<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:50:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:50:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کورونا وائرس دوبارہ سر اٹھانے لگا، حیدر آباد میں مثبت شرح 16 فیصد ریکارڈ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1183807/</link>
      <description>&lt;p&gt;ملک میں تقریباً 4 ماہ کے بعد عالمی وبا کورونا وائرس ایک مرتبہ پھر سر اٹھانے لگی اور حیدرآباد میں کیسز مثبت آنے کی شرح 16 فیصد تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان میں اب تک اس وبا کی 5 لہریں آچکی ہیں اور آخری لہر رواں برس جنوری سے فروری تک جاری رہی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکومت کی جانب سے ویکسی نیشن کی بھرپور مہم کی وجہ سے پاکستان میں کورونا وائرس نمایاں طور پر خاتمے کے قریب تھا اور مجموعی طور پر کیسز کی سب سے کم شرح 0.28 فیصد تک رپورٹ ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1177502"&gt;ویکسینیشن سے لانگ کووڈ کا امکان کم ہوتا ہے، تحقیق&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;31 مارچ 2022 کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے کمی اور بڑی آبادی کی کامیاب ویکسی نیشن کے بعد نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم 23 مئی کو موجودہ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی ہدایت پر قومی ادارہ صحت میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی تشکیل نو کردی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے باوجود ملک میں کورونا کیسز کے مجموعی اعداد و شمار قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کی جانب سے ہی جاری کیے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183608"&gt;کورونا وائرس: صوبہ سندھ نے 100 فیصد ویکسینیشن کا ہدف عبور کرلیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ 24 گھنٹوں کے اعداد و شمار کے مطابق وائرس کی تشخیص کے لیے 11 ہزار 212 ٹیسٹ کیے گئے تھے جس میں سے 171 کیسز مثبت آئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یوں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کیسز مثبت آنے کی شرح 1.53 فیصد رہی، جس میں 57 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے البتہ کسی مریض کی موت رپورٹ نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;    &lt;span&gt;
        &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
            &lt;a href="https://twitter.com/NIH_Pakistan/status/1538702285882146816"&gt;&lt;/a&gt;
        &lt;/blockquote&gt;
    &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس دوران شہروں کے اعتبار سے کورونا کیسز مثبت آنے کی صورتحال کچھ یوں رہی:&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حیدر آباد:&lt;/strong&gt; 16.67 فیصد&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی:&lt;/strong&gt; 10.08 فیصد&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;میر پور:&lt;/strong&gt; 5.26 فیصد&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مظفر آباد:&lt;/strong&gt; 2.27 فیصد&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مردان:&lt;/strong&gt; 3.39 فیصد &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد:&lt;/strong&gt; 2.07 فیصد &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایبٹ آباد:&lt;/strong&gt; 1.2 فیصد&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور:&lt;/strong&gt; ایک فیصد&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر وبا کی مختلف لہروں کے دوران سب سے زیادہ کیسز دیکھے جائیں تو اس سے قبل سب سے زیادہ کیسز 13 جون 2020 کو رپورٹ ہوئے تھے جن کی تعداد 6 ہزار 825 تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وبا کی دوسری لہر میں سب سے زیادہ کیسز 6 دسمبر 2020 کو سامنے آئے جو 3 ہزار 795 تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح تیسری لہر کے دوران 17 اپریل 2021 کو کیسز کی بلند ترین تعداد 6 ہزار 127 ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چوتھی لہر میں سب سے زیادہ کیسز 4 اگست 2021 کو رپورٹ ہوئے تھے جو 5 ہزار 661 تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پانچویں لہر کے دوران سب سے زیادہ کیسز 26 جنوری کو رپورٹ ہوئے تھے جن کی تعداد 8 ہزار 183 تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ملک میں تقریباً 4 ماہ کے بعد عالمی وبا کورونا وائرس ایک مرتبہ پھر سر اٹھانے لگی اور حیدرآباد میں کیسز مثبت آنے کی شرح 16 فیصد تک پہنچ گئی۔</p>

<p>پاکستان میں اب تک اس وبا کی 5 لہریں آچکی ہیں اور آخری لہر رواں برس جنوری سے فروری تک جاری رہی۔</p>

<p>حکومت کی جانب سے ویکسی نیشن کی بھرپور مہم کی وجہ سے پاکستان میں کورونا وائرس نمایاں طور پر خاتمے کے قریب تھا اور مجموعی طور پر کیسز کی سب سے کم شرح 0.28 فیصد تک رپورٹ ہوئی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1177502">ویکسینیشن سے لانگ کووڈ کا امکان کم ہوتا ہے، تحقیق</a></strong></p>

<p>31 مارچ 2022 کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے کمی اور بڑی آبادی کی کامیاب ویکسی نیشن کے بعد نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔</p>

<p>تاہم 23 مئی کو موجودہ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی ہدایت پر قومی ادارہ صحت میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی تشکیل نو کردی گئی تھی۔</p>

<p>اس کے باوجود ملک میں کورونا کیسز کے مجموعی اعداد و شمار قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کی جانب سے ہی جاری کیے جارہے ہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183608">کورونا وائرس: صوبہ سندھ نے 100 فیصد ویکسینیشن کا ہدف عبور کرلیا</a></strong></p>

<p>گزشتہ 24 گھنٹوں کے اعداد و شمار کے مطابق وائرس کی تشخیص کے لیے 11 ہزار 212 ٹیسٹ کیے گئے تھے جس میں سے 171 کیسز مثبت آئے۔</p>

<p>یوں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کیسز مثبت آنے کی شرح 1.53 فیصد رہی، جس میں 57 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے البتہ کسی مریض کی موت رپورٹ نہیں ہوئی۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>    <span>
        <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
            <a href="https://twitter.com/NIH_Pakistan/status/1538702285882146816"></a>
        </blockquote>
    </span></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس دوران شہروں کے اعتبار سے کورونا کیسز مثبت آنے کی صورتحال کچھ یوں رہی:</p>

<p><strong>حیدر آباد:</strong> 16.67 فیصد</p>

<p><strong>کراچی:</strong> 10.08 فیصد</p>

<p><strong>میر پور:</strong> 5.26 فیصد</p>

<p><strong>مظفر آباد:</strong> 2.27 فیصد</p>

<p><strong>مردان:</strong> 3.39 فیصد </p>

<p><strong>اسلام آباد:</strong> 2.07 فیصد </p>

<p><strong>ایبٹ آباد:</strong> 1.2 فیصد</p>

<p><strong>لاہور:</strong> ایک فیصد</p>

<p>اگر وبا کی مختلف لہروں کے دوران سب سے زیادہ کیسز دیکھے جائیں تو اس سے قبل سب سے زیادہ کیسز 13 جون 2020 کو رپورٹ ہوئے تھے جن کی تعداد 6 ہزار 825 تھی۔</p>

<p>وبا کی دوسری لہر میں سب سے زیادہ کیسز 6 دسمبر 2020 کو سامنے آئے جو 3 ہزار 795 تھے۔</p>

<p>اسی طرح تیسری لہر کے دوران 17 اپریل 2021 کو کیسز کی بلند ترین تعداد 6 ہزار 127 ریکارڈ کی گئی۔</p>

<p>چوتھی لہر میں سب سے زیادہ کیسز 4 اگست 2021 کو رپورٹ ہوئے تھے جو 5 ہزار 661 تھے۔</p>

<p>پانچویں لہر کے دوران سب سے زیادہ کیسز 26 جنوری کو رپورٹ ہوئے تھے جن کی تعداد 8 ہزار 183 تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1183807</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Jun 2022 16:45:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکسمیرا راجا)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/06/62b0470b14c41.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/06/62b0470b14c41.jpg"/>
        <media:title>پاکستان میں اب تک اس وبا کی 5 لہریں آچکی ہیں— فائل فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
