<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 11:09:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 11:09:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روس سے قریبی تعلقات کے الزام میں جرمنی کے سائبر سیکیورٹی چیف برطرف
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1189950/</link>
      <description>&lt;p&gt;جرمنی کے سائبر سیکیورٹی چیف آرنے شوئن بوہم کو روس سے قریبی تعلقات کے الزام میں عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق جرمن وزیر داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ وفاقی انفارمیشن سیکیورٹی ایجنسی (بی ایس آئی) کے صدر آرنے شوئن بوہم کو فوری طور پر کام کرنے سے روک دیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ متعدد میڈیا اداروں نے گزشتہ ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ سائبر سیکیورٹی چیف نے جرمنی کی سائبر سیکیورٹی کونسل کے ذریعے روس کی سیکیورٹی سروسز سے وابستہ لوگوں کے ساتھ رابطے میں تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آرنے شوئن بوہم ایسوسی ایشن کے بانی تھے، جنہیں جرمنی کی کمپنی کے رکن کے طور پر شمار کیا جاتا ہے، اس کمپنی کو کے جی بی کے سابق ملازم نے قائم کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1189326"&gt;جرمنی کا سیلاب متاثرین کیلئے ایک کروڑ یورو کی امداد کا اعلان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایسوسی ایشن نے ایسے کسی بھی مضحکہ خیز تعلق کو مسترد کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جرمنی کی سائبر سیکیورٹی کونسل 2012 میں قائم کی گئی تھی، جو کمپنیوں، سیاست دانوں اور حکام کو سائبر سیکیورٹی کے معاملے پر مشورے دیتی ہے اور خود کو سیاسی طور پر غیرجانب دار قرار دیتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آرنے شوئن بوہم کی برطرفی کو سب سے پہلے ڈیر اسپیگل نے رپورٹ کیا تھا، انہوں نے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر ردعمل نہیں دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزارت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس کا پس منظر صرف الزامات نہیں ہیں، جن کا ہم جانتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر میڈیا میں تبادلہ خیال کیا جارہا ہے، اس سے مستقل بنیادوں پر جرمنی کے سب سے اہم سائبر سیکیورٹی اتھارٹی کے صدر کی غیرجانب داری اور دفتر کے ضابطے کے حوالے سے عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جرمنی کے سائبر سیکیورٹی چیف آرنے شوئن بوہم کو روس سے قریبی تعلقات کے الزام میں عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔</p>

<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق جرمن وزیر داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ وفاقی انفارمیشن سیکیورٹی ایجنسی (بی ایس آئی) کے صدر آرنے شوئن بوہم کو فوری طور پر کام کرنے سے روک دیا گیا۔</p>

<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ متعدد میڈیا اداروں نے گزشتہ ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ سائبر سیکیورٹی چیف نے جرمنی کی سائبر سیکیورٹی کونسل کے ذریعے روس کی سیکیورٹی سروسز سے وابستہ لوگوں کے ساتھ رابطے میں تھے۔</p>

<p>آرنے شوئن بوہم ایسوسی ایشن کے بانی تھے، جنہیں جرمنی کی کمپنی کے رکن کے طور پر شمار کیا جاتا ہے، اس کمپنی کو کے جی بی کے سابق ملازم نے قائم کیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1189326">جرمنی کا سیلاب متاثرین کیلئے ایک کروڑ یورو کی امداد کا اعلان</a></strong></p>

<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایسوسی ایشن نے ایسے کسی بھی مضحکہ خیز تعلق کو مسترد کر دیا ہے۔</p>

<p>جرمنی کی سائبر سیکیورٹی کونسل 2012 میں قائم کی گئی تھی، جو کمپنیوں، سیاست دانوں اور حکام کو سائبر سیکیورٹی کے معاملے پر مشورے دیتی ہے اور خود کو سیاسی طور پر غیرجانب دار قرار دیتی ہے۔</p>

<p>آرنے شوئن بوہم کی برطرفی کو سب سے پہلے ڈیر اسپیگل نے رپورٹ کیا تھا، انہوں نے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر ردعمل نہیں دیا۔</p>

<p>وزارت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس کا پس منظر صرف الزامات نہیں ہیں، جن کا ہم جانتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر میڈیا میں تبادلہ خیال کیا جارہا ہے، اس سے مستقل بنیادوں پر جرمنی کے سب سے اہم سائبر سیکیورٹی اتھارٹی کے صدر کی غیرجانب داری اور دفتر کے ضابطے کے حوالے سے عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچ رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1189950</guid>
      <pubDate>Wed, 19 Oct 2022 00:14:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/10/182351536a0c600.png?r=235210" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/10/182351536a0c600.png?r=235210"/>
        <media:title>— فوٹو: الجزیرہ / ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
