<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 08:37:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 08:37:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالی سال 22-2021 کے ابتدائی 11 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 15 ارب ڈالر سے متجاوز
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1184291/</link>
      <description>&lt;p&gt;رواں مالی سال 2021-22 کے ابتدائی 11مہینوں میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (سی اے ڈی) تیزی سے بڑھ کر 15.2 ارب ڈالر ہو گیا ہے جو پچھلے مالی سال کے اسی عرصے میں صرف ایک ارب 18 کروڑ ڈالر تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1697248/current-account-deficit-exceeds-15bn-mark-in-11-months"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے جاری تازہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ  اپریل کے 61 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ ہے جبکہ مئی کا خسارہ مارچ کے ایک  ارب ڈالر کے خسارے کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستانی معیشت 'سی اے ڈی' اور گرتے ہوئے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے، جس کے سبب روپے کی قدر میں تیزی سے گراوٹ نے بیرونی کھاتے کو تباہ کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اتحادی حکومت کے پاس بین الاقوامی مارکیٹ سے ڈالر حاصل کرنے کے علاوہ دوسرا آپشن نہیں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183657"&gt;تیل اور کھانے پینے کی اشیا کا درآمدی بل 28 ارب 14 کروڑ ڈالر تک جا پہنچا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک سے جاری اعداد و شمار کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں تیزی سے اضافے کی اہم وجہ درآمدی بل کا بڑھنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;موجودہ مالی سال کے ابتدائی 11 مہینوں میں درآمدی بل 75 ارب 74 کروڑ ڈالر کا ہو گیا جو پچھلے مالی سال کے اسی عرصے کے دوران 55 ارب 56 کروڑ ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکومت کا دنیا میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے جبکہ تیل کی طلب کورونا وائرس کے بعد تمام ممالک میں معاشی سرگرمیوں میں اضافے کے بعد توانائی کی ضرورت کی وجہ سے بہت زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب بہت بڑے تجارتی خسارے کی وجہ صرف ایندھن کی زیادہ قیمتیں نہیں ہیں، موجودہ مالی سال کے ابتدائی گیارہ مہینوں میں تیل کا درآمدی بل 17 ارب 92 کروڑ ڈالر رہا جو پچھلے سال کے اسی عرصے میں 9 ارب 81 کروڑ ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183319"&gt;پی ٹی آئی حکومت کے آخری 10 ماہ میں تیل کا درآمدی بل تقریباً دگنا ہوگیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پی ایم ایل (ن) کی اتحادی حکومت نے پُرتعیش اور 32 غیرضروری مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائدکی تھی تاکہ درآمدی بل کو کم کیا جاسکے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس فیصلے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے ہیں اور تجارتی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق زیادہ تجارتی خسارے کی وجہ سے ملک میں غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی آئی، جس کی وجہ سے موجودہ مالی سال میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 24 فیصد گراوٹ ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکومت کو گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے چین سے 2.3 ارب ڈالر حاصل کرنے میں کامیابی ملی لیکن میڈیا کی رپورٹس کے مطابق چین کا قرضہ زیادہ شرح سود کی وجہ سے پہلے کے مقابلے میں مہنگا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان کا مالیاتی شعبہ پاکستان اور چین کے تعلقات کا جائزہ لے رہا ہے جبکہ چین کی جانب سے منعقدہ برکس کی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت سے اسلام آباد کو روک دیا گیا ہے جس کے اراکین برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1154246"&gt;اشیائے خورونوش کے درآمدی بل میں 52فیصد اضافے نے خطرے کی گھنٹی بجا دی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حالانکہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ  نے اچھے تعلقات کا اعادہ کیا تھا تاہم مالیاتی شعبہ اس اہم علاقائی پیش رفت کے بارے میں جاننے میں دلچسپی رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برکس ممالک کے رہنماؤں کے علاوہ چین نے اس ایونٹ میں 13 ممالک کو دعوت دی تھی، اس اقدام کو بیجنگ کی طرف سے 5 رکن  گروپ میں اضافے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس اجلاس کو 'برکس۔پلس' کہا جارہا ہے، جس میں الجزائر، ارجنٹائن، کمبوڈیا، مصر، ایتھوپیا، فجی، انڈونیشیا، ایران، قازقستان، ملائیشیا، سینیگال، تھائی لینڈ اور ازبکستان کو مدعو کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے جبکہ تجارت بیجنگ کے حق میں ہے، موجودہ مالی سال 2022 کے جولائی تا مئی کے درمیان چین سے 15 ارب 69 کروڑ ڈالر کی درآمدات کی گئیں جو پچھلے سال کے 11 ارب 45 کروڑ ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان کی چین کو درآمدات میں اضافے کی شرح انتہائی کم ہے جوکہ پچھلے سال کے 1.8 ارب ڈالر کے مقابلے میں 2.5 ارب ڈالر رہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>رواں مالی سال 2021-22 کے ابتدائی 11مہینوں میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (سی اے ڈی) تیزی سے بڑھ کر 15.2 ارب ڈالر ہو گیا ہے جو پچھلے مالی سال کے اسی عرصے میں صرف ایک ارب 18 کروڑ ڈالر تھا۔ </p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1697248/current-account-deficit-exceeds-15bn-mark-in-11-months"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے جاری تازہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ  اپریل کے 61 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ ہے جبکہ مئی کا خسارہ مارچ کے ایک  ارب ڈالر کے خسارے کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے۔</p>

<p>پاکستانی معیشت 'سی اے ڈی' اور گرتے ہوئے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے، جس کے سبب روپے کی قدر میں تیزی سے گراوٹ نے بیرونی کھاتے کو تباہ کر دیا ہے۔</p>

<p>اس کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اتحادی حکومت کے پاس بین الاقوامی مارکیٹ سے ڈالر حاصل کرنے کے علاوہ دوسرا آپشن نہیں ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183657">تیل اور کھانے پینے کی اشیا کا درآمدی بل 28 ارب 14 کروڑ ڈالر تک جا پہنچا</a></strong></p>

<p>اسٹیٹ بینک سے جاری اعداد و شمار کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں تیزی سے اضافے کی اہم وجہ درآمدی بل کا بڑھنا ہے۔</p>

<p>موجودہ مالی سال کے ابتدائی 11 مہینوں میں درآمدی بل 75 ارب 74 کروڑ ڈالر کا ہو گیا جو پچھلے مالی سال کے اسی عرصے کے دوران 55 ارب 56 کروڑ ڈالر تھا۔</p>

<p>حکومت کا دنیا میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے جبکہ تیل کی طلب کورونا وائرس کے بعد تمام ممالک میں معاشی سرگرمیوں میں اضافے کے بعد توانائی کی ضرورت کی وجہ سے بہت زیادہ ہے۔</p>

<p>دوسری جانب بہت بڑے تجارتی خسارے کی وجہ صرف ایندھن کی زیادہ قیمتیں نہیں ہیں، موجودہ مالی سال کے ابتدائی گیارہ مہینوں میں تیل کا درآمدی بل 17 ارب 92 کروڑ ڈالر رہا جو پچھلے سال کے اسی عرصے میں 9 ارب 81 کروڑ ڈالر تھا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183319">پی ٹی آئی حکومت کے آخری 10 ماہ میں تیل کا درآمدی بل تقریباً دگنا ہوگیا</a></strong></p>

<p>پی ایم ایل (ن) کی اتحادی حکومت نے پُرتعیش اور 32 غیرضروری مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائدکی تھی تاکہ درآمدی بل کو کم کیا جاسکے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس فیصلے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے ہیں اور تجارتی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔</p>

<p>رپورٹ کے مطابق زیادہ تجارتی خسارے کی وجہ سے ملک میں غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی آئی، جس کی وجہ سے موجودہ مالی سال میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 24 فیصد گراوٹ ہوئی ہے۔</p>

<p>حکومت کو گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے چین سے 2.3 ارب ڈالر حاصل کرنے میں کامیابی ملی لیکن میڈیا کی رپورٹس کے مطابق چین کا قرضہ زیادہ شرح سود کی وجہ سے پہلے کے مقابلے میں مہنگا ہے۔</p>

<p>پاکستان کا مالیاتی شعبہ پاکستان اور چین کے تعلقات کا جائزہ لے رہا ہے جبکہ چین کی جانب سے منعقدہ برکس کی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت سے اسلام آباد کو روک دیا گیا ہے جس کے اراکین برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1154246">اشیائے خورونوش کے درآمدی بل میں 52فیصد اضافے نے خطرے کی گھنٹی بجا دی</a></strong></p>

<p>حالانکہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ  نے اچھے تعلقات کا اعادہ کیا تھا تاہم مالیاتی شعبہ اس اہم علاقائی پیش رفت کے بارے میں جاننے میں دلچسپی رکھتا ہے۔</p>

<p>برکس ممالک کے رہنماؤں کے علاوہ چین نے اس ایونٹ میں 13 ممالک کو دعوت دی تھی، اس اقدام کو بیجنگ کی طرف سے 5 رکن  گروپ میں اضافے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔</p>

<p>اس اجلاس کو 'برکس۔پلس' کہا جارہا ہے، جس میں الجزائر، ارجنٹائن، کمبوڈیا، مصر، ایتھوپیا، فجی، انڈونیشیا، ایران، قازقستان، ملائیشیا، سینیگال، تھائی لینڈ اور ازبکستان کو مدعو کیا گیا ہے۔</p>

<p>چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے جبکہ تجارت بیجنگ کے حق میں ہے، موجودہ مالی سال 2022 کے جولائی تا مئی کے درمیان چین سے 15 ارب 69 کروڑ ڈالر کی درآمدات کی گئیں جو پچھلے سال کے 11 ارب 45 کروڑ ڈالر تھیں۔</p>

<p>پاکستان کی چین کو درآمدات میں اضافے کی شرح انتہائی کم ہے جوکہ پچھلے سال کے 1.8 ارب ڈالر کے مقابلے میں 2.5 ارب ڈالر رہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1184291</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Jun 2022 22:48:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہد اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/06/62bc6c6f51143.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="402" width="650">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/06/62bc6c6f51143.jpg"/>
        <media:title>— فوٹو: سلمان خان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
