<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 18:22:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 18:22:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیلاب سے متاثرہ تاریخی ورثوں کی بحالی کے لیے یونیسکو کا ساڑھے 3لاکھ ڈالر امداد کا اعلان
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1187730/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان میں سیلاب سے تقریباً 1300 افراد جاں بحق ہوئے اور کئی علاقے اب بھی زیر آب ہیں جبکہ اس سیلاب نے ایسے مقامات کو بھی شدید نقصان پہنچایا جو ثقافتی ورثے کی حیثیت رکھتے ہیں، ان ثقافتی ورثوں کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے  تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے (یونیسکو) کی جانب سے ہنگامی مالی امداد جمع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1709157/unesco-mobilises-350000-to-save-heritage-sites"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق اقوام متحدہ کے ایک بیان میں بتایا گیا کہ پاکستان میں سیلاب سے متاثر ہونے والے مقامات بالخصوص ڈھائی ہزار سال قبل مسیح سے موجود موہن جو دڑو اور سندھ کے تاریخی مقامات مکلی اور ٹھٹہ کی بحالی کے لیے ساڑھے 3 لاکھ ڈالرز کے ہنگامی فنڈ جمع کرنے کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1187483/"&gt;موہن جو دڑو کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست سے نکالا جاسکتا ہے، حکام کا انتباہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یونیسکو کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں موجود ثقافتی ورثے کی عارضی فہرست میں شامل پاکستان میں موجود آبپاشی کا روایتی نظام 'کاریز' کو بھی سیلاب سے شدید نقصان پہنچا ہے، اس کے علاوہ امری سائٹ میوزیم اور ضلع جامشورو میں موجود سیہون فلوک اینڈ کرافٹ میوزیم بھی متاثر ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل آڈرے ازولے کا کہنا ہے کہ یونیسکو ان ورثوں کی بحالی کے لیے امداد فراہم کرے گا،  ان ورثوں کی بحالی اور تحفظ کے لیے ابتدائی طور پر 3 لاکھ 50 ہزار ڈالر ہنگامی فنڈز جمع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:  &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1187525/"&gt;جب پانی حیات نہیں موت کا پیغام بن جائے۔۔۔&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عالمی ادارے کے مطابق موہن جو دڑو اور ٹھٹھہ جیسے عالمی ثقافتی ورثوں کی بحالی کے لیے ورلڈ ہیریٹیج فنڈ سے ایک لاکھ 50 ہزار ڈالر جاری کیے جائیں گے، ان فنڈز میں قدرتی آفات کے اثرات کو طویل مدت تک کم کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ بلوچستان، سوات اور لاڑکانہ کے اضلاع میں ثقافتی ورثوں کی بحالی کے لیے ہیریٹیج ایمرجنسی فنڈ سے 2 لاکھ ڈالر کے فنڈز جاری کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1187673/"&gt;منچھر جھیل، مین نارا ویلی ڈرین میں شگاف سے بھان سید آباد میں سیلاب کا خطرہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ ان سرگرمیوں کا مقصد ناصرف ثقافتی ورثے کی بحالی کے لیے تعاون کرنا ہےبلکہ تعلیم یافتہ افراد، کاریگروں اور فنکاروں کو بھی مدد ملے گی جن کا کاروبار سیلاب کی وجہ سے متاثر ہوا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ اسلام آباد میں موجود یونیسکو کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے 50 ہزار ڈالر امداد فراہم کی گئی ہے۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان میں سیلاب سے تقریباً 1300 افراد جاں بحق ہوئے اور کئی علاقے اب بھی زیر آب ہیں جبکہ اس سیلاب نے ایسے مقامات کو بھی شدید نقصان پہنچایا جو ثقافتی ورثے کی حیثیت رکھتے ہیں، ان ثقافتی ورثوں کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے  تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے (یونیسکو) کی جانب سے ہنگامی مالی امداد جمع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ </p>

<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1709157/unesco-mobilises-350000-to-save-heritage-sites">رپورٹ</a></strong> کے مطابق اقوام متحدہ کے ایک بیان میں بتایا گیا کہ پاکستان میں سیلاب سے متاثر ہونے والے مقامات بالخصوص ڈھائی ہزار سال قبل مسیح سے موجود موہن جو دڑو اور سندھ کے تاریخی مقامات مکلی اور ٹھٹہ کی بحالی کے لیے ساڑھے 3 لاکھ ڈالرز کے ہنگامی فنڈ جمع کرنے کا اعلان کیا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1187483/">موہن جو دڑو کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست سے نکالا جاسکتا ہے، حکام کا انتباہ</a></strong></p>

<p>یونیسکو کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں موجود ثقافتی ورثے کی عارضی فہرست میں شامل پاکستان میں موجود آبپاشی کا روایتی نظام 'کاریز' کو بھی سیلاب سے شدید نقصان پہنچا ہے، اس کے علاوہ امری سائٹ میوزیم اور ضلع جامشورو میں موجود سیہون فلوک اینڈ کرافٹ میوزیم بھی متاثر ہوا۔</p>

<p>یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل آڈرے ازولے کا کہنا ہے کہ یونیسکو ان ورثوں کی بحالی کے لیے امداد فراہم کرے گا،  ان ورثوں کی بحالی اور تحفظ کے لیے ابتدائی طور پر 3 لاکھ 50 ہزار ڈالر ہنگامی فنڈز جمع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں:  <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1187525/">جب پانی حیات نہیں موت کا پیغام بن جائے۔۔۔</a></strong></p>

<p>عالمی ادارے کے مطابق موہن جو دڑو اور ٹھٹھہ جیسے عالمی ثقافتی ورثوں کی بحالی کے لیے ورلڈ ہیریٹیج فنڈ سے ایک لاکھ 50 ہزار ڈالر جاری کیے جائیں گے، ان فنڈز میں قدرتی آفات کے اثرات کو طویل مدت تک کم کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔</p>

<p>اس کے علاوہ بلوچستان، سوات اور لاڑکانہ کے اضلاع میں ثقافتی ورثوں کی بحالی کے لیے ہیریٹیج ایمرجنسی فنڈ سے 2 لاکھ ڈالر کے فنڈز جاری کیے جائیں گے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1187673/">منچھر جھیل، مین نارا ویلی ڈرین میں شگاف سے بھان سید آباد میں سیلاب کا خطرہ</a></strong></p>

<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ ان سرگرمیوں کا مقصد ناصرف ثقافتی ورثے کی بحالی کے لیے تعاون کرنا ہےبلکہ تعلیم یافتہ افراد، کاریگروں اور فنکاروں کو بھی مدد ملے گی جن کا کاروبار سیلاب کی وجہ سے متاثر ہوا ہے۔ </p>

<p>اس کے علاوہ اسلام آباد میں موجود یونیسکو کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے 50 ہزار ڈالر امداد فراہم کی گئی ہے۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1187730</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Sep 2022 09:37:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امین احمد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/09/631ab06082c72.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/09/631ab06082c72.jpg"/>
        <media:title>ان فنڈز کی مدد سےطویل مدت تک قدرتی آفات کے اثرات کو کم کرنے میں مدد ملےگی—فوٹو : پی پی آئی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
