<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 23:54:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 23:54:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیاسی تقسیم کے خلاف احتجاج، رضا ربانی نے ’ اہم‘ سینیٹ بل واپس لے لیے
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1181945/</link>
      <description>&lt;p&gt;سابق چیئرمین سینیٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر رضا ربانی نے سیاسی تقیسم اور انتظامیہ سے متعلق آئینی شقوں کی مسلسل خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے بطور ذاتی رکن پیش کیے گیے پانچوں بلوں کو واپس لے لیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1689267/rabbani-withdraws-senate-bills-to-protest-political-polarisation"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق رضا ربانی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے  چیئرمین کو لکھے گیے خط میں کہا کہ وہ پانچوں بلوں کو واپس لے رہے ہیں جوایوان بالا کے اختیارات بڑھانے کے لیے آئینی ترامیم، صدر کے آرڈیننس جاری کرنے کے اختیارات اور صوبائی کوٹہ سسٹم سے متعلق ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رضا ربانی نے لکھا کہ یہ بل 1973 کے آئین میں ترامیم سے متعلق ہیں جو کہ مقدس دستاویز اور وفاق کو مضبوط رکھنے کے لیے ابہت اہم ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ ترامیم سینیٹ کے اختیارات میں اضافے سے متعلق ہیں جو کہ وفاقی ڈھانچے کو مضبوط کرنے، وفاقی حکومت کی جانب سے آرڈیننسز جاری کرنے کے صوابدیدی اختیارات، 1973 کے آئین میں درج ٹائم فریم میں نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کا اجرا نہ ہونے کی صورت میں صوبوں کے حصے بڑھانے سے متعلق ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1180342/"&gt;آئینی بحران کے دوران سپریم کورٹ کی مداخلت کی مختصر تاریخ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترامیم وسیع سیاسی اتفاق رائے اور تمام تر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت اور ان کے خیالات کو مدنظر رکھتے ہوئے منظور کی جانی چاہئیں، کیونکہ آئین کسی جماعت کی پراپرٹی نہیں بلکہ عوام سے متعلق ہے لہٰذا آئین کے دفاع اور اس کے تحفظ کے لیے ہمیں کھڑا ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ ان حالات میں جب آئین کے ماتحت دفاتر جان بوجھ کر 1973 کے آئین کی خلاف ورزیاں کر رہے ہوں جو خود اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہو، آئینی ترامیم کرنا غیر مناسب لگتا ہے، جب 1973 کے آئین کی غلط تشریح اور خلاف ورزیاں ہو رہی ہوں یا آئین کے ماتحت اداروں کو بدنام کیا جارہا ہو، میں متذکرہ بلز کے ذریعے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں وفاق کی بقا کے لیے آئین میں ترامیم کے بجائے آئین کو محفوظ بنایا جانا اشد ضروری ہے، یہ آئین کی بقا کی جنگ ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے سینیٹ 2012 کے قواعد و ضوابط کے رول 115 کے تحت بلوں کو واپس لیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1180580/"&gt;9 اپریل کو رات گئے عدالت کھولنے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کی وضاحت&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پیپلز پارٹی کے سینیٹر نے مزید کہا کہ غیر آئینی اور قانون کی حکمرانی کے فقدان میں بل کی واپسی پاکستانیوں کی بھاری اکثریت کی جانب سے طاقت کی سیاست کے کھیل کے خلاف احتجاج ہے، یہ گیم ہمارے معاشرے میں سیاسی تقسیم پیدا کر رہی ہے اور قومی سلامتی اور وفاق پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='627ccef8c6db2'&gt;’فیصلوں پر تنقید کریں، ججوں پر نہیں‘&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;رضا ربانی کے خط کی روشنی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون کے اراکین نے کمیٹی چیئرمین سے درخواست کی ہے کہ ملک میں جاری متعدد آئینی بحرانات پر بحث کا انعقاد کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سید علی ظفر نے کہا کہ مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے بامعنی اور نتیجہ خیز بحث ہونا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی برائے انصاف و قانون کا تعلق عدالت کے ساتھ ہے لہٰذا اس کے مفادات کو یقینی بنانا بھی کمیٹی کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ جب بھی عدلیہ کوئی فیصلہ کرتی ہے تو کچھ جماعتیں اس فیصلے سے متفق جبکہ دیگر اس سے اختلاف کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیئرمین نے مزید کہا کہ عدالتی فیصلے پر مناسب رائے کا اظہار اور فیصلے پر تنقید کرنے کا حق ہر کسی کو حاصل ہے تاہم ججوں پر تنقید کرنے کے عمل کو روکنا ہوگا، یہ کمیٹی ججوں پر تنقید کے بڑھتے ہوئے عمل پر قابو پانے کے لیے قوانین لاسکتی ہے اور تجاویز دے سکتی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ جج اپنے دفاع کے لیے اپنے چیمبر سے باہر نہیں آسکتے اس لیے یہ ذمہ داری کمیٹی پر عائد ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سابق چیئرمین سینیٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر رضا ربانی نے سیاسی تقیسم اور انتظامیہ سے متعلق آئینی شقوں کی مسلسل خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے بطور ذاتی رکن پیش کیے گیے پانچوں بلوں کو واپس لے لیا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1689267/rabbani-withdraws-senate-bills-to-protest-political-polarisation"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق رضا ربانی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے  چیئرمین کو لکھے گیے خط میں کہا کہ وہ پانچوں بلوں کو واپس لے رہے ہیں جوایوان بالا کے اختیارات بڑھانے کے لیے آئینی ترامیم، صدر کے آرڈیننس جاری کرنے کے اختیارات اور صوبائی کوٹہ سسٹم سے متعلق ہیں۔</p>

<p>رضا ربانی نے لکھا کہ یہ بل 1973 کے آئین میں ترامیم سے متعلق ہیں جو کہ مقدس دستاویز اور وفاق کو مضبوط رکھنے کے لیے ابہت اہم ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ یہ ترامیم سینیٹ کے اختیارات میں اضافے سے متعلق ہیں جو کہ وفاقی ڈھانچے کو مضبوط کرنے، وفاقی حکومت کی جانب سے آرڈیننسز جاری کرنے کے صوابدیدی اختیارات، 1973 کے آئین میں درج ٹائم فریم میں نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کا اجرا نہ ہونے کی صورت میں صوبوں کے حصے بڑھانے سے متعلق ہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1180342/">آئینی بحران کے دوران سپریم کورٹ کی مداخلت کی مختصر تاریخ</a></strong></p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترامیم وسیع سیاسی اتفاق رائے اور تمام تر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت اور ان کے خیالات کو مدنظر رکھتے ہوئے منظور کی جانی چاہئیں، کیونکہ آئین کسی جماعت کی پراپرٹی نہیں بلکہ عوام سے متعلق ہے لہٰذا آئین کے دفاع اور اس کے تحفظ کے لیے ہمیں کھڑا ہونا چاہیے۔</p>

<p>سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ ان حالات میں جب آئین کے ماتحت دفاتر جان بوجھ کر 1973 کے آئین کی خلاف ورزیاں کر رہے ہوں جو خود اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہو، آئینی ترامیم کرنا غیر مناسب لگتا ہے، جب 1973 کے آئین کی غلط تشریح اور خلاف ورزیاں ہو رہی ہوں یا آئین کے ماتحت اداروں کو بدنام کیا جارہا ہو، میں متذکرہ بلز کے ذریعے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں وفاق کی بقا کے لیے آئین میں ترامیم کے بجائے آئین کو محفوظ بنایا جانا اشد ضروری ہے، یہ آئین کی بقا کی جنگ ہے۔ </p>

<p>انہوں نے سینیٹ 2012 کے قواعد و ضوابط کے رول 115 کے تحت بلوں کو واپس لیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1180580/">9 اپریل کو رات گئے عدالت کھولنے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کی وضاحت</a></strong></p>

<p>پیپلز پارٹی کے سینیٹر نے مزید کہا کہ غیر آئینی اور قانون کی حکمرانی کے فقدان میں بل کی واپسی پاکستانیوں کی بھاری اکثریت کی جانب سے طاقت کی سیاست کے کھیل کے خلاف احتجاج ہے، یہ گیم ہمارے معاشرے میں سیاسی تقسیم پیدا کر رہی ہے اور قومی سلامتی اور وفاق پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے۔</p>

<h3 id='627ccef8c6db2'>’فیصلوں پر تنقید کریں، ججوں پر نہیں‘</h3>

<p>رضا ربانی کے خط کی روشنی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون کے اراکین نے کمیٹی چیئرمین سے درخواست کی ہے کہ ملک میں جاری متعدد آئینی بحرانات پر بحث کا انعقاد کریں۔</p>

<p>کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سید علی ظفر نے کہا کہ مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے بامعنی اور نتیجہ خیز بحث ہونا ضروری ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی برائے انصاف و قانون کا تعلق عدالت کے ساتھ ہے لہٰذا اس کے مفادات کو یقینی بنانا بھی کمیٹی کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ جب بھی عدلیہ کوئی فیصلہ کرتی ہے تو کچھ جماعتیں اس فیصلے سے متفق جبکہ دیگر اس سے اختلاف کرتی ہیں۔</p>

<p>چیئرمین نے مزید کہا کہ عدالتی فیصلے پر مناسب رائے کا اظہار اور فیصلے پر تنقید کرنے کا حق ہر کسی کو حاصل ہے تاہم ججوں پر تنقید کرنے کے عمل کو روکنا ہوگا، یہ کمیٹی ججوں پر تنقید کے بڑھتے ہوئے عمل پر قابو پانے کے لیے قوانین لاسکتی ہے اور تجاویز دے سکتی ہے۔ </p>

<p>سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ جج اپنے دفاع کے لیے اپنے چیمبر سے باہر نہیں آسکتے اس لیے یہ ذمہ داری کمیٹی پر عائد ہوتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1181945</guid>
      <pubDate>Thu, 12 May 2022 14:10:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملک اسد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/05/627cb970d79e3.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/05/627cb970d79e3.png"/>
        <media:title>رضا ربانی نے کہا کہ ایسے حالات میں وفاق کی بقا کے لیے آئین میں ترامیم کے بجائے آئین کو محفوظ بنایا جانا اشد ضروری ہے
— فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
