<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 03:23:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 03:23:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاور سیکٹر کے ملازمین کیلئے مفت بجلی کی سہولت ختم کرنے کی ہدایت
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1183999/</link>
      <description>&lt;p&gt;پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے وزارت توانائی کے پاور ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ ملازمین کو مفت بجلی کے یونٹس دینے کی سہولت ختم کردی جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1696425/pac-wants-free-electricity-abolished"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق پی اے سی جو قومی خزانے پر نظر رکھنے میں پارلیمان کی مدد کرتی ہے، نے تجویز دی کہ ملازمین کو بجلی کے مفت یونٹس کی جگہ رقم فراہم کردی جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمیٹی نے وزارت مواصلات اور پاور ڈویژن کی سال 20-2019 کی آڈٹ رپورٹس کا جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183950"&gt;توانائی کا بحران اور اس کا حل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اجلاس میں سربراہی پی اے سی کے چیئرمین نور عالم خان نے کی جنہوں نے پاور ڈویژن کے سیکریٹری کو بجلی کے مفت یونٹ کی فراہمی ختم کرنے کی ہدایت کی تاہم سیکریٹری نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ سہولت اچانک واپس لینے سےملازمین میں اضطراب پیدا ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے رکن رمیش کمار نے سیکریٹری کو کہا کہ سہولت واپس لینے پر یونین یا کسی بھی حلقے کا دباؤ نہ لیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ ملازمین کو مفت بجلی کی جگہ اس کے برابر رقم ان کی ماہانہ تنخواہوں میں دی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ سرکاری اور نجی شعبے میں کم آمدنی والے ملازمین کو اپنے تمام یوٹیلیٹی بلز خود بھرنے پڑتے ہیں اس لیے پاور سیکٹر کے ملازمین کو بھی اس سے استثنیٰ نہیں ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183950"&gt;توانائی بحران کے پیشِ نظر بینکوں کو ’گھر سے کام‘ کی پالیسی تشکیل دینے کی ہدایت&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمیٹی کو موجودہ توانائی بحران پر بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری پاور ڈویژن نے انکشاف کیا کہ سسٹم کو ہر سال 10 کھرب روپے کا نقصان ہوتا تھا جو آئندہ سال 20 کھرب تک پہنچنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نقصان کی بڑی وجہ نان ریکوری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈویژن کی جانب سے پی اے سی میں جمع کرائی گئی ایک ریکوری رپورٹ میں کہا گیا کہ سال 19-2018 میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے 93 ارب 16 کروڑ روپے کے واجبات تھے لیکن کمپنیاں 4 لاکھ 11 ہزار 177 نادہندگان سے رقم وصول کر پائیں نہ ان کے کنیکشنز کاٹے گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لوڈشیڈنگ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں سیکریٹری نے کہا کہ جن علاقوں میں زیادہ بجلی چوری ہوتی ہے وہاں بجلیکی بندش زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اجلاس کے دوران پی اے سی  چیئرمین نے کے الیکٹرک عہدیداروں کی سرزنش کی اور سی ای او کی اجلاس میں عدم موجودگی پر ناراضی کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1162675"&gt;توانائی بحران کے باعث حکومت کا نئے ایل این جی ٹرمینل کی طرف جھکاؤ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کے الیکٹرک کے سربراہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں نہیں آئے تو ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کے الیکٹرک کے چیف فنانشل آفیسر نے کمیٹی کو بتایا کہ کمپنی کے سی ای او کو وزیراعظم ہاؤس میں ایک دوسرے اجلاس میں شرکت کرنی تھی اس لیے وہ اجلاس میں نہیں شریک ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مواصلات ڈویژن کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیتے ہوئے پی اے سی چیئرمین نے جی ٹی روڈ کی دیکھ بھال اور مرمتی کام کے معیار پر ناراضی کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے موٹرویز پر ہیوی ٹریفک کی خلاف ورزی اور بسوں، ٹرکوں کے آزادی کے ساتھ اسپیڈ لین استعمال کرنے پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور موٹر وے پولیس کو بھی  تنقید کا نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے وزارت توانائی کے پاور ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ ملازمین کو مفت بجلی کے یونٹس دینے کی سہولت ختم کردی جائے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1696425/pac-wants-free-electricity-abolished">رپورٹ</a></strong> کے مطابق پی اے سی جو قومی خزانے پر نظر رکھنے میں پارلیمان کی مدد کرتی ہے، نے تجویز دی کہ ملازمین کو بجلی کے مفت یونٹس کی جگہ رقم فراہم کردی جائے۔</p>

<p>کمیٹی نے وزارت مواصلات اور پاور ڈویژن کی سال 20-2019 کی آڈٹ رپورٹس کا جائزہ لیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183950">توانائی کا بحران اور اس کا حل</a></strong></p>

<p>اجلاس میں سربراہی پی اے سی کے چیئرمین نور عالم خان نے کی جنہوں نے پاور ڈویژن کے سیکریٹری کو بجلی کے مفت یونٹ کی فراہمی ختم کرنے کی ہدایت کی تاہم سیکریٹری نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ سہولت اچانک واپس لینے سےملازمین میں اضطراب پیدا ہوگا۔</p>

<p>پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے رکن رمیش کمار نے سیکریٹری کو کہا کہ سہولت واپس لینے پر یونین یا کسی بھی حلقے کا دباؤ نہ لیں۔</p>

<p>کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ ملازمین کو مفت بجلی کی جگہ اس کے برابر رقم ان کی ماہانہ تنخواہوں میں دی جاسکتی ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ سرکاری اور نجی شعبے میں کم آمدنی والے ملازمین کو اپنے تمام یوٹیلیٹی بلز خود بھرنے پڑتے ہیں اس لیے پاور سیکٹر کے ملازمین کو بھی اس سے استثنیٰ نہیں ہونا چاہیے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183950">توانائی بحران کے پیشِ نظر بینکوں کو ’گھر سے کام‘ کی پالیسی تشکیل دینے کی ہدایت</a></strong></p>

<p>کمیٹی کو موجودہ توانائی بحران پر بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری پاور ڈویژن نے انکشاف کیا کہ سسٹم کو ہر سال 10 کھرب روپے کا نقصان ہوتا تھا جو آئندہ سال 20 کھرب تک پہنچنے کا امکان ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ نقصان کی بڑی وجہ نان ریکوری ہے۔</p>

<p>ڈویژن کی جانب سے پی اے سی میں جمع کرائی گئی ایک ریکوری رپورٹ میں کہا گیا کہ سال 19-2018 میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے 93 ارب 16 کروڑ روپے کے واجبات تھے لیکن کمپنیاں 4 لاکھ 11 ہزار 177 نادہندگان سے رقم وصول کر پائیں نہ ان کے کنیکشنز کاٹے گئے۔</p>

<p>لوڈشیڈنگ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں سیکریٹری نے کہا کہ جن علاقوں میں زیادہ بجلی چوری ہوتی ہے وہاں بجلیکی بندش زیادہ ہے۔</p>

<p>اجلاس کے دوران پی اے سی  چیئرمین نے کے الیکٹرک عہدیداروں کی سرزنش کی اور سی ای او کی اجلاس میں عدم موجودگی پر ناراضی کا اظہار کیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1162675">توانائی بحران کے باعث حکومت کا نئے ایل این جی ٹرمینل کی طرف جھکاؤ</a></strong></p>

<p>انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کے الیکٹرک کے سربراہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں نہیں آئے تو ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں گے۔</p>

<p>کے الیکٹرک کے چیف فنانشل آفیسر نے کمیٹی کو بتایا کہ کمپنی کے سی ای او کو وزیراعظم ہاؤس میں ایک دوسرے اجلاس میں شرکت کرنی تھی اس لیے وہ اجلاس میں نہیں شریک ہوئے۔</p>

<p>مواصلات ڈویژن کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیتے ہوئے پی اے سی چیئرمین نے جی ٹی روڈ کی دیکھ بھال اور مرمتی کام کے معیار پر ناراضی کا اظہار کیا۔</p>

<p>انہوں نے موٹرویز پر ہیوی ٹریفک کی خلاف ورزی اور بسوں، ٹرکوں کے آزادی کے ساتھ اسپیڈ لین استعمال کرنے پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور موٹر وے پولیس کو بھی  تنقید کا نشانہ بنایا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1183999</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jun 2022 09:33:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملک اسد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/06/62b53c7f8d75f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/06/62b53c7f8d75f.jpg"/>
        <media:title>پی اے سی اجلاس میں سربراہی پی اے سی کے چیئرمین نور عالم خان نے کی—تصویر: آئی این پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
