<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 20:20:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 20:20:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب پولیس میں تقرر و تبادلے پر وزیراعلیٰ اور آئی جی میں اختلافات ختم
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1187746/</link>
      <description>&lt;p&gt;پنجاب کے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الہٰی اور انسپکٹر جنرل آف پولیس فیصل شاہکار کے درمیان پولیس تعیناتیوں اور تبادلوں کے معاملے پر ایک ہفتے سے جاری ڈیڈلاک مثبت پیش رفت کے ساتھ ختم ہوگیا اور تازہ پیشرفت میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے آئی جی آفس کے تجویز کردہ 12 افسران کے انٹرویوز لیے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1709117/cm-igp-deadlock-parvez-interviews-officers-recommended-by-police-chief"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق حالیہ پیش رفت میں آئی جی آفس نے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) کے تقرر کے لیے پہلی بار 3 سینئر خاتون پولیس افسران کے نام تجویز کیے، ضلع میں مرد افسران کی اکثریت کی وجہ سے خواتین افسران کو ضلعی پولیس کی سربراہی کا بہت کم موقع دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1182242"&gt;پنجاب پولیس میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عہدیدار کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے پنجاب پولیس میں 90 فیصد سیاسی تقرریوں کی وجہ سے آئی جی آفس اور وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کے تعلقات ایک ہفتے سے تنازعات کا شکار تھے، ان تقرریوں میں مرکزی اسٹیک ہولڈز ہونے کے باوجود سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی، آئی جی نے پنجاب حکومت کو واضح پیغام دیا کہ پولیس کمیونٹی میں ان کی کمان کمزور ہو چکی ہے اور وہ اپنے محکمے میں تبادلوں اور تعیناتیوں پر کسی بھی طرح کا سمجھوتہ کرنے کے بجائے عہدہ چھوڑنے کو ترجیح دیں گے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان اختلافات اب دور ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ آئی جی پنجاب پولیس فیصل شاہکار اور وزیر اعلیٰ پرویز الہیٰ نے 12 پولیس افسران کے انٹرویو لیے تاکہ ان کی آر پی او اور ڈی پی او کے عہدوں پر تعیناتی پر غور کیا جاسکے، آئی جی پولیس نے پولیس افسران کے پینل کی سفارش کی تھی جبکہ آر پی او ڈیرہ اسمٰعیل خان، لیہ، نارووال اور اوکاڑہ کے ڈی پی او کے لیے ناموں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1142848"&gt;پنجاب کے 2سینئر پولیس اہلکاروں کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے حوالے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فیصل شاہکار نے ہر پینل کےلیے 3 نام تجویز کیے، ڈی جی خان کے آر پی او کے لیے جن پولیس افسران کا انٹرویو کیا گیا ان میں ڈی آئی جی خرم علی شاہ، ناصر ستی اور عمران راشد شامل تھے، جبکہ ڈی پی او کے عہدے کے لیے انٹرویو دینے والوں میں ایس ایس پیز اور ایس پی عمارہ اطہر، محمد فیصل، شائستہ ندیم، سید حسنین حیدر، ریٹائرڈ کیپٹن واحد محمود، سید کرار حسین، محمد فرقان بلال، شازیہ سرور اور منصور قمر شامل تھے۔   &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عہدیدار کا کہنا تھا کہ خواتین پولیس افسران کی نامزدگی کے لیے آئی جی پنجاب کی نئی پالیسی کے تحت خواتین پولیس افسران کی نمائندگی کے لیے کُل سفارشات تقریباً 35 فیصد ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اضلاع میں خواتین کی نمائندگی میں اضافے پر بات کرنے پر فیصل شاہکار کو کچھ پولیس افسران کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ آئی جی نے پہلی بار 2 خواتین پولیس افسران کو پنجاب پولیس کے اعلیٰ ترین فورم میں پولیس ایگزیکٹو بورڈ کا رکن بنایا تھا، انہوں نے تمام علاقائی اور ضلعی پولیس افسران کی جگہ پر خاتون پولیس افسران کے تقرر کا حکم بھی جاری کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077292"&gt;غیر متعلقہ افراد کی سیکیورٹی پر مامور 13 ہزار سیکیورٹی اہلکار واپس&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نوٹی فکیشن کے مطابق آئی جی پولیس نے خواتین پولیس افسران کو کمیٹیوں، فیلڈ پوسٹنگ اور دیگر فورمز اور کانسٹیبل سے ایس پی کی ترقی دینے کی ہدایت کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ لاہور کے تھانوں میں 6 لیڈی پولیس اہلکاروں کی بطور انچارج تفتیش پر ترقی بھی خواتین عملے کی حوصلہ افزائی کا تسلسل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک سیاسی تقرریوں کا تعلق ہے تو پولیس چیف نے ڈی پی او لیہ کی تقرری کے لیے ایک پولیس افسر کی ’سیاسی اثروسوخ‘ کی بنیاد پر تقرری کو مسترد کردیا ہے، مذکورہ پولیس افسر نے ڈی پی او کا عہدہ حاصل کرنے کے لیے ضلع لیہ کی تمام سیاسی جماعتوں کی اہم سیاسی شخصیات سے سفارش کرائی لیکن آئی جی نے ان درخواستوں کو مسترد کردیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پنجاب کے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الہٰی اور انسپکٹر جنرل آف پولیس فیصل شاہکار کے درمیان پولیس تعیناتیوں اور تبادلوں کے معاملے پر ایک ہفتے سے جاری ڈیڈلاک مثبت پیش رفت کے ساتھ ختم ہوگیا اور تازہ پیشرفت میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے آئی جی آفس کے تجویز کردہ 12 افسران کے انٹرویوز لیے۔ </p>

<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1709117/cm-igp-deadlock-parvez-interviews-officers-recommended-by-police-chief">رپورٹ</a></strong> کے مطابق حالیہ پیش رفت میں آئی جی آفس نے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) کے تقرر کے لیے پہلی بار 3 سینئر خاتون پولیس افسران کے نام تجویز کیے، ضلع میں مرد افسران کی اکثریت کی وجہ سے خواتین افسران کو ضلعی پولیس کی سربراہی کا بہت کم موقع دیا جاتا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1182242">پنجاب پولیس میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے</a></strong></p>

<p>عہدیدار کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے پنجاب پولیس میں 90 فیصد سیاسی تقرریوں کی وجہ سے آئی جی آفس اور وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کے تعلقات ایک ہفتے سے تنازعات کا شکار تھے، ان تقرریوں میں مرکزی اسٹیک ہولڈز ہونے کے باوجود سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی، آئی جی نے پنجاب حکومت کو واضح پیغام دیا کہ پولیس کمیونٹی میں ان کی کمان کمزور ہو چکی ہے اور وہ اپنے محکمے میں تبادلوں اور تعیناتیوں پر کسی بھی طرح کا سمجھوتہ کرنے کے بجائے عہدہ چھوڑنے کو ترجیح دیں گے۔ </p>

<p>عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان اختلافات اب دور ہوگئے ہیں۔</p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ آئی جی پنجاب پولیس فیصل شاہکار اور وزیر اعلیٰ پرویز الہیٰ نے 12 پولیس افسران کے انٹرویو لیے تاکہ ان کی آر پی او اور ڈی پی او کے عہدوں پر تعیناتی پر غور کیا جاسکے، آئی جی پولیس نے پولیس افسران کے پینل کی سفارش کی تھی جبکہ آر پی او ڈیرہ اسمٰعیل خان، لیہ، نارووال اور اوکاڑہ کے ڈی پی او کے لیے ناموں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1142848">پنجاب کے 2سینئر پولیس اہلکاروں کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے حوالے</a></strong></p>

<p>فیصل شاہکار نے ہر پینل کےلیے 3 نام تجویز کیے، ڈی جی خان کے آر پی او کے لیے جن پولیس افسران کا انٹرویو کیا گیا ان میں ڈی آئی جی خرم علی شاہ، ناصر ستی اور عمران راشد شامل تھے، جبکہ ڈی پی او کے عہدے کے لیے انٹرویو دینے والوں میں ایس ایس پیز اور ایس پی عمارہ اطہر، محمد فیصل، شائستہ ندیم، سید حسنین حیدر، ریٹائرڈ کیپٹن واحد محمود، سید کرار حسین، محمد فرقان بلال، شازیہ سرور اور منصور قمر شامل تھے۔   </p>

<p>عہدیدار کا کہنا تھا کہ خواتین پولیس افسران کی نامزدگی کے لیے آئی جی پنجاب کی نئی پالیسی کے تحت خواتین پولیس افسران کی نمائندگی کے لیے کُل سفارشات تقریباً 35 فیصد ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اضلاع میں خواتین کی نمائندگی میں اضافے پر بات کرنے پر فیصل شاہکار کو کچھ پولیس افسران کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔</p>

<p>یاد رہے کہ آئی جی نے پہلی بار 2 خواتین پولیس افسران کو پنجاب پولیس کے اعلیٰ ترین فورم میں پولیس ایگزیکٹو بورڈ کا رکن بنایا تھا، انہوں نے تمام علاقائی اور ضلعی پولیس افسران کی جگہ پر خاتون پولیس افسران کے تقرر کا حکم بھی جاری کیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077292">غیر متعلقہ افراد کی سیکیورٹی پر مامور 13 ہزار سیکیورٹی اہلکار واپس</a></strong></p>

<p>نوٹی فکیشن کے مطابق آئی جی پولیس نے خواتین پولیس افسران کو کمیٹیوں، فیلڈ پوسٹنگ اور دیگر فورمز اور کانسٹیبل سے ایس پی کی ترقی دینے کی ہدایت کی تھی۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ لاہور کے تھانوں میں 6 لیڈی پولیس اہلکاروں کی بطور انچارج تفتیش پر ترقی بھی خواتین عملے کی حوصلہ افزائی کا تسلسل ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک سیاسی تقرریوں کا تعلق ہے تو پولیس چیف نے ڈی پی او لیہ کی تقرری کے لیے ایک پولیس افسر کی ’سیاسی اثروسوخ‘ کی بنیاد پر تقرری کو مسترد کردیا ہے، مذکورہ پولیس افسر نے ڈی پی او کا عہدہ حاصل کرنے کے لیے ضلع لیہ کی تمام سیاسی جماعتوں کی اہم سیاسی شخصیات سے سفارش کرائی لیکن آئی جی نے ان درخواستوں کو مسترد کردیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1187746</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Sep 2022 07:48:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آصف چوہدری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/09/631ae17353613.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/09/631ae17353613.jpg"/>
        <media:title>وزیر اعلیٰ پنجاب نے آئی جی آفس کے تجویز کردہ 12 افسران کے انٹرویوز لیے — فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
