<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Amazing</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 11:51:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 11:51:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین میں ڈرائیور لیس رائیڈ شیئرنگ سروس شروع ہونے کا امکان
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1181500/</link>
      <description>&lt;p&gt;چین میں اکثر منصوبے انتہائی حیرت انگیز ہوتے ہیں اور اب ایک بار پھر وہاں ایسا کچھ ہونے والا ہے جو دنیا کے دیگر ممالک میں فی الحال ممکن نظر نہیں آتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چین کی کمپنی بائیڈو اور ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپ Pony.ai نے بیجنگ میں ایسی سروس چلانے کا اعلان کیا ہے جسے چلانے کے لیے انسانوں کی ضرورت نہیں ہوگی یا یوں کہہ لیں ڈرائیو لیس گاڑیاں ہوں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;روبو ٹیکسی رائیڈ شیئرنگ سروس کے لیے دونوں کمپنیوں کو حکومت سے اجازت بھی مل گئی ہے جس کے تحت گاڑی کو چلانے کے لیے کسی ڈرائیور کی ضرورت نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ خیال رہے کہ دونوں کمپنیاں شراکت دار نہیں بلکہ ایک دوسرے سے الگ کام کریں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سروس کا آغاز &lt;a href="https://edition.cnn.com/2022/04/28/tech/baidu-ponyai-self-driving-robotaxi-intl-hnk/index.html"&gt;&lt;strong&gt;28 اپریل&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو بیجنگ میں ہوا اور مسافروں کو کمپنیوں کی ایپس کے ذریعے دن میں ٹیکسیاں بلانے کا موقع ملا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فی الحال ہر کمپنی کے لیے 23 اسکوائر میل کا ایک علاقہ مختص کیا گیا ہے اور انہیں ہدایت کی گئی ہے ایک آپریٹر کو پسنجر سیٹ پر رکھیں جو کسی ایمرجنسی کی صورت میں گاڑی کا کنٹرول سنبھال سکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بائیڈو کو سرچ انجن کے طور پر زیادہ جانا جاتا ہے مگر خودکار گاڑیوں کے حوالے سے اس کی جانب سے کافی کام کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بائیڈو کے مطابق 10 گاڑیوں کے ساتھ اس پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے اور جلد اس میں مزید 30 گاڑیوں کا اضافہ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب Pony.ai کا کہنا ہے کہ بیجنگ کے 3 لاکھ رہائشی اس تجربے کا حصہ بن سکتے ہیں۔ْ&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چین میں خودکار ڈرائیونگ کی صلاحیت رکھنے والی گاڑیوں پر کافی کام کیا جارہا ہے اور رائیڈ شیئرنگ سروس کے لیے تجربات کافی عرصے سے کیے جارہےہ یں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بائیڈو کی جانب سے بھی مختلف شہروں میں پائلٹ پروگرامز کے طور پر خودکار گاڑیوں کی سروس فراہم کی گئی تھی مگر ڈرائیور سیٹ پر انسانوں کو بٹھایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اب جاکر ڈرائیونگ سیٹ پر کسی انسان کو نہیں بٹھایا جارہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چین میں اکثر منصوبے انتہائی حیرت انگیز ہوتے ہیں اور اب ایک بار پھر وہاں ایسا کچھ ہونے والا ہے جو دنیا کے دیگر ممالک میں فی الحال ممکن نظر نہیں آتا۔</p>

<p>چین کی کمپنی بائیڈو اور ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپ Pony.ai نے بیجنگ میں ایسی سروس چلانے کا اعلان کیا ہے جسے چلانے کے لیے انسانوں کی ضرورت نہیں ہوگی یا یوں کہہ لیں ڈرائیو لیس گاڑیاں ہوں گی۔</p>

<p>روبو ٹیکسی رائیڈ شیئرنگ سروس کے لیے دونوں کمپنیوں کو حکومت سے اجازت بھی مل گئی ہے جس کے تحت گاڑی کو چلانے کے لیے کسی ڈرائیور کی ضرورت نہیں ہوگی۔</p>

<p>یہ خیال رہے کہ دونوں کمپنیاں شراکت دار نہیں بلکہ ایک دوسرے سے الگ کام کریں گی۔</p>

<p>اس سروس کا آغاز <a href="https://edition.cnn.com/2022/04/28/tech/baidu-ponyai-self-driving-robotaxi-intl-hnk/index.html"><strong>28 اپریل</strong></a> کو بیجنگ میں ہوا اور مسافروں کو کمپنیوں کی ایپس کے ذریعے دن میں ٹیکسیاں بلانے کا موقع ملا۔</p>

<p>فی الحال ہر کمپنی کے لیے 23 اسکوائر میل کا ایک علاقہ مختص کیا گیا ہے اور انہیں ہدایت کی گئی ہے ایک آپریٹر کو پسنجر سیٹ پر رکھیں جو کسی ایمرجنسی کی صورت میں گاڑی کا کنٹرول سنبھال سکے۔</p>

<p>بائیڈو کو سرچ انجن کے طور پر زیادہ جانا جاتا ہے مگر خودکار گاڑیوں کے حوالے سے اس کی جانب سے کافی کام کیا جارہا ہے۔</p>

<p>بائیڈو کے مطابق 10 گاڑیوں کے ساتھ اس پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے اور جلد اس میں مزید 30 گاڑیوں کا اضافہ کیا جائے گا۔</p>

<p>دوسری جانب Pony.ai کا کہنا ہے کہ بیجنگ کے 3 لاکھ رہائشی اس تجربے کا حصہ بن سکتے ہیں۔ْ</p>

<p>چین میں خودکار ڈرائیونگ کی صلاحیت رکھنے والی گاڑیوں پر کافی کام کیا جارہا ہے اور رائیڈ شیئرنگ سروس کے لیے تجربات کافی عرصے سے کیے جارہےہ یں۔</p>

<p>بائیڈو کی جانب سے بھی مختلف شہروں میں پائلٹ پروگرامز کے طور پر خودکار گاڑیوں کی سروس فراہم کی گئی تھی مگر ڈرائیور سیٹ پر انسانوں کو بٹھایا گیا۔</p>

<p>اب جاکر ڈرائیونگ سیٹ پر کسی انسان کو نہیں بٹھایا جارہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1181500</guid>
      <pubDate>Sat, 30 Apr 2022 20:10:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/04/626d324fad261.jpg?r=935695476" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/04/626d324fad261.jpg?r=1055590342"/>
        <media:title>— فوٹو بشکریہ بائیڈو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
