<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 11:23:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 11:23:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’جعلی تصدیق‘ پر عدالتی عہدیداروں سے وضاحت طلب
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1180880/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ کی انتظامیہ نے رعایتی نرخ پر پلاٹس کا اہل بنانے کے لیے ملازمین کی ’جعلی‘ تصدیق پر ایک سیشن جج، ایک ایڈیشنل رجسٹرار، ایک ڈپٹی رجسٹرار اور ایک اور عہدیدار سے وضاحت طلب کرلی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1685472/explanation-sought-from-judicial-officials-for-false-verification-of-employees-seeking-plots-in-capital"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ہائی کورٹ انتظامیہ کے ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راجا جواد عباس حسن جو اس وقت انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد کے خصوصی جج تعینات ہیں، ایڈیشنل رجسٹرار امتیاز احمد، ڈپٹی رجسٹرار علی احمد اور اسسٹنٹ محمد مشتاق سے وضاحت مانگی گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاؤسنگ اتھارٹی (ای جی ای ایچ اے) نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو لکھے ایک خط میں انکشاف کیا کہ رجسٹرار آفس نے سال 2017 میں ان ملازمین کے جھوٹے دعووں کی تصدیق کی جن کی تعیناتی کو سپریم کورٹ 2016 میں ہی کالعدم قرار دے چکی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1168323"&gt;اسلام آباد ہائیکورٹ کا سیکٹر 14، 15 میں پلاٹس کی قرعہ اندازی پر حکم امتناع&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس کی تصدیق کی وجہ سے نااہل افسران کو رعایتی نرخوں پر قیمتی پلاٹس الاٹ کیے گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہاؤسنگ اتھارٹی نے ایک اور خط میں لاہور ہائی کورٹ کے پلاٹ کے حصول کے لیے ایڈیشنل رجسٹرار عبدالحفیظ کی درخواست کا حوالہ دیا جن کی درخواست اس لیے مسترد کردی گئی کہ وہ وفاقی دارالحکومت میں کام نہیں کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف جی ای ایچ اے کے مطابق عبدالحفیظ نے لاہور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرارز شہزادہ اسلم اور عمر دراز شاکر اور سندھ ہائی کورٹ کے شکیل احمد قاضی کو رعایتی نرخوں پر پلاٹ کی الاٹمنٹ کی نشاندہی کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1169411"&gt;ہاؤسنگ اسکیم بورڈ کے اراکین نے خود کو اسلام آباد میں پلاٹ الاٹ کردیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم ہاؤسنگ اتھارٹی کا کہنا تھا کہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال سے انکشاف سامنے آیا کہ ان ملازمین کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی تصدیق کے بعد ایف جی ای ایچ اے کی پالیسی کے مطابق پلاٹس الاٹ کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی انتطامیہ نے سیشن جج اور دیگر عہدیداروں سے جعلی تصدیق پر وضاحت طلب کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف جی ای ایچ اے کے ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ اتھارٹی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے تینوں سینئر عہدیداروں کے پلاٹس منسوخ کرنے کے لیے اقدام اٹھایا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1177872"&gt;ججز، سرکاری ملازمین کو پلاٹ الاٹ کرنے سے متعلق ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم ذرائع نے کہا کہ الاٹیز نے اپنے آفر لیٹر کچھ برسوں قبل ہی فروخت کردیے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کار اس قسم کے آفر لیٹرز کو خریدتے ہیں کیوں کہ ترقیاتی کاموں کے بعد ان پلاٹس کی قیمت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اسلام آباد کے سیکٹر 14 اور 15 کی ڈیولپمنٹ کے لیے ایف جی ای ایچ اے کے ریئل اسٹیٹ پروجیکٹ کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد ہائی کورٹ کی انتظامیہ نے رعایتی نرخ پر پلاٹس کا اہل بنانے کے لیے ملازمین کی ’جعلی‘ تصدیق پر ایک سیشن جج، ایک ایڈیشنل رجسٹرار، ایک ڈپٹی رجسٹرار اور ایک اور عہدیدار سے وضاحت طلب کرلی۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1685472/explanation-sought-from-judicial-officials-for-false-verification-of-employees-seeking-plots-in-capital">رپورٹ</a></strong> کے مطابق ہائی کورٹ انتظامیہ کے ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راجا جواد عباس حسن جو اس وقت انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد کے خصوصی جج تعینات ہیں، ایڈیشنل رجسٹرار امتیاز احمد، ڈپٹی رجسٹرار علی احمد اور اسسٹنٹ محمد مشتاق سے وضاحت مانگی گئی ہے۔</p>

<p>فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاؤسنگ اتھارٹی (ای جی ای ایچ اے) نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو لکھے ایک خط میں انکشاف کیا کہ رجسٹرار آفس نے سال 2017 میں ان ملازمین کے جھوٹے دعووں کی تصدیق کی جن کی تعیناتی کو سپریم کورٹ 2016 میں ہی کالعدم قرار دے چکی تھی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1168323">اسلام آباد ہائیکورٹ کا سیکٹر 14، 15 میں پلاٹس کی قرعہ اندازی پر حکم امتناع</a></strong></p>

<p>اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس کی تصدیق کی وجہ سے نااہل افسران کو رعایتی نرخوں پر قیمتی پلاٹس الاٹ کیے گئے۔</p>

<p>ہاؤسنگ اتھارٹی نے ایک اور خط میں لاہور ہائی کورٹ کے پلاٹ کے حصول کے لیے ایڈیشنل رجسٹرار عبدالحفیظ کی درخواست کا حوالہ دیا جن کی درخواست اس لیے مسترد کردی گئی کہ وہ وفاقی دارالحکومت میں کام نہیں کر رہے تھے۔</p>

<p>ایف جی ای ایچ اے کے مطابق عبدالحفیظ نے لاہور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرارز شہزادہ اسلم اور عمر دراز شاکر اور سندھ ہائی کورٹ کے شکیل احمد قاضی کو رعایتی نرخوں پر پلاٹ کی الاٹمنٹ کی نشاندہی کی تھی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1169411">ہاؤسنگ اسکیم بورڈ کے اراکین نے خود کو اسلام آباد میں پلاٹ الاٹ کردیے</a></strong></p>

<p>تاہم ہاؤسنگ اتھارٹی کا کہنا تھا کہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال سے انکشاف سامنے آیا کہ ان ملازمین کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی تصدیق کے بعد ایف جی ای ایچ اے کی پالیسی کے مطابق پلاٹس الاٹ کیے گئے تھے۔</p>

<p>اس کے نتیجے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی انتطامیہ نے سیشن جج اور دیگر عہدیداروں سے جعلی تصدیق پر وضاحت طلب کی۔</p>

<p>ایف جی ای ایچ اے کے ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ اتھارٹی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے تینوں سینئر عہدیداروں کے پلاٹس منسوخ کرنے کے لیے اقدام اٹھایا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1177872">ججز، سرکاری ملازمین کو پلاٹ الاٹ کرنے سے متعلق ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج</a></strong></p>

<p>تاہم ذرائع نے کہا کہ الاٹیز نے اپنے آفر لیٹر کچھ برسوں قبل ہی فروخت کردیے تھے۔</p>

<p>ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کار اس قسم کے آفر لیٹرز کو خریدتے ہیں کیوں کہ ترقیاتی کاموں کے بعد ان پلاٹس کی قیمت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔</p>

<p>خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اسلام آباد کے سیکٹر 14 اور 15 کی ڈیولپمنٹ کے لیے ایف جی ای ایچ اے کے ریئل اسٹیٹ پروجیکٹ کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1180880</guid>
      <pubDate>Mon, 18 Apr 2022 16:02:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملک اسد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/04/625d22c8a2258.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/04/625d22c8a2258.jpg"/>
        <media:title>ہائی کورٹ کی انتطامیہ نے سیشن جج اور دیگر عہدیداروں سے جعلی تصدیق پر وضاحت طلب کی —فائل فوٹو: آئی ایچ سی ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
