<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 09:01:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 09:01:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی آبادی میں سالانہ 1.9 فیصد سے اضافہ، اقوام متحدہ کا اظہار تشویش
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1191895/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: اقوام متحدہ فنڈ برائے آبادی (یو این ایف پی اے) نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھرکی آبادی 8 ارب تک پہنچ چکی ہے جبکہ صرف پاکستان کی آبادی 1.9 فیصد کی سالانہ شرح سے بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1721023/pakistan-population-growing-at-annual-rate-of-19pc-un"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان میں اوسطاً فی عورت تقریباً 3.6 بچے پیدا ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: ’&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1137484"&gt;پاکستان میں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے’&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ فنڈ برائے آبادی کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ پاکستان ان 8 ممالک میں شمار ہوتا ہے جو 2050 تک دنیا کی متوقع آبادی کا لگ بھگ نصف ہوں گے اسی طرح چند ممالک میں بھی ایسی صورتحال ہے جن میں ڈی آر کانگو، مصر، ایتھوپیا، بھارت، نائجیریا، فلپائن اور تنزانیہ شامل ہیں&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو این ایف پی اے کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں سال 2011 میں 7 ارب آبادی تھی جو اب سال 2022 میں 8 ارب تک پہنچ چکی ہے، اس آبادی کا نصف حصہ ایشیا سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں 8 ارب آبادی لمحہ فکریہ ہے، پاکستان کو آبادی کے لحاظ سے صورتحال کا جائزہ لینے اور مناسب اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارے کے مطابق صرف آبادی کے ہندسے پر توجہ دینے کے بجائے ہمیں ٹھوس شواہد کے ساتھ فیصلے کرنے کی ضرورت ہے، اس کا حل آبادی کو کم یا زیادہ کرنے کا نہیں ہے بلکہ تعلیم اور صحت پر سرمایہ کاری کرکے بڑھتی ہوئی آبادی سے معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ لوگوں کو یکساں حقوق اور مواقع فراہم کیے جاسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1160233"&gt;پاکستان کی آبادی 20 کروڑ 76 لاکھ ہے، 2017 کی مردم شماری کے حتمی نتائج جاری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں اقوام متحدہ فنڈ برائے آبادی کی نمائندہ ڈاکٹر لوئے شبانہ کا کہنا ہے کہ خدمت، وکالت اور سماجی اصول کے ساتھ خاندانی منصوبہ بندی کی مہم کے ذریعے معاشی ترقی حاصل کرسکتے ہیں اور قدرتی وسائل کے ذریعے اسی طویل عرصے تک برقرار رکھا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقوق، ذمہ داریوں اور توازن کے 3 باہم جڑے ہوئے اصولوں پر مبنی پاکستان کی قومی آبادی کے بیانیے  نے ملک کے لیے موزوں سمت کا تعین کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی وفاقی اور صوبائی دونوں سطحوں پر عوامی بہبود کے منصبوبوں میں سر فہرست ہونی چاہیےجسے تمام طبقوں کی حمایت اور بھی حاصل ہوتاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ قوم کا ہر نوجوان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشرے کی تعمیر اور ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جن کے پاس وفاقی اور صوبائی سطحوں پر آبادی کی تفصیلی پالیسی اور پروگرام کا روڈ میپ موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو این ایف پی اے کا کہنا ہے کہ اب وقت آچکا ہے کہ ہم اپنے منصوبوں کو عمل کریں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو چاہیے کہ ان پالیسی اور منصوبوں پر عمل درآمد کرنے کے لیے اس ساتھ مل کر کام کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1063927"&gt;پاکستان کو بڑھتی آبادی سے کن مسائل کا سامنا ہے؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم صحت کے بہتر نظام ، فلاح و بہبود اور ترقی کے حوالے سے دنیا بھر میں 8 ارب کی آبادی نے ایک طویل سفر طے کیا ہے لیکن اس ترقی اور مواقع سے تمام لوگ یکساں طورپر حاصل نہیں کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماجی اقتصادی اور عدم مساوات ملک کے تمام صوبوں اور خطوں میں موجود ہے یہاں تک کہ صحت کی سہولیات، حقوق، معیار زندگی تک رسائی بھی ہر شخص یا ہر گروہ کے لیے مختلف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے معاشرے جو اپنے لوگوں کو ان کے مساوی حقوق فراہم کرتے ہیں اور عوام پر سرمایہ کاری کر ترجیح دیتے ہیں وہ معاشرے خوشحال، ترقی اور امن کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ نے اپنی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.un.org/en/dayof8billion"&gt;ویب سائٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; پر 15 نومبر کو 8 ارب آبادی کا دن بھی قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: اقوام متحدہ فنڈ برائے آبادی (یو این ایف پی اے) نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھرکی آبادی 8 ارب تک پہنچ چکی ہے جبکہ صرف پاکستان کی آبادی 1.9 فیصد کی سالانہ شرح سے بڑھ رہی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1721023/pakistan-population-growing-at-annual-rate-of-19pc-un">رپورٹ</a></strong> کے مطابق اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان میں اوسطاً فی عورت تقریباً 3.6 بچے پیدا ہوتے ہیں۔</p>
<p><strong>یہ بھی پڑھیں: ’<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1137484">پاکستان میں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے’</a></strong></p>
<p>اقوام متحدہ فنڈ برائے آبادی کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ پاکستان ان 8 ممالک میں شمار ہوتا ہے جو 2050 تک دنیا کی متوقع آبادی کا لگ بھگ نصف ہوں گے اسی طرح چند ممالک میں بھی ایسی صورتحال ہے جن میں ڈی آر کانگو، مصر، ایتھوپیا، بھارت، نائجیریا، فلپائن اور تنزانیہ شامل ہیں</p>
<p>یو این ایف پی اے کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں سال 2011 میں 7 ارب آبادی تھی جو اب سال 2022 میں 8 ارب تک پہنچ چکی ہے، اس آبادی کا نصف حصہ ایشیا سے ہے۔</p>
<p>اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں 8 ارب آبادی لمحہ فکریہ ہے، پاکستان کو آبادی کے لحاظ سے صورتحال کا جائزہ لینے اور مناسب اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>عالمی ادارے کے مطابق صرف آبادی کے ہندسے پر توجہ دینے کے بجائے ہمیں ٹھوس شواہد کے ساتھ فیصلے کرنے کی ضرورت ہے، اس کا حل آبادی کو کم یا زیادہ کرنے کا نہیں ہے بلکہ تعلیم اور صحت پر سرمایہ کاری کرکے بڑھتی ہوئی آبادی سے معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ لوگوں کو یکساں حقوق اور مواقع فراہم کیے جاسکتے ہیں۔</p>
<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1160233">پاکستان کی آبادی 20 کروڑ 76 لاکھ ہے، 2017 کی مردم شماری کے حتمی نتائج جاری</a></strong></p>
<p>پاکستان میں اقوام متحدہ فنڈ برائے آبادی کی نمائندہ ڈاکٹر لوئے شبانہ کا کہنا ہے کہ خدمت، وکالت اور سماجی اصول کے ساتھ خاندانی منصوبہ بندی کی مہم کے ذریعے معاشی ترقی حاصل کرسکتے ہیں اور قدرتی وسائل کے ذریعے اسی طویل عرصے تک برقرار رکھا جاسکتا ہے۔</p>
<p>حقوق، ذمہ داریوں اور توازن کے 3 باہم جڑے ہوئے اصولوں پر مبنی پاکستان کی قومی آبادی کے بیانیے  نے ملک کے لیے موزوں سمت کا تعین کیا ہے۔</p>
<p>اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی وفاقی اور صوبائی دونوں سطحوں پر عوامی بہبود کے منصبوبوں میں سر فہرست ہونی چاہیےجسے تمام طبقوں کی حمایت اور بھی حاصل ہوتاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ قوم کا ہر نوجوان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشرے کی تعمیر اور ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکے۔</p>
<p>پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جن کے پاس وفاقی اور صوبائی سطحوں پر آبادی کی تفصیلی پالیسی اور پروگرام کا روڈ میپ موجود ہے۔</p>
<p>یو این ایف پی اے کا کہنا ہے کہ اب وقت آچکا ہے کہ ہم اپنے منصوبوں کو عمل کریں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو چاہیے کہ ان پالیسی اور منصوبوں پر عمل درآمد کرنے کے لیے اس ساتھ مل کر کام کریں۔</p>
<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1063927">پاکستان کو بڑھتی آبادی سے کن مسائل کا سامنا ہے؟</a></strong></p>
<p>تاہم صحت کے بہتر نظام ، فلاح و بہبود اور ترقی کے حوالے سے دنیا بھر میں 8 ارب کی آبادی نے ایک طویل سفر طے کیا ہے لیکن اس ترقی اور مواقع سے تمام لوگ یکساں طورپر حاصل نہیں کیے۔</p>
<p>سماجی اقتصادی اور عدم مساوات ملک کے تمام صوبوں اور خطوں میں موجود ہے یہاں تک کہ صحت کی سہولیات، حقوق، معیار زندگی تک رسائی بھی ہر شخص یا ہر گروہ کے لیے مختلف ہے۔</p>
<p>ایسے معاشرے جو اپنے لوگوں کو ان کے مساوی حقوق فراہم کرتے ہیں اور عوام پر سرمایہ کاری کر ترجیح دیتے ہیں وہ معاشرے خوشحال، ترقی اور امن کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں۔</p>
<p>اقوام متحدہ نے اپنی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.un.org/en/dayof8billion">ویب سائٹ</a></strong> پر 15 نومبر کو 8 ارب آبادی کا دن بھی قرار دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1191895</guid>
      <pubDate>Tue, 15 Nov 2022 18:34:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امین احمد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/11/15082302335847d.png?r=083502" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/11/15082302335847d.png?r=083502"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/11/1509130470c280a.jpg?r=091338" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/11/1509130470c280a.jpg?r=091338"/>
        <media:title>اس وقت پاکستان میں شرح پیدائش 3.6 فیصد ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
