<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 08:17:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 08:17:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دل نما ’سری کالام جھیل‘ کی سیر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1191781/</link>
      <description>&lt;p&gt;ہم ایک مشکل، طویل اور دشوار گزار سفر طے کرکے جب سری کالام جھیل تک پہنچے اور اس پر پہلی نظر پڑی تو ماضی کے تجربات کے برخلاف زیادہ مزہ نہیں آیا بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ یہاں تک آنے سے متعلق اپنے فیصلے پر پچھتاوا بھی ہوا تو غلط نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسا اس لیے ہوا کہ یہ شیطان گوٹ، کنڈول یا پھر درال جھیل کے مقابلے میں کافی چھوٹی تھی، مگر جب ہم نے اس جھیل کو پہاڑی پر چڑھ کر دیکھا تو ہمارے خیالات یکسر بدل گئے اور ہماری حیرت کی انتہا ہی نہ رہی کیونکہ خالقِ کائنات نے اسے بالکل دل کی شکل دی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم اس جھیل تک کیسے پہنچے یہ جاننے کے لیے آئیے آپ بھی سری کالام جیھل کے اس سفر میں ہمارے ہم سفر بنیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/11/131441438acdeb5.jpg'  alt='  دل کی شکل میں بنی سری کالام جھیل  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دل کی شکل میں بنی سری کالام جھیل&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="جھیل-تک-کیسے-پہنچا-جائے" href="#جھیل-تک-کیسے-پہنچا-جائے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;جھیل تک کیسے پہنچا جائے؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;سری کالام جھیل تک پہنچنے کے لیے سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے بحرین تک کا راستہ ایک پکی سڑک کی شکل میں موجود ہے۔ حالیہ سیلاب نے 2 مقامات پر سڑک کو متاثر کیا ہے مگر پھر بھی سفر میں دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ضلع سوات کے صدر مقام سیدو شریف سے 57 سے 58 کلومیٹر کا یہ راستہ باآسانی ڈیڑھ گھنٹے میں طے کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفر صبح سویرے شروع کرنا بہتر ہوگا۔ بحرین بازار گوکہ حالیہ سیلاب کی وجہ سے کافی متاثر ہوچکا ہے مگر پھر بھی بحرین ہی میں کسی چائے کے کھوکھے میں ناشتہ کیا جاسکتا ہے۔ ملک کے دیگر سیاحتی علاقوں کی نسبت بحرین بازار میں ریسٹورنٹس کی قیمتیں مناسب ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحرین سے آگے کئی مقامات پر حالیہ سیلاب کی وجہ سے سڑک بہہ چکی ہے مگر پھر بھی 2 سے ڈھائی گھنٹے کے سفر کے بعد کالام تک پہنچا جاسکتا ہے۔ کالام بازار میں ایک سے ایک اچھا ریسٹورنٹ موجود ہے، جہاں مقامی اور غیر مقامی کھانے مناسب داموں مل جاتے ہیں۔ کالام بازار کی ایک اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں آپ کو ضرورت کی ہر چیز باآسانی مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سیٹ-بیلٹ-کس-کر-باندھیے" href="#سیٹ-بیلٹ-کس-کر-باندھیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سیٹ بیلٹ کس کر باندھیے&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;دوپہر کا کھانا کھانے اور تھوڑا سا آرام کرنے کے بعد جب سفر کا آغاز کریں تو اپنی سیٹ بیلٹ کس کر باندھیے کیونکہ اصل امتحان شروع ہوا چاہتا ہے۔ کالام سے آگے گھنے جنگل میں ایک دوراہا آتا ہے، جہاں سے ایک راستہ اتروڑ اور گوجر گبرال کی طرف نکلتا ہے جبکہ دوسرا مٹلتان کے علاقے سے ہوتے ہوئے جھیل مہوڈنڈ، کنڈل شئی جھیل (جسے عام طور پر جھیل سیف اللہ کے نام سے پکارا جاتا ہے)، ڈونچار آبشار اور سری کالام جھیل تک نکلتا ہے۔ یعنی ایک ٹکٹ میں 4 مزے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="راستے-میں-کیا-کیا-دیکھنے-کو-ملتا-ہے" href="#راستے-میں-کیا-کیا-دیکھنے-کو-ملتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;راستے میں کیا کیا دیکھنے کو ملتا ہے؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اس میں کوئی شک نہیں کہ سری کالام جھیل تک کا سفر بہت صبر آزما ہے، مگر اس کی یادیں ذہن پر ان مٹ نقوش چھوڑ جاتی ہیں۔ راستے میں مشہور گلیشیئر چشمۂ شفا (اس کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کا پانی کئی امراض کی دوا ہے)، اونچے پہاڑ سے نیچے گرتی ہوئی ایک پیاری آبشار اور علاقے کی بلند ترین چوٹی فلک سیر کا دیدار ساری تھکن اتار دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلک سیر سوات کی بلند ترین چوٹی ہے جس کی بلندی 5 ہزار 985 میٹر (19638 فٹ) ہے۔ حال ہی میں اسے سوات کے 2 نوجوان کوہ پیماؤں سید ذیشان عمر اور سیٹھ نعمان خلیل نے سر کیا ہے۔ ان سے پہلے لاہور کی ایک کوہ پیما ٹیم نے چوٹی سر کرکے پہلی پاکستانی ٹیم ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ اس ٹیم میں احمد مجتبیٰ، عدنان سلیم اور حمزہ انیس شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/11/131430332726ad4.jpg'  alt='  سوات کی بلند ترین چوٹی فلک سیر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سوات کی بلند ترین چوٹی فلک سیر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="رات-کہاں-گزاری-جائے" href="#رات-کہاں-گزاری-جائے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;رات کہاں گزاری جائے؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;رات گزارنے کے لیے یوں تو کئی جگہیں مل سکتی ہیں مگر 2 جگہیں سب سے بہتر رہیں گی۔ پہلی جگہ جھیل مہوڈنڈ ہے جبکہ دوسری کنڈل شئی جھیل (جھیل سیف اللہ) ہے۔ دونوں جھیلیں تقریباً ایک جیسی ہی دکھتی ہیں، بس مہوڈنڈ قدرے بڑی ہے لیکن کنڈل شئی جھیل زیادہ صاف بھی ہے اور اس کی خوبصورتی بھی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہوڈنڈ میں ہر وقت ہی سیاحوں کا رش رہتا ہے اور سیاح پکنک منا کر یا دن گزار کر واپس جاتے ہوئے کوڑا کرکٹ جھیل پر ہی چھوڑ جاتے ہیں۔ اسی طرح مہوڈنڈ میں چائے کے کھوکھے اور ریسٹورنٹ چلانے والے بھی صفائی کا خاص خیال نہیں رکھتے جس کی وجہ سے مجبوراً کنڈل شئی میں رات گزارنے کو جی چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کنڈل شئی سے آگے جھیل پنغال بھی ہے جس کے کنارے ٹینٹ لگا کر سکون سے رات بسر کی جاسکتی ہے۔ جھیل پنغال وسعت کے لحاظ سے مہوڈنڈ اور کنڈل شئی سے کافی بڑی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رات گزارنے کے لیے تیسری جگہ ڈونچار آبشار ہے۔ یہاں چرواہوں کے کچے کوٹھے بھی ہیں۔ ڈونچار آبشار اور دریائے سوات کے زمرد رنگ کے پانی کے درمیان ٹینٹ لگا کر رات گزارنے کا بھی الگ ہی مزا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/11/13143138af1d163.jpg'  alt='  کنڈل شئی جھیل  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;کنڈل شئی جھیل&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/11/131435180a4a4fb.jpg'  alt='  جھیل پنغال کی تصویر کشی جاری ہے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جھیل پنغال کی تصویر کشی جاری ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="اگلے-روز-کا-پروگرام" href="#اگلے-روز-کا-پروگرام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;اگلے روز کا پروگرام&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اگر رات مہوڈنڈ جھیل میں گزاری جائے تو اگلے روز ناشتہ بھرپور طریقے سے کرنا چاہیے کیونکہ آگے کا سفر پیدل اور صبر آزما ہے۔ جھیل پنغال کے کنارے ایک راستہ آگے کے سفر کے لیے نکلتا ہے۔ مہو ڈنڈ اور کنڈل شئی کے بیچ 10 منٹ کا پیدل فاصلہ ہے جو گاڑی کی مدد سے بھی طے کیا جاسکتا ہے۔ پھر کنڈل شئی سے آگے جھیل پنغال تک بھی 10 منٹ ہی کا پیدل راستہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کالام سے پنغال تک فور بائے فور گاڑی کی مدد سے 3 سے ساڑھے 3 گھنٹے کی مسافت ہے۔ جھیل پنغال سے آگے درمیانی چال چلتے ہوئے 2 گھنٹے کی پیدل مسافت کے بعد باآسانی ڈونچار آبشار تک پہنچا جاسکتا ہے۔ تصاویر لینے کے لیے یہ بہت ہی اچھی جگہ ہے۔ اوپر سے گرتا پانی اتنا شور مچاتا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈونچار آبشار کو مقامی لوگ چغو آبشار بھی کہتے ہیں۔ لفظ چغہ کو اردو میں چیخ کہتے ہیں۔ چلتے چلتے آگے راستے میں ایک لکڑی کا بنا پل نظر آئے گا۔ اسے پار کرتے ہوئے آگے دُور سے آبشار دکھائی دیتی ہے جس کی پھوار دُور دُور تک اُڑتی نظر آتی ہے۔ اسے کیمرے کی آنکھ سے قید کرکے آگے چلیے کہ منزل ابھی دُور ہے۔ مہوڈنڈ یا کنڈل شئی سے لگ بھگ 7 گھنٹے کی پیدل مسافت طے کرنے کے بعد سری کالام جھیل تک پہنچا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/11/131437139fdf51b.jpg'  alt='  ڈونچار آبشار جانے والا لکڑی سے بنا پُل  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ڈونچار آبشار جانے والا لکڑی سے بنا پُل&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/11/13143758142da9e.jpg'  alt='  غراتی ہوئی ڈونچار آبشار  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;غراتی ہوئی ڈونچار آبشار&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سری-کالام-تک-ہائیکنگ-کیسی-ہے" href="#سری-کالام-تک-ہائیکنگ-کیسی-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سری کالام تک ہائیکنگ کیسی ہے؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;سری کالام جھیل تک ہائیکنگ بتدریج سخت ہوتی جاتی ہے۔ پہلے 3 گھنٹے کی ہائیکنگ عمومی ہے۔ اس میں بڑے بڑے پتھروں (بولڈرز) کا سامنا نہیں کرنا پڑتا جبکہ اس سے آگے صبر آزما مرحلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پورے راستے میں کوئی درجن بھر آبشار دعوتِ نظارہ دیتی ہیں۔ ڈونچار آبشار سے آگے سری کالام جھیل کی چرا گاہیں شروع ہوجاتی ہیں جہاں مقامی لوگ اپنے مال مویشی چرانے لاتے ہیں اور کچے کوٹھوں میں رہائش پذیر ہوتے ہیں۔ یہ علاقہ کیمپنگ کے لیے موزوں ترین ہے کیونکہ یہاں پر خونخوار جانور یا درندے نہیں ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/11/131429093697197.jpg'  alt='  سری کالام جھیل کی جانب پیدل سفر کا آغاز  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سری کالام جھیل کی جانب پیدل سفر کا آغاز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/11/13144917d38ca52.jpg'  alt='  جھیل کی طرف پیدل سفر کرتے ہوئے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جھیل کی طرف پیدل سفر کرتے ہوئے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سری-کالام-کی-وجۂ-تسمیہ" href="#سری-کالام-کی-وجۂ-تسمیہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سری کالام کی وجۂ تسمیہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ہمارے گائیڈ نے ہمیں بتایا کہ یہ جگہ کالام کا آخری سرا ہے، اس لیے اسے ہم سری کالام کہتے ہیں۔ یہاں سے آگے کالام کی حدود ختم ہوجاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="جھیل-کی-سیر-کے-لیے-موزوں-ترین-وقت" href="#جھیل-کی-سیر-کے-لیے-موزوں-ترین-وقت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;جھیل کی سیر کے لیے موزوں ترین وقت&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مئی کے وسط سے ستمبر کے وسط تک کا دورانیہ اس جھیل کی سیر کے لیے موزوں ترین وقت ہے۔ جھیل چونکہ الپائن زون میں ہے اس لیے اس کے ارد گرد چوٹیاں جنگلات سے عاری ہیں۔ خود جھیل کے پاس درخت یا جھاڑی وغیرہ دیکھنے کو نہیں ملتے۔ سطحِ سمندر سے اس کی بلندی تقریباً 3 ہزار 663 میٹر (12017 فٹ) ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/11/13144246c54f077.jpg'  alt='  سری کالام جھیل  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سری کالام جھیل&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/11/1314424621224a4.jpg?r=144305'  alt='  سیاح جھیل کنارے خوش گپیوں میں مصروف ہیں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سیاح جھیل کنارے خوش گپیوں میں مصروف ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سری کالام جھیل کی کئی خصوصیات ہیں جن میں سے پہلی تو یہی ہے کہ یہ جھیل بالکل دل کی طرح دکھتی ہے۔ دوسری خصوصیت یہ کہ یہ جھیل برفیلی چوٹیوں کے درمیان واقع ہے اور تیسری خصوصیت یہ کہ اس کے کنارے ٹینٹ لگا کر رات گزاری جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ہم ایک مشکل، طویل اور دشوار گزار سفر طے کرکے جب سری کالام جھیل تک پہنچے اور اس پر پہلی نظر پڑی تو ماضی کے تجربات کے برخلاف زیادہ مزہ نہیں آیا بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ یہاں تک آنے سے متعلق اپنے فیصلے پر پچھتاوا بھی ہوا تو غلط نہیں ہوگا۔</p>
<p>ایسا اس لیے ہوا کہ یہ شیطان گوٹ، کنڈول یا پھر درال جھیل کے مقابلے میں کافی چھوٹی تھی، مگر جب ہم نے اس جھیل کو پہاڑی پر چڑھ کر دیکھا تو ہمارے خیالات یکسر بدل گئے اور ہماری حیرت کی انتہا ہی نہ رہی کیونکہ خالقِ کائنات نے اسے بالکل دل کی شکل دی ہوئی ہے۔</p>
<p>ہم اس جھیل تک کیسے پہنچے یہ جاننے کے لیے آئیے آپ بھی سری کالام جیھل کے اس سفر میں ہمارے ہم سفر بنیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/11/131441438acdeb5.jpg'  alt='  دل کی شکل میں بنی سری کالام جھیل  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دل کی شکل میں بنی سری کالام جھیل</figcaption>
    </figure></p>
<h3><a id="جھیل-تک-کیسے-پہنچا-جائے" href="#جھیل-تک-کیسے-پہنچا-جائے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>جھیل تک کیسے پہنچا جائے؟</h3>
<p>سری کالام جھیل تک پہنچنے کے لیے سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے بحرین تک کا راستہ ایک پکی سڑک کی شکل میں موجود ہے۔ حالیہ سیلاب نے 2 مقامات پر سڑک کو متاثر کیا ہے مگر پھر بھی سفر میں دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ضلع سوات کے صدر مقام سیدو شریف سے 57 سے 58 کلومیٹر کا یہ راستہ باآسانی ڈیڑھ گھنٹے میں طے کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>سفر صبح سویرے شروع کرنا بہتر ہوگا۔ بحرین بازار گوکہ حالیہ سیلاب کی وجہ سے کافی متاثر ہوچکا ہے مگر پھر بھی بحرین ہی میں کسی چائے کے کھوکھے میں ناشتہ کیا جاسکتا ہے۔ ملک کے دیگر سیاحتی علاقوں کی نسبت بحرین بازار میں ریسٹورنٹس کی قیمتیں مناسب ہیں۔</p>
<p>بحرین سے آگے کئی مقامات پر حالیہ سیلاب کی وجہ سے سڑک بہہ چکی ہے مگر پھر بھی 2 سے ڈھائی گھنٹے کے سفر کے بعد کالام تک پہنچا جاسکتا ہے۔ کالام بازار میں ایک سے ایک اچھا ریسٹورنٹ موجود ہے، جہاں مقامی اور غیر مقامی کھانے مناسب داموں مل جاتے ہیں۔ کالام بازار کی ایک اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں آپ کو ضرورت کی ہر چیز باآسانی مل سکتی ہے۔</p>
<h3><a id="سیٹ-بیلٹ-کس-کر-باندھیے" href="#سیٹ-بیلٹ-کس-کر-باندھیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سیٹ بیلٹ کس کر باندھیے</h3>
<p>دوپہر کا کھانا کھانے اور تھوڑا سا آرام کرنے کے بعد جب سفر کا آغاز کریں تو اپنی سیٹ بیلٹ کس کر باندھیے کیونکہ اصل امتحان شروع ہوا چاہتا ہے۔ کالام سے آگے گھنے جنگل میں ایک دوراہا آتا ہے، جہاں سے ایک راستہ اتروڑ اور گوجر گبرال کی طرف نکلتا ہے جبکہ دوسرا مٹلتان کے علاقے سے ہوتے ہوئے جھیل مہوڈنڈ، کنڈل شئی جھیل (جسے عام طور پر جھیل سیف اللہ کے نام سے پکارا جاتا ہے)، ڈونچار آبشار اور سری کالام جھیل تک نکلتا ہے۔ یعنی ایک ٹکٹ میں 4 مزے۔</p>
<h3><a id="راستے-میں-کیا-کیا-دیکھنے-کو-ملتا-ہے" href="#راستے-میں-کیا-کیا-دیکھنے-کو-ملتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>راستے میں کیا کیا دیکھنے کو ملتا ہے؟</h3>
<p>اس میں کوئی شک نہیں کہ سری کالام جھیل تک کا سفر بہت صبر آزما ہے، مگر اس کی یادیں ذہن پر ان مٹ نقوش چھوڑ جاتی ہیں۔ راستے میں مشہور گلیشیئر چشمۂ شفا (اس کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کا پانی کئی امراض کی دوا ہے)، اونچے پہاڑ سے نیچے گرتی ہوئی ایک پیاری آبشار اور علاقے کی بلند ترین چوٹی فلک سیر کا دیدار ساری تھکن اتار دیتا ہے۔</p>
<p>فلک سیر سوات کی بلند ترین چوٹی ہے جس کی بلندی 5 ہزار 985 میٹر (19638 فٹ) ہے۔ حال ہی میں اسے سوات کے 2 نوجوان کوہ پیماؤں سید ذیشان عمر اور سیٹھ نعمان خلیل نے سر کیا ہے۔ ان سے پہلے لاہور کی ایک کوہ پیما ٹیم نے چوٹی سر کرکے پہلی پاکستانی ٹیم ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ اس ٹیم میں احمد مجتبیٰ، عدنان سلیم اور حمزہ انیس شامل تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/11/131430332726ad4.jpg'  alt='  سوات کی بلند ترین چوٹی فلک سیر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سوات کی بلند ترین چوٹی فلک سیر</figcaption>
    </figure></p>
<h3><a id="رات-کہاں-گزاری-جائے" href="#رات-کہاں-گزاری-جائے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>رات کہاں گزاری جائے؟</h3>
<p>رات گزارنے کے لیے یوں تو کئی جگہیں مل سکتی ہیں مگر 2 جگہیں سب سے بہتر رہیں گی۔ پہلی جگہ جھیل مہوڈنڈ ہے جبکہ دوسری کنڈل شئی جھیل (جھیل سیف اللہ) ہے۔ دونوں جھیلیں تقریباً ایک جیسی ہی دکھتی ہیں، بس مہوڈنڈ قدرے بڑی ہے لیکن کنڈل شئی جھیل زیادہ صاف بھی ہے اور اس کی خوبصورتی بھی زیادہ ہے۔</p>
<p>مہوڈنڈ میں ہر وقت ہی سیاحوں کا رش رہتا ہے اور سیاح پکنک منا کر یا دن گزار کر واپس جاتے ہوئے کوڑا کرکٹ جھیل پر ہی چھوڑ جاتے ہیں۔ اسی طرح مہوڈنڈ میں چائے کے کھوکھے اور ریسٹورنٹ چلانے والے بھی صفائی کا خاص خیال نہیں رکھتے جس کی وجہ سے مجبوراً کنڈل شئی میں رات گزارنے کو جی چاہتا ہے۔</p>
<p>کنڈل شئی سے آگے جھیل پنغال بھی ہے جس کے کنارے ٹینٹ لگا کر سکون سے رات بسر کی جاسکتی ہے۔ جھیل پنغال وسعت کے لحاظ سے مہوڈنڈ اور کنڈل شئی سے کافی بڑی ہے۔</p>
<p>رات گزارنے کے لیے تیسری جگہ ڈونچار آبشار ہے۔ یہاں چرواہوں کے کچے کوٹھے بھی ہیں۔ ڈونچار آبشار اور دریائے سوات کے زمرد رنگ کے پانی کے درمیان ٹینٹ لگا کر رات گزارنے کا بھی الگ ہی مزا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/11/13143138af1d163.jpg'  alt='  کنڈل شئی جھیل  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>کنڈل شئی جھیل</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/11/131435180a4a4fb.jpg'  alt='  جھیل پنغال کی تصویر کشی جاری ہے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جھیل پنغال کی تصویر کشی جاری ہے</figcaption>
    </figure></p>
<h3><a id="اگلے-روز-کا-پروگرام" href="#اگلے-روز-کا-پروگرام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>اگلے روز کا پروگرام</h3>
<p>اگر رات مہوڈنڈ جھیل میں گزاری جائے تو اگلے روز ناشتہ بھرپور طریقے سے کرنا چاہیے کیونکہ آگے کا سفر پیدل اور صبر آزما ہے۔ جھیل پنغال کے کنارے ایک راستہ آگے کے سفر کے لیے نکلتا ہے۔ مہو ڈنڈ اور کنڈل شئی کے بیچ 10 منٹ کا پیدل فاصلہ ہے جو گاڑی کی مدد سے بھی طے کیا جاسکتا ہے۔ پھر کنڈل شئی سے آگے جھیل پنغال تک بھی 10 منٹ ہی کا پیدل راستہ ہے۔</p>
<p>کالام سے پنغال تک فور بائے فور گاڑی کی مدد سے 3 سے ساڑھے 3 گھنٹے کی مسافت ہے۔ جھیل پنغال سے آگے درمیانی چال چلتے ہوئے 2 گھنٹے کی پیدل مسافت کے بعد باآسانی ڈونچار آبشار تک پہنچا جاسکتا ہے۔ تصاویر لینے کے لیے یہ بہت ہی اچھی جگہ ہے۔ اوپر سے گرتا پانی اتنا شور مچاتا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔</p>
<p>ڈونچار آبشار کو مقامی لوگ چغو آبشار بھی کہتے ہیں۔ لفظ چغہ کو اردو میں چیخ کہتے ہیں۔ چلتے چلتے آگے راستے میں ایک لکڑی کا بنا پل نظر آئے گا۔ اسے پار کرتے ہوئے آگے دُور سے آبشار دکھائی دیتی ہے جس کی پھوار دُور دُور تک اُڑتی نظر آتی ہے۔ اسے کیمرے کی آنکھ سے قید کرکے آگے چلیے کہ منزل ابھی دُور ہے۔ مہوڈنڈ یا کنڈل شئی سے لگ بھگ 7 گھنٹے کی پیدل مسافت طے کرنے کے بعد سری کالام جھیل تک پہنچا جاسکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/11/131437139fdf51b.jpg'  alt='  ڈونچار آبشار جانے والا لکڑی سے بنا پُل  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ڈونچار آبشار جانے والا لکڑی سے بنا پُل</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/11/13143758142da9e.jpg'  alt='  غراتی ہوئی ڈونچار آبشار  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>غراتی ہوئی ڈونچار آبشار</figcaption>
    </figure></p>
<h3><a id="سری-کالام-تک-ہائیکنگ-کیسی-ہے" href="#سری-کالام-تک-ہائیکنگ-کیسی-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سری کالام تک ہائیکنگ کیسی ہے؟</h3>
<p>سری کالام جھیل تک ہائیکنگ بتدریج سخت ہوتی جاتی ہے۔ پہلے 3 گھنٹے کی ہائیکنگ عمومی ہے۔ اس میں بڑے بڑے پتھروں (بولڈرز) کا سامنا نہیں کرنا پڑتا جبکہ اس سے آگے صبر آزما مرحلہ ہے۔</p>
<p>پورے راستے میں کوئی درجن بھر آبشار دعوتِ نظارہ دیتی ہیں۔ ڈونچار آبشار سے آگے سری کالام جھیل کی چرا گاہیں شروع ہوجاتی ہیں جہاں مقامی لوگ اپنے مال مویشی چرانے لاتے ہیں اور کچے کوٹھوں میں رہائش پذیر ہوتے ہیں۔ یہ علاقہ کیمپنگ کے لیے موزوں ترین ہے کیونکہ یہاں پر خونخوار جانور یا درندے نہیں ہوتے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/11/131429093697197.jpg'  alt='  سری کالام جھیل کی جانب پیدل سفر کا آغاز  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سری کالام جھیل کی جانب پیدل سفر کا آغاز</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/11/13144917d38ca52.jpg'  alt='  جھیل کی طرف پیدل سفر کرتے ہوئے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جھیل کی طرف پیدل سفر کرتے ہوئے</figcaption>
    </figure></p>
<h3><a id="سری-کالام-کی-وجۂ-تسمیہ" href="#سری-کالام-کی-وجۂ-تسمیہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سری کالام کی وجۂ تسمیہ</h3>
<p>ہمارے گائیڈ نے ہمیں بتایا کہ یہ جگہ کالام کا آخری سرا ہے، اس لیے اسے ہم سری کالام کہتے ہیں۔ یہاں سے آگے کالام کی حدود ختم ہوجاتی ہیں۔</p>
<h3><a id="جھیل-کی-سیر-کے-لیے-موزوں-ترین-وقت" href="#جھیل-کی-سیر-کے-لیے-موزوں-ترین-وقت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>جھیل کی سیر کے لیے موزوں ترین وقت</h3>
<p>مئی کے وسط سے ستمبر کے وسط تک کا دورانیہ اس جھیل کی سیر کے لیے موزوں ترین وقت ہے۔ جھیل چونکہ الپائن زون میں ہے اس لیے اس کے ارد گرد چوٹیاں جنگلات سے عاری ہیں۔ خود جھیل کے پاس درخت یا جھاڑی وغیرہ دیکھنے کو نہیں ملتے۔ سطحِ سمندر سے اس کی بلندی تقریباً 3 ہزار 663 میٹر (12017 فٹ) ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/11/13144246c54f077.jpg'  alt='  سری کالام جھیل  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سری کالام جھیل</figcaption>
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/11/1314424621224a4.jpg?r=144305'  alt='  سیاح جھیل کنارے خوش گپیوں میں مصروف ہیں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سیاح جھیل کنارے خوش گپیوں میں مصروف ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>سری کالام جھیل کی کئی خصوصیات ہیں جن میں سے پہلی تو یہی ہے کہ یہ جھیل بالکل دل کی طرح دکھتی ہے۔ دوسری خصوصیت یہ کہ یہ جھیل برفیلی چوٹیوں کے درمیان واقع ہے اور تیسری خصوصیت یہ کہ اس کے کنارے ٹینٹ لگا کر رات گزاری جاسکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1191781</guid>
      <pubDate>Sat, 19 Nov 2022 18:00:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امجد علی سحاب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/11/131544158acdeb5.jpg?r=154512" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/11/131544158acdeb5.jpg?r=154512"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
