<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 18:53:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 18:53:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کو ‘مشکل فیصلے’ کرنے ہوں گے، مفتاح اسمٰعیل کا آئی ایم ایف سے اتفاق
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1182200/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیرخزانہ مفتاح اسمٰعیل نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے کہا ہے کہ حکومت موجودہ معاشی بحران کا ادراک رکھتی ہے اور متفق ہے کہ ‘مشکل فیصلے’ کرنے ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق مفتاح اسمٰعیل نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ کم آمدنی کے حامل طبقے کو مہنگائی سے بچاتے ہوئے ‘مشکل فیصلے’ کرنے ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اس وقت جاری معاشی بحران کا ادراک ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قبل ازیں دوحہ میں حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ اہم فنڈز جاری کرنے کے سلسلے میں مذاکرات شروع کردیے تھے، مذاکرات کا یہ عمل ملک میں معاشی اصلاحات نہ ہونے کے خدشات کے باعث سست روی کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزارت خزانہ نے ٹوئٹ میں بتایا کہ مذاکرات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری ہیں جو اگلے ہفتے تک جاری رہ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;    &lt;span&gt;
        &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
            &lt;a href="https://twitter.com/FinMinistryPak/status/1526806993834586113"&gt;&lt;/a&gt;
        &lt;/blockquote&gt;
    &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان نے عالمی اداروں سے معیشت کے لیے سپورٹ مانگی ہے، جو قومی قرضوں میں اضافے، افراط زر میں اضافے اور روپے کی بے قدری سے شدید متاثر ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذاکرات میں وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل، وزیر مملکت ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا، سیکریٹری فنانس حمید یعقوب شیخ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے نگراں گورنر ڈاکٹر مرتضٰی سید سمیت فنانس ڈویژن کے دیگر حکام شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1178827"&gt;آئی ایم ایف نے غیر اہدافی سبسڈی، ایمنسٹی اسکیم پر سوالات اٹھادیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذاکرات کا اہم نکتہ پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی پر دی جانے والی بھاری سبسڈی ہے، جبکہ مفتاح اسمٰعیل کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ دونوں طرف سے کوئی درمیانی راستہ تلاش کیا جائے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماہر معاشیات شاہ رخ وانی نے کہا کہ حکومت، آئی ایم ایف کو قائل کرنے کی کوشش کرے گی کہ سیاسی استحکام کے لیے کچھ سبسڈیز کو جاری رکھنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف ممکنہ طور پر اور ٹھیک کہے گا کہ یہ غیر پائیدار ہے اور تجارتی اور بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے سبسڈیز کو ختم کر دینا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے ساتھ 6 ارب ڈالر کے 'بیل آؤٹ پیکیج' پر 2019 میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے دستخط کیے تھے جس پر کبھی بھی مکمل عمل درآمد نہیں کیا گیا، کیونکہ ان کی حکومت نے معاہدے کے برخلاف سبسڈیز کو ختم کیا نہ ہی ریونیو اور ٹیکس محصولات میں اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسلام آباد نے اس پروگروام کے تحت اب تک 3 ارب ڈالر وصول کیے ہیں جس کا اختتام سال کے آخر میں ہونا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1181629"&gt;عمران خان نے آئی ایم ایف سے ڈیزل 295 روپے تک مہنگا کرنے کا معاہدہ کیا، مفتاح اسمٰعیل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عہدیدران اس پروگرام میں جون 2023 تک توسیع کروانے کے ساتھ ایک ارب ڈالر کی قسط کا اجرا بھی چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیر اعظم شہباز شریف ڈوبتی معیشت میں بہتری کے لیے پُرعزم ہیں لیکن ماہرین کے مطابق ان کی کمزور حکومت سخت فیصلے کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے وزیر خزانہ کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں قرض پروگرام جاری رکھنے کے لیے ایندھن پر سبسڈی ختم کرنے سے مشروط کیا ہے، جنہیں گزشتہ حکومت نے متعارف کروایا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم وزیر اعظم شہباز شریف نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور وزارت خزانہ کی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی متعدد سمریوں کو مسترد کردیا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ولسن سینٹر واشنگٹن کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنوبی ایشا مائیکل کوگلمین نے بتایا کہ اس انتظامیہ نے معاشی بحالی کے لیے سخت سیاسی فیصلے اٹھانے سے انکار کردیا ہے، لیکن آئی ایم ایف میں جانے کے لیے لازمی طور پر یہ قربانیاں دینا پڑیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیرخزانہ مفتاح اسمٰعیل نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے کہا ہے کہ حکومت موجودہ معاشی بحران کا ادراک رکھتی ہے اور متفق ہے کہ ‘مشکل فیصلے’ کرنے ہوں گے۔</p>

<p>خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق مفتاح اسمٰعیل نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ کم آمدنی کے حامل طبقے کو مہنگائی سے بچاتے ہوئے ‘مشکل فیصلے’ کرنے ہوں گے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اس وقت جاری معاشی بحران کا ادراک ہے۔</p>

<p>قبل ازیں دوحہ میں حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ اہم فنڈز جاری کرنے کے سلسلے میں مذاکرات شروع کردیے تھے، مذاکرات کا یہ عمل ملک میں معاشی اصلاحات نہ ہونے کے خدشات کے باعث سست روی کا شکار ہے۔</p>

<p>وزارت خزانہ نے ٹوئٹ میں بتایا کہ مذاکرات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری ہیں جو اگلے ہفتے تک جاری رہ سکتے ہیں۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>    <span>
        <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
            <a href="https://twitter.com/FinMinistryPak/status/1526806993834586113"></a>
        </blockquote>
    </span></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>پاکستان نے عالمی اداروں سے معیشت کے لیے سپورٹ مانگی ہے، جو قومی قرضوں میں اضافے، افراط زر میں اضافے اور روپے کی بے قدری سے شدید متاثر ہے۔ </p>

<p>مذاکرات میں وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل، وزیر مملکت ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا، سیکریٹری فنانس حمید یعقوب شیخ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے نگراں گورنر ڈاکٹر مرتضٰی سید سمیت فنانس ڈویژن کے دیگر حکام شامل ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1178827">آئی ایم ایف نے غیر اہدافی سبسڈی، ایمنسٹی اسکیم پر سوالات اٹھادیے</a></strong></p>

<p>مذاکرات کا اہم نکتہ پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی پر دی جانے والی بھاری سبسڈی ہے، جبکہ مفتاح اسمٰعیل کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ دونوں طرف سے کوئی درمیانی راستہ تلاش کیا جائے۔ </p>

<p>ماہر معاشیات شاہ رخ وانی نے کہا کہ حکومت، آئی ایم ایف کو قائل کرنے کی کوشش کرے گی کہ سیاسی استحکام کے لیے کچھ سبسڈیز کو جاری رکھنا ضروری ہے۔</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف ممکنہ طور پر اور ٹھیک کہے گا کہ یہ غیر پائیدار ہے اور تجارتی اور بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے سبسڈیز کو ختم کر دینا چاہیے۔</p>

<p>آئی ایم ایف کے ساتھ 6 ارب ڈالر کے 'بیل آؤٹ پیکیج' پر 2019 میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے دستخط کیے تھے جس پر کبھی بھی مکمل عمل درآمد نہیں کیا گیا، کیونکہ ان کی حکومت نے معاہدے کے برخلاف سبسڈیز کو ختم کیا نہ ہی ریونیو اور ٹیکس محصولات میں اضافہ کیا۔</p>

<p>اسلام آباد نے اس پروگروام کے تحت اب تک 3 ارب ڈالر وصول کیے ہیں جس کا اختتام سال کے آخر میں ہونا ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1181629">عمران خان نے آئی ایم ایف سے ڈیزل 295 روپے تک مہنگا کرنے کا معاہدہ کیا، مفتاح اسمٰعیل</a></strong></p>

<p>عہدیدران اس پروگرام میں جون 2023 تک توسیع کروانے کے ساتھ ایک ارب ڈالر کی قسط کا اجرا بھی چاہتے ہیں۔</p>

<p>وزیر اعظم شہباز شریف ڈوبتی معیشت میں بہتری کے لیے پُرعزم ہیں لیکن ماہرین کے مطابق ان کی کمزور حکومت سخت فیصلے کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔</p>

<p>آئی ایم ایف نے وزیر خزانہ کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں قرض پروگرام جاری رکھنے کے لیے ایندھن پر سبسڈی ختم کرنے سے مشروط کیا ہے، جنہیں گزشتہ حکومت نے متعارف کروایا تھا۔ </p>

<p>تاہم وزیر اعظم شہباز شریف نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور وزارت خزانہ کی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی متعدد سمریوں کو مسترد کردیا تھا۔ </p>

<p>ولسن سینٹر واشنگٹن کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنوبی ایشا مائیکل کوگلمین نے بتایا کہ اس انتظامیہ نے معاشی بحالی کے لیے سخت سیاسی فیصلے اٹھانے سے انکار کردیا ہے، لیکن آئی ایم ایف میں جانے کے لیے لازمی طور پر یہ قربانیاں دینا پڑیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1182200</guid>
      <pubDate>Wed, 18 May 2022 21:13:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر شیرانیویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/05/62851192d0e01.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/05/62851192d0e01.png"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/05/6284a664b36aa.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/05/6284a664b36aa.jpg"/>
        <media:title>عہدیدران آئی ایم ایف پروگرام میں جون 2023 تک توسیع کروانے کے ساتھ ایک ارب ڈالر کی قسط کا اجرا بھی چاہتے ہیں— فائل فوٹو: آئی ایم ایف
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
