<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 08 Apr 2026 09:35:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 08 Apr 2026 09:35:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں کس کا پلڑا بھاری؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1185145/</link>
      <description>&lt;p&gt;مسلسل 3 بار منسوخی کے بعد بالآخر 15 جنوری 2023ء کو عروس البلاد کراچی میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہورہے ہیں۔ ملک کے سیاسی حالات اور کراچی شہر کی ابتر صورتحال کی وجہ سے یہ انتخابات بہت اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں گزشتہ بلدیاتی انتخابات 2016ء میں منعقد ہوئے تھے جس کے بعد شہر میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی بلدیاتی حکومت بنی اور شہر کے میئر کے لیے وسیم اختر کا انتخاب ہوا۔ لیکن اس پورے عرصے میں وسیم اختر یہ کہتے رہ گئے کہ ہمارے پاس اختیارات نہیں ہیں اور جب انہوں نے بطور میئر اپنی آخری پریس کانفرنس کی تو اس میں بھی وہ اختیارات سے متعلق ہی بات کرتے دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/watch/?v=754954798628399" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تقریباً 6 سال کے وقفے کے بعد بننے والی اس منتخب بلدیاتی حکومت سے شہریوں کو بہت امیدیں وابستہ ہیں اور اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ گزشتہ انتخابات سے  لے کر اب تک شہر کا انفرااسٹرکچر مزید خرابی کا شکار ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست 2020ء میں ہونے والی تباہ کن مون سون بارشوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اربن فلڈنگ کی صورتحال  نے شہر کے نظامِ زندگی کو درہم برہم کردیا تھا اور شہریوں کو شدید جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کے نتیجے میں اس وقت کے وزیرِاعظم عمران خان  نے کراچی کا دورہ کیا اور &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1141330/"&gt;11 سو ارب روپے کے کراچی پیکج کا اعلان کیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; جس پر عمل درآمد کے لیے ایک کمیٹی بھی وجود میں آئی۔ تاہم وزیرِاعظم کے واپس اسلام آباد جاتے ہی اگر مگر اور چونکہ چنانچہ کا سلسلہ شروع ہوگیا اور اعلان کردہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1141562"&gt;11 سو ارب میں وفاق اور صوبے کے حصہ کے حوالے سے بحث شروع ہوگئی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; جو کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں گزشتہ ڈھائی برسوں سے کوئی منتخب بلدیاتی حکومت موجود نہیں ہے۔ گزشتہ سال ہونے والی مون سون بارشوں کے بعد کراچی ماضی کی طرح ایک بار پھر ڈوب گیا۔ اگر شہر کی سماجی فضا کا جائزہ لیا جائے تو نظر آتا ہے کہ شہری کراچی کی اس ابتر حالت سے تنگ آچکے ہیں اور اب کسی حقیقی بہتری کی تمنا رکھتے ہیں۔ ان حالات میں کراچی کی تمام ہی سیاسی جماعتیں شہریوں کی ہمدردیاں اور ووٹ حاصل کرنے کی جان توڑ کوششیں کررہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2022/07/62c74b2c2ce20.jpg'  alt='  حالیہ مون سون بارشوں کے بعد کراچی ماضی کی طرح ایک بار پھر ڈوب گیا&amp;mdash; تصویر: آن لائن  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;حالیہ مون سون بارشوں کے بعد کراچی ماضی کی طرح ایک بار پھر ڈوب گیا— تصویر: آن لائن&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم  نے کراچی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سینیئر صحافیوں اور تجزیہ کاروں سے رابطہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ان کے نزدیک کراچی کے ان بلدیاتی انتخابات کی کیا اہمیت ہے، شہر کی سیاسی فضا کو دیکھتے ہوئے کن سیاسی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے اور ان کے نزدیک کس جماعت کا پلڑا بھاری ہے۔ ہم  نے یہ بھی جاننے کی کوشش کی کہ ان انتخابات کے نتیجے میں بننے والی بلدیاتی حکومت کیا واقعی شہر کے مسائل حل کرسکے گی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے سینیئر صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی کیا رائے تھی آئیے جانتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="نادیہ-مرزا" href="#نادیہ-مرزا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;div style= "color: #000000; text-align: center;" markdown="1"&gt;نادیہ مرزا&lt;/div&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;جہاں تک کراچی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کا تعلق ہے تو میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ ان انتخابات کو سیاسی نظریات سے ہٹ کر دیکھنا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں کی اپنی کچھ حدود ہوتی ہیں اور وہ اپنی جماعتی پالیسی یا نظریات سے نکل کر کچھ نہیں کرسکتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کے بلدیاتی کے انتخابات کے حوالے سے جماعت اسلامی کے ذکر کی ایک وجہ یہ ہے کہ میں نے کراچی میں نعمت اللہ خان صاحب کا دور دیکھا ہے، ہاں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہم نے مصطفیٰ کمال کا دور بھی دیکھا لیکن جماعت اسلامی کا ذکر یہاں اس لیے اہم ہے کہ ان کے ساتھ مذہب اور شدت پسندی کا ایک لیبل لگایا جاتا ہے لیکن پھر بھی انہوں  نے اپنے دور میں شہر میں کام کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مثال کو سامنے رکھتے ہوئے آپ سمجھیے کہ بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کا نظریہ شاید اتنی اہمیت نہیں رکھتا۔ بلدیات حکومتی نظام کی تیسری سطح ہے جس میں آپ نے کام کرنا ہے اور ڈیلیور کرنا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں اختیارات کی منتقلی کے بعد بھی ہم نے کبھی بلدیاتی حکومتوں کو مضبوط کیا ہی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہونا تو یہ چاہیے کہ حکومت کی یہ تیسری سطح مضبوط ہو اور غیر سیاسی ہو۔ جب تک یہ حکومت، چاہے وہ کسی بھی جماعت کی ہو غیر سیاسی بنیاد پر کام نہیں کرے گی تب تک کراچی کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک سیاسی حکومت کی ترجیحات ان کے سیاسی مفادات ہوتے ہیں اسی وجہ سے شاید آج تک کراچی کے دیرینہ مسائل حل نہیں ہوسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان وجوہات کی بنا پر میرا ماننا ہے کہ شہر کی حکومت ان لوگوں کے ہاتھ میں ہونی چاہیے جو کام کریں، ڈیلیور کریں، شہر کے مسائل پر آواز اٹھائیں اور ان مسائل کو حل کردیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ظاہر ہے کہ کراچی شہر کے مسائل بڑھتے جارہے ہیں، ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی ہے جو ان مسائل کو حل کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اگر ہم ماضی قریب پر نظر ڈالیں تو اس شہر سے جماعت اسلامی کو کبھی ووٹ نہیں ملا۔ ہاں جماعت نعمت اللہ خان کا ضرور ذکر کرتی ہے لیکن سب کو معلوم ہے کہ ایم کیو ایم کے بائیکاٹ کے نتیجے میں وہ ووٹ جماعت اسلامی کو ملا۔ اس سے قبل ایم کیو ایم بننے سے پہلے عبدالستار افغانی کا دور ہوا کرتا تھا جب جماعت اسلامی کو اس شہر سے ووٹ ملتا تھا۔ اس کے بعد جماعت اسلامی کو ووٹ نہ ملنے کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے کچھ کا اوپر ذکر ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن میں آج جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن میں یہ صلاحیت دیکھتی ہوں کہ انہوں نے سیاست کو ایک جانب کرکے ہر مسئلے پر بات کی ہے، انہوں نے کے الیکٹرک پر بھی بات کی کہ جس پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بھی عارف نقوی کی وجہ سے خاموشی اختیار کرلیتی ہے، اسی طرح ایم کیو ایم بھی کئی مسئلوں پر اگر مگر کا شکار ہوجاتی ہے اور پیپلز پارٹی تو کسی کھاتے میں ہے ہی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں  نے ذاتی طور پر یہ مشاہدہ کیا ہے کہ اگرچہ کراچی جماعت اسلامی کو ووٹ نہیں دیتا لیکن اس کے باوجود بھی حافظ نعیم الرحمٰن نے شہر کے تمام ہی مسائل پر آواز اٹھائی ہے۔ دیکھیے پیپلز پارٹی کراچی میں کیوں کام نہیں کرتی کہ وہ کہتی ہے کراچی انہیں ووٹ نہیں دیتا۔ اس کے برعکس اگر جماعت اسلامی یا حافظ نعیم الرحمٰن کو دیکھا جائے تو کراچی انہیں بھی ووٹ نہیں دیتا لیکن اس کے باوجود بھی انہوں نے ہر مسئلے پر آواز اٹھائی، احتجاج کیا اور دھرنے بھی دیے۔ اگر ہم ماضی میں نعمت اللہ خان صاحب کے دور اور اب حافظ نعیم الرحمٰن کی صلاحیتوں کو دیکھیں تو میرے خیال سے انہیں ایک موقع دینا چاہیے کیونکہ وہ خود بھی کراچی میں رہتے ہیں، پڑھے لکھے فرد ہیں اور کراچی کو سمجھتے ہیں تو وہ بہتر طریقے سے ڈیلیور کرسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2022/07/62d7b57fa2c72.jpg'  alt='  نادیہ مرزا کے مطابق حافظ نعیم الرحمٰن نے کراچی کے ہر مسئلے پر آواز اٹھائی ہے&amp;mdash; تصویر: فیس بک  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;نادیہ مرزا کے مطابق حافظ نعیم الرحمٰن نے کراچی کے ہر مسئلے پر آواز اٹھائی ہے— تصویر: فیس بک&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="مجاہد-بریلوی" href="#مجاہد-بریلوی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;div style= "color: #000000; text-align: center;" markdown="1"&gt;مجاہد بریلوی&lt;/div&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;سوال یہ ہے کہ کیا انتخابات کے نتیجے میں آنے والی حکومت کام کرسکے گی تو دیکھیے 18ویں ترمیم کے بعد صورتحال تھوڑی پیچیدہ ہوگئی ہے۔ یہ ترمیم جس دور میں آئی تھی اور یہ کہا گیا تھا کہ وفاق سے وسائل صوبوں کو دیے جائیں گے اس وقت مرکز میں بھی اور صوبے میں بھی پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور اسے یہ اندازہ نہیں تھا </description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مسلسل 3 بار منسوخی کے بعد بالآخر 15 جنوری 2023ء کو عروس البلاد کراچی میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہورہے ہیں۔ ملک کے سیاسی حالات اور کراچی شہر کی ابتر صورتحال کی وجہ سے یہ انتخابات بہت اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔</p>
<p>کراچی میں گزشتہ بلدیاتی انتخابات 2016ء میں منعقد ہوئے تھے جس کے بعد شہر میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی بلدیاتی حکومت بنی اور شہر کے میئر کے لیے وسیم اختر کا انتخاب ہوا۔ لیکن اس پورے عرصے میں وسیم اختر یہ کہتے رہ گئے کہ ہمارے پاس اختیارات نہیں ہیں اور جب انہوں نے بطور میئر اپنی آخری پریس کانفرنس کی تو اس میں بھی وہ اختیارات سے متعلق ہی بات کرتے دکھائی دیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'><div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/watch/?v=754954798628399" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure></p>
<p>اب تقریباً 6 سال کے وقفے کے بعد بننے والی اس منتخب بلدیاتی حکومت سے شہریوں کو بہت امیدیں وابستہ ہیں اور اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ گزشتہ انتخابات سے  لے کر اب تک شہر کا انفرااسٹرکچر مزید خرابی کا شکار ہوا ہے۔</p>
<p>اگست 2020ء میں ہونے والی تباہ کن مون سون بارشوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اربن فلڈنگ کی صورتحال  نے شہر کے نظامِ زندگی کو درہم برہم کردیا تھا اور شہریوں کو شدید جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کے نتیجے میں اس وقت کے وزیرِاعظم عمران خان  نے کراچی کا دورہ کیا اور <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1141330/">11 سو ارب روپے کے کراچی پیکج کا اعلان کیا</a></strong> جس پر عمل درآمد کے لیے ایک کمیٹی بھی وجود میں آئی۔ تاہم وزیرِاعظم کے واپس اسلام آباد جاتے ہی اگر مگر اور چونکہ چنانچہ کا سلسلہ شروع ہوگیا اور اعلان کردہ <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1141562">11 سو ارب میں وفاق اور صوبے کے حصہ کے حوالے سے بحث شروع ہوگئی</a></strong> جو کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچی۔</p>
<p>کراچی میں گزشتہ ڈھائی برسوں سے کوئی منتخب بلدیاتی حکومت موجود نہیں ہے۔ گزشتہ سال ہونے والی مون سون بارشوں کے بعد کراچی ماضی کی طرح ایک بار پھر ڈوب گیا۔ اگر شہر کی سماجی فضا کا جائزہ لیا جائے تو نظر آتا ہے کہ شہری کراچی کی اس ابتر حالت سے تنگ آچکے ہیں اور اب کسی حقیقی بہتری کی تمنا رکھتے ہیں۔ ان حالات میں کراچی کی تمام ہی سیاسی جماعتیں شہریوں کی ہمدردیاں اور ووٹ حاصل کرنے کی جان توڑ کوششیں کررہی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2022/07/62c74b2c2ce20.jpg'  alt='  حالیہ مون سون بارشوں کے بعد کراچی ماضی کی طرح ایک بار پھر ڈوب گیا&mdash; تصویر: آن لائن  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>حالیہ مون سون بارشوں کے بعد کراچی ماضی کی طرح ایک بار پھر ڈوب گیا— تصویر: آن لائن</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہم  نے کراچی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سینیئر صحافیوں اور تجزیہ کاروں سے رابطہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ان کے نزدیک کراچی کے ان بلدیاتی انتخابات کی کیا اہمیت ہے، شہر کی سیاسی فضا کو دیکھتے ہوئے کن سیاسی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے اور ان کے نزدیک کس جماعت کا پلڑا بھاری ہے۔ ہم  نے یہ بھی جاننے کی کوشش کی کہ ان انتخابات کے نتیجے میں بننے والی بلدیاتی حکومت کیا واقعی شہر کے مسائل حل کرسکے گی؟</p>
<p>اس حوالے سے سینیئر صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی کیا رائے تھی آئیے جانتے ہیں۔</p>
<hr />
<h3><a id="نادیہ-مرزا" href="#نادیہ-مرزا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><div style= "color: #000000; text-align: center;" markdown="1">نادیہ مرزا</div></h3>
<hr />
<p>جہاں تک کراچی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کا تعلق ہے تو میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ ان انتخابات کو سیاسی نظریات سے ہٹ کر دیکھنا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں کی اپنی کچھ حدود ہوتی ہیں اور وہ اپنی جماعتی پالیسی یا نظریات سے نکل کر کچھ نہیں کرسکتیں۔</p>
<p>کراچی کے بلدیاتی کے انتخابات کے حوالے سے جماعت اسلامی کے ذکر کی ایک وجہ یہ ہے کہ میں نے کراچی میں نعمت اللہ خان صاحب کا دور دیکھا ہے، ہاں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہم نے مصطفیٰ کمال کا دور بھی دیکھا لیکن جماعت اسلامی کا ذکر یہاں اس لیے اہم ہے کہ ان کے ساتھ مذہب اور شدت پسندی کا ایک لیبل لگایا جاتا ہے لیکن پھر بھی انہوں  نے اپنے دور میں شہر میں کام کیا۔</p>
<p>اس مثال کو سامنے رکھتے ہوئے آپ سمجھیے کہ بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کا نظریہ شاید اتنی اہمیت نہیں رکھتا۔ بلدیات حکومتی نظام کی تیسری سطح ہے جس میں آپ نے کام کرنا ہے اور ڈیلیور کرنا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں اختیارات کی منتقلی کے بعد بھی ہم نے کبھی بلدیاتی حکومتوں کو مضبوط کیا ہی نہیں۔</p>
<p>ہونا تو یہ چاہیے کہ حکومت کی یہ تیسری سطح مضبوط ہو اور غیر سیاسی ہو۔ جب تک یہ حکومت، چاہے وہ کسی بھی جماعت کی ہو غیر سیاسی بنیاد پر کام نہیں کرے گی تب تک کراچی کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک سیاسی حکومت کی ترجیحات ان کے سیاسی مفادات ہوتے ہیں اسی وجہ سے شاید آج تک کراچی کے دیرینہ مسائل حل نہیں ہوسکے۔</p>
<p>ان وجوہات کی بنا پر میرا ماننا ہے کہ شہر کی حکومت ان لوگوں کے ہاتھ میں ہونی چاہیے جو کام کریں، ڈیلیور کریں، شہر کے مسائل پر آواز اٹھائیں اور ان مسائل کو حل کردیں۔</p>
<p>ظاہر ہے کہ کراچی شہر کے مسائل بڑھتے جارہے ہیں، ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی ہے جو ان مسائل کو حل کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اگر ہم ماضی قریب پر نظر ڈالیں تو اس شہر سے جماعت اسلامی کو کبھی ووٹ نہیں ملا۔ ہاں جماعت نعمت اللہ خان کا ضرور ذکر کرتی ہے لیکن سب کو معلوم ہے کہ ایم کیو ایم کے بائیکاٹ کے نتیجے میں وہ ووٹ جماعت اسلامی کو ملا۔ اس سے قبل ایم کیو ایم بننے سے پہلے عبدالستار افغانی کا دور ہوا کرتا تھا جب جماعت اسلامی کو اس شہر سے ووٹ ملتا تھا۔ اس کے بعد جماعت اسلامی کو ووٹ نہ ملنے کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے کچھ کا اوپر ذکر ہوچکا ہے۔</p>
<p>لیکن میں آج جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن میں یہ صلاحیت دیکھتی ہوں کہ انہوں نے سیاست کو ایک جانب کرکے ہر مسئلے پر بات کی ہے، انہوں نے کے الیکٹرک پر بھی بات کی کہ جس پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بھی عارف نقوی کی وجہ سے خاموشی اختیار کرلیتی ہے، اسی طرح ایم کیو ایم بھی کئی مسئلوں پر اگر مگر کا شکار ہوجاتی ہے اور پیپلز پارٹی تو کسی کھاتے میں ہے ہی نہیں۔</p>
<p>میں  نے ذاتی طور پر یہ مشاہدہ کیا ہے کہ اگرچہ کراچی جماعت اسلامی کو ووٹ نہیں دیتا لیکن اس کے باوجود بھی حافظ نعیم الرحمٰن نے شہر کے تمام ہی مسائل پر آواز اٹھائی ہے۔ دیکھیے پیپلز پارٹی کراچی میں کیوں کام نہیں کرتی کہ وہ کہتی ہے کراچی انہیں ووٹ نہیں دیتا۔ اس کے برعکس اگر جماعت اسلامی یا حافظ نعیم الرحمٰن کو دیکھا جائے تو کراچی انہیں بھی ووٹ نہیں دیتا لیکن اس کے باوجود بھی انہوں نے ہر مسئلے پر آواز اٹھائی، احتجاج کیا اور دھرنے بھی دیے۔ اگر ہم ماضی میں نعمت اللہ خان صاحب کے دور اور اب حافظ نعیم الرحمٰن کی صلاحیتوں کو دیکھیں تو میرے خیال سے انہیں ایک موقع دینا چاہیے کیونکہ وہ خود بھی کراچی میں رہتے ہیں، پڑھے لکھے فرد ہیں اور کراچی کو سمجھتے ہیں تو وہ بہتر طریقے سے ڈیلیور کرسکیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2022/07/62d7b57fa2c72.jpg'  alt='  نادیہ مرزا کے مطابق حافظ نعیم الرحمٰن نے کراچی کے ہر مسئلے پر آواز اٹھائی ہے&mdash; تصویر: فیس بک  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>نادیہ مرزا کے مطابق حافظ نعیم الرحمٰن نے کراچی کے ہر مسئلے پر آواز اٹھائی ہے— تصویر: فیس بک</figcaption>
    </figure></p>
<hr />
<h3><a id="مجاہد-بریلوی" href="#مجاہد-بریلوی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><div style= "color: #000000; text-align: center;" markdown="1">مجاہد بریلوی</div></h3>
<hr />
<p>سوال یہ ہے کہ کیا انتخابات کے نتیجے میں آنے والی حکومت کام کرسکے گی تو دیکھیے 18ویں ترمیم کے بعد صورتحال تھوڑی پیچیدہ ہوگئی ہے۔ یہ ترمیم جس دور میں آئی تھی اور یہ کہا گیا تھا کہ وفاق سے وسائل صوبوں کو دیے جائیں گے اس وقت مرکز میں بھی اور صوبے میں بھی پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور اسے یہ اندازہ نہیں تھا ]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1185145</guid>
      <pubDate>Sat, 14 Jan 2023 18:16:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد عمید فاروقیفہیم پٹیل)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/14150236f1b3289.jpg?r=150255" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/14150236f1b3289.jpg?r=150255"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/07/62d7abb5ae87a.jpg?r=150255" type="image/jpeg" medium="image" height="700" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/07/62d7abb5ae87a.jpg?r=150255"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
