<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 17 Apr 2026 21:25:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 17 Apr 2026 21:25:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران: سیکیورٹی فورسز کے مبینہ تشدد سے ہلاک لڑکی کی ماں کی خودکشی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1189507/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایرانی  سیکیورٹی فورسز کے مبینہ تشد سے نوجوان لڑکی کی ہلاکت پر اس کی والدہ نے خود کشی کرلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی نشریاتی ادارے ’عرب نیوز‘ نے میٹرو کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.arabnews.com/node/2178686/middle-east"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ سماجی کارکنوں کے مطابق 16 سالہ یوٹیوبر سرینہ اسمٰعیل زادہ  گزشتہ ماہ کاراج میں احتجاج کے دوران لاٹھیوں سے کیے گئے  حملے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/womenncri/status/1578664802658000898"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے کرد علاقے سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ مہسا امینی کی 16 ستمبر کو ہوئی موت کے بعد سے ایران بھر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، جو 1979 کے انقلاب کے بعد سے اس کے لیے سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک ہے، ہلاکت کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 185 ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1189482"&gt;ایران: مہسا امینی کی ہلاکت پر مظاہرے جاری، سیکیورٹی فورسز سے پُرتشدد جھڑپیں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے میٹرو مطابق مظاہروں کے دوران مرنے والے بچوں کے والدین کو ایرانی حکام کی جانب سے میتیں حوالے کرنے کے سلسلے میں اکثر سخت ضابطوں کے باعث سخت اذیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’میٹرو‘ کے مطابق اہل خانہ نے لڑکی کو  10 روز تک تلاش کرتے رہے جس کے بعد حکام کی جانب سے اس کی لاش لواحقین کے حوالے  کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرینہ اسماعیل زادہ کے یوٹیوب چینل میں ان کی بغیر حجاب پہنے، مرد کے ساتھ رقص اور خواتین کے حقوق پر گفتگو سے متعلق ویڈیوز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/DUALIPA/status/1578759035134017536"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیٹی کی لاش کے حصول کی کوشش کے دوران سیکورٹی فورسز نے اس کی ماں کا مذاق اڑایا اور کہا کہ اس کی بیٹی بد کردار اور دہشت گرد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1189214"&gt;مہسا امینی کی موت پر مظاہرے، ایران کی یونیورسٹیز میں سیکیورٹی فورسز تعینات&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سیرینہ اسمٰعیل زادہ کی شدید تشدد زدہ لاش دیکھنے کے بعد اس کی والدہ نے خود کو پھندا لگا کر خود کشی کرلی ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکاروں نے نوجوان لڑکی کے خاندان کے افراد کو خاموش کرانے کے لیے ان پر ظلم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کی حراست میں ایک خاتون کی موت سے پیدا ہونے والی بدامنی پر قابو پانے کی کوششیں بڑھاتے ہوئے ایرانی سیکیورٹی فورسز نے کئی کرد شہروں میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا جو کہ سوشل میڈیا پوسٹس اور ویڈیوز سے بھی ظاہر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی کے مطابق مہسا امینی کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں اور انہیں خبردار کیا گیا ہے کہ وہ مظاہروں میں شامل نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1188230"&gt;ایران میں ’اخلاقی پولیس‘ کی زیر حراست خاتون کی موت پر مظاہرے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عراق کے کردستان کے علاقے میں ان کے کزن عرفان مرتزئی نے کہا کہ ’ہمارے خاندان پر ایرانی کے حکام کی جانب سے بہت زیادہ دباؤ ہے، اس لیے ہم ایران سے باہر انسانی حقوق کی تنظیموں یا چینلز سے بات نہیں کرتے اور نہ ہی بیرونی دنیا میں کسی کو ان کے انتقال کے بارے میں مطلع کرتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان کے افراد کو ملنے والی دھمکیوں نے ان کی حفاظت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے ’وہ ایران کے تشدد کی زد میں ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کے عہدیداروں نے ہمیں انسٹاگرام کے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے دھمکیاں دیں اور ایران میں اہل خانہ سے کہا ہے کہ اگر وہ احتجاج میں شامل ہوئے تو انہیں قتل کیا جا سکتا ہے،خود مجھے فون پر بہت سی دھمکیاں مل رہی ہیں کہ اگر وہ مجھے شہر میں دیکھیں گے تو اغوا کر کے قتل کر دیں گے’۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایرانی  سیکیورٹی فورسز کے مبینہ تشد سے نوجوان لڑکی کی ہلاکت پر اس کی والدہ نے خود کشی کرلی۔</p>
<p>غیر ملکی نشریاتی ادارے ’عرب نیوز‘ نے میٹرو کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.arabnews.com/node/2178686/middle-east">رپورٹ</a></strong> کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ سماجی کارکنوں کے مطابق 16 سالہ یوٹیوبر سرینہ اسمٰعیل زادہ  گزشتہ ماہ کاراج میں احتجاج کے دوران لاٹھیوں سے کیے گئے  حملے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/womenncri/status/1578664802658000898"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ایران کے کرد علاقے سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ مہسا امینی کی 16 ستمبر کو ہوئی موت کے بعد سے ایران بھر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، جو 1979 کے انقلاب کے بعد سے اس کے لیے سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک ہے، ہلاکت کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 185 ہو چکی ہے۔</p>
<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1189482">ایران: مہسا امینی کی ہلاکت پر مظاہرے جاری، سیکیورٹی فورسز سے پُرتشدد جھڑپیں</a></strong></p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے میٹرو مطابق مظاہروں کے دوران مرنے والے بچوں کے والدین کو ایرانی حکام کی جانب سے میتیں حوالے کرنے کے سلسلے میں اکثر سخت ضابطوں کے باعث سخت اذیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔</p>
<p>’میٹرو‘ کے مطابق اہل خانہ نے لڑکی کو  10 روز تک تلاش کرتے رہے جس کے بعد حکام کی جانب سے اس کی لاش لواحقین کے حوالے  کی گئی۔</p>
<p>سرینہ اسماعیل زادہ کے یوٹیوب چینل میں ان کی بغیر حجاب پہنے، مرد کے ساتھ رقص اور خواتین کے حقوق پر گفتگو سے متعلق ویڈیوز شامل ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/DUALIPA/status/1578759035134017536"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>بیٹی کی لاش کے حصول کی کوشش کے دوران سیکورٹی فورسز نے اس کی ماں کا مذاق اڑایا اور کہا کہ اس کی بیٹی بد کردار اور دہشت گرد تھی۔</p>
<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1189214">مہسا امینی کی موت پر مظاہرے، ایران کی یونیورسٹیز میں سیکیورٹی فورسز تعینات</a></strong></p>
<p>مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سیرینہ اسمٰعیل زادہ کی شدید تشدد زدہ لاش دیکھنے کے بعد اس کی والدہ نے خود کو پھندا لگا کر خود کشی کرلی ۔</p>
<p>ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکاروں نے نوجوان لڑکی کے خاندان کے افراد کو خاموش کرانے کے لیے ان پر ظلم کیا۔</p>
<p>پولیس کی حراست میں ایک خاتون کی موت سے پیدا ہونے والی بدامنی پر قابو پانے کی کوششیں بڑھاتے ہوئے ایرانی سیکیورٹی فورسز نے کئی کرد شہروں میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا جو کہ سوشل میڈیا پوسٹس اور ویڈیوز سے بھی ظاہر ہے۔</p>
<p>بی بی سی کے مطابق مہسا امینی کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں اور انہیں خبردار کیا گیا ہے کہ وہ مظاہروں میں شامل نہ ہوں۔</p>
<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1188230">ایران میں ’اخلاقی پولیس‘ کی زیر حراست خاتون کی موت پر مظاہرے</a></strong></p>
<p>عراق کے کردستان کے علاقے میں ان کے کزن عرفان مرتزئی نے کہا کہ ’ہمارے خاندان پر ایرانی کے حکام کی جانب سے بہت زیادہ دباؤ ہے، اس لیے ہم ایران سے باہر انسانی حقوق کی تنظیموں یا چینلز سے بات نہیں کرتے اور نہ ہی بیرونی دنیا میں کسی کو ان کے انتقال کے بارے میں مطلع کرتے ہیں‘۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان کے افراد کو ملنے والی دھمکیوں نے ان کی حفاظت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے ’وہ ایران کے تشدد کی زد میں ہیں‘۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کے عہدیداروں نے ہمیں انسٹاگرام کے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے دھمکیاں دیں اور ایران میں اہل خانہ سے کہا ہے کہ اگر وہ احتجاج میں شامل ہوئے تو انہیں قتل کیا جا سکتا ہے،خود مجھے فون پر بہت سی دھمکیاں مل رہی ہیں کہ اگر وہ مجھے شہر میں دیکھیں گے تو اغوا کر کے قتل کر دیں گے’۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1189507</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Oct 2022 17:02:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/10/11163628ab1dc93.jpg?r=164216" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/10/11163628ab1dc93.jpg?r=164216"/>
        <media:title>فوٹو:عرب نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
