<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 06:34:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 06:34:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ارشد شریف کی والدہ کا بیٹے کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کیلئے عدالت سے رجوع
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1191174/</link>
      <description>&lt;p&gt;کینیا میں قتل کیے جانے والے صحافی و اینکر پرسن ارشد شریف کی والدہ نے بیٹے کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے حصول کےلیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1719048/arshad-sharifs-family-moves-court-for-autopsy-report"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق مرحوم ارشد شریف کی والدہ رفعت آرا علوی کی جانب سے دائر درخواست میں صدر، سیکرٹری وزارت داخلہ اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کو فریق بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1190910"&gt;ارشد شریف کی والدہ کی سپریم کورٹ سے اعلیٰ سطح کا جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی استدعا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست میں ارشد شرف کی والدہ کاکہنا ہے کہ ان کے بیٹے کی لاش 25 اکتوبر کو کینیا سے پاکستان پہنچی تھی اور اہل خانہ کی درخواست پر 26 اکتوبر کو لاش کا پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ ارشد شریف کی لاش کا پوسٹ مارٹم مبینہ طور پر کینیا میں بھی کیا جا چکا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست کے مطابق لواحقین کے نمائندہ کرنل عثمان پوسٹ مارٹم رپورٹ لینے کے لیے 3 نومبر کو پمزہسپتال اسلام آباد پہنچے تھے تاہم انہیں بتایا گیا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس کے حوالے کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں پولیس نے پوسٹ مارٹم رپورٹ کے حوالے سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور کرنل عثمان کو پمز ہسپتال جانے کا کہا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1190683"&gt;ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات میں پیش رفت، 2 گواہان کے بیانات قلمبند&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست میں کہا گیا کہ درخواست گزار چاہتے ہیں کہ ارشد شریف کے حوالے سے تحقیقات شفاف ہوں اور اس میں کرنل عثمان  کو بھی براہ راست شامل کیا جائے اور پیشرفت سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت فریقین کو حکم دے کہ مرحوم کی پوسٹ مارٹم رپورٹ لواحقین کے حوالے کی جائے اور اہل خانہ کی رضامندی کے بغیر رپورٹ کو منظر عام پر نہ لایا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ارشد شریف کی والدہ کے وکیل نے 4 نومبر کو درخواست کی سماعت کی استدعا بھی کی تاہم عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کیس فوری طور پر قابل سماعت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کینیا میں قتل کیے جانے والے صحافی و اینکر پرسن ارشد شریف کی والدہ نے بیٹے کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے حصول کےلیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔</p>

<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1719048/arshad-sharifs-family-moves-court-for-autopsy-report">رپورٹ</a></strong> کے مطابق مرحوم ارشد شریف کی والدہ رفعت آرا علوی کی جانب سے دائر درخواست میں صدر، سیکرٹری وزارت داخلہ اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کو فریق بنایا گیا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1190910">ارشد شریف کی والدہ کی سپریم کورٹ سے اعلیٰ سطح کا جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی استدعا</a></strong></p>

<p>درخواست میں ارشد شرف کی والدہ کاکہنا ہے کہ ان کے بیٹے کی لاش 25 اکتوبر کو کینیا سے پاکستان پہنچی تھی اور اہل خانہ کی درخواست پر 26 اکتوبر کو لاش کا پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا۔</p>

<p>خیال رہے کہ ارشد شریف کی لاش کا پوسٹ مارٹم مبینہ طور پر کینیا میں بھی کیا جا چکا تھا۔</p>

<p>درخواست کے مطابق لواحقین کے نمائندہ کرنل عثمان پوسٹ مارٹم رپورٹ لینے کے لیے 3 نومبر کو پمزہسپتال اسلام آباد پہنچے تھے تاہم انہیں بتایا گیا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس کے حوالے کر دی گئی ہے۔</p>

<p>بعد ازاں پولیس نے پوسٹ مارٹم رپورٹ کے حوالے سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور کرنل عثمان کو پمز ہسپتال جانے کا کہا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1190683">ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات میں پیش رفت، 2 گواہان کے بیانات قلمبند</a></strong></p>

<p>درخواست میں کہا گیا کہ درخواست گزار چاہتے ہیں کہ ارشد شریف کے حوالے سے تحقیقات شفاف ہوں اور اس میں کرنل عثمان  کو بھی براہ راست شامل کیا جائے اور پیشرفت سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ کیا جائے۔</p>

<p>درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت فریقین کو حکم دے کہ مرحوم کی پوسٹ مارٹم رپورٹ لواحقین کے حوالے کی جائے اور اہل خانہ کی رضامندی کے بغیر رپورٹ کو منظر عام پر نہ لایا جائے۔</p>

<p>ارشد شریف کی والدہ کے وکیل نے 4 نومبر کو درخواست کی سماعت کی استدعا بھی کی تاہم عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کیس فوری طور پر قابل سماعت نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1191174</guid>
      <pubDate>Sat, 05 Nov 2022 08:45:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملک اسد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/11/0507591133a45ad.jpg?r=075952" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/11/0507591133a45ad.jpg?r=075952"/>
        <media:title>درخواست میں کہا گیا کہ پمز اور لوکل انتظامیہ نے ارشد شریف فیملی کو اندھیرے میں رکھا ہوا ہے— فوٹو: کامران خان ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
