<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 02:11:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 02:11:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کاغذ کی قیمت میں 200 فیصد اضافے سے کتابوں کی اشاعت متاثر
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1184168/</link>
      <description>&lt;p&gt;کاغذ کی قیمت میں 200 فیصد اضافے اور مقامی ملز کی جانب سے منافع خوری کے سبب کتابوں کی اشاعت ناممکن دکھائی دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1697075/200pc-hike-in-paper-prices-to-hit-textbooks-printing"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق آل پاکستان مرچنٹ ایسوسی ایشن کے سابق نائب چیئرمین عابد ناصر نے کہا کہ ’درآمدی کاغذ پر بلند شرح ٹیکس، روپے کی قدر میں نمایاں کمی، ڈالر کے مہنگا ہونے اور کاغذ کی مقامی ملز کی منافع خوری کے سبب ملک بھر میں کاغذ کا سنگین بحران ہوگیا ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں کاغذ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہے، بچوں کے لیے درسی کتب دستیاب نہیں ہوں گی اور اگر ہوئیں تو وہ قیمت کے اعتبار سے لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہوں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183272/"&gt;بجٹ 23-2022 : تین شعبوں پر ڈیوٹی ریشنلائزیشن جزوی طور پر منظور&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اشاعتی صنعت میں پیداواری طلب پوری کرنے میں درآمد کنندگان ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک سے درآمد کی جانے والی کتب ڈیوٹی فری ہیں جو ملائیشیا، سنگاپور، انڈونیشیا وغیرہ میں چھپوا کر درآمد کی جارہی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ہر قسم کا شائع شدہ مواد بھی ڈیوٹی فری ہے جس کی وجہ سے اشاعتی صنعت تباہی کے دہانے پر ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اشاعتی صنعت سے بڑی تعداد میں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے، انہوں نے اس بات پر تنقید کی کہ یہ ایک المیہ ہے کہ شائع شدہ کتب اور مواد کو بیرونِ ملک سے درآمد کرنے پر کوئی ڈیوٹی عائد نہیں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183214"&gt;بجٹ 23-2022: 'ریلیف ممکن ہے اور نہ ہی دیا جانا چاہیے'&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ حکومت نے کاغذ کی درآمد پر 70 فیصد ڈیوٹی عائد کردی تھی جو کتابوں اور دیگر مواد کی اشاعت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وفاقی بجٹ برائے سال 23-2022 کی دستاویز کے مطابق درآمدی کاغذ پر 20 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد ہوتی ہے جس کے بعد 17.5 فیصد سیلز ٹیکس، 20 فیصد کسٹم ڈیوٹی، 29 فیصد اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی اور 6 فیصد اضافی ڈیوٹی لاگو ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کاغذ کی قیمت میں 200 فیصد اضافے اور مقامی ملز کی جانب سے منافع خوری کے سبب کتابوں کی اشاعت ناممکن دکھائی دے رہی ہے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1697075/200pc-hike-in-paper-prices-to-hit-textbooks-printing">رپورٹ</a></strong> کے مطابق آل پاکستان مرچنٹ ایسوسی ایشن کے سابق نائب چیئرمین عابد ناصر نے کہا کہ ’درآمدی کاغذ پر بلند شرح ٹیکس، روپے کی قدر میں نمایاں کمی، ڈالر کے مہنگا ہونے اور کاغذ کی مقامی ملز کی منافع خوری کے سبب ملک بھر میں کاغذ کا سنگین بحران ہوگیا ہے‘۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں کاغذ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہے، بچوں کے لیے درسی کتب دستیاب نہیں ہوں گی اور اگر ہوئیں تو وہ قیمت کے اعتبار سے لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہوں گی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183272/">بجٹ 23-2022 : تین شعبوں پر ڈیوٹی ریشنلائزیشن جزوی طور پر منظور</a></strong></p>

<p>ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اشاعتی صنعت میں پیداواری طلب پوری کرنے میں درآمد کنندگان ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک سے درآمد کی جانے والی کتب ڈیوٹی فری ہیں جو ملائیشیا، سنگاپور، انڈونیشیا وغیرہ میں چھپوا کر درآمد کی جارہی ہیں۔</p>

<p>انہوں نے مزید کہا کہ ہر قسم کا شائع شدہ مواد بھی ڈیوٹی فری ہے جس کی وجہ سے اشاعتی صنعت تباہی کے دہانے پر ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ اشاعتی صنعت سے بڑی تعداد میں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے، انہوں نے اس بات پر تنقید کی کہ یہ ایک المیہ ہے کہ شائع شدہ کتب اور مواد کو بیرونِ ملک سے درآمد کرنے پر کوئی ڈیوٹی عائد نہیں ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183214">بجٹ 23-2022: 'ریلیف ممکن ہے اور نہ ہی دیا جانا چاہیے'</a></strong> </p>

<p>خیال رہے کہ حکومت نے کاغذ کی درآمد پر 70 فیصد ڈیوٹی عائد کردی تھی جو کتابوں اور دیگر مواد کی اشاعت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔</p>

<p>وفاقی بجٹ برائے سال 23-2022 کی دستاویز کے مطابق درآمدی کاغذ پر 20 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد ہوتی ہے جس کے بعد 17.5 فیصد سیلز ٹیکس، 20 فیصد کسٹم ڈیوٹی، 29 فیصد اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی اور 6 فیصد اضافی ڈیوٹی لاگو ہوتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1184168</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Jun 2022 09:40:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/06/62ba7d4c17df0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/06/62ba7d4c17df0.jpg"/>
        <media:title>اشاعتی مواد ڈیوٹی فری ہونے کے سبب پرنٹنگ انڈسٹری تباہی کے دہانے پر ہے—تصویر: شٹراسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
