<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 20:18:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 20:18:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی ریاست گجرات میں پُل گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہوگئی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1190686/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی ریاست گجرات میں 100 سال پرانا پل گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک مقامی عہدیدار نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین، بچے اور بوڑھے شامل ہیں، موربی قصبے میں واقع اس پل کو ٹھیک ایک ہفتہ قبل مرمت کے بعد دوبارہ عام استعمال کے لیے کھولا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1190674/"&gt;بھارتی ریاست گجرات میں 100سال پرانا پل گرنے سے 60 افراد ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکام نے بتایا کہ واقعہ کے وقت پُل پر دیوالی کے تہوار کا جشن منانے والوں کی بھیڑ تھی، دباؤ بڑھنے سے پُل کو سنبھالنے والی کیبلز ٹوٹ گئیں اور پُل دریا میں گر گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سینیئر عہدیدار این کے مچھر  نے  نے بتایا کہ ’مزید تلاش اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں، ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مسلح افواج کے اہلکاروں سمیت نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور قریبی اضلاع سے آنے والی ہنگامی ٹیمیں لاپتا لوگوں کا پتا لگانے اور امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے مصروف عمل ہیں، حادثے کی تحقیقات کے لیے 5رکنی ٹیم مقرر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1056211"&gt;بھارت میں بس حادثہ، 44 افراد ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ گزشتہ روز  ہلاکتوں کی تعداد 60 بتائی گئی تھی جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق 80 سے زیادہ افراد کو بچا لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی آبائی ریاست گجرات کے دورے پر تھے، انہوں نے حادثے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لیے امداد کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;    &lt;span&gt;
        &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
            &lt;a href="https://twitter.com/PMOIndia/status/1586719858833723394"&gt;&lt;/a&gt;
        &lt;/blockquote&gt;
    &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے ہدایات جاری کیں کہ صورتحال کو قریب سے اور مسلسل مانیٹر کیا جائے، اور متاثرہ افراد کی ہر ممکن مدد کی جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;230 میٹر طویل یہ پل 19ویں صدی میں برطانوی دور حکومت میں بنایا گیا تھا، یہ پُل 6 ماہ تک تزئین و آرائش کے لیے بند رہا اور حال ہی میں اسے دوبارہ عوامی استعمال کے لیے کھول دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی ریاست گجرات میں 100 سال پرانا پل گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہوگئی ہے۔</p>

<p>ایک مقامی عہدیدار نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین، بچے اور بوڑھے شامل ہیں، موربی قصبے میں واقع اس پل کو ٹھیک ایک ہفتہ قبل مرمت کے بعد دوبارہ عام استعمال کے لیے کھولا گیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1190674/">بھارتی ریاست گجرات میں 100سال پرانا پل گرنے سے 60 افراد ہلاک</a></strong></p>

<p>حکام نے بتایا کہ واقعہ کے وقت پُل پر دیوالی کے تہوار کا جشن منانے والوں کی بھیڑ تھی، دباؤ بڑھنے سے پُل کو سنبھالنے والی کیبلز ٹوٹ گئیں اور پُل دریا میں گر گیا۔</p>

<p>سینیئر عہدیدار این کے مچھر  نے  نے بتایا کہ ’مزید تلاش اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں، ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے‘۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ مسلح افواج کے اہلکاروں سمیت نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور قریبی اضلاع سے آنے والی ہنگامی ٹیمیں لاپتا لوگوں کا پتا لگانے اور امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے مصروف عمل ہیں، حادثے کی تحقیقات کے لیے 5رکنی ٹیم مقرر کی گئی ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1056211">بھارت میں بس حادثہ، 44 افراد ہلاک</a></strong></p>

<p>خیال رہے کہ گزشتہ روز  ہلاکتوں کی تعداد 60 بتائی گئی تھی جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق 80 سے زیادہ افراد کو بچا لیا گیا تھا۔</p>

<p>بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی آبائی ریاست گجرات کے دورے پر تھے، انہوں نے حادثے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لیے امداد کا اعلان کیا تھا۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>    <span>
        <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
            <a href="https://twitter.com/PMOIndia/status/1586719858833723394"></a>
        </blockquote>
    </span></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>انہوں نے ہدایات جاری کیں کہ صورتحال کو قریب سے اور مسلسل مانیٹر کیا جائے، اور متاثرہ افراد کی ہر ممکن مدد کی جائے۔</p>

<p>230 میٹر طویل یہ پل 19ویں صدی میں برطانوی دور حکومت میں بنایا گیا تھا، یہ پُل 6 ماہ تک تزئین و آرائش کے لیے بند رہا اور حال ہی میں اسے دوبارہ عوامی استعمال کے لیے کھول دیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1190686</guid>
      <pubDate>Mon, 31 Oct 2022 09:57:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/10/635f54cf0eb2e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/10/635f54cf0eb2e.jpg"/>
        <media:title>حکام نے بتایا کہ واقعہ کے وقت پُل پر دیوالی کے تہوار کا جشن منانے والوں کی بھیڑ تھی—فوٹو : اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
