<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 23:14:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 23:14:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کا پاکستان کے ایف-16 طیاروں کی مرمت کیلئے واشنگٹن کے مجوزہ پیکج پر اظہار تشویش
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1188054/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت نے امریکا کی جانب سے پاکستان کو فروخت کردہ ایف-16 طیاروں کی مرمت کے لیے معاونت فراہم کرنے کی منظوری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارتی وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے مذکورہ پیش رفت پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ میں نے پاکستان کے ایف-16 فضائی بیڑے کے لیے امدادی پیکج فراہم کرنے کے حالیہ امریکی فیصلے پر بھارت کی تشویش سے آگاہ کرتا ہوں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;    &lt;span&gt;
        &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
            &lt;a href="https://twitter.com/rajnathsingh/status/1570028844555571200"&gt;&lt;/a&gt;
        &lt;/blockquote&gt;
    &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے ساتھ 'پرتپاک اور نتیجہ خیز' ٹیلی فون گفتگو کے بعد ٹوئٹر پر یہ بیان دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1188003/"&gt;پاکستان انسداد دہشت گردی سمیت متعدد شعبوں میں اہم اتحادی ہے، نیڈ پرائس&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ گزشتہ امریکی محکمہ خارجہ نے 45 کروڑ ڈالر تک کے معاہدے میں پاکستان کو پائیداری اور متعلقہ آلات کی ممکنہ فروخت کی منظوری دی تھی جس کی اصل کنٹریکٹر لاک ہیڈ مارٹن کارپوریشن ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں دفتر خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا تھا کہ اپنی دیرینہ پالیسی کے طور پر واشنگٹن 'امریکی نژاد پلیٹ فارمز کے لیے لائف سائیکل مینٹیننس اور پائیداری پیکجز' فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا تھا کہ یہ فضائی بیڑا پاکستان کو انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کی حمایت کرنے کی اجازت دیتا ہے اور ہم توقع کرتے ہیں کہ پاکستان تمام دہشت گرد گروپوں کے خلاف مستقل کارروائی کرے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کے اس بیان میں بھارت کے اٹھائے گئے کچھ سوالات کا جواب دیا گیا کہ ایف-16 طیاروں سے پاکستان کی فضائی صلاحیتوں کو تقویت ملے گی، جو کہ نئی دہلی کے مفادات کے خلاف ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1187698"&gt;امریکا کی پاکستان کو ’ایف 16‘ طیاروں کا سامان فروخت کرنے کی منظوری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم امریکی عہدیدار نے واضح کیا کہ نئے پروگرام کا مقصد صرف دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی طاقت کو بڑھانا ہے اور اسے پاکستان اور بھارت کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے باوجود اس ردعمل نے نئی دہلی کو مطمئن نہیں کیا، جو ابھی تک اس فیصلے کے بارے میں فکر مند ہے اور بھارتی وزیر دفاع نے اپنے امریکی ہم منصب کو اپنی تشویش سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت نے امریکا کی جانب سے پاکستان کو فروخت کردہ ایف-16 طیاروں کی مرمت کے لیے معاونت فراہم کرنے کی منظوری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔</p>

<p>بھارتی وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے مذکورہ پیش رفت پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ میں نے پاکستان کے ایف-16 فضائی بیڑے کے لیے امدادی پیکج فراہم کرنے کے حالیہ امریکی فیصلے پر بھارت کی تشویش سے آگاہ کرتا ہوں۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>    <span>
        <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
            <a href="https://twitter.com/rajnathsingh/status/1570028844555571200"></a>
        </blockquote>
    </span></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>انہوں نے امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے ساتھ 'پرتپاک اور نتیجہ خیز' ٹیلی فون گفتگو کے بعد ٹوئٹر پر یہ بیان دیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1188003/">پاکستان انسداد دہشت گردی سمیت متعدد شعبوں میں اہم اتحادی ہے، نیڈ پرائس</a></strong></p>

<p>خیال رہے کہ گزشتہ امریکی محکمہ خارجہ نے 45 کروڑ ڈالر تک کے معاہدے میں پاکستان کو پائیداری اور متعلقہ آلات کی ممکنہ فروخت کی منظوری دی تھی جس کی اصل کنٹریکٹر لاک ہیڈ مارٹن کارپوریشن ہے۔</p>

<p>اس ضمن میں دفتر خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا تھا کہ اپنی دیرینہ پالیسی کے طور پر واشنگٹن 'امریکی نژاد پلیٹ فارمز کے لیے لائف سائیکل مینٹیننس اور پائیداری پیکجز' فراہم کرتا ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا تھا کہ یہ فضائی بیڑا پاکستان کو انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کی حمایت کرنے کی اجازت دیتا ہے اور ہم توقع کرتے ہیں کہ پاکستان تمام دہشت گرد گروپوں کے خلاف مستقل کارروائی کرے گا۔</p>

<p>ان کے اس بیان میں بھارت کے اٹھائے گئے کچھ سوالات کا جواب دیا گیا کہ ایف-16 طیاروں سے پاکستان کی فضائی صلاحیتوں کو تقویت ملے گی، جو کہ نئی دہلی کے مفادات کے خلاف ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1187698">امریکا کی پاکستان کو ’ایف 16‘ طیاروں کا سامان فروخت کرنے کی منظوری</a></strong></p>

<p>تاہم امریکی عہدیدار نے واضح کیا کہ نئے پروگرام کا مقصد صرف دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی طاقت کو بڑھانا ہے اور اسے پاکستان اور بھارت کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔</p>

<p>اس کے باوجود اس ردعمل نے نئی دہلی کو مطمئن نہیں کیا، جو ابھی تک اس فیصلے کے بارے میں فکر مند ہے اور بھارتی وزیر دفاع نے اپنے امریکی ہم منصب کو اپنی تشویش سے آگاہ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1188054</guid>
      <pubDate>Thu, 15 Sep 2022 15:01:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/09/6322b50eb3165.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/09/6322b50eb3165.jpg"/>
        <media:title>بھارتی وزیردفاع راج ناتھ سنگھ—تصویر: ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
