<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 08:06:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 08:06:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیلاب سے متاثرہ حاملہ خواتین کے لیے سب سے زیادہ کام کون کررہا ہے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1190109/</link>
      <description>&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2022/10/635201525d9a6.jpg'  alt='لکھاری سابق معاون خصوصی برائے صحت، عالمی ادارہ صحت کے مشیر اور شفا تعمیر ملت یونیورسٹٹی میں پروفیسر ہیں   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;لکھاری سابق معاون خصوصی برائے صحت، عالمی ادارہ صحت کے مشیر اور شفا تعمیر ملت یونیورسٹٹی میں پروفیسر ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کمزور افراد کو ہنگامی حالات میں مؤثر اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی بھی آفت میں خواتین اور بچوں کو پہلے بچایا جاتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ یا بلوچستان کے کسی گاؤں سے تعلق رکھنے والی ایک حاملہ خاتون کا تصور کریں جو کمزوری کی وجہ سے زرد پڑ چکی ہے اور اکثر جب وہ اٹھتی ہے تو خون میں ہیموگلوبن کی کمی کے باعث اسے چکر محسوس ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عورت کا گھر سامان سمیت سیلاب میں بہہ چکا ہے۔ مویشی، فصلیں اور بیج بھی سیلاب کی نذر ہوگئے ہیں اور آمدنی کا کوئی ممکنہ ذریعہ نہیں ہے۔ وہ ایک خیمے میں محسور ہے (یہ بھی ایک نعمت ہے) اور اپنے 3 چھوٹے بچوں کے لیے فکرمند ہے جن میں سے ایک بہت بیمار ہے، اس کا خاوند بھی پریشان حال ہے۔ وہ خوراک کے حصول، موسمِ سرما کے قریب آنے اور اپنے خاندان کے مستقبل کے حوالے سے فکر مند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خاتون سیلاب سے متاثر ہونے والی 6 لاکھ 50 ہزار حاملہ خواتین میں سے ایک ہے۔ یہ ان 1 لاکھ 28 ہزار حاملہ خواتین میں شامل ہیں جنہیں فوری طور پر مدد کی ضرورت ہے کیونکہ ان میں سے 42 ہزار خواتین اگلے 3 ماہ میں زچگی کے عمل سے گزرنے والی ہیں۔ یہ اعداد و شمار، 2 ستمبر کو یونائٹڈ نیشن پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی اے) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر نتالیہ کینم کی جانب سے جاری کردہ بیان سے لیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیے: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1187321/"&gt;پانی سے گھرے ٹیلوں پر بیٹھی حاملہ عورتیں!&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حاملہ خواتین کی ممکنہ تعداد جاننے کے لیے ایک سادہ شماریاتی فارمولہ موجود ہے جس سے پیدا ہونے والے بچوں کی ممکنہ تعداد کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ عموماً 15 فیصد حمل میں رسک بہت زیادہ ہوتا ہے جنہیں خصوصی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سینٹر اب ہر ضلع کے لحاظ سے زچہ کی صحت کے حوالے سے اشاریے فراہم کررہا ہے۔ لیکن یہ تخمینہ ہی ہوتا ہے کیونکہ پاکستان میں صحت کے ڈیجیٹل نظام کی عدم موجودگی کے باعث، ہمارے پاس درست اور تازہ اعداد و شمار نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا پھیلاؤ، جلد کے امراض، دیگر نئی اور موجودہ بیماریوں کے ساتھ ساتھ ’ہیضے میں تشویشناک اضافے‘ ہورہا ہے اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق ’صحتِ عامہ تباہی کے دہانے پر ہے‘۔ اسے دیکھتے ہوئے امکان یہی ہے کہ صحتِ عامہ کی ہنگامی صورتحال کو حاملہ خواتین کی ضروریات پر ترجیح دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب آخری دفعہ میں نے سکھر اور ڈیرہ جمالی کے بیچ سفر کیا تھا تو سڑک کے دونوں اطراف پانی کا سمندر تھا اور مختلف قسم کی عارضی پناہ گاہوں میں لوگوں کا ہجوم تھا جو مناسب خیموں کی شکل میں تھی۔ مجھے الخدمت فاؤنڈیشن کی خدمات نے بہت متاثر کیا۔ اسی کے ماتحت کام کرنے والے ایک اور ادارے الخدمت ہیلتھ فاؤنڈیشن (اے ایچ ایف) نے وہاں اپنے مستقل اور عارضی میڈیکل کیمپ لگائے ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد واپسی کے بعد میں نے الخدمت ہیلتھ فاؤنڈیشن کے چیئرمین، ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن (جن سے میں پہلے کبھی نہیں ملا) سے رجوع کیا اور سیلاب متاثرہ علاقوں میں موجود حاملہ خواتین کا مسئلہ اٹھایا اور ساتھ ہی ان حاملہ خواتین جنہیں دیکھ بھال کی ضرورت ہے، ان کے لیے خصوصی پروگرام بنانے کی ضرورت کا بھی اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے میرے خیال سے اتفاق کیا اور اگلے 3 دنوں میں ہی پشاور میں ایک میٹنگ بلائی جس میں امراضِ نسواں اور صحتِ عامہ کے ماہرین سر جوڑ کر بیٹھے۔ انہوں نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں موجود حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال کے لیے ایک ایکشن پلان تیار کیا۔ گزشتہ کچھ ہفتوں سے اس پر بھرپور انداز میں عمل درآمد کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیے: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1187161/"&gt;سیلاب متاثرین کے لیے فلاحی ادارے کیا کررہے ہیں اور انہیں کن چیزوں کی ضرورت ہے؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ایکشن پلان کے نمایاں نکات میں سندھ کے 7 اور بلوچستان کے 3 اضلاع (ابتدائی طور پر) میں موجود حاملہ خواتین کی شناخت اور اندراج، ان کے حمل کے مرحلے کا تعین اور پیدائش سے قبل ڈبلیو ایچ او کی سفارشات کے مطابق طبّی معائنے کو یقینی بنانا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح آئرن اور فولک ایسڈ کی فراہمی، بنائے گئے مراکز میں زچگی کا انتظام، ہائی رسک حمل کے حوالے سے خصوصی منصوبہ بندی، آپریشن کی ضرورت پیش آنے کی صورت میں قریبی شہروں میں واقع سرکاری یا نجی اسپتالوں کا انتظام کرنا، پیدائش کے دوران دیکھ بھال اور حمل اور پیدائش کے مختلف مراحل کے دوران استعمال ہونے والی اشیا کی فراہمی کو یقینی بنانا بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی متاثرکن رفتار کے ساتھ کام کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں موجود الخدمت ہیلتھ فاؤنڈیشن کی ٹیم یہ خصوصی پروگرام مکمل طور پر فعال کرچکی ہے جبکہ یہ پروگرام اب ان کے صحتِ عامہ کی سرگرمیوں کا حصہ بن چکا ہے۔ دانشمندانہ طور پر اس حوالے سے ایک مشاورتی بورڈ کا قیام بھی عمل میں آیا ہے جہاں ہر 15 روز بعد اس کا جائزہ اور ضابطہ اخلاق طے کیے جاتے ہیں۔ چند ترقیاتی اور تعلیمی شراکت دار بھی اب اس کوشش کا حصہ بن چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گفتگو کے آغاز میں، متحدہ عرب امارات میں مقیم ایک ماہرِ امراض نسواں اور اس منصوبے کے مشاورتی بورڈ میں شامل ڈاکٹر سعدیہ ملک نے ایک اہم مسئلہ اٹھایا۔ پوسٹ مارٹم ہیموریج (پی پی ایچ) پاکستان میں زچگی کے دوران ہونے والی اموات کا سب سے بڑا سبب ہے۔ پاکستان میں پی پی ایچ کو روکنے کے لیے استعمال ہونے والا ہیٹ اسٹیبل کاربیٹوسن دستیاب نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی پی ایچ کو روکنے کے لیے سب سے مؤثر دوا اوکسیٹوسن انجیکشن ہیں جنہیں 2 ڈگری سے 8 ڈگری سیلسیس کے درمیان رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر اسے درجہ حرارت میں نہ رکھا جائے تو وہ اپنا اثر کھو دیتا ہے۔ اوکسیٹوسن کے مقابلے میں کاربیٹوسن کے انجیکشن کو ٹھنڈا رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ 30 ڈگری کے درجہ حرارت پر 3 سال تک مؤثر رہتا ہے۔ دیگر ترقی پزیر ممالک کی طرح پاکستان میں اوکسیٹوسن کو اس کے مطلوبہ درجہ حرارت پر نہیں رکھا جاتا جس وجہ سے وہ پی پی ایچ کنٹرول نہیں کر پاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیے: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1187517/"&gt;سیلاب زدہ عورتوں کی گونگی، بہری، اندھی اور غریب ماہواری!&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاربیٹوسن بھی نسبتاً دیرپا اور آکسیٹوسن سے زیادہ مؤثر ہے۔ یہ دوائی 30 سے زائد ممالک میں دستیاب ہے لیکن پاکستان میں نہیں کیونکہ کسی نے بھی آج تک ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کو دوائی کی مارکیٹ آتھرائزیشن کے لیے درخواست نہیں دی۔ اب جبکہ یہ مسئلہ الخدمت ہیلتھ فاؤنڈیشن کے اس منصوبے کے تناظر میں اٹھا ہے تو پاکستان میں اس دوا کی دستیابی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں اور امید ہے کہ جلد ہی یہ دستیاب ہوگی کیونکہ ڈریپ کی جانب سے این او سی ملنے کے بعد سوئٹزرلینڈ میں موجود کمپنی سے یہ دوا بطور عطیہ حاصل کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الخدمت ہیلتھ فاؤنڈیشن کی جانب سے شروع کیے گئے اس منصوبے کے آغاز سے اب تک 910 حاملہ خواتین کی شناخت اور اندراج عمل میں آچکا ہے۔ ان خواتین کا خیال رکھا جارہا ہے اور محفوظ زچگی اور نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال میں ان کی مدد کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پروگرام کے تحت اب تک 8 محفوظ زچگیاں عمل میں آچکی ہیں۔ سننے میں شاید یہ تعداد کم لگ رہی ہوں لیکن اس مقصد کے لیے کام کرنے والی ٹیم اب اس منصوبے کو قومی تحریک کی شکل دینا چاہتی ہے تاکہ اس ہنگامی صورتحال کے علاوہ بھی محفوظ حمل اور زچگی کو خاص طور پر غریب اور کمزور افراد کے لیے یقینی بنایا جاسکے، جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شکریہ، الخدمت ہیلتھ فاؤنڈیشن۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1716135/pregnant-in-the-flood"&gt;مضمون&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; 21 اکتوبر 2022ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2022/10/635201525d9a6.jpg'  alt='لکھاری سابق معاون خصوصی برائے صحت، عالمی ادارہ صحت کے مشیر اور شفا تعمیر ملت یونیورسٹٹی میں پروفیسر ہیں   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>لکھاری سابق معاون خصوصی برائے صحت، عالمی ادارہ صحت کے مشیر اور شفا تعمیر ملت یونیورسٹٹی میں پروفیسر ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p><strong>کمزور افراد کو ہنگامی حالات میں مؤثر اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی بھی آفت میں خواتین اور بچوں کو پہلے بچایا جاتا ہے۔</strong></p>
<p>سندھ یا بلوچستان کے کسی گاؤں سے تعلق رکھنے والی ایک حاملہ خاتون کا تصور کریں جو کمزوری کی وجہ سے زرد پڑ چکی ہے اور اکثر جب وہ اٹھتی ہے تو خون میں ہیموگلوبن کی کمی کے باعث اسے چکر محسوس ہوتے ہیں۔</p>
<p>اس عورت کا گھر سامان سمیت سیلاب میں بہہ چکا ہے۔ مویشی، فصلیں اور بیج بھی سیلاب کی نذر ہوگئے ہیں اور آمدنی کا کوئی ممکنہ ذریعہ نہیں ہے۔ وہ ایک خیمے میں محسور ہے (یہ بھی ایک نعمت ہے) اور اپنے 3 چھوٹے بچوں کے لیے فکرمند ہے جن میں سے ایک بہت بیمار ہے، اس کا خاوند بھی پریشان حال ہے۔ وہ خوراک کے حصول، موسمِ سرما کے قریب آنے اور اپنے خاندان کے مستقبل کے حوالے سے فکر مند ہے۔</p>
<p>یہ خاتون سیلاب سے متاثر ہونے والی 6 لاکھ 50 ہزار حاملہ خواتین میں سے ایک ہے۔ یہ ان 1 لاکھ 28 ہزار حاملہ خواتین میں شامل ہیں جنہیں فوری طور پر مدد کی ضرورت ہے کیونکہ ان میں سے 42 ہزار خواتین اگلے 3 ماہ میں زچگی کے عمل سے گزرنے والی ہیں۔ یہ اعداد و شمار، 2 ستمبر کو یونائٹڈ نیشن پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی اے) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر نتالیہ کینم کی جانب سے جاری کردہ بیان سے لیے گئے ہیں۔</p>
<p><strong>مزید پڑھیے: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1187321/">پانی سے گھرے ٹیلوں پر بیٹھی حاملہ عورتیں!</a></strong></p>
<p>حاملہ خواتین کی ممکنہ تعداد جاننے کے لیے ایک سادہ شماریاتی فارمولہ موجود ہے جس سے پیدا ہونے والے بچوں کی ممکنہ تعداد کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ عموماً 15 فیصد حمل میں رسک بہت زیادہ ہوتا ہے جنہیں خصوصی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سینٹر اب ہر ضلع کے لحاظ سے زچہ کی صحت کے حوالے سے اشاریے فراہم کررہا ہے۔ لیکن یہ تخمینہ ہی ہوتا ہے کیونکہ پاکستان میں صحت کے ڈیجیٹل نظام کی عدم موجودگی کے باعث، ہمارے پاس درست اور تازہ اعداد و شمار نہیں ہیں۔</p>
<p>پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا پھیلاؤ، جلد کے امراض، دیگر نئی اور موجودہ بیماریوں کے ساتھ ساتھ ’ہیضے میں تشویشناک اضافے‘ ہورہا ہے اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق ’صحتِ عامہ تباہی کے دہانے پر ہے‘۔ اسے دیکھتے ہوئے امکان یہی ہے کہ صحتِ عامہ کی ہنگامی صورتحال کو حاملہ خواتین کی ضروریات پر ترجیح دی جائے گی۔</p>
<p>جب آخری دفعہ میں نے سکھر اور ڈیرہ جمالی کے بیچ سفر کیا تھا تو سڑک کے دونوں اطراف پانی کا سمندر تھا اور مختلف قسم کی عارضی پناہ گاہوں میں لوگوں کا ہجوم تھا جو مناسب خیموں کی شکل میں تھی۔ مجھے الخدمت فاؤنڈیشن کی خدمات نے بہت متاثر کیا۔ اسی کے ماتحت کام کرنے والے ایک اور ادارے الخدمت ہیلتھ فاؤنڈیشن (اے ایچ ایف) نے وہاں اپنے مستقل اور عارضی میڈیکل کیمپ لگائے ہوئے تھے۔</p>
<p>اسلام آباد واپسی کے بعد میں نے الخدمت ہیلتھ فاؤنڈیشن کے چیئرمین، ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن (جن سے میں پہلے کبھی نہیں ملا) سے رجوع کیا اور سیلاب متاثرہ علاقوں میں موجود حاملہ خواتین کا مسئلہ اٹھایا اور ساتھ ہی ان حاملہ خواتین جنہیں دیکھ بھال کی ضرورت ہے، ان کے لیے خصوصی پروگرام بنانے کی ضرورت کا بھی اظہار کیا۔</p>
<p>انہوں نے میرے خیال سے اتفاق کیا اور اگلے 3 دنوں میں ہی پشاور میں ایک میٹنگ بلائی جس میں امراضِ نسواں اور صحتِ عامہ کے ماہرین سر جوڑ کر بیٹھے۔ انہوں نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں موجود حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال کے لیے ایک ایکشن پلان تیار کیا۔ گزشتہ کچھ ہفتوں سے اس پر بھرپور انداز میں عمل درآمد کیا جارہا ہے۔</p>
<p><strong>مزید پڑھیے: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1187161/">سیلاب متاثرین کے لیے فلاحی ادارے کیا کررہے ہیں اور انہیں کن چیزوں کی ضرورت ہے؟</a></strong></p>
<p>اس ایکشن پلان کے نمایاں نکات میں سندھ کے 7 اور بلوچستان کے 3 اضلاع (ابتدائی طور پر) میں موجود حاملہ خواتین کی شناخت اور اندراج، ان کے حمل کے مرحلے کا تعین اور پیدائش سے قبل ڈبلیو ایچ او کی سفارشات کے مطابق طبّی معائنے کو یقینی بنانا شامل ہے۔</p>
<p>اسی طرح آئرن اور فولک ایسڈ کی فراہمی، بنائے گئے مراکز میں زچگی کا انتظام، ہائی رسک حمل کے حوالے سے خصوصی منصوبہ بندی، آپریشن کی ضرورت پیش آنے کی صورت میں قریبی شہروں میں واقع سرکاری یا نجی اسپتالوں کا انتظام کرنا، پیدائش کے دوران دیکھ بھال اور حمل اور پیدائش کے مختلف مراحل کے دوران استعمال ہونے والی اشیا کی فراہمی کو یقینی بنانا بھی شامل ہیں۔</p>
<p>اپنی متاثرکن رفتار کے ساتھ کام کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں موجود الخدمت ہیلتھ فاؤنڈیشن کی ٹیم یہ خصوصی پروگرام مکمل طور پر فعال کرچکی ہے جبکہ یہ پروگرام اب ان کے صحتِ عامہ کی سرگرمیوں کا حصہ بن چکا ہے۔ دانشمندانہ طور پر اس حوالے سے ایک مشاورتی بورڈ کا قیام بھی عمل میں آیا ہے جہاں ہر 15 روز بعد اس کا جائزہ اور ضابطہ اخلاق طے کیے جاتے ہیں۔ چند ترقیاتی اور تعلیمی شراکت دار بھی اب اس کوشش کا حصہ بن چکے ہیں۔</p>
<p>گفتگو کے آغاز میں، متحدہ عرب امارات میں مقیم ایک ماہرِ امراض نسواں اور اس منصوبے کے مشاورتی بورڈ میں شامل ڈاکٹر سعدیہ ملک نے ایک اہم مسئلہ اٹھایا۔ پوسٹ مارٹم ہیموریج (پی پی ایچ) پاکستان میں زچگی کے دوران ہونے والی اموات کا سب سے بڑا سبب ہے۔ پاکستان میں پی پی ایچ کو روکنے کے لیے استعمال ہونے والا ہیٹ اسٹیبل کاربیٹوسن دستیاب نہیں ہے۔</p>
<p>پی پی ایچ کو روکنے کے لیے سب سے مؤثر دوا اوکسیٹوسن انجیکشن ہیں جنہیں 2 ڈگری سے 8 ڈگری سیلسیس کے درمیان رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر اسے درجہ حرارت میں نہ رکھا جائے تو وہ اپنا اثر کھو دیتا ہے۔ اوکسیٹوسن کے مقابلے میں کاربیٹوسن کے انجیکشن کو ٹھنڈا رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ 30 ڈگری کے درجہ حرارت پر 3 سال تک مؤثر رہتا ہے۔ دیگر ترقی پزیر ممالک کی طرح پاکستان میں اوکسیٹوسن کو اس کے مطلوبہ درجہ حرارت پر نہیں رکھا جاتا جس وجہ سے وہ پی پی ایچ کنٹرول نہیں کر پاتا۔</p>
<p><strong>مزید پڑھیے: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1187517/">سیلاب زدہ عورتوں کی گونگی، بہری، اندھی اور غریب ماہواری!</a></strong></p>
<p>کاربیٹوسن بھی نسبتاً دیرپا اور آکسیٹوسن سے زیادہ مؤثر ہے۔ یہ دوائی 30 سے زائد ممالک میں دستیاب ہے لیکن پاکستان میں نہیں کیونکہ کسی نے بھی آج تک ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کو دوائی کی مارکیٹ آتھرائزیشن کے لیے درخواست نہیں دی۔ اب جبکہ یہ مسئلہ الخدمت ہیلتھ فاؤنڈیشن کے اس منصوبے کے تناظر میں اٹھا ہے تو پاکستان میں اس دوا کی دستیابی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں اور امید ہے کہ جلد ہی یہ دستیاب ہوگی کیونکہ ڈریپ کی جانب سے این او سی ملنے کے بعد سوئٹزرلینڈ میں موجود کمپنی سے یہ دوا بطور عطیہ حاصل کی جائے گی۔</p>
<p>الخدمت ہیلتھ فاؤنڈیشن کی جانب سے شروع کیے گئے اس منصوبے کے آغاز سے اب تک 910 حاملہ خواتین کی شناخت اور اندراج عمل میں آچکا ہے۔ ان خواتین کا خیال رکھا جارہا ہے اور محفوظ زچگی اور نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال میں ان کی مدد کی جائے گی۔</p>
<p>اس پروگرام کے تحت اب تک 8 محفوظ زچگیاں عمل میں آچکی ہیں۔ سننے میں شاید یہ تعداد کم لگ رہی ہوں لیکن اس مقصد کے لیے کام کرنے والی ٹیم اب اس منصوبے کو قومی تحریک کی شکل دینا چاہتی ہے تاکہ اس ہنگامی صورتحال کے علاوہ بھی محفوظ حمل اور زچگی کو خاص طور پر غریب اور کمزور افراد کے لیے یقینی بنایا جاسکے، جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔</p>
<p>شکریہ، الخدمت ہیلتھ فاؤنڈیشن۔</p>
<hr />
<p>یہ <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1716135/pregnant-in-the-flood">مضمون</a></strong> 21 اکتوبر 2022ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1190109</guid>
      <pubDate>Sun, 23 Oct 2022 14:33:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ظفر مرزا)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/10/22150527f2f4cb4.jpg?r=150531" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/10/22150527f2f4cb4.jpg?r=150531"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
