<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 14:46:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 14:46:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی کی سڑکوں پر ٹریفک حادثات میں 10 ماہ میں 116 بائیکرز جاں بحق
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1191344/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی کی سڑکیں موٹرسائیکل سواروں کے لیے موت کا جال ثابت ہوئیں جہاں رواں سال کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران 116 بائیکرز جان کی بازی ہار چکے ہیں جب کہ مجموعی طور پر روڈ حادثات میں 165 شہری لقمہ اجل بنے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1719387/motorcyclists-beware-116-bikers-die-on-city-roads-in-10-months"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق کراچی کی سڑکوں پر چلنے والی بڑی گاڑیاں سب سے زیادہ شہریوں کی جانیں نگل رہی ہیں، کراچی ٹریفک پولیس کی جانب سے شیئر کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق جاں افراد میں سے 11 شہری بسوں، 12 واٹر ٹینکرز، 14 ڈمپر ٹرک اور آئل ٹینکرز، 20 ٹرالرز اور 37 افراد دیگر ٹرکس کے حادثات میں جاں بحق ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ شہر میں تقریباً 65 فیصد حادثات ہیوی ٹریفک کے باعث پیش آتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1028192/"&gt;90 فیصد ٹریفک حادثات ترقی پذیر ممالک میں...&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈی آئی جی ٹریفک احمد نواز چیمہ نے ڈان کو بتایا کہ حادثات کی متعدد وجوہات ہیں جیسے روڈ انجینئرنگ، اسٹریٹ لائٹس کی کمی، ٹریفک سگنلز کا نہ ہونا یا ان کا کام نہ نہ کرنا، ڈرائیور کی عدم مہارت اور ٹریفک قوانین کی عدم پیروی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ڈرائیونگ لائسنس معیاری طریقہ کار کے مطابق جاری نہیں کیے جاتے اور جعلی لائسنس بھی جاری کیے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شہر میں مہلک حادثات میں زیادہ تر ٹرک شامل ہیں، اعداد و شمار کے مطابق 31 حادثات میں سے 28 جان لیوا ثابت ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹریفک پولیس کے شیئر کردہ اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ 145 مہلک حادثات میں 165 جانیں گئیں جن میں 98 مہلک حادثات میں 116 موٹر سائیکل سوار جاں بحق ہوئے، 32 مہلک حادثات میں 32 پیدل چلنے والے اور 15 حادثات میں 17 دیگر افراد جاں بحق ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1095798"&gt;ہر پانچ منٹ میں ایک شخص روڈ حادثے کا شکار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سب سے زیادہ حادثات ضلع غربی میں ہوئے جہاں 84 حادثات رپورٹ کیے گئے جن میں 53 جان لیوا ثابت ہوئے اور 60 شہری جاں بحق ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ضلع ملیر میں 35 حادثات میں سے 33 جان لیوا ثابت ہوئے جن میں 40 اموات ہوئیں، شرقی میں میں 22 حادثات میں 18 اموات ہوئیں، جنوبی میں 19 حادثات میں 15، وسطی میں 16 حادثات میں 15، کورنگی میں 16 حادثات میں 13 اور ضلع کیماڑی میں 5 شہری جاں بحق ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق 2021 کے  ابتدائی 10 ماہ کے مقابلے میں حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 183 تھی جو کہ رواں سال کے مقابلے میں 18 اموات زیادہ تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان سے بات کرتے ہوئے ڈی آئی جی ٹریفک احمد نواز چیمہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حادثات کی تعداد کو کم کرنے کے لیے محکمے نے این ای ڈی یونیورسٹی کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں تاکہ حادثات کی وجوہات کا تجزیہ کرکے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ممکنہ اقدامات کیے جاسکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی کی سڑکیں موٹرسائیکل سواروں کے لیے موت کا جال ثابت ہوئیں جہاں رواں سال کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران 116 بائیکرز جان کی بازی ہار چکے ہیں جب کہ مجموعی طور پر روڈ حادثات میں 165 شہری لقمہ اجل بنے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1719387/motorcyclists-beware-116-bikers-die-on-city-roads-in-10-months">رپورٹ</a></strong> کے مطابق کراچی کی سڑکوں پر چلنے والی بڑی گاڑیاں سب سے زیادہ شہریوں کی جانیں نگل رہی ہیں، کراچی ٹریفک پولیس کی جانب سے شیئر کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق جاں افراد میں سے 11 شہری بسوں، 12 واٹر ٹینکرز، 14 ڈمپر ٹرک اور آئل ٹینکرز، 20 ٹرالرز اور 37 افراد دیگر ٹرکس کے حادثات میں جاں بحق ہوئے۔</p>

<p>اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ شہر میں تقریباً 65 فیصد حادثات ہیوی ٹریفک کے باعث پیش آتے ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1028192/">90 فیصد ٹریفک حادثات ترقی پذیر ممالک میں...</a></strong></p>

<p>ڈی آئی جی ٹریفک احمد نواز چیمہ نے ڈان کو بتایا کہ حادثات کی متعدد وجوہات ہیں جیسے روڈ انجینئرنگ، اسٹریٹ لائٹس کی کمی، ٹریفک سگنلز کا نہ ہونا یا ان کا کام نہ نہ کرنا، ڈرائیور کی عدم مہارت اور ٹریفک قوانین کی عدم پیروی شامل ہیں۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ڈرائیونگ لائسنس معیاری طریقہ کار کے مطابق جاری نہیں کیے جاتے اور جعلی لائسنس بھی جاری کیے جارہے ہیں۔</p>

<p>شہر میں مہلک حادثات میں زیادہ تر ٹرک شامل ہیں، اعداد و شمار کے مطابق 31 حادثات میں سے 28 جان لیوا ثابت ہوئے۔</p>

<p>ٹریفک پولیس کے شیئر کردہ اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ 145 مہلک حادثات میں 165 جانیں گئیں جن میں 98 مہلک حادثات میں 116 موٹر سائیکل سوار جاں بحق ہوئے، 32 مہلک حادثات میں 32 پیدل چلنے والے اور 15 حادثات میں 17 دیگر افراد جاں بحق ہوئے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1095798">ہر پانچ منٹ میں ایک شخص روڈ حادثے کا شکار</a></strong></p>

<p>سب سے زیادہ حادثات ضلع غربی میں ہوئے جہاں 84 حادثات رپورٹ کیے گئے جن میں 53 جان لیوا ثابت ہوئے اور 60 شہری جاں بحق ہوئے۔</p>

<p>ضلع ملیر میں 35 حادثات میں سے 33 جان لیوا ثابت ہوئے جن میں 40 اموات ہوئیں، شرقی میں میں 22 حادثات میں 18 اموات ہوئیں، جنوبی میں 19 حادثات میں 15، وسطی میں 16 حادثات میں 15، کورنگی میں 16 حادثات میں 13 اور ضلع کیماڑی میں 5 شہری جاں بحق ہوئے۔</p>

<p>اعداد و شمار کے مطابق 2021 کے  ابتدائی 10 ماہ کے مقابلے میں حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 183 تھی جو کہ رواں سال کے مقابلے میں 18 اموات زیادہ تھیں۔</p>

<p>ڈان سے بات کرتے ہوئے ڈی آئی جی ٹریفک احمد نواز چیمہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حادثات کی تعداد کو کم کرنے کے لیے محکمے نے این ای ڈی یونیورسٹی کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں تاکہ حادثات کی وجوہات کا تجزیہ کرکے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ممکنہ اقدامات کیے جاسکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1191344</guid>
      <pubDate>Mon, 07 Nov 2022 14:04:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد عثمان ملک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/11/07132922a425924.jpg?r=132929" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/11/07132922a425924.jpg?r=132929"/>
        <media:title>— فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/11/071325074586eaf.jpg?r=133838" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/11/071325074586eaf.jpg?r=133838"/>
        <media:title>گزشتہ سال ابتدائی 10 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 183 شہری جاں بحق ہوئے تھے — فوٹو: ندیم احمد خان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
