<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 12:28:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 12:28:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹوئٹر پر مزید دو نئے فیچرز کی آزمائش
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1186818/</link>
      <description>&lt;p&gt;مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر ان دنوں متعدد فیچرز کی آزمائش کو جاری رکھے ہوئے ہے اور اب خبر سامنے آئی کہ ویب سائٹ پر مزید دو نئے فیچرز کی آزمائش بھی شروع کردی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹیکنالوجی ویب سائٹ &lt;a href="https://www.theverge.com/2022/8/19/23313757/twitter-phone-number-verified-label-bots-privacy-security"&gt;&lt;strong&gt;’دی ورج‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ٹوئٹر پر ایک ایسے فیچر کی آزمائش شروع کی جا رہی ہے، جس سے معلوم ہوسکے گا کسی بھی صارف کی ٹوئٹ کو کتنے افراد نے پڑھا یا دیکھا؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگرچہ اس وقت ٹوئٹ کو لائیک کرنے والے افراد کی تعداد صارف کو نظر آ جاتی ہے مگر نئے فیچر کے بعد اسے یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ اس کی ٹوئٹ کو کس نے دیکھا یا پڑھا مگر اس نے ٹوئٹ کو لائیک نہیں کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس فیچر کے تحت ہر صارف کی ٹوئٹ پر آنکھ یا اس سے ملتا جلتا نشان نظر آئے گا، جسے کلک کرنے سے ٹوئٹ کو دیکھنے والے افراد کی تعداد معلوم ہوسکے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ واضح نہیں ہے کہ مذکورہ فیچر میں آنکھ کے نشان پر کلک کرنے سے ان افراد کے نام بھی سامنے آئیں گے یا نہیں، جنہوں نے ٹوئٹ کو دیکھا یا پڑھا ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بھی پڑھیں:  &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183969"&gt;&lt;strong&gt;ٹوئٹر پر ڈھائی ہزار الفاظ پر مشتمل 'نوٹس' فیچر کی آزمائش شروع&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں ٹوئٹر پر ایک اور مزیدار فیچر کی آزمائش شروع کردی گئی ہے، جس کے تحت صارفین کے پروفائل پر ’ویریفائڈ موبائل نمبر‘ کا لیبل نظر آئے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ فیچر ان افراد کے پروفائل پر بھی کام کرے گا جن کا اکاؤنٹ ویریفائڈ یعنی بلیو ٹک کے ساتھ  نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس فیچر کا مقصد صارف کی شناخت کو اصلی بنانے کی جانب ایک قدم کے طور پر لیا جا رہا ہے،یعنی اس سے ٹوئٹر ویریفائڈ موبائل نمبر کے حامل اکاؤنٹس کو بھی تصدیقی اکاؤنٹ میں شمار کرے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ واضح نہیں ہے کہ مذکورہ فیچر کے تحت ٹوئٹر کس طرح موبائل نمبر کی تصدیق کرے گا، تاہم امکان ہے کہ اس کے تحت ٹوئٹر تمام ممالک کی حکومتوں یا فون سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں سے اشتراک کرے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ دونوں فیچرز کے علاوہ بھی ٹوئٹر پر اس وقت دیگر چند فیچرز کی آزمائش کی جا رہی ہے، جن تک محدود صارفین کو رسائی دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;    &lt;span&gt;
        &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
            &lt;a href="https://twitter.com/wongmjane/status/1560748445518143488"&gt;&lt;/a&gt;
        &lt;/blockquote&gt;
    &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر ان دنوں متعدد فیچرز کی آزمائش کو جاری رکھے ہوئے ہے اور اب خبر سامنے آئی کہ ویب سائٹ پر مزید دو نئے فیچرز کی آزمائش بھی شروع کردی گئی۔</p>

<p>ٹیکنالوجی ویب سائٹ <a href="https://www.theverge.com/2022/8/19/23313757/twitter-phone-number-verified-label-bots-privacy-security"><strong>’دی ورج‘</strong></a> کے مطابق ٹوئٹر پر ایک ایسے فیچر کی آزمائش شروع کی جا رہی ہے، جس سے معلوم ہوسکے گا کسی بھی صارف کی ٹوئٹ کو کتنے افراد نے پڑھا یا دیکھا؟</p>

<p>اگرچہ اس وقت ٹوئٹ کو لائیک کرنے والے افراد کی تعداد صارف کو نظر آ جاتی ہے مگر نئے فیچر کے بعد اسے یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ اس کی ٹوئٹ کو کس نے دیکھا یا پڑھا مگر اس نے ٹوئٹ کو لائیک نہیں کیا۔</p>

<p>اس فیچر کے تحت ہر صارف کی ٹوئٹ پر آنکھ یا اس سے ملتا جلتا نشان نظر آئے گا، جسے کلک کرنے سے ٹوئٹ کو دیکھنے والے افراد کی تعداد معلوم ہوسکے گی۔</p>

<p>یہ واضح نہیں ہے کہ مذکورہ فیچر میں آنکھ کے نشان پر کلک کرنے سے ان افراد کے نام بھی سامنے آئیں گے یا نہیں، جنہوں نے ٹوئٹ کو دیکھا یا پڑھا ہوگا۔</p>

<p>یہ بھی پڑھیں:  <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1183969"><strong>ٹوئٹر پر ڈھائی ہزار الفاظ پر مشتمل 'نوٹس' فیچر کی آزمائش شروع</strong></a></p>

<p>علاوہ ازیں ٹوئٹر پر ایک اور مزیدار فیچر کی آزمائش شروع کردی گئی ہے، جس کے تحت صارفین کے پروفائل پر ’ویریفائڈ موبائل نمبر‘ کا لیبل نظر آئے گا۔</p>

<p>یہ فیچر ان افراد کے پروفائل پر بھی کام کرے گا جن کا اکاؤنٹ ویریفائڈ یعنی بلیو ٹک کے ساتھ  نہیں ہوگا۔</p>

<p>اس فیچر کا مقصد صارف کی شناخت کو اصلی بنانے کی جانب ایک قدم کے طور پر لیا جا رہا ہے،یعنی اس سے ٹوئٹر ویریفائڈ موبائل نمبر کے حامل اکاؤنٹس کو بھی تصدیقی اکاؤنٹ میں شمار کرے گا۔</p>

<p>یہ واضح نہیں ہے کہ مذکورہ فیچر کے تحت ٹوئٹر کس طرح موبائل نمبر کی تصدیق کرے گا، تاہم امکان ہے کہ اس کے تحت ٹوئٹر تمام ممالک کی حکومتوں یا فون سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں سے اشتراک کرے گا۔</p>

<p>مذکورہ دونوں فیچرز کے علاوہ بھی ٹوئٹر پر اس وقت دیگر چند فیچرز کی آزمائش کی جا رہی ہے، جن تک محدود صارفین کو رسائی دی گئی ہے۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>    <span>
        <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
            <a href="https://twitter.com/wongmjane/status/1560748445518143488"></a>
        </blockquote>
    </span></div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1186818</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Aug 2022 22:22:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/08/6303b5081d76f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/08/6303b5081d76f.jpg?0.2704726535344315"/>
        <media:title>—فوٹو: سی نیٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
