<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 19:15:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 19:15:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سابق جنوبی افریقی کپتان گریم اسمتھ نسلی امتیاز کے الزامات سے بری
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1181267/</link>
      <description>&lt;p&gt;جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور کرکٹ کے ڈائریکٹر گریم اسمتھ نے کہا ہے کہ وہ ایک ثالثی عمل سے نسلی امتیاز کے الزامات سے بری ہونے کے بعد وہ خود کو مکمل طور پر آزاد محسوس کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق کرکٹ جنوبی افریقہ (سی ایس اے) نے اتوار کو اعلان کیا کہ دو آزاد ثالث گریم اسمتھ کے بطور کپتان اور بعد میں ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد ان پر تین الزامات میں ان کے حق میں نظر آئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گریم اسمتھ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’میں شکر گزار ہوں کہ آخرکار میرا نام کلیئر ہوگیا ہے‘۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سابق کپتان نے کہا کہ ’میں نے بطور کرکٹر، کپتان اور منتظم جنوبی افریقہ کی کرکٹ کو گزشتہ 20 برسوں سے اپنا سب کچھ دیا ہے، لہٰذا نسلی امتیاز کے بے بنیاد الزامات میرے اور اہل خانہ کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہیں‘۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ عمل تھکا دینے والا اور پریشان کن رہا ہے کیونکہ جنوبی افریقی کرکٹ تعمیر نو کے ایک اچھی طرح سے تشہیر کے عمل سے بھی گزر رہی ہے جس پر بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کرکٹر نے کہا کہ ’مجھے خوشی ہے کہ ہم آزاد ثالثوں کے سامنے ایک مضبوط ثالثی کے عمل سے گزرے ہیں اور مجھے مکمل طور پر بے قصور ٹھہرایا گیا ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گریم اسمتھ پر نسلی امتیاز کے الزامات کرکٹ جنوبی افریقہ کے تحت سوشل جسٹس اینڈ نیشن بلڈنگ عمل کے دوران لگائے گئے تھے۔ یہ عمل محتسب کے ذریعے کیا گیا جنہوں نے اپنے ’عبوری نتائج‘ میں کہا تھا کہ وہ معاملے کی مزید تفتیش کی سفارش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سابق کپتان کے خلاف یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے انگلینڈ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے لیے سیاہ فام وکٹ کیپر تھامی سولیکلی کے خلاف امتیازی سلوک کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی جگہ سفید فام بلے باز اور وکٹ کیپر اے بی ڈی ویلیئرز کو منتخب کرنے پر ترجیح دی، وہ کرکٹ جنوبی افریقہ میں سیاہ فام قیادت کے خلاف اور قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ کے طور پر مارک باؤچر کے انتخاب میں نسلی تعصب کا شکار تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097790"&gt;اسمتھ، پی ایس ایل میں ڈی ولیئرز جیسے مزید بڑے نام دیکھنے کے خواہاں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسمتھ کے خلاف لگائے گئے تینوں الزامات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد سی ایس اے کی جانب سے جاری کردہ 95 صفحات کی رپورٹ میں ثالثوں نے انہوں نے الزامات سے بری قرار دیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گریم اسمتھ کے وکیل ڈیوڈ بیکر نے کہا کہ سابق کپتان کو کچھ موقع پرست دعووں پر نشانہ بنایا گیا جن کا صحیح طریقہ سے جائزہ نہیں لیا گیا اور وہ مکمل طور پر غلط ثابت ہوئے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیکر نے کہا کہ ’سنجیدہ اور ہتک آمیز‘ دعوے کچھ لوگوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کی طرف سے ان کی ساکھ کو داغدار کرنے اور انہیں کرکٹ ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹانے کے واضح ایجنڈے کے ساتھ کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گریم اسمتھ کا کرکٹ کے ڈائریکٹر کے عہدے پر معاہدہ مارچ کے آخر میں ختم ہو گیا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسمتھ کے وکیل نے کہا کہ یہ ان کے کردار اور قیادت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ انہوں نے اس سارے عمل میں اپنا سر اونچا رکھا، کام پر توجہ مرکوز رکھی اور جنوبی افریقی کرکٹ کی مدد کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے رہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کرکٹ جنوبی افریقہ بورڈ کے چیئرمین لاسن نائیڈو نے گریم اسمتھ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’اب جب کہ ان اعمال کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، یہ مناسب ہے کہ اس غیر معمولی کردار کو تسلیم کیا جائے جو گریم اسمتھ نے جنوبی افریقی کرکٹ کے لیے ادا کیا ہے، پہلے سب سے طویل عرصے تک ٹیسٹ کپتان اور پھر 2019 سے 2022 تک بطور ڈائریکٹر کرکٹ۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر آف کرکٹ کے طور پر ان کا کردار خاص طور پر پروٹیز مردوں کی ٹیم کی تعمیر نو میں اہم رہا ہے اور انہوں نے اپنے جانشین کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور کرکٹ کے ڈائریکٹر گریم اسمتھ نے کہا ہے کہ وہ ایک ثالثی عمل سے نسلی امتیاز کے الزامات سے بری ہونے کے بعد وہ خود کو مکمل طور پر آزاد محسوس کر رہے ہیں۔</p>

<p>غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق کرکٹ جنوبی افریقہ (سی ایس اے) نے اتوار کو اعلان کیا کہ دو آزاد ثالث گریم اسمتھ کے بطور کپتان اور بعد میں ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد ان پر تین الزامات میں ان کے حق میں نظر آئے۔</p>

<p>گریم اسمتھ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’میں شکر گزار ہوں کہ آخرکار میرا نام کلیئر ہوگیا ہے‘۔  </p>

<p>سابق کپتان نے کہا کہ ’میں نے بطور کرکٹر، کپتان اور منتظم جنوبی افریقہ کی کرکٹ کو گزشتہ 20 برسوں سے اپنا سب کچھ دیا ہے، لہٰذا نسلی امتیاز کے بے بنیاد الزامات میرے اور اہل خانہ کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہیں‘۔  </p>

<p>انہوں نے کہا کہ یہ عمل تھکا دینے والا اور پریشان کن رہا ہے کیونکہ جنوبی افریقی کرکٹ تعمیر نو کے ایک اچھی طرح سے تشہیر کے عمل سے بھی گزر رہی ہے جس پر بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔</p>

<p>کرکٹر نے کہا کہ ’مجھے خوشی ہے کہ ہم آزاد ثالثوں کے سامنے ایک مضبوط ثالثی کے عمل سے گزرے ہیں اور مجھے مکمل طور پر بے قصور ٹھہرایا گیا ہے‘۔</p>

<p>گریم اسمتھ پر نسلی امتیاز کے الزامات کرکٹ جنوبی افریقہ کے تحت سوشل جسٹس اینڈ نیشن بلڈنگ عمل کے دوران لگائے گئے تھے۔ یہ عمل محتسب کے ذریعے کیا گیا جنہوں نے اپنے ’عبوری نتائج‘ میں کہا تھا کہ وہ معاملے کی مزید تفتیش کی سفارش کرتے ہیں۔</p>

<p>سابق کپتان کے خلاف یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے انگلینڈ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے لیے سیاہ فام وکٹ کیپر تھامی سولیکلی کے خلاف امتیازی سلوک کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی جگہ سفید فام بلے باز اور وکٹ کیپر اے بی ڈی ویلیئرز کو منتخب کرنے پر ترجیح دی، وہ کرکٹ جنوبی افریقہ میں سیاہ فام قیادت کے خلاف اور قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ کے طور پر مارک باؤچر کے انتخاب میں نسلی تعصب کا شکار تھے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097790">اسمتھ، پی ایس ایل میں ڈی ولیئرز جیسے مزید بڑے نام دیکھنے کے خواہاں</a></strong> </p>

<p>اسمتھ کے خلاف لگائے گئے تینوں الزامات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد سی ایس اے کی جانب سے جاری کردہ 95 صفحات کی رپورٹ میں ثالثوں نے انہوں نے الزامات سے بری قرار دیا۔ </p>

<p>گریم اسمتھ کے وکیل ڈیوڈ بیکر نے کہا کہ سابق کپتان کو کچھ موقع پرست دعووں پر نشانہ بنایا گیا جن کا صحیح طریقہ سے جائزہ نہیں لیا گیا اور وہ مکمل طور پر غلط ثابت ہوئے۔ </p>

<p>بیکر نے کہا کہ ’سنجیدہ اور ہتک آمیز‘ دعوے کچھ لوگوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کی طرف سے ان کی ساکھ کو داغدار کرنے اور انہیں کرکٹ ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹانے کے واضح ایجنڈے کے ساتھ کیے گئے تھے۔</p>

<p>گریم اسمتھ کا کرکٹ کے ڈائریکٹر کے عہدے پر معاہدہ مارچ کے آخر میں ختم ہو گیا تھا۔ </p>

<p>اسمتھ کے وکیل نے کہا کہ یہ ان کے کردار اور قیادت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ انہوں نے اس سارے عمل میں اپنا سر اونچا رکھا، کام پر توجہ مرکوز رکھی اور جنوبی افریقی کرکٹ کی مدد کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے رہے۔ </p>

<p>کرکٹ جنوبی افریقہ بورڈ کے چیئرمین لاسن نائیڈو نے گریم اسمتھ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’اب جب کہ ان اعمال کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، یہ مناسب ہے کہ اس غیر معمولی کردار کو تسلیم کیا جائے جو گریم اسمتھ نے جنوبی افریقی کرکٹ کے لیے ادا کیا ہے، پہلے سب سے طویل عرصے تک ٹیسٹ کپتان اور پھر 2019 سے 2022 تک بطور ڈائریکٹر کرکٹ۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر آف کرکٹ کے طور پر ان کا کردار خاص طور پر پروٹیز مردوں کی ٹیم کی تعمیر نو میں اہم رہا ہے اور انہوں نے اپنے جانشین کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1181267</guid>
      <pubDate>Tue, 26 Apr 2022 16:53:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/04/6267dbb3981aa.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/04/6267dbb3981aa.jpg"/>
        <media:title>گریم اسمتھ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’میں شکر گزار ہوں کہ آخرکار میرا نام کلیئر ہوگیا ہے‘ — فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
