<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 18:37:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 18:37:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران میں پی آئی اے کے طیاروں کے تصادم سے بچنے کے معاملے پر تحقیقات شروع
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1185560/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایران نے اپنی فضائی حدود میں پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز (پی آئی اے) کے 2 طیاروں کا تصادم سے بال بال بچنے کے معاملے پر ایرانی ائیر ٹریفک کنٹرول کی مبینہ غفلت کی تحقیقات کا آغاز کر دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1701937/iran-probes-pakistani-planes-near-miss"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پی آئی اے حکام  نے بتایا کہ اتوار کو ایران کی فضائی حدود میں دوران پرواز پی آئی اے کے 2 طیاروں کے درمیان فاصلہ ایک ہزار فٹ سے کم رہ گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پی آئی اے نے کہا کہ ایرانی ایئر ٹریفک کنٹرولرز نے پشاور جانے والی پی آئی اے کی پرواز ’پی کے-268‘ کو 36 ہزار کی بلندی سے 20 ہزار فٹ پر آنے کے لیے کلیئر کر دیا تھا جس کے نتیجے میں دبئی جانے والی پی آئی کی دوسری پرواز ’پی کے-211‘ اس کے انتہائی نزدیک آگئی جو اس وقت 35 ہزار فٹ کی بلندی پر تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1185453/"&gt;پی آئی اے کے دو طیارے تصادم سے بال بال بچ گئے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، نائب سربراہ سول ایوی ایشن حسن خوشخو کا کہنا ہے کہ ائیر ٹریفک کنٹرول سے واقعے کی دستاویزات حاصل کر رہے ہیں، مزید تفتیش کے لیے پی آئی اے طیاروں کے پائلٹس سے بھی رپورٹس طلب کرلی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے سرکاری نشریاتی ادارے ’آئی آر آئی بی‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تمام دستاویزات ملنے پر معاملے کا جائزہ لے کر حتمی نتیجے کا اعلان کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;غیرملکی خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ترجمان پی آئی اے عبداللہ حفیظ خان کا کہنا تھا کہ کاک پٹ میں نصب تصادم سے بچاؤ کے خود کار نظام سے دونوں پائلٹس کو طیاروں کا رخ درست کرنے اور تصادم سے بچنے میں مدد ملی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183169"&gt;ٹائر پھٹنے کے باوجود پی آئی اے طیارے کی کراچی ایئرپورٹ پر محفوظ لینڈنگ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ایئر ٹریفک کنٹرول کو پشاور جانے والی پرواز کو اترنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے تھی، ہم اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایرانی حکام کو خط لکھیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حسن خوشخو  نے کہا کہ ان طیاروں میں طویل فاصلے سے ضروری وارننگ جاری کرنے والا نظام موجود تھا، اس طرح کے واقعات دوسرے ممالک میں بھی ہوتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایران نے اپنی فضائی حدود میں پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز (پی آئی اے) کے 2 طیاروں کا تصادم سے بال بال بچنے کے معاملے پر ایرانی ائیر ٹریفک کنٹرول کی مبینہ غفلت کی تحقیقات کا آغاز کر دیا۔</p>

<p>ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1701937/iran-probes-pakistani-planes-near-miss"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پی آئی اے حکام  نے بتایا کہ اتوار کو ایران کی فضائی حدود میں دوران پرواز پی آئی اے کے 2 طیاروں کے درمیان فاصلہ ایک ہزار فٹ سے کم رہ گیا تھا۔</p>

<p>پی آئی اے نے کہا کہ ایرانی ایئر ٹریفک کنٹرولرز نے پشاور جانے والی پی آئی اے کی پرواز ’پی کے-268‘ کو 36 ہزار کی بلندی سے 20 ہزار فٹ پر آنے کے لیے کلیئر کر دیا تھا جس کے نتیجے میں دبئی جانے والی پی آئی کی دوسری پرواز ’پی کے-211‘ اس کے انتہائی نزدیک آگئی جو اس وقت 35 ہزار فٹ کی بلندی پر تھی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1185453/">پی آئی اے کے دو طیارے تصادم سے بال بال بچ گئے</a></strong> </p>

<p>ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، نائب سربراہ سول ایوی ایشن حسن خوشخو کا کہنا ہے کہ ائیر ٹریفک کنٹرول سے واقعے کی دستاویزات حاصل کر رہے ہیں، مزید تفتیش کے لیے پی آئی اے طیاروں کے پائلٹس سے بھی رپورٹس طلب کرلی ہیں۔</p>

<p>انہوں نے سرکاری نشریاتی ادارے ’آئی آر آئی بی‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تمام دستاویزات ملنے پر معاملے کا جائزہ لے کر حتمی نتیجے کا اعلان کیا جائے گا۔</p>

<p>غیرملکی خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ترجمان پی آئی اے عبداللہ حفیظ خان کا کہنا تھا کہ کاک پٹ میں نصب تصادم سے بچاؤ کے خود کار نظام سے دونوں پائلٹس کو طیاروں کا رخ درست کرنے اور تصادم سے بچنے میں مدد ملی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183169">ٹائر پھٹنے کے باوجود پی آئی اے طیارے کی کراچی ایئرپورٹ پر محفوظ لینڈنگ</a></strong> </p>

<p>انہوں نے مزید کہا کہ ایئر ٹریفک کنٹرول کو پشاور جانے والی پرواز کو اترنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے تھی، ہم اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایرانی حکام کو خط لکھیں گے۔</p>

<p>حسن خوشخو  نے کہا کہ ان طیاروں میں طویل فاصلے سے ضروری وارننگ جاری کرنے والا نظام موجود تھا، اس طرح کے واقعات دوسرے ممالک میں بھی ہوتے رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1185560</guid>
      <pubDate>Thu, 28 Jul 2022 09:31:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/07/62e20fdaa3601.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/07/62e20fdaa3601.jpg"/>
        <media:title>دونوں طیاروں کے درمیان فاصلہ ایک ہزار فٹ سے کم رہ گیا تھا— فائل فوٹو: اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
