<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 20:58:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 20:58:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جانوروں کی بیماریاں انسانوں میں منتقل ہونے لگیں، عالمی ادارہ صحت
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1182902/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور خشک سالی کے باعث جہاں انسانوں اور جانوروں کے خوراک تلاش کرنے کے انداز تبدیل ہوئے ہیں، وہیں جانوروں میں پائی جانے والی بیماریاں اب انسانوں میں منتقل ہونے لگی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر رساں ادارے &lt;a href="https://www.reuters.com/business/healthcare-pharmaceuticals/outbreaks-diseases-such-monkeypox-becoming-more-frequent-warns-who-2022-06-01/"&gt;&lt;strong&gt;’رائٹرز‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ایمرجنسیز محکمے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ریان مائک نے خبردار کیا کہ دنیا میں ’منکی پاکس اور لاسا بخار‘ جیسی بیماریوں کا پھیلاؤ عام ہوچکا ہے اور یہ مزید تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث خشک سالی ہونے سے خوراک کی تلاش سمیت دیگر عوامل میں انسان اور جانور اپنا رویہ تبدیل کر رہے ہیں، جس وجہ سے جانوروں میں پائی جانے والی بیماریاں تیزی سے انسانوں میں منتقل ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈاکٹر ریان مائک کے مطابق بدقسمتی سے سماج میں بیماریوں کو بڑھانے کے رجحان میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو کہ تشویش ناک ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1182619/"&gt;&lt;strong&gt;متحدہ عرب امارات میں منکی پاکس کا پہلا کیس رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مثال دی کہ حالیہ دنوں میں ’لاسا بخار‘ جیسی بیماری کو بھی دیگر ممالک میں پھیلتا ہوا دیکھا گیا جو کہ دراصل افریقی خطے میں چوہوں میں پایا جانے والا وائرل بخار تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایبولا وائرس کے محدود حد تک پھیلنے میں بھی پانچ سال تک لگ جاتے تھے مگر اب دیکھا گیا ہے کہ کسی وائرل بیماری کے پھیلاؤ میں 5 ماہ کا وقفہ بھی مل جائے تو اسے خوشقسمتی سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے ماضی میں بندروں میں پائی جانے والی بیماری ’منکی پاکس‘ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یقینی طور پر بیماریوں کے پھیلاؤ میں موسمیاتی تبدیلی کا دباؤ شامل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت کے ایمرجنسیز محکمے کے سربراہ کا مذکورہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کہ ماضی میں صرف افریقہ میں پائی جانے والی بیماری ’منکی پاکس‘ کے دنیا کے 30 ممالک میں 550 تک کیسز رپورٹ ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1182568/"&gt;&lt;strong&gt;جین ایڈیٹنگ کے بعد ٹماٹروں میں وٹامن ڈی شامل کرنے کا تجربہ کامیاب&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;منکی پاکس کا حالیہ پھیلاؤ گزشتہ ماہ مئی کے آغاز میں برطانیہ کی ریاست انگلینڈ سے شروع ہوا جو دیکھتے ہی دیکھتے یورپ کے دو درجن ممالک تک پھیل گیا، جس کے بعد منکی پاکس کے کیسز امریکا اور مشرق وسطیٰ سمیت ایشیائی ممالک میں بھی رپورٹ ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;منکی پاکس بھی ماضی میں صرف بندروں میں پائی جانے والی بیماری تھی جو بعد ازاں 1980 میں صرف افریقی خطے میں انسانوں تک محدود دی مگر یہ دنیا کے ان خطوں تک بھی پہنچ گئی، جہاں ماضی میں یہ بیماری موجود نہیں تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح افریقہ میں چوہوں کے اندر پائی جانے والی بیماری ’لاسا بخار‘ کا پھیلاؤ بھی دیگر ممالک میں دیکھا جا رہا ہے اور رواں برس کے آغاز میں افریقہ کے باہر کے ممالک میں بھی وائرل بخار لاسا کے کیسز رپورٹ ہوئےتھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور خشک سالی کے باعث جہاں انسانوں اور جانوروں کے خوراک تلاش کرنے کے انداز تبدیل ہوئے ہیں، وہیں جانوروں میں پائی جانے والی بیماریاں اب انسانوں میں منتقل ہونے لگی ہیں۔</p>

<p>خبر رساں ادارے <a href="https://www.reuters.com/business/healthcare-pharmaceuticals/outbreaks-diseases-such-monkeypox-becoming-more-frequent-warns-who-2022-06-01/"><strong>’رائٹرز‘</strong></a> کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ایمرجنسیز محکمے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ریان مائک نے خبردار کیا کہ دنیا میں ’منکی پاکس اور لاسا بخار‘ جیسی بیماریوں کا پھیلاؤ عام ہوچکا ہے اور یہ مزید تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث خشک سالی ہونے سے خوراک کی تلاش سمیت دیگر عوامل میں انسان اور جانور اپنا رویہ تبدیل کر رہے ہیں، جس وجہ سے جانوروں میں پائی جانے والی بیماریاں تیزی سے انسانوں میں منتقل ہو رہی ہیں۔</p>

<p>ڈاکٹر ریان مائک کے مطابق بدقسمتی سے سماج میں بیماریوں کو بڑھانے کے رجحان میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو کہ تشویش ناک ہے۔</p>

<p>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1182619/"><strong>متحدہ عرب امارات میں منکی پاکس کا پہلا کیس رپورٹ</strong></a></p>

<p>انہوں نے مثال دی کہ حالیہ دنوں میں ’لاسا بخار‘ جیسی بیماری کو بھی دیگر ممالک میں پھیلتا ہوا دیکھا گیا جو کہ دراصل افریقی خطے میں چوہوں میں پایا جانے والا وائرل بخار تھا۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایبولا وائرس کے محدود حد تک پھیلنے میں بھی پانچ سال تک لگ جاتے تھے مگر اب دیکھا گیا ہے کہ کسی وائرل بیماری کے پھیلاؤ میں 5 ماہ کا وقفہ بھی مل جائے تو اسے خوشقسمتی سمجھا جاتا ہے۔</p>

<p>انہوں نے ماضی میں بندروں میں پائی جانے والی بیماری ’منکی پاکس‘ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یقینی طور پر بیماریوں کے پھیلاؤ میں موسمیاتی تبدیلی کا دباؤ شامل ہے۔</p>

<p>عالمی ادارہ صحت کے ایمرجنسیز محکمے کے سربراہ کا مذکورہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کہ ماضی میں صرف افریقہ میں پائی جانے والی بیماری ’منکی پاکس‘ کے دنیا کے 30 ممالک میں 550 تک کیسز رپورٹ ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔</p>

<p>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1182568/"><strong>جین ایڈیٹنگ کے بعد ٹماٹروں میں وٹامن ڈی شامل کرنے کا تجربہ کامیاب</strong></a></p>

<p>منکی پاکس کا حالیہ پھیلاؤ گزشتہ ماہ مئی کے آغاز میں برطانیہ کی ریاست انگلینڈ سے شروع ہوا جو دیکھتے ہی دیکھتے یورپ کے دو درجن ممالک تک پھیل گیا، جس کے بعد منکی پاکس کے کیسز امریکا اور مشرق وسطیٰ سمیت ایشیائی ممالک میں بھی رپورٹ ہوئے۔</p>

<p>منکی پاکس بھی ماضی میں صرف بندروں میں پائی جانے والی بیماری تھی جو بعد ازاں 1980 میں صرف افریقی خطے میں انسانوں تک محدود دی مگر یہ دنیا کے ان خطوں تک بھی پہنچ گئی، جہاں ماضی میں یہ بیماری موجود نہیں تھی۔</p>

<p>اسی طرح افریقہ میں چوہوں کے اندر پائی جانے والی بیماری ’لاسا بخار‘ کا پھیلاؤ بھی دیگر ممالک میں دیکھا جا رہا ہے اور رواں برس کے آغاز میں افریقہ کے باہر کے ممالک میں بھی وائرل بخار لاسا کے کیسز رپورٹ ہوئےتھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1182902</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Jun 2022 22:25:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/06/6297a0dc7a6cf.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/06/6297a0dc7a6cf.jpg?0.8210336919409886"/>
        <media:title>جانوروں اور انسانوں کو رویہ تبدیل ہو چکا، عالمی ادارہ صحت—فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
