<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 05:22:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 05:22:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسمارٹ فون سے امراض قلب اور چشم سمیت بیماریوں کی تشخیص ممکن
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1181112/</link>
      <description>&lt;p&gt;دنیا کی سب سے بڑی سرچ انجن اور انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی کمپنی گوگل انسانی زندگی آسان بنانے کے لیے دن رات کوشاں ہیں اور اب اسی کمپنی نے ایسے ٹولز تیار کرلیے ہیں، جن سے بیماریوں کی اسکریننگ ممکن ہو سکے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گوگل کی جانب سے &lt;a href="https://health.google/"&gt;&lt;strong&gt;’گوگل ہیلتھ‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; نامی ایسا منصوبہ سامنے لایا گیا ہے، جس کے تحت کوئی بھی صارف کہیں بھی اپنے اسمارٹ موبائل سے خود کو لاحق امراض اور طبی مسائل کی ابتدائی تشخیص کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;a href="https://blog.google/technology/health/check-up-ai-developments-2022/"&gt;&lt;strong&gt;گوگل کے مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کمپنی کی جانب سے اسمارٹ موبائل کی مدد سے بیماریوں کی تشخیص کا آزمائشی پروگرام جاری ہے، جس کے تحت ابھی تک ایک لاکھ افراد کی اسکریننگ کی جا چکی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ پروگرام کے تحت گوگل یومیہ 350 افراد کی اسمارٹ موبائل کے تحت اسکریننگ کر رہا ہے، جس میں امراض قلب، امراض چشم، جگر، پھیپھڑوں اور دیگر بیماریوں کی اسکریننگ کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گوگل کے مطابق اسمارٹ موبائل کے کیمرے اور سینسرز کی مدد سے آنکھوں کے پردہ بصیرت کی بیماریوں سمیت آنکھوں کے ذیابطیس کی کامیابی سے تشخیص کی جا چکی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جب کہ آزمائشی پروگرام کے تحت ڈیجیٹل اسٹیتھ کوپ کو اسمارٹ موبائل کے سینسر اور کیمرے سے منسلک کرکے دل کی دھڑکن کو سننے اور اسے طبی زبان میں ترجمہ کرنے کی اسکریننگ بھی کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گوگل کے مطابق ڈیجیٹل ٹولز کی مدد سے کوئی بھی شخص اپنے اسمارٹ موبائل سے دل کی دھڑکن کو ریکارڈ کرکے وہ ریکارڈنگ ڈاکٹر کو بھی بھیج سکے گا جب کہ اسمارٹ موبائل کے فیچرز اس دھڑکن کو ترجمہ کرکے بھی صارف کو بتا سکیں گے کہ اس کے دل کی دھڑکن میں کیا مسئلہ ہے؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس وقت دنیا بھر میں ڈاکٹرز روایتی طریقے سے اسٹیتھ کوپ کے ذریعے دل، پھیپھڑوں اور پیٹ کے اندر کے اعضا کی آواز سن کر بیماریوں کی تشخیص کرتے ہیں، تاہم جدید ٹیکنالوجی اور ٹولز کے ذریعے لوگ خود ہی ایسا کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گوگل ہیلتھ کے ذریعے کمپنی آرٹیفشل انٹیلی جنس (اے آئی) یعنی مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے اسمارٹ فونز کی مدد سے بیماریوں کی اسکریننگ کے ٹولز متعارف کرانے کے لیے کوشاں ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ ٹولز کے ذریعے بیماریوں کی اسکریننگ کے نتائج حتمی نہیں ہوں گے، تاہم ممکنہ طور پر اس سے مرض کی ابتدائی شکل یا نوعیت معلوم ہو سکے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گوگل کی جانب سے اسمارٹ فونز کے ذریعے بیماریوں کی اسکریننگ کا آزمائشی پروگرام مختلف ممالک میں کیا جا رہا ہے اور ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ کب تک مذکورہ ٹولز کے ذریعے عام لوگ اپنی بیماریوں کی اسکریننگ کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ گوگل سے قبل متعدد کمپنیاں اور ادارے انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے صحت کی سہولیات، علاج اور تشخیص کے آلات اور ٹولز فراہم کرتی رہی ہیں، ایسی کمپنیوں &lt;a href="https://www.ekohealth.com/"&gt;&lt;strong&gt;’ایکو‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/2XQZQR477fg?enablejsapi=1&amp;showinfo=0&amp;rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دنیا کی سب سے بڑی سرچ انجن اور انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی کمپنی گوگل انسانی زندگی آسان بنانے کے لیے دن رات کوشاں ہیں اور اب اسی کمپنی نے ایسے ٹولز تیار کرلیے ہیں، جن سے بیماریوں کی اسکریننگ ممکن ہو سکے گی۔</p>

<p>گوگل کی جانب سے <a href="https://health.google/"><strong>’گوگل ہیلتھ‘</strong></a> نامی ایسا منصوبہ سامنے لایا گیا ہے، جس کے تحت کوئی بھی صارف کہیں بھی اپنے اسمارٹ موبائل سے خود کو لاحق امراض اور طبی مسائل کی ابتدائی تشخیص کر سکتا ہے۔</p>

<p><a href="https://blog.google/technology/health/check-up-ai-developments-2022/"><strong>گوگل کے مطابق</strong></a> کمپنی کی جانب سے اسمارٹ موبائل کی مدد سے بیماریوں کی تشخیص کا آزمائشی پروگرام جاری ہے، جس کے تحت ابھی تک ایک لاکھ افراد کی اسکریننگ کی جا چکی ہے۔</p>

<p>مذکورہ پروگرام کے تحت گوگل یومیہ 350 افراد کی اسمارٹ موبائل کے تحت اسکریننگ کر رہا ہے، جس میں امراض قلب، امراض چشم، جگر، پھیپھڑوں اور دیگر بیماریوں کی اسکریننگ کی جا رہی ہے۔</p>

<p>گوگل کے مطابق اسمارٹ موبائل کے کیمرے اور سینسرز کی مدد سے آنکھوں کے پردہ بصیرت کی بیماریوں سمیت آنکھوں کے ذیابطیس کی کامیابی سے تشخیص کی جا چکی ہے۔</p>

<p>جب کہ آزمائشی پروگرام کے تحت ڈیجیٹل اسٹیتھ کوپ کو اسمارٹ موبائل کے سینسر اور کیمرے سے منسلک کرکے دل کی دھڑکن کو سننے اور اسے طبی زبان میں ترجمہ کرنے کی اسکریننگ بھی کی جا رہی ہے۔</p>

<p>گوگل کے مطابق ڈیجیٹل ٹولز کی مدد سے کوئی بھی شخص اپنے اسمارٹ موبائل سے دل کی دھڑکن کو ریکارڈ کرکے وہ ریکارڈنگ ڈاکٹر کو بھی بھیج سکے گا جب کہ اسمارٹ موبائل کے فیچرز اس دھڑکن کو ترجمہ کرکے بھی صارف کو بتا سکیں گے کہ اس کے دل کی دھڑکن میں کیا مسئلہ ہے؟</p>

<p>اس وقت دنیا بھر میں ڈاکٹرز روایتی طریقے سے اسٹیتھ کوپ کے ذریعے دل، پھیپھڑوں اور پیٹ کے اندر کے اعضا کی آواز سن کر بیماریوں کی تشخیص کرتے ہیں، تاہم جدید ٹیکنالوجی اور ٹولز کے ذریعے لوگ خود ہی ایسا کر سکیں گے۔</p>

<p>گوگل ہیلتھ کے ذریعے کمپنی آرٹیفشل انٹیلی جنس (اے آئی) یعنی مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے اسمارٹ فونز کی مدد سے بیماریوں کی اسکریننگ کے ٹولز متعارف کرانے کے لیے کوشاں ہیں۔</p>

<p>مذکورہ ٹولز کے ذریعے بیماریوں کی اسکریننگ کے نتائج حتمی نہیں ہوں گے، تاہم ممکنہ طور پر اس سے مرض کی ابتدائی شکل یا نوعیت معلوم ہو سکے گی۔</p>

<p>گوگل کی جانب سے اسمارٹ فونز کے ذریعے بیماریوں کی اسکریننگ کا آزمائشی پروگرام مختلف ممالک میں کیا جا رہا ہے اور ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ کب تک مذکورہ ٹولز کے ذریعے عام لوگ اپنی بیماریوں کی اسکریننگ کر سکیں گے۔</p>

<p>خیال رہے کہ گوگل سے قبل متعدد کمپنیاں اور ادارے انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے صحت کی سہولیات، علاج اور تشخیص کے آلات اور ٹولز فراہم کرتی رہی ہیں، ایسی کمپنیوں <a href="https://www.ekohealth.com/"><strong>’ایکو‘</strong></a> بھی شامل ہے۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/2XQZQR477fg?enablejsapi=1&showinfo=0&rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1181112</guid>
      <pubDate>Fri, 22 Apr 2022 21:45:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/04/6262d6431a329.jpg?r=833688280" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/04/6262d6431a329.jpg?r=1199052449"/>
        <media:title>گوگل سے قبل ایکو نامی کمپنی بھی ڈیجیٹل آلات تیار کرتی آئی ہے—فوٹو: ایکو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
