<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 11:12:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 11:12:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی ’گرے لسٹ‘ میں شامل کیے جانے کی تاریخ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1183690/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کا نام فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ میں شامل کرنے اور اس لسٹ سے نکلنے کے لیے پاکستان کے حالیہ برسوں میں اٹھائے گئے اقدامات کی طویل تاریخ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان کا نام پہلی بار 2008 میں ایف اے ٹی ایف کی ’گرے لسٹ‘ میں شامل کیا گیا تھا کیونکہ پاکستان مبینہ طور پر دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات اٹھانے میں ناکام رہا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کسی ملک کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کیے جانے کا مطلب ہے کہ اس ملک پر طے شدہ مدت کے اندر نشاندہی کی گئی اسٹریٹجک خامیوں کو تیزی سے حل کرنا لازم ہے اور اس کی نگرانی میں اضافہ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183668"&gt;پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل پائے گا یا نہیں؟ فیصلہ آج ہوگا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;2008 کے بعد 2012 اور 2018 میں بھی پاکستان کو مزید 2 بار اس فہرست میں شامل کیا گیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کا نام ہمیشہ ایسے وقت میں گرے لسٹ میں ڈالا گیا جب ملک انتخابات کی جانب گامزن تھا یا اقتدار کی تازہ منتقلی ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف اے ٹی ایف کی فہرست میں تینوں بار پاکستان کا نام شامل کیے جانے اور اس سے نکلنے کے لیے پاکستان کے حالیہ برسوں میں اٹھائے گئے اقدامات کی ٹائم لائن درج ذیل ہے:&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;28 فروری 2008&lt;/strong&gt; کو پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں پہلی بار شامل کیا گیا تھا کیونکہ پاکستان مبینہ طور پر بین الاقوامی اینٹی منی لانڈرنگ (اے ایم ایل) اور دہشت گردی کی مالی معاونت کا مقابلہ کرنے (سی ایف ٹی) کے معیارات کو پورا کرنے میں ناکام رہا تھا، ان اہداف کے حصول کے لیے پاکستان کو ایشیا پیسیفک گروپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو کہا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183487/"&gt;اتحادی ممالک کی پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالنے کیلئے کوششیں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جون 2010&lt;/strong&gt; میں پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے اس وقت نکال دیا گیا تھا جب پاکستان نے ایک مستقل اینٹی منی لانڈرنگ قانون نافذ کرنے سمیت اے ایم ایل اور سی ایف ٹی نظام کو بہتر بنانے میں پیش رفت ظاہر کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;16 فروری 2012 کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خطرات سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے طے شدہ معیارات کی مکمل تعمیل نہ کرنے پر پاکستان کو دوبارہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1171136"&gt;ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھنے کا اعلان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;26 فروری 2015&lt;/strong&gt; کو پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا گیا تھا، ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی جانب سے اپنے اے ایم ایل اور سی ایف ٹی نظام کو بہتر بنانے میں نمایاں پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے اپنے ایکشن پلان میں وعدوں کو پورا کرنے کے لیے قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک قائم کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;28 جون 2018&lt;/strong&gt; کو پاکستان کو تیسری بار گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا، ایف اے ٹی ایف کا یہ مؤقف تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;16 اگست 2018&lt;/strong&gt; کو ایف اے ٹی ایف نے 12 روز کے معائنے کے بعد پاکستان کے ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان میں خامیاں پائیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;8 مارچ 2019&lt;/strong&gt; کو ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے کالعدم تنظیموں کو ہائی رسک قرار دے دیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;11 مئی 2019&lt;/strong&gt; کو پاکستان کسٹمز نے دہشت گردی کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے پالیسی متعارف کرائی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;25 جولائی 2019&lt;/strong&gt; کو دہشت گردی کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں ایف اے ٹی ایف سیل قائم کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;25 اگست 2019&lt;/strong&gt; کو اس وقت کے وزیراعظم نے ایف اے ٹی ایف کے اہداف کو پورا کرنے میں معاونت کے لیے باڈی تشکیل کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;18 اکتوبر 2019&lt;/strong&gt; کو ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان پر زور دیا کہ وہ فروری 2020 تک اپنے مکمل ایکشن پلان کی تیزی سے تکمیل کرے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;29 اکتوبر 2019&lt;/strong&gt; کو ایکشن پلان پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے وزارت داخلہ میں ایک ایف اے ٹی ایف سیل قائم کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1141918"&gt;اسپیکر قومی اسمبلی ایف اے ٹی ایف قانون سازی پر اتفاق رائے کیلئے پُر اُمید&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;21 فروری 2020&lt;/strong&gt; کو ایف اے ٹی ایف نے ایکشن پلان کو مکمل کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پاکستان کو جون 2020 تک گرے لسٹ میں رکھنے کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;24 فروری 2020&lt;/strong&gt; کو ایف بی آر نے اعلان کیا کہ وہ ایف اے ٹی ایف کی تعمیل کے لیے ریئل اسٹیٹ، جیولری کی تجارت پر نظر رکھے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;24 جون 2020&lt;/strong&gt; کو ایف اے ٹی ایف کے ورچوئل اجلاس میں پاکستان کا معاملہ نہیں اٹھایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;17 اگست 2020&lt;/strong&gt; کو سینیٹ نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق 5 میں سے ایک بل منظور کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;18 اگست 2020&lt;/strong&gt; کو پارلیمنٹ کے ایوان بالا نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق مزید 2 بل منظور کر لیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;16 ستمبر 2020&lt;/strong&gt; کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایف اے ٹی ایف سے متعلق 3 بلز منظور ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;6 اکتوبر 2020&lt;/strong&gt; کو چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کہا کہ ایس ای سی پی نے ایف اے ٹی ایف کی تمام شرائط پوری کر لی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;23 اکتوبر 2020&lt;/strong&gt; کو ایف اے ٹی ایف نے کہا کہ پاکستان نے 27 میں سے 21 نکات کی کامیابی سے تعمیل کی ہے، تاہم ایف اے ٹی ایف نے فیصلہ کیا کہ  پاکستان کو فروری 2021 تک 'گرے لسٹ' میں رکھا جائے گا جب تک کہ تمام شرائط پر مکمل عمل درآمد نہ ہو جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;19 نومبر 2020&lt;/strong&gt; کو جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے ایک اور مقدمے میں ساڑھے 5 سال قید کی سزا سنائی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1141535"&gt;ایف اے ٹی ایف بلز کی منظوری کیلئے آئندہ ہفتے قومی اسمبلی، سینیٹ کا اجلاس طلب&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;8 جنوری 2021&lt;/strong&gt; کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے ایف اے ٹی ایف کے مطالبات کی تعمیل کے لیے اینٹی منی لانڈرنگ کے قوانین میں ترمیم کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;8 جنوری 2021&lt;/strong&gt; کو ہی لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کالعدم تنظیم لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) کے ذکی الرحمٰن لکھوی کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں 5 سال قید کی سزا سنائی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;25 فروری 2021&lt;/strong&gt; کو پاکستان کا نام گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا، ایف اے ٹی ایف کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے ایکشن پلان کے 27 میں سے 3 اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;25 مارچ 2021&lt;/strong&gt; کو حکومت نے یکطرفہ طور پر ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والے تمام ریئل اسٹیٹ ڈیلرز کو نامزد غیر مالیاتی کاروبار اور پیشہ ور (ڈی این ایف بی پیز) کے طور پر رجسٹر کیا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ اپنے گاہکوں اور جائیداد کے لین دین کی مکمل تفصیلات فراہم کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;22 اپریل 2021&lt;/strong&gt; کو ریگولیٹرز نے انسداد منی لانڈرنگ کا دائرہ مزید سخت کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;19 مئی 2021&lt;/strong&gt; کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے خصوصی اسکواڈ تشکیل دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;25 جون 2021&lt;/strong&gt; کو ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان کے ایک واحد نامکمل ہدف کے باعث پاکستان کا نام گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;4 جولائی 2021&lt;/strong&gt; کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے دہشت گردی کی مالی معاونت، منی لانڈرنگ کے انسداد کے لیے ایک سیل قائم کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;16 اگست 2021&lt;/strong&gt; کو بینکوں نے 'سیاسی سرگرمیوں میں ملوث افراد' کا ڈیٹا بیس کا استعمال شروع کر دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;21 اکتوبر 2021&lt;/strong&gt; کو ایف اے ٹی ایف نے کہا کہ پاکستان کا نام گرے لسٹ میں برقرار رہے گا کیونکہ اس نے تاحال ایف اے ٹی ایف کی جانب سے دیے گئے ایکشن پلان پر مکمل طور پر عملدرآمد نہیں کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1120271"&gt;حافظ سعید کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے 2 مقدمات میں 11 سال قید&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;4 مارچ 2022&lt;/strong&gt; کو ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے مالیاتی نظام میں باقی رہ جانے والی خامیوں کو دور کرے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;8 اپریل 2022&lt;/strong&gt; کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو غیر قانونی فنڈنگ کے 2 مقدمات میں مجموعی طور پر 31 برس قید کی سزا سنا دی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;14 سے 17 جون 2022&lt;/strong&gt; تک جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ایف اے ٹی ایف کا 4 روزہ اجلاس منعقد کیا گیا، جس کے بعد ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکس پلیئر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے 34 نکات پر مشتمل 2 علیحدہ ایکشن پلانز کی تمام شرائط پوری کرلی ہیں تاہم پاکستان کو آج گرے لسٹ سے نہیں نکالا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کورونا صورتحال کا جائزہ لے کر جلد از جلد پاکستان کو دورہ کرے گا جس کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے خارج کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کا نام فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ میں شامل کرنے اور اس لسٹ سے نکلنے کے لیے پاکستان کے حالیہ برسوں میں اٹھائے گئے اقدامات کی طویل تاریخ ہے۔</p>

<p>پاکستان کا نام پہلی بار 2008 میں ایف اے ٹی ایف کی ’گرے لسٹ‘ میں شامل کیا گیا تھا کیونکہ پاکستان مبینہ طور پر دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات اٹھانے میں ناکام رہا تھا۔</p>

<p>کسی ملک کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کیے جانے کا مطلب ہے کہ اس ملک پر طے شدہ مدت کے اندر نشاندہی کی گئی اسٹریٹجک خامیوں کو تیزی سے حل کرنا لازم ہے اور اس کی نگرانی میں اضافہ کیا جائے گا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183668">پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل پائے گا یا نہیں؟ فیصلہ آج ہوگا</a></strong> </p>

<p>2008 کے بعد 2012 اور 2018 میں بھی پاکستان کو مزید 2 بار اس فہرست میں شامل کیا گیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کا نام ہمیشہ ایسے وقت میں گرے لسٹ میں ڈالا گیا جب ملک انتخابات کی جانب گامزن تھا یا اقتدار کی تازہ منتقلی ہوئی تھی۔</p>

<p>ایف اے ٹی ایف کی فہرست میں تینوں بار پاکستان کا نام شامل کیے جانے اور اس سے نکلنے کے لیے پاکستان کے حالیہ برسوں میں اٹھائے گئے اقدامات کی ٹائم لائن درج ذیل ہے:</p>

<p><strong>28 فروری 2008</strong> کو پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں پہلی بار شامل کیا گیا تھا کیونکہ پاکستان مبینہ طور پر بین الاقوامی اینٹی منی لانڈرنگ (اے ایم ایل) اور دہشت گردی کی مالی معاونت کا مقابلہ کرنے (سی ایف ٹی) کے معیارات کو پورا کرنے میں ناکام رہا تھا، ان اہداف کے حصول کے لیے پاکستان کو ایشیا پیسیفک گروپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو کہا گیا تھا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183487/">اتحادی ممالک کی پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالنے کیلئے کوششیں</a></strong> </p>

<p><strong>جون 2010</strong> میں پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے اس وقت نکال دیا گیا تھا جب پاکستان نے ایک مستقل اینٹی منی لانڈرنگ قانون نافذ کرنے سمیت اے ایم ایل اور سی ایف ٹی نظام کو بہتر بنانے میں پیش رفت ظاہر کی تھی۔</p>

<p>16 فروری 2012 کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خطرات سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے طے شدہ معیارات کی مکمل تعمیل نہ کرنے پر پاکستان کو دوبارہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1171136">ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھنے کا اعلان</a></strong> </p>

<p><strong>26 فروری 2015</strong> کو پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا گیا تھا، ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی جانب سے اپنے اے ایم ایل اور سی ایف ٹی نظام کو بہتر بنانے میں نمایاں پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے اپنے ایکشن پلان میں وعدوں کو پورا کرنے کے لیے قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک قائم کیا ہے۔</p>

<p><strong>28 جون 2018</strong> کو پاکستان کو تیسری بار گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا، ایف اے ٹی ایف کا یہ مؤقف تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے۔</p>

<p><strong>16 اگست 2018</strong> کو ایف اے ٹی ایف نے 12 روز کے معائنے کے بعد پاکستان کے ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان میں خامیاں پائیں۔</p>

<p><strong>8 مارچ 2019</strong> کو ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے کالعدم تنظیموں کو ہائی رسک قرار دے دیا گیا۔</p>

<p><strong>11 مئی 2019</strong> کو پاکستان کسٹمز نے دہشت گردی کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے پالیسی متعارف کرائی۔</p>

<p><strong>25 جولائی 2019</strong> کو دہشت گردی کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں ایف اے ٹی ایف سیل قائم کیا گیا۔</p>

<p><strong>25 اگست 2019</strong> کو اس وقت کے وزیراعظم نے ایف اے ٹی ایف کے اہداف کو پورا کرنے میں معاونت کے لیے باڈی تشکیل کی۔</p>

<p><strong>18 اکتوبر 2019</strong> کو ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان پر زور دیا کہ وہ فروری 2020 تک اپنے مکمل ایکشن پلان کی تیزی سے تکمیل کرے۔</p>

<p><strong>29 اکتوبر 2019</strong> کو ایکشن پلان پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے وزارت داخلہ میں ایک ایف اے ٹی ایف سیل قائم کیا گیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1141918">اسپیکر قومی اسمبلی ایف اے ٹی ایف قانون سازی پر اتفاق رائے کیلئے پُر اُمید</a></strong> </p>

<p><strong>21 فروری 2020</strong> کو ایف اے ٹی ایف نے ایکشن پلان کو مکمل کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پاکستان کو جون 2020 تک گرے لسٹ میں رکھنے کا اعلان کیا۔</p>

<p><strong>24 فروری 2020</strong> کو ایف بی آر نے اعلان کیا کہ وہ ایف اے ٹی ایف کی تعمیل کے لیے ریئل اسٹیٹ، جیولری کی تجارت پر نظر رکھے گا۔</p>

<p><strong>24 جون 2020</strong> کو ایف اے ٹی ایف کے ورچوئل اجلاس میں پاکستان کا معاملہ نہیں اٹھایا گیا۔</p>

<p><strong>17 اگست 2020</strong> کو سینیٹ نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق 5 میں سے ایک بل منظور کیا۔</p>

<p><strong>18 اگست 2020</strong> کو پارلیمنٹ کے ایوان بالا نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق مزید 2 بل منظور کر لیے۔</p>

<p><strong>16 ستمبر 2020</strong> کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایف اے ٹی ایف سے متعلق 3 بلز منظور ہوئے۔</p>

<p><strong>6 اکتوبر 2020</strong> کو چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کہا کہ ایس ای سی پی نے ایف اے ٹی ایف کی تمام شرائط پوری کر لی ہیں۔</p>

<p><strong>23 اکتوبر 2020</strong> کو ایف اے ٹی ایف نے کہا کہ پاکستان نے 27 میں سے 21 نکات کی کامیابی سے تعمیل کی ہے، تاہم ایف اے ٹی ایف نے فیصلہ کیا کہ  پاکستان کو فروری 2021 تک 'گرے لسٹ' میں رکھا جائے گا جب تک کہ تمام شرائط پر مکمل عمل درآمد نہ ہو جائے۔</p>

<p><strong>19 نومبر 2020</strong> کو جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے ایک اور مقدمے میں ساڑھے 5 سال قید کی سزا سنائی گئی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1141535">ایف اے ٹی ایف بلز کی منظوری کیلئے آئندہ ہفتے قومی اسمبلی، سینیٹ کا اجلاس طلب</a></strong> </p>

<p><strong>8 جنوری 2021</strong> کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے ایف اے ٹی ایف کے مطالبات کی تعمیل کے لیے اینٹی منی لانڈرنگ کے قوانین میں ترمیم کی۔</p>

<p><strong>8 جنوری 2021</strong> کو ہی لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کالعدم تنظیم لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) کے ذکی الرحمٰن لکھوی کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں 5 سال قید کی سزا سنائی۔</p>

<p><strong>25 فروری 2021</strong> کو پاکستان کا نام گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا، ایف اے ٹی ایف کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے ایکشن پلان کے 27 میں سے 3 اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہا۔</p>

<p><strong>25 مارچ 2021</strong> کو حکومت نے یکطرفہ طور پر ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والے تمام ریئل اسٹیٹ ڈیلرز کو نامزد غیر مالیاتی کاروبار اور پیشہ ور (ڈی این ایف بی پیز) کے طور پر رجسٹر کیا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ اپنے گاہکوں اور جائیداد کے لین دین کی مکمل تفصیلات فراہم کریں۔</p>

<p><strong>22 اپریل 2021</strong> کو ریگولیٹرز نے انسداد منی لانڈرنگ کا دائرہ مزید سخت کردیا۔</p>

<p><strong>19 مئی 2021</strong> کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے خصوصی اسکواڈ تشکیل دیا۔</p>

<p><strong>25 جون 2021</strong> کو ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان کے ایک واحد نامکمل ہدف کے باعث پاکستان کا نام گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا۔</p>

<p><strong>4 جولائی 2021</strong> کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے دہشت گردی کی مالی معاونت، منی لانڈرنگ کے انسداد کے لیے ایک سیل قائم کیا۔</p>

<p><strong>16 اگست 2021</strong> کو بینکوں نے 'سیاسی سرگرمیوں میں ملوث افراد' کا ڈیٹا بیس کا استعمال شروع کر دیا۔</p>

<p><strong>21 اکتوبر 2021</strong> کو ایف اے ٹی ایف نے کہا کہ پاکستان کا نام گرے لسٹ میں برقرار رہے گا کیونکہ اس نے تاحال ایف اے ٹی ایف کی جانب سے دیے گئے ایکشن پلان پر مکمل طور پر عملدرآمد نہیں کیا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1120271">حافظ سعید کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے 2 مقدمات میں 11 سال قید</a></strong> </p>

<p><strong>4 مارچ 2022</strong> کو ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے مالیاتی نظام میں باقی رہ جانے والی خامیوں کو دور کرے۔</p>

<p><strong>8 اپریل 2022</strong> کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو غیر قانونی فنڈنگ کے 2 مقدمات میں مجموعی طور پر 31 برس قید کی سزا سنا دی۔</p>

<p><strong>14 سے 17 جون 2022</strong> تک جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ایف اے ٹی ایف کا 4 روزہ اجلاس منعقد کیا گیا، جس کے بعد ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکس پلیئر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے 34 نکات پر مشتمل 2 علیحدہ ایکشن پلانز کی تمام شرائط پوری کرلی ہیں تاہم پاکستان کو آج گرے لسٹ سے نہیں نکالا جارہا ہے۔</p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کورونا صورتحال کا جائزہ لے کر جلد از جلد پاکستان کو دورہ کرے گا جس کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے خارج کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1183690</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Jun 2022 20:59:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/06/62aca07182704.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/06/62aca07182704.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/06/62ac981c3cb2f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/06/62ac981c3cb2f.jpg"/>
        <media:title>پاکستان کا نام پہلی بار 2008 میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا—فوٹو : ایف اے ٹی ایف/ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
