<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 22:05:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 22:05:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فلپائن: شدید بارشوں اور سیلاب سے 67 افراد ہلاک
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1190548/</link>
      <description>&lt;p&gt;جنوبی فلپائن میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 67 افراد ہلاک ہوگئے جہاں امدادی کارکن پہاڑی دیہاتوں میں شہریوں کو بچانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق فلپائن کے سول دفاع کے آفس نے بتایا کہ داتو اوڈن سِنسوات ٹاؤن کے گاؤں کسیوئنگ میں رات بھر ہونے والی شدید بارشوں کے باعث سیلاب آنے، چٹان اور درخت گرنے سے 50 افراد ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسی طرح قریبی ٹاؤن داتو بلاہ سِنسوات کے گاؤں میں برفانی تودا گرنے سے مزید 17 افراد ہلاک ہو گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سرکاری اعداد و شمار کے مطابق  11 افراد تاحال لاپتا ہیں اور دیگر 31 زخمی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1185640"&gt;فلپائن: شدید زلزلے سے منقطع ہونے والے شہروں میں امدادی سامان کی ترسیل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق طوفان نلگائے کی وجہ سے ہونے والی شدید بارشوں کے بعد کوٹاباٹو کے قریب 9 ٹاؤن کے زیادہ تر دیہات میں سیلاب آیا، 3 لاکھ آبادی کا جزیرہ منڈاناؤ بھی سیلاب کی وجہ سے زیر آب ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکومت کے سول دفاع کے سربراہ اور ترجمان نگیوب سنارمبو نے بتایا کہ کافی تعداد میں شہریوں کو حیرت ہوئی کہ سیلابی پانی صبح ہونے سے قبل ہی تیزی سے چڑھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نگیوب سنارمبو کا کہنا تھا کہ کشتیوں کی ٹیموں نے متعدد علاقوں میں گھروں کی چھتوں سے شہریوں کو بچایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ فلپائن میں ہر سال تقریباً 20 طوفان آتے ہیں، جس کے سبب سیکڑوں افراد ہلاک ہوتے ہیں تاہم منڈیانو شاذ و نادر ہی متاثر ہوتا ہے، تاہم ملک کے اہم جزیرے لوزون میں آنے والے طوفان کے مقابلے میں یہ زیادہ مہلک ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ریاستی ویدر سروس نے بتایا کہ پیسیفک سے زیادہ تر آنے والے طوفانوں سے لوزون کا طویل پہاڑی سلسلہ دیواروں کی طرح اس سے بچنے میں مدد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مقامی فلم ساز ریمار پابلو نے بتایا کہ وہ یوپی میں مقابلہ حسن کی فلم بنا رہے تھے، جب اچانک آدھی رات کو سیلاب اندر آیا، جس کے سبب اراکین بھاگنے پر مجبور ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1174256/"&gt;فلپائن: طاقتور طوفان ’رائے‘ سے ہلاکتیں 208 ہوگئیں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سڑکوں پر کاریں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ریمار پابلو نے بتایا کہ ہم اندر پھنس گئے تھے، آخر کار پانی سے گزر کر ہم اپنے گھر پہنچے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق متعدد علاقوں سے پانی ختم ہوچکا ہے لیکن تقریباً پورا کوٹاباٹو اب بھی زیرآب ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نگیوب سنارمبو نے بتایا کہ کوٹاباٹو دریا کے اطراف پہاڑوں پر شدید بارشوں کی وجہ سے اگلے چند گھنٹوں میں مزید سیلاب کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صوبائی سول دفاع کے سربراہ نصراللہ امام نے بتایا کہ کوٹاباٹو اور قریبی علاقوں میں پھنسے ہوئے شہریوں کو ریسکیو کرنے کے لیے آرمی تعنیات کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ یہ حیران کن ہے کہ ان علاقوں میں سیلاب آیا ہے، جہاں اس سے قبل کبھی سیلاب نہیں آیا،  نصراللہ امام نے کہا کہ سیلاب چند خاندانوں کو بہا کر لے گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ غریب خطے میں جمعرات کی رات سے شدید بارشیں شروع ہوئیں، یہ علاقہ دہائیوں سے علیحدگی پسندوں کی مسلح بغاوت کے بعد سے مسلم خود حکمرانی میں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;منیلا میں موسمیات کے دفتر نے بتایا کہ موسلادھار بارشیں نلگائے کی وجہ سے ہوئیں، بارشوں کی شدت میں جمعے کی رات اضافہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1174820"&gt;فلپائن میں طوفان ’رائے‘ کی تباہ کاریاں، ہلاکتیں 400 سے تجاوز کر گئیں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سول دفاع کے دفتر نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے 7 ہزار سے زائد افراد کو نکالا جاچکا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے دنیا مزید گرم ہو جائے گی، جس کی وجہ سے طوفانوں کی شدت میں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جنوبی فلپائن میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 67 افراد ہلاک ہوگئے جہاں امدادی کارکن پہاڑی دیہاتوں میں شہریوں کو بچانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔</p>

<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق فلپائن کے سول دفاع کے آفس نے بتایا کہ داتو اوڈن سِنسوات ٹاؤن کے گاؤں کسیوئنگ میں رات بھر ہونے والی شدید بارشوں کے باعث سیلاب آنے، چٹان اور درخت گرنے سے 50 افراد ہلاک ہوئے۔</p>

<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسی طرح قریبی ٹاؤن داتو بلاہ سِنسوات کے گاؤں میں برفانی تودا گرنے سے مزید 17 افراد ہلاک ہو گئے۔</p>

<p>سرکاری اعداد و شمار کے مطابق  11 افراد تاحال لاپتا ہیں اور دیگر 31 زخمی ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1185640">فلپائن: شدید زلزلے سے منقطع ہونے والے شہروں میں امدادی سامان کی ترسیل</a></strong></p>

<p>رپورٹس کے مطابق طوفان نلگائے کی وجہ سے ہونے والی شدید بارشوں کے بعد کوٹاباٹو کے قریب 9 ٹاؤن کے زیادہ تر دیہات میں سیلاب آیا، 3 لاکھ آبادی کا جزیرہ منڈاناؤ بھی سیلاب کی وجہ سے زیر آب ہے۔</p>

<p>حکومت کے سول دفاع کے سربراہ اور ترجمان نگیوب سنارمبو نے بتایا کہ کافی تعداد میں شہریوں کو حیرت ہوئی کہ سیلابی پانی صبح ہونے سے قبل ہی تیزی سے چڑھا۔</p>

<p>نگیوب سنارمبو کا کہنا تھا کہ کشتیوں کی ٹیموں نے متعدد علاقوں میں گھروں کی چھتوں سے شہریوں کو بچایا۔</p>

<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ فلپائن میں ہر سال تقریباً 20 طوفان آتے ہیں، جس کے سبب سیکڑوں افراد ہلاک ہوتے ہیں تاہم منڈیانو شاذ و نادر ہی متاثر ہوتا ہے، تاہم ملک کے اہم جزیرے لوزون میں آنے والے طوفان کے مقابلے میں یہ زیادہ مہلک ہے۔</p>

<p>ریاستی ویدر سروس نے بتایا کہ پیسیفک سے زیادہ تر آنے والے طوفانوں سے لوزون کا طویل پہاڑی سلسلہ دیواروں کی طرح اس سے بچنے میں مدد کرتا ہے۔</p>

<p>مقامی فلم ساز ریمار پابلو نے بتایا کہ وہ یوپی میں مقابلہ حسن کی فلم بنا رہے تھے، جب اچانک آدھی رات کو سیلاب اندر آیا، جس کے سبب اراکین بھاگنے پر مجبور ہوئے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1174256/">فلپائن: طاقتور طوفان ’رائے‘ سے ہلاکتیں 208 ہوگئیں</a></strong></p>

<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سڑکوں پر کاریں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ </p>

<p>ریمار پابلو نے بتایا کہ ہم اندر پھنس گئے تھے، آخر کار پانی سے گزر کر ہم اپنے گھر پہنچے۔</p>

<p>رپورٹ کے مطابق متعدد علاقوں سے پانی ختم ہوچکا ہے لیکن تقریباً پورا کوٹاباٹو اب بھی زیرآب ہے۔</p>

<p>نگیوب سنارمبو نے بتایا کہ کوٹاباٹو دریا کے اطراف پہاڑوں پر شدید بارشوں کی وجہ سے اگلے چند گھنٹوں میں مزید سیلاب کا خدشہ ہے۔</p>

<p>صوبائی سول دفاع کے سربراہ نصراللہ امام نے بتایا کہ کوٹاباٹو اور قریبی علاقوں میں پھنسے ہوئے شہریوں کو ریسکیو کرنے کے لیے آرمی تعنیات کر دی گئی ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ یہ حیران کن ہے کہ ان علاقوں میں سیلاب آیا ہے، جہاں اس سے قبل کبھی سیلاب نہیں آیا،  نصراللہ امام نے کہا کہ سیلاب چند خاندانوں کو بہا کر لے گیا ہے۔</p>

<p>خیال رہے کہ غریب خطے میں جمعرات کی رات سے شدید بارشیں شروع ہوئیں، یہ علاقہ دہائیوں سے علیحدگی پسندوں کی مسلح بغاوت کے بعد سے مسلم خود حکمرانی میں ہے۔</p>

<p>منیلا میں موسمیات کے دفتر نے بتایا کہ موسلادھار بارشیں نلگائے کی وجہ سے ہوئیں، بارشوں کی شدت میں جمعے کی رات اضافہ ہوسکتا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1174820">فلپائن میں طوفان ’رائے‘ کی تباہ کاریاں، ہلاکتیں 400 سے تجاوز کر گئیں</a></strong></p>

<p>سول دفاع کے دفتر نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے 7 ہزار سے زائد افراد کو نکالا جاچکا ہے۔</p>

<p>سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے دنیا مزید گرم ہو جائے گی، جس کی وجہ سے طوفانوں کی شدت میں اضافہ ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1190548</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Oct 2022 23:52:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/10/28231549e99fe8b.png?r=231605" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/10/28231549e99fe8b.png?r=231605"/>
        <media:title>— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/10/28231452fb96fbb.png?r=231605" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/10/28231452fb96fbb.png?r=231605"/>
        <media:title>— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/10/282317011d2b476.png?r=231727" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/10/282317011d2b476.png?r=231727"/>
        <media:title>— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
