<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 22:04:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 22:04:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کینسر کو ختم کرنے والے وائرس کو پہلے انسان میں داخل کردیا گیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1183004/</link>
      <description>&lt;p&gt;موذی مرض کینسر کو ختم کرنے والے تیار کیے گئے وائرس کی پہلی بار انسانوں پر آزمائش شروع کرتے ہوئے سائنسدانوں نے ایک مریض کے جسم میں انجکشن کے ذریعے وائرس داخل کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کینسر کو ختم کرنے والے وائرس کی انسانوں پر آزمائش کے پہلے مرحلے کا آغاز کردیا گیا، جس میں کینسر سے متاثر 100 بالغ افراد کے جسموں میں وائرس داخل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سائنسی جریدے ’نیشنل لیبارٹری اینڈ میڈیسن‘ میں شائع &lt;a href="https://clinicaltrials.gov/ct2/show/NCT05346484"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق 17 مئی 2022 سے کینسر کو ختم کرنے والے وائرس کی آزمائش کا پہلا مرحلہ شروع کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مرحلے کے آغاز میں پہلی بار کسی انسان میں انجکشن کے ذریعے کینسر کو ختم کرنے والا وائرس داخل کیا گیا جو کہ انسان کے ان خلیات میں جاکر اینٹی وائرس کا کام کرتا ہے، جہاں کینسر کے سیلز بن چکے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکوہ وائرس کو ماہرین نے ’سی ایف 33۔ ایچ این آئی ایس‘ یا ’ویکسینا‘ کا نام دیا ہے اور اسے ’اونکلیسٹک وائرس‘ سے تیار کیا گیا ہے جو کہ کینسر کو ختم کرنے کا کام کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1158125"&gt;&lt;strong&gt;کینسر ویکسین کے ابتدائی ٹرائل کے حوصلہ افزا نتائج&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق مذکورہ وائرس انسان کی ان خلیات میں جاکر متحرک بن جاتا ہے، جہاں کینسر کے سیلز بن چکے ہوتے ہیں اور وہاں مذکورہ وائرس اپنی ہزاروں کاپیاں نکال کر انہیں کینسر سے متاثرہ سیل یا انسانی جسم کے حصے پر حملہ کرنے کا حکم دیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ عمل کے ذریعے وائرس انسان کے صحت مند خلیات یا حصوں پر کوئی اثر نہیں کرتا، البتہ صرف ان خلیات کو نشانہ بناتا ہے جو موذی مرض سے متاثر ہو چکے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں یہ وائرس انسان کے مدافعتی نظام کو بھی کینسر کے اثرات سے بچاکر اسے قوت بخشتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انسانوں پر پہلی آزمائش سے قبل مذکورہ وائرس کا تجربہ جانوروں پر کیا گیا تھا اوراس کے نتائج حوصلہ بخش آئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انسانوں پر پہلے آزمائشی مرحلے کے دوران مذکورہ وائرس 5 طرح کے کینسر کا شکار بننے والے مریضوں کے جسم میں داخل کیا جائے گا، ان مریضوں میں ایڈوانس لیول کے کینسر مریض بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماہرین کو امید ہے کہ مذکورہ وائرس کینسر کے خلاف موثر ہتھیار ثابت ہوگا اور موذی مرض کے خلاف تحقیق اور علاج میں مزید پیش رفت ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>موذی مرض کینسر کو ختم کرنے والے تیار کیے گئے وائرس کی پہلی بار انسانوں پر آزمائش شروع کرتے ہوئے سائنسدانوں نے ایک مریض کے جسم میں انجکشن کے ذریعے وائرس داخل کردیا۔</p>

<p>کینسر کو ختم کرنے والے وائرس کی انسانوں پر آزمائش کے پہلے مرحلے کا آغاز کردیا گیا، جس میں کینسر سے متاثر 100 بالغ افراد کے جسموں میں وائرس داخل کیا جائے گا۔</p>

<p>سائنسی جریدے ’نیشنل لیبارٹری اینڈ میڈیسن‘ میں شائع <a href="https://clinicaltrials.gov/ct2/show/NCT05346484"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق 17 مئی 2022 سے کینسر کو ختم کرنے والے وائرس کی آزمائش کا پہلا مرحلہ شروع کیا گیا۔</p>

<p>مرحلے کے آغاز میں پہلی بار کسی انسان میں انجکشن کے ذریعے کینسر کو ختم کرنے والا وائرس داخل کیا گیا جو کہ انسان کے ان خلیات میں جاکر اینٹی وائرس کا کام کرتا ہے، جہاں کینسر کے سیلز بن چکے ہوتے ہیں۔</p>

<p>مذکوہ وائرس کو ماہرین نے ’سی ایف 33۔ ایچ این آئی ایس‘ یا ’ویکسینا‘ کا نام دیا ہے اور اسے ’اونکلیسٹک وائرس‘ سے تیار کیا گیا ہے جو کہ کینسر کو ختم کرنے کا کام کرتے ہیں۔</p>

<p>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1158125"><strong>کینسر ویکسین کے ابتدائی ٹرائل کے حوصلہ افزا نتائج</strong></a></p>

<p>ماہرین کے مطابق مذکورہ وائرس انسان کی ان خلیات میں جاکر متحرک بن جاتا ہے، جہاں کینسر کے سیلز بن چکے ہوتے ہیں اور وہاں مذکورہ وائرس اپنی ہزاروں کاپیاں نکال کر انہیں کینسر سے متاثرہ سیل یا انسانی جسم کے حصے پر حملہ کرنے کا حکم دیتا ہے۔</p>

<p>مذکورہ عمل کے ذریعے وائرس انسان کے صحت مند خلیات یا حصوں پر کوئی اثر نہیں کرتا، البتہ صرف ان خلیات کو نشانہ بناتا ہے جو موذی مرض سے متاثر ہو چکے ہوتے ہیں۔</p>

<p>علاوہ ازیں یہ وائرس انسان کے مدافعتی نظام کو بھی کینسر کے اثرات سے بچاکر اسے قوت بخشتا ہے۔</p>

<p>انسانوں پر پہلی آزمائش سے قبل مذکورہ وائرس کا تجربہ جانوروں پر کیا گیا تھا اوراس کے نتائج حوصلہ بخش آئے تھے۔</p>

<p>انسانوں پر پہلے آزمائشی مرحلے کے دوران مذکورہ وائرس 5 طرح کے کینسر کا شکار بننے والے مریضوں کے جسم میں داخل کیا جائے گا، ان مریضوں میں ایڈوانس لیول کے کینسر مریض بھی شامل ہیں۔</p>

<p>ماہرین کو امید ہے کہ مذکورہ وائرس کینسر کے خلاف موثر ہتھیار ثابت ہوگا اور موذی مرض کے خلاف تحقیق اور علاج میں مزید پیش رفت ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1183004</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Jun 2022 22:40:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/06/629a3de774f33.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/06/629a3de774f33.jpg?0.7763219574132987"/>
        <media:title>وائرس کی آزمائش کا پہلا مرحلہ شروع ہوگیا—فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
