<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 00:37:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 00:37:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجٹ23-2022: 'ٹیکس سے ہونے والی آمدن کا 56 فیصد قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہوگا'
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1183389/</link>
      <description>&lt;p&gt;نئی حکومت یکم جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال 23-2022 میں قرضوں کی  ادائیگی پر 3 ہزار 950 ارب روپے خرچ کرے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1694204/debt-servicing-to-eat-up-56pc-tax-revenue"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق قرضوں کی خطیر ادائیگی نئے مالی سال کی ٹیکس آمدنی کے 56.4 فیصد ہوگی، حکومت کا مالی سال 23-2022 میں 7 ہزار 4 ارب روپے کے ٹیکس جمع کرنے کا ہدف ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈیٹ سروسنگ  9 ہزار 3 ارب روپے کی کُل آمدنی کا 43.87 فیصد ہوگی جبکہ 9.5 کھرب کی مجموعی وصولی کا 41.6 فیصد ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جمعہ کو جاری بجٹ دستاویز کے اعداد وشمار سے صورتحال کی سنگینی واضح ہوتی ہے، جس کے مطابق کُل ترقیاتی اخراجات 1 ہزار23 ارب روپے ہوں گے جو قرضوں کی ادائیگی سے بہت کم رقم ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قرضوں میں ہر سال اضافہ ہورہا ہے اور بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے زیادہ قرضے لیے جارہے ہیں، تاہم بجٹ میں سب سے زیادہ رقم قرضوں کی ادائیگی کے لیے مختص کی گئی ہے جسے ہر حکومت کے لیے کم کرنا اور ترقیاتی بجٹ کو بڑھانا ناممکن ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183303/"&gt;اقتصادی سروے: پی ٹی آئی حکومت کے اختتام تک مجموعی قرض 440 کھرب روپےسے متجاوز&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگرچہ جی ڈی پی اور آمدنی میں اضافہ ہورہا ہے، لیکن اس کے فائدے کوعوامی مفاد میں زیادہ ترقیاتی فنڈ کی صورت میں منتقل نہیں کیا جاسکتا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2022/06/62a49e40c89e6.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2022/06/62a49e40c89e6.jpg 397w, https://i.dawn.com/large/2022/06/62a49e40c89e6.jpg 397w, https://i.dawn.com/primary/2022/06/62a49e40c89e6.jpg 397w' sizes='(min-width: 992px)  397px, (min-width: 768px)  397px,  397px' alt="&amp;mdash;ڈان اخبار" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;—ڈان اخبار&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر آمدنی میں اضافہ پورا نہیں ہوتا تو مالیاتی صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پچھلے سال ماہرین معیشت نے توقع ظاہر کی تھی کہ 30 جون کوختم ہونے والے موجودہ مالی سال میں خالص آمدنی سے صرف قرضوں کی ادائیگی کی جاسکے گی، جبکہ دفاع  سمیت تمام اخراجات کے لیے قرضہ لینا پڑے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بجٹ دستاویز کے مطابق آمدنی، اخراجات، اثاثے اور واجبات غیر متوقع واقعات سے متاثر ہوسکتے جسے بجٹ کے اہداف میں شامل نہیں کیا گیا ہے، مزید مالیاتی صورتحال عالمی کلی معاشی صورتحال جیسا کہ اشیا کی قیمتیں اور شرح تبادلہ سے متاثر ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;روپے کی گرتی قدر کی رفتار اور زری سخت اقدامات کے سبب خاصل آمدنی سے صرف قرضوں کی ادائیگی ہوسکے گی، مالی سال 2022 میں روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 17 فیصد کم ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183336/"&gt;بجٹ 23-2022: مختلف ٹیکسز پر چھوٹ، نوجوانوں کے لیے خصوصی اعلانات&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بجٹ دستاویز میں روپے کی قدر میں مزید ممکنہ کمی کا ذکر نہیں کیا گیا، تاہم ڈالر کی آمد میں کمی سے روپے کی قدر میں مزید کمی ہوسکتی ہے جس کے سبب روپے میں قرضوں میں اضافہ ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;موجودہ بجٹ آمدنی، سبسڈی میں کمی اور مالیاتی نظم و ضبط کی آئی ایم ایف کی اہم شرائط کو پورا کرنے کے  کوشش نظر آتا ہے، اس کے برخلاف پچھلے سال توسیعی بجٹ کے سبب صنعتی پیدوار میں اضافے سے جی ڈی پی کی نمو میں 5.97 فیصد کا اضافہ اور درآمدات میں بڑا اضافہ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹاپ لائن ریسرچ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر محمد سہیل نے کہا کہ پاکستانی معیشت کے خدوخال اور بجٹ کے اہداف کے حصول کا بڑے پیمانے پر اںحصار اشیا کی عالمی قیمتوں پر ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ آمدنی کے ہدف میں 17 فیصد اضافہ کرکے 7 کھرب کا ہدف حاصل کرنا معیشت میں سست روی اور ایندھن کی فروخت سے کم آمدنی کی وجہ سے چلینج ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183331"&gt;مالی سال 23-2022 کا بجٹ پیش، دفاعی بجٹ میں اضافہ، ماہانہ ایک لاکھ تک تنخواہ پر ٹیکس ختم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایندھن پر سیلز ٹیکس، پیٹرولیم لیوی اور ڈیوٹیز سے کُل ٹیکس کا 22 فیصد وصول کیا جاتا ہے، حکومت مقامی صارفین سے قیمت میں 40 فیصد اضافے کے باوجود کوئی ٹیکس وصول نہیں کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نئی حکومت یکم جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال 23-2022 میں قرضوں کی  ادائیگی پر 3 ہزار 950 ارب روپے خرچ کرے گی۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1694204/debt-servicing-to-eat-up-56pc-tax-revenue"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق قرضوں کی خطیر ادائیگی نئے مالی سال کی ٹیکس آمدنی کے 56.4 فیصد ہوگی، حکومت کا مالی سال 23-2022 میں 7 ہزار 4 ارب روپے کے ٹیکس جمع کرنے کا ہدف ہے۔</p>

<p>ڈیٹ سروسنگ  9 ہزار 3 ارب روپے کی کُل آمدنی کا 43.87 فیصد ہوگی جبکہ 9.5 کھرب کی مجموعی وصولی کا 41.6 فیصد ہوگی۔</p>

<p>جمعہ کو جاری بجٹ دستاویز کے اعداد وشمار سے صورتحال کی سنگینی واضح ہوتی ہے، جس کے مطابق کُل ترقیاتی اخراجات 1 ہزار23 ارب روپے ہوں گے جو قرضوں کی ادائیگی سے بہت کم رقم ہے۔</p>

<p>قرضوں میں ہر سال اضافہ ہورہا ہے اور بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے زیادہ قرضے لیے جارہے ہیں، تاہم بجٹ میں سب سے زیادہ رقم قرضوں کی ادائیگی کے لیے مختص کی گئی ہے جسے ہر حکومت کے لیے کم کرنا اور ترقیاتی بجٹ کو بڑھانا ناممکن ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183303/">اقتصادی سروے: پی ٹی آئی حکومت کے اختتام تک مجموعی قرض 440 کھرب روپےسے متجاوز</a></strong></p>

<p>اگرچہ جی ڈی پی اور آمدنی میں اضافہ ہورہا ہے، لیکن اس کے فائدے کوعوامی مفاد میں زیادہ ترقیاتی فنڈ کی صورت میں منتقل نہیں کیا جاسکتا۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/medium/2022/06/62a49e40c89e6.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2022/06/62a49e40c89e6.jpg 397w, https://i.dawn.com/large/2022/06/62a49e40c89e6.jpg 397w, https://i.dawn.com/primary/2022/06/62a49e40c89e6.jpg 397w' sizes='(min-width: 992px)  397px, (min-width: 768px)  397px,  397px' alt="&mdash;ڈان اخبار" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">—ڈان اخبار</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اگر آمدنی میں اضافہ پورا نہیں ہوتا تو مالیاتی صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے </p>

<p>پچھلے سال ماہرین معیشت نے توقع ظاہر کی تھی کہ 30 جون کوختم ہونے والے موجودہ مالی سال میں خالص آمدنی سے صرف قرضوں کی ادائیگی کی جاسکے گی، جبکہ دفاع  سمیت تمام اخراجات کے لیے قرضہ لینا پڑے گا۔</p>

<p>بجٹ دستاویز کے مطابق آمدنی، اخراجات، اثاثے اور واجبات غیر متوقع واقعات سے متاثر ہوسکتے جسے بجٹ کے اہداف میں شامل نہیں کیا گیا ہے، مزید مالیاتی صورتحال عالمی کلی معاشی صورتحال جیسا کہ اشیا کی قیمتیں اور شرح تبادلہ سے متاثر ہوسکتی ہے۔</p>

<p>روپے کی گرتی قدر کی رفتار اور زری سخت اقدامات کے سبب خاصل آمدنی سے صرف قرضوں کی ادائیگی ہوسکے گی، مالی سال 2022 میں روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 17 فیصد کم ہوئی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183336/">بجٹ 23-2022: مختلف ٹیکسز پر چھوٹ، نوجوانوں کے لیے خصوصی اعلانات</a></strong></p>

<p>بجٹ دستاویز میں روپے کی قدر میں مزید ممکنہ کمی کا ذکر نہیں کیا گیا، تاہم ڈالر کی آمد میں کمی سے روپے کی قدر میں مزید کمی ہوسکتی ہے جس کے سبب روپے میں قرضوں میں اضافہ ہو جائے گا۔</p>

<p>موجودہ بجٹ آمدنی، سبسڈی میں کمی اور مالیاتی نظم و ضبط کی آئی ایم ایف کی اہم شرائط کو پورا کرنے کے  کوشش نظر آتا ہے، اس کے برخلاف پچھلے سال توسیعی بجٹ کے سبب صنعتی پیدوار میں اضافے سے جی ڈی پی کی نمو میں 5.97 فیصد کا اضافہ اور درآمدات میں بڑا اضافہ ہوا تھا۔</p>

<p>ٹاپ لائن ریسرچ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر محمد سہیل نے کہا کہ پاکستانی معیشت کے خدوخال اور بجٹ کے اہداف کے حصول کا بڑے پیمانے پر اںحصار اشیا کی عالمی قیمتوں پر ہوگا۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ آمدنی کے ہدف میں 17 فیصد اضافہ کرکے 7 کھرب کا ہدف حاصل کرنا معیشت میں سست روی اور ایندھن کی فروخت سے کم آمدنی کی وجہ سے چلینج ہوگا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183331">مالی سال 23-2022 کا بجٹ پیش، دفاعی بجٹ میں اضافہ، ماہانہ ایک لاکھ تک تنخواہ پر ٹیکس ختم</a></strong></p>

<p>انہوں نے کہا کہ ایندھن پر سیلز ٹیکس، پیٹرولیم لیوی اور ڈیوٹیز سے کُل ٹیکس کا 22 فیصد وصول کیا جاتا ہے، حکومت مقامی صارفین سے قیمت میں 40 فیصد اضافے کے باوجود کوئی ٹیکس وصول نہیں کررہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1183389</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Jun 2022 20:07:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہد اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/06/62a4af968259a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/06/62a4af968259a.jpg"/>
        <media:title>قرضوں میں ہر سال اضافہ ہورہا ہے اور بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے زیادہ قرضے لیے جارہے ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
