<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 01:58:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 01:58:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ستمبر تک ایندھن کی درآمد کیلئے 19 کھرب 80 ارب روپے درکار
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1183595/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان اسٹیٹ آئل کے 60 کھرب روپے کے ریکارڈ واجبات کے ساتھ پیٹرولیم ڈویژن نے لوڈشیڈنگ میں کمی کے لیے یکم جولائی سے آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں تیل درآمد کرنے کے لیے 19 کھرب 80 ارب روپے کی ضرورت ظاہر کردی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1695049/rs198tr-needed-by-sept-for-fuel-imports-to-minimise-loadshedding"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق پی ایس او اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) بجلی کا شارٹ فال اور گیس کی طلب و رسد کو کم کرنے کے لیے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) درآمد کررہی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گرمیوں کے مہینوں میں ریگیسیفائیڈ ایل این جی سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی) اور سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے ذریعے صارفین بشمول پاور سیکٹر کو فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1181080"&gt;پاکستان کو ایل این جی کارگوز کیلئے 6 مہنگی بولیاں مل گئیں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جون سے ستمبر کے دوران ہر ماہ 12 کارگوز ایل این جی درآمد کرنے کا منصوبہ ہے، پی ایس او قطر کے ساتھ ہوئے طویل مدتی معاہدے کے تحت ہر ماہ 6 کارگو درآمد کرے گا جبکہ پی ایل ایل جولائی اور ستمبر میں 3 اور اگست میں ایک کارگو منگائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ جون، جولائی اور ستمبر کے لیے 3، 3 جبکہ اگست کے لیے 5 اسپاٹ کارگوز حاصل کرنے کا منصوبہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اسپاٹ کارگوز کی تصدیق  اب بھی ٹینڈرز اور لیٹر آف کریڈٹ بروقت کھولے جانے سے مشروط ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایس این جی پی ایل کا پاور سیکٹر کو یومیہ 720 سے 780 ملین کیوبک فیٹ دینے کا ارادہ ہے جبکہ پی ایل ایل کے الیکٹر کو جولائی سے 62 ایم ایم سی ایف ڈی سے اکتوبر میں 130 ایم ایم سی ایف ڈی براہِ راست دینے کے لیے تیار ہے تا کہ وہ اپنا نیا پاور پلانٹ مکمل گنجائش کے ساتھ چلا سکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183395/"&gt;پاکستان، قطری ایل این جی کی مؤخر ادائیگیوں کا منصوبہ حاصل کرے گا، مفتاح اسمٰعیل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;روس-یوکرین تنازع اور بین الاقوامی طلب و رسد کی صورتحال کے باعث ایک اسپاٹ ایل این جی کارگو کی قیمت 15 سے 16 ارب روپے تک جا پہنچی ہے جس کی وجہ سے ایل این جی درآمد کنندگان کو پیسے کی ضرورت بڑھی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایل این جی کی درآمد کے ساتھ پی ایس او پاور سیکٹر کی طلب پوری کرنے لیے فرنس آئل بھی درآمد کررہا ہے جس سے اس کی مالی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پی ایس او اور پی ایل ایل نے موسم گرما کے مہینوں میں اپنی لیکویڈیٹی کی ضروریات بتائی ہیں جس کے مطابق پی ایس او کو ایل این جی اور فرنس آئل دونوں کے لیے مجموعی طور پر 17 کھرب روپے درکار ہیں جس میں جون میں 4 کھرب 27 ارب، جولائی میں 4 کھرب 45 ارب، اگست میں 4 کھرب 13 ارب اور ستمبر میں 4 کھرب 14 ارب روپے چاہیے ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب پی ایل یل نے چاہ ماہ کے لیے 2 کھرب 78 ارب روپے مانگے ہیں جس میں 98 ارب روپے رواں ماہ، 44 ارب جولائی میں 80 ارب اگست میں اور 56 ارب روپے ستمبر میں درکار ہوں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان اسٹیٹ آئل کے 60 کھرب روپے کے ریکارڈ واجبات کے ساتھ پیٹرولیم ڈویژن نے لوڈشیڈنگ میں کمی کے لیے یکم جولائی سے آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں تیل درآمد کرنے کے لیے 19 کھرب 80 ارب روپے کی ضرورت ظاہر کردی۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1695049/rs198tr-needed-by-sept-for-fuel-imports-to-minimise-loadshedding">رپورٹ</a></strong> کے مطابق پی ایس او اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) بجلی کا شارٹ فال اور گیس کی طلب و رسد کو کم کرنے کے لیے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) درآمد کررہی ہیں۔</p>

<p>گرمیوں کے مہینوں میں ریگیسیفائیڈ ایل این جی سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی) اور سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے ذریعے صارفین بشمول پاور سیکٹر کو فراہم کی جائے گی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1181080">پاکستان کو ایل این جی کارگوز کیلئے 6 مہنگی بولیاں مل گئیں</a></strong></p>

<p>جون سے ستمبر کے دوران ہر ماہ 12 کارگوز ایل این جی درآمد کرنے کا منصوبہ ہے، پی ایس او قطر کے ساتھ ہوئے طویل مدتی معاہدے کے تحت ہر ماہ 6 کارگو درآمد کرے گا جبکہ پی ایل ایل جولائی اور ستمبر میں 3 اور اگست میں ایک کارگو منگائے گا۔</p>

<p>اس کے علاوہ جون، جولائی اور ستمبر کے لیے 3، 3 جبکہ اگست کے لیے 5 اسپاٹ کارگوز حاصل کرنے کا منصوبہ ہے۔</p>

<p>تاہم اسپاٹ کارگوز کی تصدیق  اب بھی ٹینڈرز اور لیٹر آف کریڈٹ بروقت کھولے جانے سے مشروط ہے۔</p>

<p>ایس این جی پی ایل کا پاور سیکٹر کو یومیہ 720 سے 780 ملین کیوبک فیٹ دینے کا ارادہ ہے جبکہ پی ایل ایل کے الیکٹر کو جولائی سے 62 ایم ایم سی ایف ڈی سے اکتوبر میں 130 ایم ایم سی ایف ڈی براہِ راست دینے کے لیے تیار ہے تا کہ وہ اپنا نیا پاور پلانٹ مکمل گنجائش کے ساتھ چلا سکے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183395/">پاکستان، قطری ایل این جی کی مؤخر ادائیگیوں کا منصوبہ حاصل کرے گا، مفتاح اسمٰعیل</a></strong></p>

<p>روس-یوکرین تنازع اور بین الاقوامی طلب و رسد کی صورتحال کے باعث ایک اسپاٹ ایل این جی کارگو کی قیمت 15 سے 16 ارب روپے تک جا پہنچی ہے جس کی وجہ سے ایل این جی درآمد کنندگان کو پیسے کی ضرورت بڑھی ہے۔</p>

<p>ایل این جی کی درآمد کے ساتھ پی ایس او پاور سیکٹر کی طلب پوری کرنے لیے فرنس آئل بھی درآمد کررہا ہے جس سے اس کی مالی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔</p>

<p>پی ایس او اور پی ایل ایل نے موسم گرما کے مہینوں میں اپنی لیکویڈیٹی کی ضروریات بتائی ہیں جس کے مطابق پی ایس او کو ایل این جی اور فرنس آئل دونوں کے لیے مجموعی طور پر 17 کھرب روپے درکار ہیں جس میں جون میں 4 کھرب 27 ارب، جولائی میں 4 کھرب 45 ارب، اگست میں 4 کھرب 13 ارب اور ستمبر میں 4 کھرب 14 ارب روپے چاہیے ہوں گے۔</p>

<p>دوسری جانب پی ایل یل نے چاہ ماہ کے لیے 2 کھرب 78 ارب روپے مانگے ہیں جس میں 98 ارب روپے رواں ماہ، 44 ارب جولائی میں 80 ارب اگست میں اور 56 ارب روپے ستمبر میں درکار ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1183595</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jun 2022 09:20:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/06/62aaaf24721b2.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/06/62aaaf24721b2.jpg"/>
        <media:title>جون، جولائی اور ستمبر کے لیے 3، 3 جبکہ اگست کے لیے 5 اسپاٹ کارگوز حاصل کرنے کا منصوبہ ہے—فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
