<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 20:45:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 20:45:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں بھی واٹس ایپ میسیج ری ایکشن متعارف
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1181924/</link>
      <description>&lt;p&gt;دنیا کی سب سے بڑی دنیا کی مقبول ترین انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نے دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی میسیج ری ایکشن فیچر متعارف کرادیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واٹس ایپ پر گزشتہ ہفتے 5 مئی کو ری ایکشن فیچر متعارف کرایا گیا تھا، جو ابتدائی طور پر امریکا اور یورپ سمیت دیگر چند ممالک میں دستیاب تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ابتدائی طور پر واٹس ایپ نے نومبر 2021 میں بتایا تھا کہ بعض صارفین کے لیے جلد میسیج ری ایکشن کا فیچر متعارف کرا دیا جائے گا، جس کے بعد جنوری 2022 میں اسے محدود صارفین میں پیش کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ فیچر کے حوالے سے پانچ مئی کو مارک زکربرگ نے فیس بک پوسٹ کے ذریعے بتایا تھا کہ اسے ہر کسی کے لیے دستیاب کردیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ساتھ ہی انہوں نے بتایا تھا کہ مذکورہ فیچر کو مزید بہتر بنائے جانے پر کام ہے اور اس میں  ’مدد، شکریہ اور تعریف‘ کے ایموجیز سمیت دیگر احساسات کے ری ایکشنز بھی شامل کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکا اور یورپ کے بعد 10 مئی کو پاکستانی صارفین کو بھی ری ایکشن فیچر تک رسائی دی گئی اور زیادہ تر پاکستانی لوگ مذکورہ فیچر کے حوالے سے بے خبر رہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ری ایکشن فیچر کے تحت صارفین کو کسی بھی میسیج پر 6 مختلف ایموجیز کے ساتھ اپنے احساسات کا اظہار کرنے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستانی صارفین ہاتھ جوڑنے، آنسوں بہانے، حیرت کا اظہار کرنے، مسکرانے، محبت کا اظہار کرنے اور پسند کا اظہار کرنے جیسے ایموجیز کےذریعے احساسات کا اظہار کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ فیچر بلکل ایسے ہی کام کر رہا ہے، جیسے فیس بک، انسٹاگرام اور مسینجر کے میسیج پر صارفین ایموجیز کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فیچر متعارف ہونے کے بعد ہر صارف کو میسیج دیکھتے وقت اور اسے سلیکٹ کرنے کے بعد وہاں ایموجیز کے نشانات دکھائی دیتے ہیں، جن میں سے وہ کسی بھی ایک ایموجی کے ذریعے رائے کا اظہار کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2022/05/627bd22f73dc6.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2022/05/627bd22f73dc6.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2022/05/627bd22f73dc6.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2022/05/627bd22f73dc6.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="&amp;mdash;اسکرین شاٹ" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;—اسکرین شاٹ&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صارف کی جانب سے کسی بھی میسیج پر ایموجی کے ذریعے رائے کا اظہار کرنے کے بعد اس کا نوٹی فکیشن میسیج بھیجنے والے کو بھی موصول ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ری ایکشن فیچر صرف اینڈرائڈ اور آئی او ایس صارفین کے لیے پیش کیا گیا ہے، یعنی اسے صرف موبائل پر ہی استعمال کیا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ فیچر کے بعد جلد ہی پاکستانی صارفین واٹس ایپ کے دیگر نئے پیش کیے گئے فیچرز تک بھی رسائی حاصل کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واٹس ایپ نے حال ہی میں گروپ ارکان کو شامل کرنے کی تعداد 256 سے بڑھا کر 512 تک کردی تھی مگر تاحال مذکورہ فیچر بھی پاکستان میں پیش نہیں ہوسکا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح واٹس ایپ نے اب کسی بھی میسیج میں 2 جی بی تک ایچ ڈی کوالٹی کی ویڈیو بھیجنےکا فیچر بھی متعارف کرایا ہے اور وہ بھی تاحال پاکستان میں پیش نہیں ہو سکا لیکن جلد ہی دونوں فیچر پاکستانی صارفین استعمال کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2022/05/627bd1e93aae7.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2022/05/627bd1e93aae7.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2022/05/627bd1e93aae7.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2022/05/627bd1e93aae7.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="&amp;mdash;اسکرین شاٹ" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;—اسکرین شاٹ&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دنیا کی سب سے بڑی دنیا کی مقبول ترین انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نے دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی میسیج ری ایکشن فیچر متعارف کرادیا۔</p>

<p>واٹس ایپ پر گزشتہ ہفتے 5 مئی کو ری ایکشن فیچر متعارف کرایا گیا تھا، جو ابتدائی طور پر امریکا اور یورپ سمیت دیگر چند ممالک میں دستیاب تھا۔</p>

<p>ابتدائی طور پر واٹس ایپ نے نومبر 2021 میں بتایا تھا کہ بعض صارفین کے لیے جلد میسیج ری ایکشن کا فیچر متعارف کرا دیا جائے گا، جس کے بعد جنوری 2022 میں اسے محدود صارفین میں پیش کردیا گیا تھا۔</p>

<p>مذکورہ فیچر کے حوالے سے پانچ مئی کو مارک زکربرگ نے فیس بک پوسٹ کے ذریعے بتایا تھا کہ اسے ہر کسی کے لیے دستیاب کردیا گیا۔</p>

<p>ساتھ ہی انہوں نے بتایا تھا کہ مذکورہ فیچر کو مزید بہتر بنائے جانے پر کام ہے اور اس میں  ’مدد، شکریہ اور تعریف‘ کے ایموجیز سمیت دیگر احساسات کے ری ایکشنز بھی شامل کیے جائیں گے۔</p>

<p>امریکا اور یورپ کے بعد 10 مئی کو پاکستانی صارفین کو بھی ری ایکشن فیچر تک رسائی دی گئی اور زیادہ تر پاکستانی لوگ مذکورہ فیچر کے حوالے سے بے خبر رہے۔</p>

<p>ری ایکشن فیچر کے تحت صارفین کو کسی بھی میسیج پر 6 مختلف ایموجیز کے ساتھ اپنے احساسات کا اظہار کرنے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔</p>

<p>پاکستانی صارفین ہاتھ جوڑنے، آنسوں بہانے، حیرت کا اظہار کرنے، مسکرانے، محبت کا اظہار کرنے اور پسند کا اظہار کرنے جیسے ایموجیز کےذریعے احساسات کا اظہار کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔</p>

<p>مذکورہ فیچر بلکل ایسے ہی کام کر رہا ہے، جیسے فیس بک، انسٹاگرام اور مسینجر کے میسیج پر صارفین ایموجیز کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔</p>

<p>فیچر متعارف ہونے کے بعد ہر صارف کو میسیج دیکھتے وقت اور اسے سلیکٹ کرنے کے بعد وہاں ایموجیز کے نشانات دکھائی دیتے ہیں، جن میں سے وہ کسی بھی ایک ایموجی کے ذریعے رائے کا اظہار کر سکیں گے۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2022/05/627bd22f73dc6.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2022/05/627bd22f73dc6.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2022/05/627bd22f73dc6.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2022/05/627bd22f73dc6.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="&mdash;اسکرین شاٹ" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">—اسکرین شاٹ</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>صارف کی جانب سے کسی بھی میسیج پر ایموجی کے ذریعے رائے کا اظہار کرنے کے بعد اس کا نوٹی فکیشن میسیج بھیجنے والے کو بھی موصول ہوتا ہے۔</p>

<p>ری ایکشن فیچر صرف اینڈرائڈ اور آئی او ایس صارفین کے لیے پیش کیا گیا ہے، یعنی اسے صرف موبائل پر ہی استعمال کیا جا سکے گا۔</p>

<p>مذکورہ فیچر کے بعد جلد ہی پاکستانی صارفین واٹس ایپ کے دیگر نئے پیش کیے گئے فیچرز تک بھی رسائی حاصل کر سکیں گے۔</p>

<p>واٹس ایپ نے حال ہی میں گروپ ارکان کو شامل کرنے کی تعداد 256 سے بڑھا کر 512 تک کردی تھی مگر تاحال مذکورہ فیچر بھی پاکستان میں پیش نہیں ہوسکا۔</p>

<p>اسی طرح واٹس ایپ نے اب کسی بھی میسیج میں 2 جی بی تک ایچ ڈی کوالٹی کی ویڈیو بھیجنےکا فیچر بھی متعارف کرایا ہے اور وہ بھی تاحال پاکستان میں پیش نہیں ہو سکا لیکن جلد ہی دونوں فیچر پاکستانی صارفین استعمال کر سکیں گے۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2022/05/627bd1e93aae7.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2022/05/627bd1e93aae7.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2022/05/627bd1e93aae7.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2022/05/627bd1e93aae7.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="&mdash;اسکرین شاٹ" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">—اسکرین شاٹ</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1181924</guid>
      <pubDate>Wed, 11 May 2022 21:10:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/05/627bd2be338b3.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/05/627bd2be338b3.jpg"/>
        <media:title>فیچر کو ابتدائی طور پر 5 مئی کو متعارف کرایا گیا تھا—اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
