<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 21:16:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 21:16:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی ریاست گجرات میں 100سال پرانا پل گرنے سے 60 افراد ہلاک
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1190674/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی ریاست گجرات میں 100 سال پرانا پل گرنے سے 60 افراد ہلاک ہو گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی‘ کے مطابق گجرات کی حکومت کے وزیر برجیش نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن جاری ہے، اب تک 60 افراد ہلاک ہوئے ہیں، 80 سے زیادہ افراد کو بچا لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکام نے بتایا کہ تقریباً 500 افراد جن میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں، وہ  پل پر موجود تھے، جب پل کو سپورٹ کرنے والی کیبلز ٹوٹ گئیں اور ڈھانچہ دریا میں گر گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مقامی میڈیا نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ یہ افراد موربی پل پر بڑے مذہبی تہوار کی رسومات ادا کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے مقامی طبی حکام کے حوالے سے بتایا کہ کم از کم 32 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹرز نے بتایا کہ دریا میں اب بھی 100 سے زائد افراد لاپتا ہیں، ویڈیو میں دیکھایا گیا کہ ڈھانچے کے ساتھ اب بھی افراد موجود ہیں، تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ  پل کو چند مہینوں میں مرمت کرنے کے بعد گزشتہ ہفتے عوام کے لیے کھولا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پُل گرنے کے بعد حکام نے ریسکیو آپریشن شروع کر دیا، غوطہ خور لاپتا افراد کو تلاش کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی آبائی ریاست گجرات کے دورے پر تھے، انہوں نے حادثے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لیے امداد کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے ہدایات جاری کیں کہ صورتحال کو قریب سے اور مسلسل مانیٹر کیا جائے، اور متاثرہ افراد کی ہر ممکن مدد کی جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;    &lt;span&gt;
        &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
            &lt;a href="https://twitter.com/PMOIndia/status/1586719858833723394"&gt;&lt;/a&gt;
        &lt;/blockquote&gt;
    &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی ریاست گجرات میں 100 سال پرانا پل گرنے سے 60 افراد ہلاک ہو گئے۔</p>

<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی‘ کے مطابق گجرات کی حکومت کے وزیر برجیش نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن جاری ہے، اب تک 60 افراد ہلاک ہوئے ہیں، 80 سے زیادہ افراد کو بچا لیا گیا ہے۔</p>

<p>حکام نے بتایا کہ تقریباً 500 افراد جن میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں، وہ  پل پر موجود تھے، جب پل کو سپورٹ کرنے والی کیبلز ٹوٹ گئیں اور ڈھانچہ دریا میں گر گیا۔</p>

<p>مقامی میڈیا نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ یہ افراد موربی پل پر بڑے مذہبی تہوار کی رسومات ادا کر رہے تھے۔</p>

<p>پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے مقامی طبی حکام کے حوالے سے بتایا کہ کم از کم 32 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔</p>

<p>رپورٹرز نے بتایا کہ دریا میں اب بھی 100 سے زائد افراد لاپتا ہیں، ویڈیو میں دیکھایا گیا کہ ڈھانچے کے ساتھ اب بھی افراد موجود ہیں، تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔</p>

<p>رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ  پل کو چند مہینوں میں مرمت کرنے کے بعد گزشتہ ہفتے عوام کے لیے کھولا گیا تھا۔</p>

<p>پُل گرنے کے بعد حکام نے ریسکیو آپریشن شروع کر دیا، غوطہ خور لاپتا افراد کو تلاش کررہے ہیں۔</p>

<p>بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی آبائی ریاست گجرات کے دورے پر تھے، انہوں نے حادثے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لیے امداد کا اعلان کیا ہے۔</p>

<p>انہوں نے ہدایات جاری کیں کہ صورتحال کو قریب سے اور مسلسل مانیٹر کیا جائے، اور متاثرہ افراد کی ہر ممکن مدد کی جائے۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>    <span>
        <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
            <a href="https://twitter.com/PMOIndia/status/1586719858833723394"></a>
        </blockquote>
    </span></div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1190674</guid>
      <pubDate>Mon, 31 Oct 2022 09:56:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/10/30230013d281e81.jpg?r=230836" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/10/30230013d281e81.jpg?r=230836"/>
        <media:title>— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
