<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 18:36:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 18:36:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عام انتخابات سے قبل حلقہ بندیاں آئینی ضرورت ہے، الیکشن کمیشن
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1180733/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ملک بھر میں حلقہ بندیوں کے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے لیکن الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ اگلے عام انتخابات سے قبل حلقہ بندیاں آئینی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1685070/delimitation-a-constitutional-requirement-ecp"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے جمعرات کو ٹوئٹر پر کہا کہ حلقہ بندیاں تب ہی ممکن ہے جب نئی مردم شماری کرائی جائے اور اعلان کیا کہ حلقہ بندی کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1180356"&gt;الیکشن کمیشن کا 4 ماہ میں حلقہ بندیاں مکمل کرنے کا حکم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مؤقف تھا کہ مردم شماری کے بغیر نئی حلقہ بندیاں کرنا آئین کی سنگین خلاف ورزی ہوگی اور الیکشن کمیشن انتخابی عمل کو متنازع بنانے کے مشن پر گامزن ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;    &lt;span&gt;
        &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
            &lt;a href="https://twitter.com/fawadchaudhry/status/1514490648614694912"&gt;&lt;/a&gt;
        &lt;/blockquote&gt;
    &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم الیکشن کمیشن کے عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ 2017 میں ہونے والی چھٹی قومی مردم شماری کے عبوری نتائج 3 جنوری 2018 کو شائع کیے گئے تھے اور اسی کے مطابق کمیشن نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی حد بندی کی تھی، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے عام انتخابات 2018 کے لیے آئین کے آرٹیکل 51 (5) کے تحت ایک مرتبہ کا استثنیٰ فراہم کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 51 (5) اور الیکشنز ایکٹ 2017 کے سیکشن 17 کے تحت حلقہ بندیاں سرکاری طور پر شائع ہونے والی آخری مردم شماری کے مطابق آبادی کی بنیاد پر کی گئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عہدیدار نے یہ بھی نشاندہی کی کہ آئین میں 25ویں ترمیم کے تحت سابقہ ​​فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1180242"&gt;حلقہ بندیوں کے معاملے پر الیکشن کمیشن دباؤ کا شکار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فاٹا کے لیے مختص بارہ نشستیں ختم کر دی گئیں اور آبادی کی بنیاد پر خیبر پختونخوا کو چھ نشستیں دی گئیں، اس کے نتیجے میں قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 272 سے کم ہو کر 266 رہ گئی، اسی وجہ سے خیبر پختونخوا میں نئی حلقہ بندی لازمی تھی جو پاکستان کے ادارہ شماریات کی طرف سے مردم شماری کے سرکاری نتائج کی اشاعت نہ کرنے کی وجہ سے نہیں ہو سکی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;الیکشن کمیشن نے 11 اپریل کو اگلے عام انتخابات کے لیے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی حلقہ بندیوں کے شیڈول کا اعلان کیا تھا جہاں اس سے قبل کمیشن کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ وہ تازہ ڈیجیٹل مردم شماری کا انتظار نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ملک بھر میں حلقہ بندیوں کے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے لیکن الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ اگلے عام انتخابات سے قبل حلقہ بندیاں آئینی ضرورت ہے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1685070/delimitation-a-constitutional-requirement-ecp">رپورٹ</a></strong> کے مطابق سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے جمعرات کو ٹوئٹر پر کہا کہ حلقہ بندیاں تب ہی ممکن ہے جب نئی مردم شماری کرائی جائے اور اعلان کیا کہ حلقہ بندی کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1180356">الیکشن کمیشن کا 4 ماہ میں حلقہ بندیاں مکمل کرنے کا حکم</a></strong></p>

<p>ان کا مؤقف تھا کہ مردم شماری کے بغیر نئی حلقہ بندیاں کرنا آئین کی سنگین خلاف ورزی ہوگی اور الیکشن کمیشن انتخابی عمل کو متنازع بنانے کے مشن پر گامزن ہے۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>    <span>
        <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
            <a href="https://twitter.com/fawadchaudhry/status/1514490648614694912"></a>
        </blockquote>
    </span></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>تاہم الیکشن کمیشن کے عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ 2017 میں ہونے والی چھٹی قومی مردم شماری کے عبوری نتائج 3 جنوری 2018 کو شائع کیے گئے تھے اور اسی کے مطابق کمیشن نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی حد بندی کی تھی، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے عام انتخابات 2018 کے لیے آئین کے آرٹیکل 51 (5) کے تحت ایک مرتبہ کا استثنیٰ فراہم کیا گیا تھا۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 51 (5) اور الیکشنز ایکٹ 2017 کے سیکشن 17 کے تحت حلقہ بندیاں سرکاری طور پر شائع ہونے والی آخری مردم شماری کے مطابق آبادی کی بنیاد پر کی گئیں۔</p>

<p>عہدیدار نے یہ بھی نشاندہی کی کہ آئین میں 25ویں ترمیم کے تحت سابقہ ​​فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1180242">حلقہ بندیوں کے معاملے پر الیکشن کمیشن دباؤ کا شکار</a></strong></p>

<p>فاٹا کے لیے مختص بارہ نشستیں ختم کر دی گئیں اور آبادی کی بنیاد پر خیبر پختونخوا کو چھ نشستیں دی گئیں، اس کے نتیجے میں قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 272 سے کم ہو کر 266 رہ گئی، اسی وجہ سے خیبر پختونخوا میں نئی حلقہ بندی لازمی تھی جو پاکستان کے ادارہ شماریات کی طرف سے مردم شماری کے سرکاری نتائج کی اشاعت نہ کرنے کی وجہ سے نہیں ہو سکی تھی۔</p>

<p>الیکشن کمیشن نے 11 اپریل کو اگلے عام انتخابات کے لیے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی حلقہ بندیوں کے شیڈول کا اعلان کیا تھا جہاں اس سے قبل کمیشن کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ وہ تازہ ڈیجیٹل مردم شماری کا انتظار نہیں کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1180733</guid>
      <pubDate>Fri, 15 Apr 2022 14:51:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افتخار اے خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/04/625907aa75ed6.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/04/625907aa75ed6.png"/>
        <media:title>الیکشن کمیشن نے کہا کہ عام انتخابات سے قبل حلقہ بندیاں آئینی ضرورت ہے — فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
