<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 15:06:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 15:06:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیلاب سے ہونے والی تباہی سے کوئی ملک اکیلا نہیں نمٹ سکتا، شیریں رحمٰن
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1189121/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد سوئٹزرلینڈ اور پرتگال کی مشترکہ آبادی سے بھی کہیں زیادہ ہے، سیلاب سے ہونے والی تباہی سے کوئی ملک اکیلا نہیں نمٹ سکتا اور آنے والے وقت میں پاکستان کو مزید امداد کی سخت ضرورت ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اقوام متحدہ نے پاکستان میں سیلاب متاثرین کے لیے ابتدائی طور پر 16 کروڑ ڈالر امداد کی اپیل کی تھی تاہم بڑھتی ہوئی آبی بیماریوں اور تباہی کے اثرات کے پیش نظر عالمی ادارے نے امداد میں پانچ گنا اضافہ کرتے ہوئے 81 کروڑ 60 لاکھ ڈالر امداد کی اپیل کی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنیوا میں اقوام متحدہ اور پاکستان کی سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے فلیش اپیل کی تقریب منعقد کی گئی جس سے وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے خطاب کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1182145"&gt;فوری اقدامات نہیں کیے گئے تو پاکستان کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہوسکتا ہے، شیری رحمٰن&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ تباہ کن بارشوں اور سیلاب سے ایک ہزار 700 سے زائد افراد جاں بحق اور 1300سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں جبکہ اس وقت سیلاب متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے پاکستان شدید متاثر ہوا ہے اور تقریباً 79 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ سوا 3 کروڑ سے زائد متاثر ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ آبادی میں سب سے زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے اور شدید مون سون بارشوں کے سبب آنے والے سیلاب نے ملک کی بڑی آبادی کو نقصان پہنچایا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ تباہ کاریوں سے 46 ہزار کلومیٹر پر محیط 35 اضلاع شدید متاثر ہوئے، ملک میں 2 کروڑ 6 لاکھ سیلاب زدگان کو خوراک، ادویات اور دیگر سہولیات کی اشد ضرورت ہے اور یہ تعداد سوئٹزرلینڈ اور پرتگال کی مشترکہ آبادی سے بھی کہیں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1182119/"&gt;وزیر اعظم کی ہدایت پر موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ٹاسک فورس قائم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کا مستقبل وقت داؤ پر لگ چکا ہے، بالخصوص خواتین کے حوالے سے اعداد و شمار حیران کن ہیں جو اس موسمیاتی آفت سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ملک میں 11 اضلاع مکمل طور پر زیر آب ہیں، کئی سیلاب زدگان صاف پانی، ادویات، خوراک اور خشک زمین کے منتظر ہیں، 14 ہزار سے زائد طبی سہولیات شدید متاثر ہوئی ہیں، ملک کا ایک بڑا حصہ بالخصوص جنوب کے کئی علاقے زیر آب ہیں جہاں شہریوں کو صاف پانی میسر نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='633c2cc37c04c'&gt;آئندہ موسم سرما میں متاثرین کی مشکلات&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ آئندہ موسم سرما میں سیلاب زدگان کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور ہوں گے، حکومت کی جانب سے 5 ہزار 98 شہروں کو چھت فراہم کردی گئی ہیں لیکن اس کے علاوہ مزید 79 لاکھ شہری اب بھی خشک زمین اور محفوظ چھت کے منتظر ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1182071/"&gt;پاکستان اقوام متحدہ کی خشک سالی سے شدید متاثرہ ممالک کی فہرست میں شامل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے آنے والے دنوں میں سیلاب متاثرین کو پیش آنے والی ممکنہ مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موسم سرما میں 40 لاکھ افراد نقطہ انجماد پر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوں گے، جبکہ گرم علاقوں میں درجہ حرارت 10 ڈگری سینٹی گریڈ تک جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شیریں رحمٰن کا کہنا تھا کہ 71 لاکھ شہری اس وقت غذائی قلت کا شکار ہیں، حکومت نے پہلے مرحلے میں 39 لاکھ متاثرین کو ریلیف پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے، پہلے مرحلے میں ہماری ترجیح شدید غذائی قلت والے علاقوں کو ریلیف پہنچانا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='633c2cc37c0be'&gt;سیلاب سے انفرااسٹرکچر متاثر&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ریلیف آپریشن کے کا کام سست روی کا شکار ہے کیونکہ سیلاب کا پانی 13 ہزار کلومیٹر طویل سڑک اور 440 پُلوں کو شدید نقصان پہنچا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سیلاب سے ملک کے معاشی نظام پر بھی اثر پڑا ہے، اس تمام صورتحال میں امدادی سامان کو متاثرہ علاقوں تک پہنچانا حکومت کے لیے مشکل ہوگیا ہے، یورپی ممالک کی طرح پاکستان کے پاس اضافی پیکج موجود نہیں ہے، ملک کے خراب معاشی حالات کی وجہ سے حکومت شہریوں کے بہتر مستقبل کے لیے انہیں نوکریاں نہیں دے سکتی، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت اب تک غریب افراد کو 70 ارب روپے تقسیم کیے جاچکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1181636/"&gt;موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ’نیٹ زیرو‘ کیوں ضروری ہے؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شیری رحمٰن نے کہا کہ انسانوں کی جان بچانے کے لیے ہم ہر ممکن حد تک جارہے ہیں اور ہر کسی سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سیلاب سے اتنے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے کہ کوئی ملک اکیلا اس سے نہیں نمٹ سکتا ہے، یہ موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والی اس صدی کی سب سے بڑی تباہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اب نئے اتحاد کی ضرورت ہے اور جانیں بچانے کے لیے ایسا کیا جاسکتا ہے، مرنے والے افراد میں سے ایک تہائی تعداد بچوں کی ہے اور ہمیں وقت سے جیتنا ہے کیونکہ موسم سرما بہت تیزی سے آرہا ہے جس میں لاکھوں لوگ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم دنیا سے صرف اپیل کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں اس مشکل وقت میں اکیلا نہ چھوڑیں، ہم نے پہلے ہی دہشت گردی کے خلاف 20 سال طویل جنگ لڑی ہے جس میں ہم نے 80 ہزار سے زائد جانیں گنوائیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادھر پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ اور ہیومینیٹیرین کوآرڈینیٹر جولیئن ہارنیس نے کہا کہ پاکستان کے لیے 81 کروڑ 60 لاکھ ڈالر امداد کی اپیل ہرگز کافی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد سوئٹزرلینڈ اور پرتگال کی مشترکہ آبادی سے بھی کہیں زیادہ ہے، سیلاب سے ہونے والی تباہی سے کوئی ملک اکیلا نہیں نمٹ سکتا اور آنے والے وقت میں پاکستان کو مزید امداد کی سخت ضرورت ہے۔ </p>

<p>اقوام متحدہ نے پاکستان میں سیلاب متاثرین کے لیے ابتدائی طور پر 16 کروڑ ڈالر امداد کی اپیل کی تھی تاہم بڑھتی ہوئی آبی بیماریوں اور تباہی کے اثرات کے پیش نظر عالمی ادارے نے امداد میں پانچ گنا اضافہ کرتے ہوئے 81 کروڑ 60 لاکھ ڈالر امداد کی اپیل کی ہے۔</p>

<p>جنیوا میں اقوام متحدہ اور پاکستان کی سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے فلیش اپیل کی تقریب منعقد کی گئی جس سے وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے خطاب کیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1182145">فوری اقدامات نہیں کیے گئے تو پاکستان کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہوسکتا ہے، شیری رحمٰن</a></strong></p>

<p>شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ تباہ کن بارشوں اور سیلاب سے ایک ہزار 700 سے زائد افراد جاں بحق اور 1300سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں جبکہ اس وقت سیلاب متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔</p>

<p>وفاقی وزیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے پاکستان شدید متاثر ہوا ہے اور تقریباً 79 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ سوا 3 کروڑ سے زائد متاثر ہوئے ہیں۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ آبادی میں سب سے زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے اور شدید مون سون بارشوں کے سبب آنے والے سیلاب نے ملک کی بڑی آبادی کو نقصان پہنچایا ہے۔</p>

<p>شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ تباہ کاریوں سے 46 ہزار کلومیٹر پر محیط 35 اضلاع شدید متاثر ہوئے، ملک میں 2 کروڑ 6 لاکھ سیلاب زدگان کو خوراک، ادویات اور دیگر سہولیات کی اشد ضرورت ہے اور یہ تعداد سوئٹزرلینڈ اور پرتگال کی مشترکہ آبادی سے بھی کہیں زیادہ ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1182119/">وزیر اعظم کی ہدایت پر موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ٹاسک فورس قائم</a></strong></p>

<p>انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کا مستقبل وقت داؤ پر لگ چکا ہے، بالخصوص خواتین کے حوالے سے اعداد و شمار حیران کن ہیں جو اس موسمیاتی آفت سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ملک میں 11 اضلاع مکمل طور پر زیر آب ہیں، کئی سیلاب زدگان صاف پانی، ادویات، خوراک اور خشک زمین کے منتظر ہیں، 14 ہزار سے زائد طبی سہولیات شدید متاثر ہوئی ہیں، ملک کا ایک بڑا حصہ بالخصوص جنوب کے کئی علاقے زیر آب ہیں جہاں شہریوں کو صاف پانی میسر نہیں۔</p>

<h3 id='633c2cc37c04c'>آئندہ موسم سرما میں متاثرین کی مشکلات</h3>

<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ آئندہ موسم سرما میں سیلاب زدگان کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور ہوں گے، حکومت کی جانب سے 5 ہزار 98 شہروں کو چھت فراہم کردی گئی ہیں لیکن اس کے علاوہ مزید 79 لاکھ شہری اب بھی خشک زمین اور محفوظ چھت کے منتظر ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1182071/">پاکستان اقوام متحدہ کی خشک سالی سے شدید متاثرہ ممالک کی فہرست میں شامل</a></strong></p>

<p>انہوں نے آنے والے دنوں میں سیلاب متاثرین کو پیش آنے والی ممکنہ مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موسم سرما میں 40 لاکھ افراد نقطہ انجماد پر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوں گے، جبکہ گرم علاقوں میں درجہ حرارت 10 ڈگری سینٹی گریڈ تک جاسکتا ہے۔</p>

<p>شیریں رحمٰن کا کہنا تھا کہ 71 لاکھ شہری اس وقت غذائی قلت کا شکار ہیں، حکومت نے پہلے مرحلے میں 39 لاکھ متاثرین کو ریلیف پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے، پہلے مرحلے میں ہماری ترجیح شدید غذائی قلت والے علاقوں کو ریلیف پہنچانا ہے۔</p>

<h3 id='633c2cc37c0be'>سیلاب سے انفرااسٹرکچر متاثر</h3>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ریلیف آپریشن کے کا کام سست روی کا شکار ہے کیونکہ سیلاب کا پانی 13 ہزار کلومیٹر طویل سڑک اور 440 پُلوں کو شدید نقصان پہنچا۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ سیلاب سے ملک کے معاشی نظام پر بھی اثر پڑا ہے، اس تمام صورتحال میں امدادی سامان کو متاثرہ علاقوں تک پہنچانا حکومت کے لیے مشکل ہوگیا ہے، یورپی ممالک کی طرح پاکستان کے پاس اضافی پیکج موجود نہیں ہے، ملک کے خراب معاشی حالات کی وجہ سے حکومت شہریوں کے بہتر مستقبل کے لیے انہیں نوکریاں نہیں دے سکتی، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت اب تک غریب افراد کو 70 ارب روپے تقسیم کیے جاچکے ہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1181636/">موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ’نیٹ زیرو‘ کیوں ضروری ہے؟</a></strong></p>

<p>شیری رحمٰن نے کہا کہ انسانوں کی جان بچانے کے لیے ہم ہر ممکن حد تک جارہے ہیں اور ہر کسی سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ سیلاب سے اتنے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے کہ کوئی ملک اکیلا اس سے نہیں نمٹ سکتا ہے، یہ موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والی اس صدی کی سب سے بڑی تباہی ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اب نئے اتحاد کی ضرورت ہے اور جانیں بچانے کے لیے ایسا کیا جاسکتا ہے، مرنے والے افراد میں سے ایک تہائی تعداد بچوں کی ہے اور ہمیں وقت سے جیتنا ہے کیونکہ موسم سرما بہت تیزی سے آرہا ہے جس میں لاکھوں لوگ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہوں گے۔</p>

<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم دنیا سے صرف اپیل کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں اس مشکل وقت میں اکیلا نہ چھوڑیں، ہم نے پہلے ہی دہشت گردی کے خلاف 20 سال طویل جنگ لڑی ہے جس میں ہم نے 80 ہزار سے زائد جانیں گنوائیں۔</p>

<p>ادھر پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ اور ہیومینیٹیرین کوآرڈینیٹر جولیئن ہارنیس نے کہا کہ پاکستان کے لیے 81 کروڑ 60 لاکھ ڈالر امداد کی اپیل ہرگز کافی نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1189121</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Oct 2022 17:53:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/10/0415015102664a0.png?r=150238" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/10/0415015102664a0.png?r=150238"/>
        <media:title>شیریں رحمٰن کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک کی طرح پاکستان میں اضافی کے پاس اضافی پیکج نہیں ہے— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
