوٹرل لفظ شاید صحیح طریقے سے فوج اور اداروں کے موقف کی وضاحت نہیں کرتا، ہمارا آئینی اور قانونی کردار کسی قسم کی سیاسی وابستگی یا سیاست میں عمل دخل نہیں ہونا چاہیے، پچھلے 74سال میں تمام سیاسی جماعتوں کا فوج سے ایک ہی مطالبہ رہا ہے کہ فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، اب ہم نے اس کو عملی جامع پہنایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/14881"&gt;ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں، پاکستان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی سیاسی قیادت سے کہا تھا کہ ہم اپنے آپ کو سیاست سے دور رکھنا چاہتے ہیں، میں کبھی کسی کے پاس نہیں گیا تو مجھ سے کیوں آپ بار بار ملنے آتے ہیں، اس سے پہلے گلگت بلتستان پر ایک اجلاس میں بھی تمام سیاسی قیادت کی موجودگی میں یہ بات ہوئی تھی اور کسی نے کہا تھا کہ آپ سیاست میں مداخلت کرتے ہیں تو آرمی چیف نے کہا تھا کہ ہم سیاست سے بالکل دور ہیں، آپ ہمیں اس میں مزید مت گھسیٹیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہمارا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، پچھلے ضمنی انتخاب میں کسی نے یہ الزام نہیں لگایا کہ فوج کی طرف سے مداخلت کی گئی، بلدیاتی انتخابات میں کسی نے کوئی الزام نہیں لگایا، پہلے لوگ کہتے تھے کہ کال آتی تھیں یا فون آتے تھے، آج کوئی کہہ رہا ہے، یہ بہت اچھا فیصلہ ہے اور آگے بھی ایسے ہی رہے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سابق وزیراعظم نے دورہ روس سے قبل اعتماد میں لیا تھا، وہ جب روس گئے تھے تو ادارہ جاتی رائے مانگی گئی تھی اور فوج اس معاملے میں ان کے ساتھ تھی کہ جانا چاہیے، اس دن کسی کے خام وخیال میں نہیں تھا کہ جس دن وزیر اعظم وہاں ہوں گے، وہ اسی دن جنگ کا آغاز کردیں گے جو بہت شرمندگی کا باعث تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='62582288785c5'&gt;’عمران خان کے سامنے 3 آپشنز اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے نہیں رکھے گئے تھے‘&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;سابق وزیراعظم عمران خان کے سامنے 3 آپشنز رکھے جانے کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ آپشنز اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے نہیں رکھے گئے تھے، وزیر اعظم آفس کی جانب سے چیف آف آرمی اسٹاف کو اپروچ کیا گیا تھا کہ اس ڈیڈ لاک میں کچھ بیچ بچاؤ کی بات کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں کی قیادت اس وقت آپس میں بات کرنے پر تیار نہ تھی تو آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی وزیراعظم آفس گئے اور وہیں پر یہ تین آپشنز پر بات ہوئی کہ کیا کیا ہو سکتا ہے، ان میں سے ایک تحریک عدم اعتماد تھا، دوسرا وزیراعظم کا استعفیٰ تھا اور تیسرا آپشن یہ تھا کہ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد واپس لے لے اور وزیراعظم اسمبلیاں تحلیل کر کے نئے الیکشنز کی طرف چلے جائیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1180022"&gt;اسٹیبلشمنٹ نے مجھے استعفیٰ سمیت تین آپشنز دیے، وزیراعظم عمران خان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہم تیسرے آپشن کو اس وقت کی اپوزیشن پی ڈی ایم کے پاس لے گئے، ان کے سامنے یہ گزارش رکھی اور اس پر سیر حاصل بحث کے بعد انہوں نے کہا کہ ہم اس طرح کا کوئی قدم اب نہیں اٹھائیں گے اور اپنے منصوبے پر عمل کریں گے لیکن کوئی آپشن اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے دیا گیا اور نہ رکھا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;h4 id='62582288785d9'&gt;’یہ آزاد فضا ہے جس میں جس کا جو دل کرتا ہے وہ کہتا ہے‘&lt;/h4&gt;

&lt;p&gt;تحریک انصاف کی ریلیوں اور الیکشن کے انعقاد سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ الیکشن کے انعقاد سے متعلق فیصلہ حکومت نے ہی کرنا ہے، ریلیاں جمہوری حق ہیں، پہلے سیکیورٹی خدشات کے سبب ریلیاں اور جلسے ناممکن تھے لیکن پاک فوج، پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اپنی جان پر کھیل کر یہ ماحول فراہم کیا ہے، یہ آزاد فضا ہے جس میں جس کا جو دل کرتا ہے وہ کہتا ہے، جو دل اور زبان پر آتی ہے وہ بولتا ہے چاہے وہ اچھا ہے یا برا ہے، اس جگہ تک پہنچنے کے لیے ہم نے بہت محنت کی اور قربانیاں دی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ یہ جمہوریت کا حصہ ہے کہ لوگ سڑکوں پر آتے ہیں اور اپنی خیالات کا اظہار کرتے ہیں یا کسی سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں، اس میں کوئی غلط بات نہیں ہے، آگے کہاں جانا ہے کیا کرنا ہے الیکشن کب ہونے ہیں یہ سب سیاسی جماعتوں نے طے کرنا ہے، یہ ہمارا کام نہیں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ہم یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ ہم نے کس حکومت کے ساتھ ٹھیک چلنا ہے اور کس کے ساتھ ٹھیک نہیں چلنا، یہ کوئی چوائس نہیں ہے، پاکستان میں حکومتی منتخب ہو کر آتی ہیں، عوام اپنے منتخب کردہ نمائندے پارلیمنٹ میں بھیجتے ہیں اور پارلیمنٹ ہی عوام کی طاقت کو سرچشمہ ہے، یہ پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ ہمیں بتائیں کہ کیا کرنا ہے اور ہم وہی کریں گے، قومی سلامتی کے معاملات پر بحیثیت ادارہ ہم اپنی رائے ضرور دے سکتے ہیں لیکن وہ اسے ماننے کے پابند نہیں ہیں اور نہ ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1072137/"&gt;جمہوریت کو فوج سے کوئی خطرہ نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کو یہ طے کرنا ہے کہ کس راستے کا انتخاب کرنا ہے، انہیں کسی اور راستے کا انتخاب کرنے پر مجبور کرنے کا اختیار کسی کو نہیں ہے، ان کے پاس مینڈیٹ اور اخلاقی اتھارٹی ہے اور اخلاقی اتھارٹی کسی بھی اور اتھارٹی سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لاہور میں پاک فوج کے افسر پر تشدد سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ بہت افسوسناک واقعہ ہے، میں کسی پر انگلی نہیں اٹھاؤں گا لیکن جنہوں نے یہ کیا ہے ان کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، پاک فوج اپنے افسران کو کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑتی، جنہوں نے یہ حرکت کی ہے وہ بہت غلط ہے، ہمیں معاشرے کو پرتشدد عناصر سے باہر نکلانے کی ضرورت ہے، بدمعاشی اور غنڈہ گردی اب نہیں چلے گی، جنہوں نے یہ حرکت کی ہے وہ اب زیر حراست ہیں اور انہیں اس کی سزا ملے گی جس کے وہ لائق ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک سوال پر ترجمان پاک فوج نے کہا کہ  قومی سلامتی کےمشیر ڈاکٹر معید یوسف نے بہت محنت سے کام کیا اور قومی سلامتی کمیٹی کو ازسر نو کھڑا کیا، اب نئی حکومت کس کو قومی سلامتی کا مشیر طے کرتی ہے یہ ان کا اختیار ہے میں اس پر تبصرہ نہیں کروں گا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت اور امریکا سے تعلقات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی نیشنل سیکیورٹی ڈائیلاگ میں کی کی جانے والی تقریر پر ردعمل آیا، یہ سمجھنے کی ضرروت ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف نے وہاں جتنی باتیں کیں وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے منافی نہیں تھیں، سابق وزیر اعظم عمران خان کے دورہ روس کے بعد جو اعلامیہ جاری ہوا اس میں بھی وہی باتیں تھیں، ان تمام ممالک سے ہمارے ملٹری ٹو ملٹری تعلقات بہت اچھے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/Badw6rR4fwg?enablejsapi=1&showinfo=0&rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p><strong>پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے اعلامیے میں ’سازش‘ کا لفظ شامل نہیں ہے جبکہ آرمی چیف اپنی مدت میں توسیع نہیں چاہتے، وہ رواں سال نومبر میں ریٹائر ہوجائیں گے۔</strong></p>

<p>پریس بریفنگ کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی میں بحث کے نکات پر بات نہیں کر سکتا، لیکن میرا خیال ہے کہ اجلاس کے اعلامیے میں ’سازش‘ کا لفظ شامل نہیں ہے۔</p>

<h4 id='625822887849c'>’آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے‘</h4>

<p>ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع چاہتے ہیں نہ اسے قبول کریں گے، وہ اپنی مدت پوری کرکے رواں سال 29 نومبر کو ریٹائر ہوجائیں گے۔</p>

<p>امریکا کی جانب سے فوجی اڈے مانگے جانے کے حوالے سے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان سے اڈوں کا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا، اگر مطالبہ کیا جاتا تو فوج کا مؤقف بھی سابق وزیر اعظم کی طرح ’ایبسولوٹلی ناٹ‘ ہوتا۔</p>

<hr />

<p><strong>پریس کانفرنس کے اہم نکات:</strong></p>

<ul>
<li>فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں۔</li>
<li>قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے اعلامیے میں ’سازش‘ کا لفظ شامل نہیں ہے۔</li>
<li>کسی نے پاکستان سے فوجی اڈے نہیں مانگے۔</li>
<li>آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع چاہتے ہیں نہ قبول کریں گے۔</li>
<li>فوج کسی کو این آر او دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔</li>
<li>پاکستان میں اب کوئی مارشل نہیں آئے گا۔</li>
<li>’نیوٹرل‘ کا لفظ فوج کے کردار کو بیان نہیں کرتا۔</li>
<li>فوج ’ڈس انفارمیشن مہم‘ کا بہت بڑا ٹارگٹ ہے۔</li>
<li>فوج میں کسی قسم کی تقسیم نہیں ہے۔</li>
<li>ایٹمی ہتھیاروں پر بات کرتے ہوئے محتاط رہنا چاہیے۔</li>
<li>اسٹیبلشمنت کی طرف سے کوئی آپشن دیا گیا اور نہ رکھا گیا۔</li>
</ul>

<hr />

<p>ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک سوال کے جواب میں انکشاف کیا کہ سابق وزیر اعظم نے سیاسی بحران کے حل کے لیے آرمی چیف سے رابطہ کیا تھا۔</p>

<h4 id='6258228878509'>سوشل میڈیا پر زیر گرد افواہوں میں کوئی سچائی نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر</h4>

<p>میجر جنرل بابر افتخار نے اسٹیبلشمنٹ کی اپوزیشن جماعتوں سے ملاقات کے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’اس بات میں کوئی سچائی نہیں ہے‘۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے بھی ایسا سنا ہے، تحقیقاتی صحافت بہت آگے بڑھ چکی ہے، اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو سامنے لائے، ایسا کوئی رابطہ نہیں ہوا، کوئی ڈیل نہیں ہوئی اور ایسی کوئی بات نہیں ہے‘۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر جو کچھ ہورہا ہے اسے بیرونی اثرورسوخ کے ذریعے بڑھایا جارہا ہے، کچھ دراڑیں ضرور وجود رکھتی ہیں جنہیں بیرونی اثرو رسوخ سے بڑھایا اور پھر اس کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1180611">‘فوج اور سوسائٹی ’میں تقسیم سے متعلق پروپیگنڈا مہم کا نوٹس</a></strong> </p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ سیاست اور قومی سلامتی سے متعلق خیالات کو منفی شکل دی جارہی ہے، اس میں کچھ خیالات حقیقی بھی ہوسکتے ہیں لیکن اس کو بیرونی اثرورسوخ سے اس تیزی کے ساتھ بڑھایا جارہا ہے جسے بغیر تصدیق کے آگے شیئر کردیا جاتا ہے۔</p>

<p>ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اپنی سوسائٹی کو ان اثرات سے بچانے کے لیے ہمیں بہت مربوط اقدامات کرنے پڑیں گے، یہ حکومتی سطح پر بھی کرنا پڑے گا اور انفرادی سطح پر بھی کرنا پڑے گا، تمام اداروں کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا، ہم نے بحیثیت ادارہ اس حوالے سے اپنے طورپر اقدامات اٹھائے ہیں، ڈس انفارمیشن کیمپین کا بہت بڑا ٹارگٹ ہماری فوج ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ہم نے جو جنگ لڑی ہے وہ اپنے عوام کے بل بوتے پر لڑی ہے، اگر عوام فوج کے ساتھ نہ کھڑے ہوں تو جن ملکوں میں یہ حالات تھے آج ان کے حالات دیکھ لیں، کدھر گئی وہ فوج اور کیا حالت ہے اس ملک کی۔</p>

<p>فوج کے خلاف سوشل میڈیا مہم سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ مختلف تنظیموں کے سوشل میڈیا سیلز بنے ہوئے ہیں، ان سوشل میڈیا سیلز ذریعے سیاسی اختلافات اور ماضی سے متعلق اپنی اپنی رائے کو لے کر بحث و مباحث ہوتے ہیں جنہیں بعد میں بیرونی اثرورسوخ کے ذریعے بڑھاوا دیا جاتا ہے، یہ سارا ڈیٹا ہمارے اداروں کے پاس آچکا ہے، جب اس کے تانے بانے مل جائیں گے تو انشااللہ وہ بھی آپ کے ساتھ شیئر کریں گے، فی الوقت یہ ملاجلا معاملہ ہے جس میں اندرونی اختلافات کو بیرونی عناصر کے ذریعے بڑھاوا دیا جاتا ہے۔</p>

<h4 id='625822887852f'>’جس جانب چیف آف آرمی اسٹاف دیکھتا ہے، آرمڈ فورس بھی اسی جانب دیکھتی ہے‘</h4>

<p>انہوں نے کہا کہ مشرقی بارڈر پر کوئی خطرہ نہیں ہے، ہم نے اس پر نظر رکھی ہوئی ہے، بھارت کی جانب سے فالس فلیگ آپریشن کیے جاتے رہے ہیں اس حوالے سے اہتمام بھی رہتا ہے۔</p>

<p>فوج کے اندر جانبدار اور غیر جانبدار کی لڑائی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ آپ کو شاید معلوم نہیں ہے کہ فوج ’یونیٹی آف کمانڈ‘ کے فیکٹر پر چلتی ہے، چیف آف آرمی اسٹاف جس جانب دیکھتا ہے اسی جانب آرمڈ فورس بھی دیکھتی ہے، آج تک اس میں نہ تبدیلی آئی ہے نہ انشااللہ آگے کبھی آئے گی، الحمداللہ فوج کے اندر کسی قسم کی کوئی تقسیم نہیں ہے اور پوری فوج اپنی لیڈرشپ پر فخر کرتی ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کا دارومدار سیاسی استحکام پر ہے، دفاع اس کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے، سیاسی استحکام اصل عنصر ہے جو معیشت اور سیکیورٹی سمیت تمام چیزوں کو آگے بڑھاتا ہے، اگر ملک میں سیاسی عدم استحکام ہوگا تو اسے یقینی طور پر قومی سلامتی کو نقصان پہنچے گا۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اسٹیبلشمنٹ کہہ لیں یا فوج کہہ لیں لیکن  حکومت کے ساتھ ہمارے بہترین تعلقات ہیں، کوئی اختلافات نہیں ہیں، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ بہت اچھا اور احترام کا تعلق رہا ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ پچھلے دنوں جو کچھ ہوا وہ ایک سیاسی عمل کا حصہ تھا، جمہوریت میں یہ چیزیں ہوتی رہتی ہیں لیکن اس دوران عدم استحکام ضرور آیا، جس دن نئی حکومت آئی اس دن اسٹاک ایکسچینج اوپر گئی اور ڈالر نیچے آیا، یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ کسی حدتک استحکام آرہا ہے، اس کو برقرار رہنے کے لیے تھوڑا وقت لگے گا۔</p>

<h4 id='6258228878553'>’آرمی چیف کی طبیعت ناساز تھی، اس لیے وزیراعظم کی حلف برداری میں شرکت نہیں کرسکے‘</h4>

<p>آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف کی تقریب حلف برداری میں شرکت نہ کرنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا اس روز ان کی طبیعت ناساز تھی، وہ آفس بھی نہیں آئے تھے، اس کی اور کوئی وجہ نہیں تھی۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ امریکی انخلا سے افغانستان میں ویکیوم آیا تھا، ابھی تک وہاں کی موجودہ حکومت کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، ان کی فوج اور ایجنسیز ابھی اس طرح سے کام ہیں کررہیں اس لیے وہاں خلا موجود ہے جس کا فائدہ وہاں موجود دہشتگردوں نے اٹھایا، ان کے خلاف وہ بھی کاروائیاں کررہے ہیں، الحمداللہ ہم اس قابل ہیں کہ دہشتگردی کی اس لہر کو پیچھتے دھکیل سکیں۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ میں کسی ملک کا نام نہیں لوں گا لیکن اگر سی پیک کسی ملک کے مفاد میں نہیں ہیں تو عین ممکن ہے کہ وہ اس کو مؤخر کرنے کے لیے اقدامات کریں لیکن الحمد اللی سی پیک جاری ہے، اس کے تحفظ کی ذمہ داریاں ہاک فوج خود سرانجام دے رہی ہے، یہ ایک بہت بڑا اسٹریٹجک پراجیکٹ ہے اور ہماری چین کے ساتھ دوستی کا بہت بڑا مظہر ہے، جو کچھ بھی ہوتا رہا ہے ہم نے اس دوران سی پیک کی رفتار کو کم نہیں ہونے دیا۔</p>

<h4 id='6258228878574'>’مسلح افواج اور ادارے صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں‘</h4>

<p>ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس بریفنگ کا آغاز کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج آپ کو پاکستان کی قومی سلامتی، پاکستان آرمی کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں ، آپریشن ردالفساد کے تحت حالیہ اقدامات کے بارے میں آگاہ کرنا ہے اور فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں ہونے والی بات چیت پر بھی آگاہی دینا ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ دو روز قبل آرمی چیف کی زیر صدارت فارمیشنز کور کمانڈر کانفرنس ہوئی اور اس میں پاکستان آرمی کے تمام فارمیشن کمانڈرز نے شرکت کی، کانفرنس کے شرکا کو پاک فوج کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اور خطے کے حالات کے تناظر میں درپیش سیکیورٹی چیلنجز ان کے حوالے سے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس بریفنگ دی گئیں جبکہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وضع کردہ حکمت عملی سے بھی آگاہ کیا گیا۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج کی بارڈر سیکیورٹی مکمل طور پر برقرار ہے اور مسلح افواج اور متعلقہ ادارے کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔</p>

<p>میجر جنرل بابر افتخار نے بتایا کہ فارمیشن کمانڈر بریفنگ میں آپریشن ردالفساد کے تحت انٹیلی کی بنیاد پر آپریشنز اور مغربی سرحدوں کی مینجمنٹ کے حوالے آگاہ کیا گیا، پچھلے چند مہینوں میں بلوچستان اور قبائلی اضلاع میں دہشت گردوں نے امن عامہ کو خراب کرنے کی بے انتہا کوشش کی لیکن ہمارے بہادر آفیسرز اور جوانوں نے ان مذموم عزائم کو بھرپور طریقے سے ناکام بنایا۔</p>

<h4 id='6258228878589'>’دہشت گردوں کے خلاف جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی‘</h4>

<p>انہوں نے بتایا کہ اس سال کے پہلے تین ماہ کے دوران 128 دہشت گردوں کو ہلاک اور 270 کو گرفتار کیا گیا اور ان آپریشنز کے دوران 97 افسران اور جوانوں نے شہادت نوش کی، پوری قوم ان بہادر سپوتوں اور ان کے لواحقین کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف ہماری جنگ انشااللہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔</p>

<p>انہوں نے مزید کہا کہ اسی دوران عالمی امن کے قیام کی خاطر اقوام متحدہ کے تحت امن مشن کانگو میں تعینات پاکستان آرمی کے چھ آفیسرز اور جوانوں نے 29مارچ کو فرائض کی ادائیگی کے دوران جام شہادت نوش کیا، اب تک پاکستان فوج کے 168 افسران اور جوان مختلف اقوام متحدہ مشن کے دوران بین الاقوامی امن کی کوششوں کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، ان قربانیوں کا اعتراف اقوام متحدہ میں اعلیٰ ترین سطح پر کیا گیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1180368/">بلوچستان: دہشت گردوں سے فائرنگ کا تبادلہ، 2 اہلکار شہید</a></strong></p>

<p>میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ فارمیشن کمانڈرز نے ملکی سلامتی کے حوالے سے لیے گئے اقدامات بالخصوص اندرونی سیکیورٹی کی مد میں پاکستان آرمی کی آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی یقینی بنانے کے سلسلے میں مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور اسے درست سمت میں بہترین قدم قرار دیا۔</p>

<p>سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوئی ایسے مذاکرات اب نہیں ہورہے، ہم ان کے خلاف کارروائی کررہے ہیں اور ہم نے ان کو ٹھیک ٹھاک نقصان پہنچایا ہے، قبائلی علاقوں میں ہم نے ان کی صلاحیت کو بھرپور نقصان پہنچایا ہے، اس کے لیے ہمارے افسران نے بڑی قربانیاں دی ہیں اور انشااللہ ہم ان کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔</p>

<h4 id='625822887859e'>’مسلح افواج اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوشش قومی مفاد کے منافی ہے‘</h4>

<p>ان کا کہنا تھا کہ سب نے اتفاق کیا کہ جمہوریت، اداروں کی مضبوطی، قانون کی بالادستی اور سب اداروں کا آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنا ہی بہترین ملکی مفاد کی ضمانت ہے، عوام کی حمایت مسلح افواج کی طاقت کا منبع ہے، اس کے بغیر قومی سلامتی کا تصور بے معنی ہے، اس لیے مسلح افواج اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کا سبب بننے والی کوئی دانستہ یا غیردانستہ کوشش وسیع تر ملکی قومی مفاد کے منافی ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ تعمیری تنقید مناسب ہے لیکن افواہ سازی کی بنیاد پر سازشوں کے تانے بانے بننا اور بے بنیاد کردار کشی کرنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں، اس حوالے سے افواج پاکستان اور اس کی قیادت کے حوالے سے ایک منظم گھناؤنا پروپیگنڈا مہم چلائی جا رہی ہے اور حتیٰ کہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے معاشرے میں عوام اور فوج کے درمیان تقسیم اور انتشار پھیلایا جا رہا ہے۔</p>

<p>ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ غیرقانونی، غیراخلاقی اور ملک کے مفاد کے سراسر خلاف ہے، جو کام دشمن سات دہائیوں میں نہیں کر سکا، وہ کام ہم اب بھی نہیں ہونے دیں گے، عوام اور سیاسی جماعتوں سے درخواست ہے کہ فوج کو سیاست میں مت گھسیٹیں، ہم اس سے باہر رہنا چاہتے ہیں، یہ مہم پہلے کامیاب ہوئی تھی نہ یہ آگے کامیاب ہو گی، بہتر ہو گا کہ ہم اپنے فیصلے قانون پر چھوڑ دیں کیونکہ قانون پر عملدرآمد سے ہی معاشرے ترقی کرتے ہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1179925/">مراسلہ پاکستان کے معاملات میں مداخلت ہے، سفارتی جواب دیں گے، قومی سلامتی کمیٹی</a></strong> </p>

<p>ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جہاں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں عسکری قیادت کا مؤقف بھرپور طریقے سے دے دیا گیا تھا اور اس کے بعد اس اجلاس کا ایک اعلامیہ جاری ہوا، اجلاس میں کیا بات ہوئی میں وہ ڈسکس نہیں کر سکتا کیونکہ وہ رازداری کی بات ہے، اس اجلاس کے اعلامیے کو اگر دیکھیں تو جو کچھ اس اجلاس میں طے ہوا وہ اس اعلامیے میں موجود ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں دن رات ایسی دھمکیوں اور سازشوں کے خلاف چوکنا ہیں اور اس کے خلاف کام کررہی ہیں، اگر کسی نے پاکستان کے خلاف کوئی بھی سازش کرنے کی کوشش کی تو اسے کامیاب نہیں ہونے دیں گے، اگر کسی نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو اسکی آنکھ نکال دی جائے گی۔</p>

<p>ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اعلامیے میں بڑے واضح الفاظ میں لکھا ہوا ہے کہ کیا تھا یا کیا نہیں تھا، اس اعلامیے میں میرا نہیں خیال کہیں بھی ’سازش‘ کا لفظ موجود ہے، اس میٹنگ کے منٹس کو حکومت ڈی کلاسیفائی کر سکتی ہے اور ایک دو روز قبل وزیراعظم نے کہا ہے کہ وہ پارلیمانی سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس بلائیں گے اور مسلح افواج کے سربراہ اس اجلاس میں بھی جا کر وہی ’اِن پُٹ‘ اب بھی دے دیں گے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1179907/">حکومت کے خلاف 'غیر ملکی سازش کے ثبوت' پر مبنی خط پر صحافیوں کو بریفنگ</a></strong> </p>

<p>مراسلے میں سازش نہ ہونے کے باوجود ڈیمارش دیے جانے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ڈیمارش دیے جاتے ہیں، ڈیمارش صرف سازش پر نہیں دیے جاتے، کئی وجوہات ہوتی ہیں، جیسے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اس اعلامیے میں لکھا ہوا ہے کہ غیر سفارتی زبان استعمال کی گئی ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ اس اعلامیے میں لکھا ہوا ہے کہ جو بات چیت کی گئی ہے وہ مداخلت کے مترادف ہے، اس لیے اس کے اوپر ڈیمارش دیا جاتا ہے، یہ ایک سفارتی طریقہ کار ہے، یہی وہ الفاظ ہیں جن پر اتفاق کیا گیا اور ڈیمارش دیا گیا۔</p>

<p>واضح رہے کہ 27 مارچ کو اسلام آباد میں ایک جلسے کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ان کی بیرونی پالیسی کے سبب ’غیر ملکی سازش‘ کا نتیجہ ہے اور انہیں اقتدار سے ہٹانے کے لیے بیرون ملک سے فنڈز بھیجے جارہے ہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1179905/">دھمکی آمیز خط پارلیمان میں ان کیمرا رکھنے جارہے ہیں، فواد چوہدری</a></strong> </p>

<p>بعد ازاں اس خط کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کا 37 واں اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوا۔</p>

<p>اجلاس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے میں قومی سلامتی کمیٹی  نے کہا تھا کہ یہ مراسلہ مذکورہ ملک کی جانب سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت کے مترادف ہے جو ناقابل قبول ہے، پاکستان سفارتی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ ملک کو مضبوط سفارتی رد عمل جاری کرے گا۔</p>

<p>اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے مراسلہ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غیر ملکی عہدیدار کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان کو غیر سفارتی قرار دیا۔</p>

<p>گزشتہ روز پشاور میں سابق وزیراعظم عمران خان نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں اداروں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سلامتی ان لٹیروں کے ہاتھ میں ڈال رہے ہو، بیرونی سازش کے ذریعے حکومت میں آنے والے کیا جوہری طاقت کا تحفظ کر سکتے ہیں۔</p>

<h3 id='62582288785b1'>’ایٹمی اثاثوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے‘</h3>

<p>جوہری تنصیبات اور اثاثوں پر عمران خان کے بیان پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہمیں جوہری اثاثوں کے حوالے سے تھوڑا محتاط رہنا چاہیے، یہ کسی ایک سیاست قیادت کے ساتھ منسلک نہیں ہیں، جب سے پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع ہوا، جتنی حکومتیں آئیں انہوں نے پوری محنت، دیانت داری اور ملک کے ساتھ وفاداری کے ساتھ اس ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھایا اور یہاں تک پہنچایا جہاں پر ہم ہیں، تو یہ کسی ایک کا نہیں ہے اور ہماری سیاسی قیادت نے بھرپور طریقے سے پاکستان کی سالمیت کے اس پروگرام کو آگے بڑھایا ہے۔</p>

<p>انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہمارے ایٹمی اثاثوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور ہمیں اسے اپنے سیاسی مباحثوں کا حصہ نہیں بنانا چاہیے۔</p>

<p>ایک اور سوال کے جواب میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ نیوٹرل لفظ شاید صحیح طریقے سے فوج اور اداروں کے موقف کی وضاحت نہیں کرتا، ہمارا آئینی اور قانونی کردار کسی قسم کی سیاسی وابستگی یا سیاست میں عمل دخل نہیں ہونا چاہیے، پچھلے 74سال میں تمام سیاسی جماعتوں کا فوج سے ایک ہی مطالبہ رہا ہے کہ فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، اب ہم نے اس کو عملی جامع پہنایا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/14881">ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں، پاکستان</a></strong></p>

<p>انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی سیاسی قیادت سے کہا تھا کہ ہم اپنے آپ کو سیاست سے دور رکھنا چاہتے ہیں، میں کبھی کسی کے پاس نہیں گیا تو مجھ سے کیوں آپ بار بار ملنے آتے ہیں، اس سے پہلے گلگت بلتستان پر ایک اجلاس میں بھی تمام سیاسی قیادت کی موجودگی میں یہ بات ہوئی تھی اور کسی نے کہا تھا کہ آپ سیاست میں مداخلت کرتے ہیں تو آرمی چیف نے کہا تھا کہ ہم سیاست سے بالکل دور ہیں، آپ ہمیں اس میں مزید مت گھسیٹیں۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ہمارا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، پچھلے ضمنی انتخاب میں کسی نے یہ الزام نہیں لگایا کہ فوج کی طرف سے مداخلت کی گئی، بلدیاتی انتخابات میں کسی نے کوئی الزام نہیں لگایا، پہلے لوگ کہتے تھے کہ کال آتی تھیں یا فون آتے تھے، آج کوئی کہہ رہا ہے، یہ بہت اچھا فیصلہ ہے اور آگے بھی ایسے ہی رہے گا۔</p>

<p>ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سابق وزیراعظم نے دورہ روس سے قبل اعتماد میں لیا تھا، وہ جب روس گئے تھے تو ادارہ جاتی رائے مانگی گئی تھی اور فوج اس معاملے میں ان کے ساتھ تھی کہ جانا چاہیے، اس دن کسی کے خام وخیال میں نہیں تھا کہ جس دن وزیر اعظم وہاں ہوں گے، وہ اسی دن جنگ کا آغاز کردیں گے جو بہت شرمندگی کا باعث تھا۔</p>

<h3 id='62582288785c5'>’عمران خان کے سامنے 3 آپشنز اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے نہیں رکھے گئے تھے‘</h3>

<p>سابق وزیراعظم عمران خان کے سامنے 3 آپشنز رکھے جانے کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ آپشنز اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے نہیں رکھے گئے تھے، وزیر اعظم آفس کی جانب سے چیف آف آرمی اسٹاف کو اپروچ کیا گیا تھا کہ اس ڈیڈ لاک میں کچھ بیچ بچاؤ کی بات کریں۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں کی قیادت اس وقت آپس میں بات کرنے پر تیار نہ تھی تو آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی وزیراعظم آفس گئے اور وہیں پر یہ تین آپشنز پر بات ہوئی کہ کیا کیا ہو سکتا ہے، ان میں سے ایک تحریک عدم اعتماد تھا، دوسرا وزیراعظم کا استعفیٰ تھا اور تیسرا آپشن یہ تھا کہ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد واپس لے لے اور وزیراعظم اسمبلیاں تحلیل کر کے نئے الیکشنز کی طرف چلے جائیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1180022">اسٹیبلشمنٹ نے مجھے استعفیٰ سمیت تین آپشنز دیے، وزیراعظم عمران خان</a></strong></p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ہم تیسرے آپشن کو اس وقت کی اپوزیشن پی ڈی ایم کے پاس لے گئے، ان کے سامنے یہ گزارش رکھی اور اس پر سیر حاصل بحث کے بعد انہوں نے کہا کہ ہم اس طرح کا کوئی قدم اب نہیں اٹھائیں گے اور اپنے منصوبے پر عمل کریں گے لیکن کوئی آپشن اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے دیا گیا اور نہ رکھا گیا۔</p>

<h4 id='62582288785d9'>’یہ آزاد فضا ہے جس میں جس کا جو دل کرتا ہے وہ کہتا ہے‘</h4>

<p>تحریک انصاف کی ریلیوں اور الیکشن کے انعقاد سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ الیکشن کے انعقاد سے متعلق فیصلہ حکومت نے ہی کرنا ہے، ریلیاں جمہوری حق ہیں، پہلے سیکیورٹی خدشات کے سبب ریلیاں اور جلسے ناممکن تھے لیکن پاک فوج، پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اپنی جان پر کھیل کر یہ ماحول فراہم کیا ہے، یہ آزاد فضا ہے جس میں جس کا جو دل کرتا ہے وہ کہتا ہے، جو دل اور زبان پر آتی ہے وہ بولتا ہے چاہے وہ اچھا ہے یا برا ہے، اس جگہ تک پہنچنے کے لیے ہم نے بہت محنت کی اور قربانیاں دی ہیں۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ یہ جمہوریت کا حصہ ہے کہ لوگ سڑکوں پر آتے ہیں اور اپنی خیالات کا اظہار کرتے ہیں یا کسی سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں، اس میں کوئی غلط بات نہیں ہے، آگے کہاں جانا ہے کیا کرنا ہے الیکشن کب ہونے ہیں یہ سب سیاسی جماعتوں نے طے کرنا ہے، یہ ہمارا کام نہیں ہے۔</p>

<p>میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ہم یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ ہم نے کس حکومت کے ساتھ ٹھیک چلنا ہے اور کس کے ساتھ ٹھیک نہیں چلنا، یہ کوئی چوائس نہیں ہے، پاکستان میں حکومتی منتخب ہو کر آتی ہیں، عوام اپنے منتخب کردہ نمائندے پارلیمنٹ میں بھیجتے ہیں اور پارلیمنٹ ہی عوام کی طاقت کو سرچشمہ ہے، یہ پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ ہمیں بتائیں کہ کیا کرنا ہے اور ہم وہی کریں گے، قومی سلامتی کے معاملات پر بحیثیت ادارہ ہم اپنی رائے ضرور دے سکتے ہیں لیکن وہ اسے ماننے کے پابند نہیں ہیں اور نہ ہونا چاہیے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1072137/">جمہوریت کو فوج سے کوئی خطرہ نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر</a></strong></p>

<p>انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کو یہ طے کرنا ہے کہ کس راستے کا انتخاب کرنا ہے، انہیں کسی اور راستے کا انتخاب کرنے پر مجبور کرنے کا اختیار کسی کو نہیں ہے، ان کے پاس مینڈیٹ اور اخلاقی اتھارٹی ہے اور اخلاقی اتھارٹی کسی بھی اور اتھارٹی سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔</p>

<p>لاہور میں پاک فوج کے افسر پر تشدد سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ بہت افسوسناک واقعہ ہے، میں کسی پر انگلی نہیں اٹھاؤں گا لیکن جنہوں نے یہ کیا ہے ان کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، پاک فوج اپنے افسران کو کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑتی، جنہوں نے یہ حرکت کی ہے وہ بہت غلط ہے، ہمیں معاشرے کو پرتشدد عناصر سے باہر نکلانے کی ضرورت ہے، بدمعاشی اور غنڈہ گردی اب نہیں چلے گی، جنہوں نے یہ حرکت کی ہے وہ اب زیر حراست ہیں اور انہیں اس کی سزا ملے گی جس کے وہ لائق ہیں۔</p>

<p>ایک سوال پر ترجمان پاک فوج نے کہا کہ  قومی سلامتی کےمشیر ڈاکٹر معید یوسف نے بہت محنت سے کام کیا اور قومی سلامتی کمیٹی کو ازسر نو کھڑا کیا، اب نئی حکومت کس کو قومی سلامتی کا مشیر طے کرتی ہے یہ ان کا اختیار ہے میں اس پر تبصرہ نہیں کروں گا۔ </p>

<p>بھارت اور امریکا سے تعلقات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی نیشنل سیکیورٹی ڈائیلاگ میں کی کی جانے والی تقریر پر ردعمل آیا، یہ سمجھنے کی ضرروت ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف نے وہاں جتنی باتیں کیں وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے منافی نہیں تھیں، سابق وزیر اعظم عمران خان کے دورہ روس کے بعد جو اعلامیہ جاری ہوا اس میں بھی وہی باتیں تھیں، ان تمام ممالک سے ہمارے ملٹری ٹو ملٹری تعلقات بہت اچھے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1180707</guid>
      <pubDate>Thu, 14 Apr 2022 18:32:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/04/6257f3fcd8d57.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/04/6257f3fcd8d57.png"/>
        <media:title>ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
