<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 21 May 2026 21:40:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 21 May 2026 21:40:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سربراہ سندھ رینجرز کو ہاؤسنگ سوسائٹی کی زمین خالی کرنے کا حکم
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1182873/</link>
      <description>&lt;p&gt;سندھ ہائی کورٹ  (ایس ایچ سی) نے پاکستان رینجرز سندھ کے ڈائریکٹر جنرل کو گلشن اقبال میں اپنی سرکاری رہائش گاہ سے ملحقہ زمین خالی کرکے کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی آفیسرز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1692461/sindh-rangers-chief-told-to-vacate-land-meant-for-housing-society"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق جسٹس ظفر احمد راجپوت اور جسٹس محمد فیصل کمال عالم پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے ریمارکس دیے کہ اگر رینجرز چیف یا دیگر سرکاری افسران کو متعلقہ اراضی درکار ہے تو اسے قانون کے مطابق یعنی درخواست گزاروں کو مارکیٹ ویلیو ادا کر کے حاصل کیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت نے کے ڈی اے آفیسرز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کو ہدایت کی کہ وہ ضابطہ اخلاق کو پورا کرنے کے بعد متعلقہ اراضی کا قبضہ قانونی اور حقیقی الاٹیوں/درخواست گزاروں کے حوالے کرے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1167732"&gt;نیب، آئی بی ہاؤسنگ سوسائٹی سے پلاٹس کے حصول میں تاخیر سے پریشان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بینچ نے اپنے حکم میں کہا ’سرکاری افسران بشمول جواب دہندہ نمبر 1 [ڈی جی رینجرز] کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر ان کے اقدامات شہریوں کے لیے مشکلات اور مصائب کا باعث بنتے ہیں، (جیسا کہ موجودہ کیس میں دیکھا گیا ہے) تو پھر ایسی کارروائیاں نقصان دہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے سبب فورس کے اراکین کی جانب سے دی گئی قربانیاں بھی نظرانداز ہوں گی‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بینچ نے یہ ہدایات 2017 میں کے ڈی اے کے 20 افسران کی جانب سے دائر کی گئی ایک پٹیشن کو نمٹاتے ہوئے دیں جنہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہیں کے ڈی اے افسرز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں کے ڈی اے انسپکشن بنگلے کے ارد گرد 200 مربع گز کے پلاٹ الاٹ کیے گئے ہیں جہاں گلشن اقبال میں ڈی جی رینجرز رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست گزاروں نے پیرا ملٹری فورس کو زیر بحث زمین خالی کرنے اور اپنے پلاٹوں پر قبضے کے حصول کی استدعا کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1120053"&gt;میئر کراچی نے کے ایم سی کی اراضی واگزار کرانے کیلئے رینجرز سے مدد طلب کرلی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بینچ نے اپنے فیصلے میں مشاہدہ کیا کہ سب سے اہم دستاویز 1978 کی لیز ڈیڈ تھی جسے کے ڈی اے نے ہاؤسنگ سوسائٹی کو بلاکس اے اور بی میں 30 ایکڑ رقبہ دیا اور 1983 میں ایک اضافی ڈیڈ کے ذریعے اس رقبے کو 36.96 ایکڑ تک مزید بڑھایا گیا اور یہ دونوں رجسٹرڈ دستاویزات تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس میں مزید بتایا گیا کہ سرکاری ریکارڈ نے کافی حد تک ثابت کیا کہ کے ڈی اے آفیسرز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی 36.96 اراضی کے لیز کے قابل اراضی کی مالک تھی جس میں مذکورہ اراضی بھی شامل تھی جبکہ جواب دہندگان کے درمیان ہونے والے خط و کتابت سے یہ بھی ظاہر ہوا تھا کہ انسپکشن بنگلہ کے ڈی اے کی ملکیت ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکم نامے میں کہا گیا کہ کے ڈی اے اور سندھ حکومت سے اجازت لے کر رینجرز چیف کے ڈی اے کے انسپکشن بنگلے پر قابض ہیں جبکہ ڈی جی رینجرز نے تبصروں میں اس حقیقت کو منصفانہ طور پر تسلیم کیا کہ صوبائی محکمہ داخلہ نے ایس اینڈ جی اے ڈی کو 27 جنوری 1999 کو ڈی جی رینجرز کی سرکاری رہائش گاہ کے طور پر استعمال کے لیے ’کے ڈی اے انسپکشن بنگلہ‘ الاٹ کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سندھ ہائی کورٹ  (ایس ایچ سی) نے پاکستان رینجرز سندھ کے ڈائریکٹر جنرل کو گلشن اقبال میں اپنی سرکاری رہائش گاہ سے ملحقہ زمین خالی کرکے کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی آفیسرز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1692461/sindh-rangers-chief-told-to-vacate-land-meant-for-housing-society"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق جسٹس ظفر احمد راجپوت اور جسٹس محمد فیصل کمال عالم پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے ریمارکس دیے کہ اگر رینجرز چیف یا دیگر سرکاری افسران کو متعلقہ اراضی درکار ہے تو اسے قانون کے مطابق یعنی درخواست گزاروں کو مارکیٹ ویلیو ادا کر کے حاصل کیا جائے۔</p>

<p>عدالت نے کے ڈی اے آفیسرز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کو ہدایت کی کہ وہ ضابطہ اخلاق کو پورا کرنے کے بعد متعلقہ اراضی کا قبضہ قانونی اور حقیقی الاٹیوں/درخواست گزاروں کے حوالے کرے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1167732">نیب، آئی بی ہاؤسنگ سوسائٹی سے پلاٹس کے حصول میں تاخیر سے پریشان</a></strong> </p>

<p>بینچ نے اپنے حکم میں کہا ’سرکاری افسران بشمول جواب دہندہ نمبر 1 [ڈی جی رینجرز] کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر ان کے اقدامات شہریوں کے لیے مشکلات اور مصائب کا باعث بنتے ہیں، (جیسا کہ موجودہ کیس میں دیکھا گیا ہے) تو پھر ایسی کارروائیاں نقصان دہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے سبب فورس کے اراکین کی جانب سے دی گئی قربانیاں بھی نظرانداز ہوں گی‘۔</p>

<p>بینچ نے یہ ہدایات 2017 میں کے ڈی اے کے 20 افسران کی جانب سے دائر کی گئی ایک پٹیشن کو نمٹاتے ہوئے دیں جنہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہیں کے ڈی اے افسرز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں کے ڈی اے انسپکشن بنگلے کے ارد گرد 200 مربع گز کے پلاٹ الاٹ کیے گئے ہیں جہاں گلشن اقبال میں ڈی جی رینجرز رہتے ہیں۔</p>

<p>درخواست گزاروں نے پیرا ملٹری فورس کو زیر بحث زمین خالی کرنے اور اپنے پلاٹوں پر قبضے کے حصول کی استدعا کی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1120053">میئر کراچی نے کے ایم سی کی اراضی واگزار کرانے کیلئے رینجرز سے مدد طلب کرلی</a></strong> </p>

<p>بینچ نے اپنے فیصلے میں مشاہدہ کیا کہ سب سے اہم دستاویز 1978 کی لیز ڈیڈ تھی جسے کے ڈی اے نے ہاؤسنگ سوسائٹی کو بلاکس اے اور بی میں 30 ایکڑ رقبہ دیا اور 1983 میں ایک اضافی ڈیڈ کے ذریعے اس رقبے کو 36.96 ایکڑ تک مزید بڑھایا گیا اور یہ دونوں رجسٹرڈ دستاویزات تھے۔</p>

<p>اس میں مزید بتایا گیا کہ سرکاری ریکارڈ نے کافی حد تک ثابت کیا کہ کے ڈی اے آفیسرز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی 36.96 اراضی کے لیز کے قابل اراضی کی مالک تھی جس میں مذکورہ اراضی بھی شامل تھی جبکہ جواب دہندگان کے درمیان ہونے والے خط و کتابت سے یہ بھی ظاہر ہوا تھا کہ انسپکشن بنگلہ کے ڈی اے کی ملکیت ہے۔</p>

<p>حکم نامے میں کہا گیا کہ کے ڈی اے اور سندھ حکومت سے اجازت لے کر رینجرز چیف کے ڈی اے کے انسپکشن بنگلے پر قابض ہیں جبکہ ڈی جی رینجرز نے تبصروں میں اس حقیقت کو منصفانہ طور پر تسلیم کیا کہ صوبائی محکمہ داخلہ نے ایس اینڈ جی اے ڈی کو 27 جنوری 1999 کو ڈی جی رینجرز کی سرکاری رہائش گاہ کے طور پر استعمال کے لیے ’کے ڈی اے انسپکشن بنگلہ‘ الاٹ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1182873</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Jun 2022 11:17:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسحاق تنولی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/06/6297035da3add.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/06/6297035da3add.jpg"/>
        <media:title>حکم نامے میں کہا گیا کہ کے ڈی اے اور سندھ حکومت کی اجازت سے رینجرز چیف  بنگلے پر قابض ہیں—فائل فوٹو:فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
