<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 12:28:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 12:28:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف کے ساتویں، آٹھویں جائزے کیلئے اہداف موصول ہوگئے، مفتاح اسمٰعیل
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1184179/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے بیل آؤٹ پروگرام کے ساتویں اور آٹھویں جائزے کے لیے مشترکہ معاشی اور مالیاتی اہداف موصول ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس بات کا اعلان وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;    &lt;span&gt;
        &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
            &lt;a href="https://twitter.com/MiftahIsmail/status/1541635869261832194"&gt;&lt;/a&gt;
        &lt;/blockquote&gt;
    &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’آج صبح حکومت پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے ساتویں اور آٹھویں جائزے کے لیے ایم ای ایف پی (میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسی) موصول ہوا ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ ایم ای ایف پی میں وہ پیشگی اقدامات شامل ہیں جن پر آئی ایم ایف بورڈ میں پاکستان کا کیس اٹھائے جانے اور اس کے نتیجے میں آئندہ ماہ ایک ارب ڈالر کے اجرا سے قبل عملدرآمد کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183895/"&gt;پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاملات طے پاگئے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ پاکستانی حکام کی جانب سے مالی سال 2023 کے بجٹ میں 4 کھرب 36 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی بتدریج بڑھا کر 50 روپے فی لیٹر تک پہنچانے کے وعدے کے بعد پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان 21 جون کو معاملات طے پاگئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ مفاہمت اور پیش رفت وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کی سربراہی میں پاکستانی معاشی ٹیم کی آئی ایم ایف اسٹاف مشن کے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے ہونے والے اجلاس کے دوران سامنے آئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے بعد امکان تھا کہ آئی ایم ایف مشن آئندہ چند روز میں اسٹیٹ بینک کے ساتھ مالیاتی اہداف کو حتمی شکل دے گا جبکہ اسی دوران معاشی اور مالیاتی پالیسی (ایف ای ایف پی) کی مفاہمتی یادداشت کا مسودہ بھی پاکستان کے ساتھ شیئر کرے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف ای ایف پی میں کچھ ایسے اقدامات بھی شامل ہیں جن پر پیشگی عمل کرنا آئی ایم ایف بورڈ کی جانب سے منظوری کے لیے پاکستان کے کیس پر غور کرنے اور اس کے نتیجے میں آئندہ ماہ تقریباً ایک ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے سے قبل عمل درآمد کرنا ضروری ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="http://dawnnews.tv/news/1183515/"&gt;آئی ایم ایف کا بجٹ کے حوالے سے مزید اضافی اقدامات کا مطالبہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اعلیٰ حکومتی ذرائع نے بتایا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے پاکستان نے تمام پی او ایل مصنوعات پر پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی وصولی شروع کرنے پر اتفاق کیا، طے شدہ معاہدے کے تحت پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی چارجز 5 روپے ماہانہ سے بتدریج بڑھا کر 50 روپے کردیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک اور مشکل فیصلہ کرتے ہوئے حکومت نے 15 کروڑ روپے کمانے والی کمپنمیوں پر ایک فیصد، 20 کروڑ روپے والی کمپنمیوں پر2 فیصد، 25 کروڑ روپے کمانے والی کمپنمیوں پر 3 فیصد اور 30 کروڑ روپے سے زیادہ کمانے والی کمپنمیوں پر 4 فیصد غربت ٹیکس لگانے پر بھی اتفاق کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل اصل بجٹ میں حکومت نے صرف 30 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ کمانے والی کمپنیوں پر 2 فیصد غربت ٹیکس لگایا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی ایم ایف معاہدے کے لیے حکومت نے اضافی تنخواہوں اور پنشن کے فیصلے کو ختم کرنے پر بھی اتفاق کیا جس کے لیے 200 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، اس کے بجائے ہنگامی حالات کے لیے الگ سے مختص کیے گئے فنڈز کی اجازت دی گئی ہے لیکن یہ بجٹ صرف انتہائی ہنگامی حالات جیسے سیلاب اور زلزلے جیسی قدرتی آفات کے دوران خرچ کرنے کے لیے ہوگا ورنہ یہ رقم خرچ نہیں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے بیل آؤٹ پروگرام کے ساتویں اور آٹھویں جائزے کے لیے مشترکہ معاشی اور مالیاتی اہداف موصول ہوگئے۔</p>

<p>اس بات کا اعلان وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں کیا۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>    <span>
        <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
            <a href="https://twitter.com/MiftahIsmail/status/1541635869261832194"></a>
        </blockquote>
    </span></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ’آج صبح حکومت پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے ساتویں اور آٹھویں جائزے کے لیے ایم ای ایف پی (میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسی) موصول ہوا ہے‘۔</p>

<p>خیال رہے کہ ایم ای ایف پی میں وہ پیشگی اقدامات شامل ہیں جن پر آئی ایم ایف بورڈ میں پاکستان کا کیس اٹھائے جانے اور اس کے نتیجے میں آئندہ ماہ ایک ارب ڈالر کے اجرا سے قبل عملدرآمد کرنا ضروری ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183895/">پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاملات طے پاگئے</a></strong></p>

<p>خیال رہے کہ پاکستانی حکام کی جانب سے مالی سال 2023 کے بجٹ میں 4 کھرب 36 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی بتدریج بڑھا کر 50 روپے فی لیٹر تک پہنچانے کے وعدے کے بعد پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان 21 جون کو معاملات طے پاگئے تھے۔</p>

<p>یہ مفاہمت اور پیش رفت وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کی سربراہی میں پاکستانی معاشی ٹیم کی آئی ایم ایف اسٹاف مشن کے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے ہونے والے اجلاس کے دوران سامنے آئی تھی۔</p>

<p>اس کے بعد امکان تھا کہ آئی ایم ایف مشن آئندہ چند روز میں اسٹیٹ بینک کے ساتھ مالیاتی اہداف کو حتمی شکل دے گا جبکہ اسی دوران معاشی اور مالیاتی پالیسی (ایف ای ایف پی) کی مفاہمتی یادداشت کا مسودہ بھی پاکستان کے ساتھ شیئر کرے گا۔</p>

<p>ایف ای ایف پی میں کچھ ایسے اقدامات بھی شامل ہیں جن پر پیشگی عمل کرنا آئی ایم ایف بورڈ کی جانب سے منظوری کے لیے پاکستان کے کیس پر غور کرنے اور اس کے نتیجے میں آئندہ ماہ تقریباً ایک ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے سے قبل عمل درآمد کرنا ضروری ہوگا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="http://dawnnews.tv/news/1183515/">آئی ایم ایف کا بجٹ کے حوالے سے مزید اضافی اقدامات کا مطالبہ</a></strong></p>

<p>اعلیٰ حکومتی ذرائع نے بتایا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے پاکستان نے تمام پی او ایل مصنوعات پر پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی وصولی شروع کرنے پر اتفاق کیا، طے شدہ معاہدے کے تحت پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی چارجز 5 روپے ماہانہ سے بتدریج بڑھا کر 50 روپے کردیے جائیں گے۔</p>

<p>ایک اور مشکل فیصلہ کرتے ہوئے حکومت نے 15 کروڑ روپے کمانے والی کمپنمیوں پر ایک فیصد، 20 کروڑ روپے والی کمپنمیوں پر2 فیصد، 25 کروڑ روپے کمانے والی کمپنمیوں پر 3 فیصد اور 30 کروڑ روپے سے زیادہ کمانے والی کمپنمیوں پر 4 فیصد غربت ٹیکس لگانے پر بھی اتفاق کیا تھا۔</p>

<p>اس سے قبل اصل بجٹ میں حکومت نے صرف 30 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ کمانے والی کمپنیوں پر 2 فیصد غربت ٹیکس لگایا تھا۔</p>

<p>آئی ایم ایف معاہدے کے لیے حکومت نے اضافی تنخواہوں اور پنشن کے فیصلے کو ختم کرنے پر بھی اتفاق کیا جس کے لیے 200 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، اس کے بجائے ہنگامی حالات کے لیے الگ سے مختص کیے گئے فنڈز کی اجازت دی گئی ہے لیکن یہ بجٹ صرف انتہائی ہنگامی حالات جیسے سیلاب اور زلزلے جیسی قدرتی آفات کے دوران خرچ کرنے کے لیے ہوگا ورنہ یہ رقم خرچ نہیں کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1184179</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Jun 2022 13:29:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/06/62baa53fcd7ed.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/06/62baa53fcd7ed.jpg"/>
        <media:title>حکومت نے بجٹ میں آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کرلی تھی جس پر معاملات طے پاگئے تھے — فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
