<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Balochistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 09:28:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 09:28:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوئٹہ میں 'طالبان مخالف' سابق افغان پولیس افسر قاتلانہ حملے میں جاں بحق
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1189481/</link>
      <description>&lt;p&gt;بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم حملہ آور نے طالبان مخالف سابق افغان پولیس افسر کو گولی مار کر قتل کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1714404/anti-afghan-taliban-police-officer-shot-dead-in-quetta"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق پولیس حکام نے بتایا کہ واقعہ 9 اکتوبر کو مشرقی بائی پاس پر پیش آیا جہاں موٹر سائیکل سوار حملہ آور نے سابق پولیس افسر عبدالصمد اچکزئی پر گولیاں برسائیں، عبدالصمد اپنے بھائی کے ہمراہ موٹر سائیکل پر جارہے تھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1091239"&gt;پاکستانی مغوی پولیس افسر کے افغانستان میں قتل کی اطلاعات&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سینئر پولیس افسر منصور احمد نے بتایا کہ مقتول عبدالصمد اچکزئی کو دو گولیاں لگیں جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ ان کے بھائی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، تاہم اسی دوران ایک راہگیر کو گولی لگی جس سے وہ زخمی ہو گیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ واقعے کی اطلاع کے فوری بعد پولیس موقع پر پہنچی اور زخمیوں اور لاش کو سول ہسپتال منتقل کیا گیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیس نے بتایا کہ اشرف غنی کی سابق افغان حکومت میں عبدالصمد اچکزئی دارالحکومت کابل میں پولیس کمانڈر کے عہدے پر فائز تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی کے سابق مشیر برائے امور عامہ اختر محمد بادزئی نے فیس بُک پیج پر تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال اگست میں افغان طالبان کے کابل میں قبضے سے پہلے تک عبدالصمد اچکزئی نے قندھار کے ضلع پنجوائی میں پولیس کمانڈر اور ڈپٹی کمانڈر کے طور پر ذمہ داریاں سرانجام دی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1068608"&gt;’افغانستان کا 43 فیصد علاقہ داعش کی محفوظ پناہ گاہیں‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عبدالصمد اچکزئی نے صوبے اورنگان میں بھی پولیس کمانڈر کے طور پر کام کیا، وہ قندھار بارڈر پولیس کے چیف جنرل عبدالرزاق اچکزئی کے قریبی ساتھی تھے۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اشرف غنی کی حکومت گرنے کے بعد سابق افغان پولیس افسر عبدالصمد اچکزئی قندھار سے فرار ہوکر کوئٹہ پہنچ گئے تھے، پولیس کے مطابق اُن کے بھائی کے پاس پناہ گزین کارڈ تھا لیکن عبدالصمد اچکزئی کے پاس گھریلو دستاویزات نہ ہونے کے سبب وہ اپنے بھائی کے ہمراہ غیر قانونی طور پر کوئٹہ میں قیام پذیر تھے۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم حملہ آور نے طالبان مخالف سابق افغان پولیس افسر کو گولی مار کر قتل کردیا۔</p>

<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1714404/anti-afghan-taliban-police-officer-shot-dead-in-quetta">رپورٹ</a></strong> کے مطابق پولیس حکام نے بتایا کہ واقعہ 9 اکتوبر کو مشرقی بائی پاس پر پیش آیا جہاں موٹر سائیکل سوار حملہ آور نے سابق پولیس افسر عبدالصمد اچکزئی پر گولیاں برسائیں، عبدالصمد اپنے بھائی کے ہمراہ موٹر سائیکل پر جارہے تھے۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1091239">پاکستانی مغوی پولیس افسر کے افغانستان میں قتل کی اطلاعات</a></strong></p>

<p>سینئر پولیس افسر منصور احمد نے بتایا کہ مقتول عبدالصمد اچکزئی کو دو گولیاں لگیں جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ ان کے بھائی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، تاہم اسی دوران ایک راہگیر کو گولی لگی جس سے وہ زخمی ہو گیا۔ </p>

<p>انہوں نے کہا کہ واقعے کی اطلاع کے فوری بعد پولیس موقع پر پہنچی اور زخمیوں اور لاش کو سول ہسپتال منتقل کیا گیا۔ </p>

<p>پولیس نے بتایا کہ اشرف غنی کی سابق افغان حکومت میں عبدالصمد اچکزئی دارالحکومت کابل میں پولیس کمانڈر کے عہدے پر فائز تھے۔</p>

<p>افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی کے سابق مشیر برائے امور عامہ اختر محمد بادزئی نے فیس بُک پیج پر تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال اگست میں افغان طالبان کے کابل میں قبضے سے پہلے تک عبدالصمد اچکزئی نے قندھار کے ضلع پنجوائی میں پولیس کمانڈر اور ڈپٹی کمانڈر کے طور پر ذمہ داریاں سرانجام دی تھیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1068608">’افغانستان کا 43 فیصد علاقہ داعش کی محفوظ پناہ گاہیں‘</a></strong></p>

<p>عبدالصمد اچکزئی نے صوبے اورنگان میں بھی پولیس کمانڈر کے طور پر کام کیا، وہ قندھار بارڈر پولیس کے چیف جنرل عبدالرزاق اچکزئی کے قریبی ساتھی تھے۔  </p>

<p>اشرف غنی کی حکومت گرنے کے بعد سابق افغان پولیس افسر عبدالصمد اچکزئی قندھار سے فرار ہوکر کوئٹہ پہنچ گئے تھے، پولیس کے مطابق اُن کے بھائی کے پاس پناہ گزین کارڈ تھا لیکن عبدالصمد اچکزئی کے پاس گھریلو دستاویزات نہ ہونے کے سبب وہ اپنے بھائی کے ہمراہ غیر قانونی طور پر کوئٹہ میں قیام پذیر تھے۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1189481</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Oct 2022 14:21:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلیم شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/10/111103128ad89a8.jpg?r=123112" type="image/jpeg" medium="image" height="350" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/10/111103128ad89a8.jpg?r=123112"/>
        <media:title>عبدالصمد اچکزئی نے قندھار کے ضلع پنجوائی میں پولیس کمانڈر اور ڈپٹی کمانڈر کے طور پر ذمہ داریاں سرانجام دی تھیں — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
