<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 19:13:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 19:13:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیلاب سے نقصانات: عالمی بینک کا زراعت اور گھروں کیلئے 1.3 ارب ڈالر فراہم کرنے کا منصوبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1192065/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب سے نقصانات کے پیش نظر زراعت اور گھروں کی سہولت  کے لیے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر فراہم کرنے  کے لیے منصوبہ بنا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ اور تحقیق طارق بشیر چیمہ  کے ساتھ اجلاس میں عالمی بینک کے ریجنل ڈائریکٹر برائے پائیدار ترقی جان اے رومی نے کہا کہ عالمی قرض دہندہ ادارے کے بورڈ کا اجلاس دسمبر میں ہوگا جس سے منظوری کے بعد فنڈز جاری کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف، عالمی بینک نے سیلاب متاثرہ علاقوں کے کسانوں کو رعایتی قیمت پر یوریا کھاد فراہم کرنے کے لیے مالی امداد فراہم کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران طارق بشیر چیمہ نے وفد کو بتایا کہ حالیہ سیلاب اور بارشوں کے نتیجے میں کسانوں کا بھاری نقصان ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم غریب کسانوں کی معاونت اور بحالی میں مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1191382"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیلاب سے متاثرہ کسانوں کی بحالی اور ریلیف کرنے پر عالمی بینک کے کردار کو سراہتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ غیر متوقع قدرتی آفت سے متاثرہ کسانوں کو امداد کی ضرورت ہے تاکہ وہ دوبارہ معمول کی زندگی گزار سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل سیکریٹری محمد آصف نے وفد کو بتایا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ڈیٹا بیس کے ذریعے متاثرہ کسانوں کی شناخت کرکے ٹارگیٹڈ سبسڈی دی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف، نیشنل فلڈ رسپونس کوآرڈینیشن سینٹر (این ایف آر سی سی) نے ڈیجیٹل ایپلی کیشن تیار کی ہے جو کسانوں کو ڈیلیور کرنے میں مدد کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طارق بشیر چیمہ نے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان رابطوں کو مزید بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی بینک اور دیگر ادارے ہنگامی بنیادوں پر ضرورت مند لوگوں کی مدد کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ پاکستان میں عالمی بینک کو جانب سے شروع کیے جانے والے تمام منصوبوں کو وزارتِ مکمل سپورٹ کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں مہینے کے آغاز میں عالمی بینک نے پاکستان کو توانائی کے شعبے میں انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کے لیے 3 ارب ڈالر سے زیادہ فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب سے نقصانات کے پیش نظر زراعت اور گھروں کی سہولت  کے لیے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر فراہم کرنے  کے لیے منصوبہ بنا رہے ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ اور تحقیق طارق بشیر چیمہ  کے ساتھ اجلاس میں عالمی بینک کے ریجنل ڈائریکٹر برائے پائیدار ترقی جان اے رومی نے کہا کہ عالمی قرض دہندہ ادارے کے بورڈ کا اجلاس دسمبر میں ہوگا جس سے منظوری کے بعد فنڈز جاری کیے جائیں گے۔</p>
<p>دوسری طرف، عالمی بینک نے سیلاب متاثرہ علاقوں کے کسانوں کو رعایتی قیمت پر یوریا کھاد فراہم کرنے کے لیے مالی امداد فراہم کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔</p>
<p>اجلاس کے دوران طارق بشیر چیمہ نے وفد کو بتایا کہ حالیہ سیلاب اور بارشوں کے نتیجے میں کسانوں کا بھاری نقصان ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم غریب کسانوں کی معاونت اور بحالی میں مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1191382"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سیلاب سے متاثرہ کسانوں کی بحالی اور ریلیف کرنے پر عالمی بینک کے کردار کو سراہتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ غیر متوقع قدرتی آفت سے متاثرہ کسانوں کو امداد کی ضرورت ہے تاکہ وہ دوبارہ معمول کی زندگی گزار سکیں۔</p>
<p>ایڈیشنل سیکریٹری محمد آصف نے وفد کو بتایا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ڈیٹا بیس کے ذریعے متاثرہ کسانوں کی شناخت کرکے ٹارگیٹڈ سبسڈی دی جاسکتی ہے۔</p>
<p>دوسری طرف، نیشنل فلڈ رسپونس کوآرڈینیشن سینٹر (این ایف آر سی سی) نے ڈیجیٹل ایپلی کیشن تیار کی ہے جو کسانوں کو ڈیلیور کرنے میں مدد کرسکتی ہے۔</p>
<p>طارق بشیر چیمہ نے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان رابطوں کو مزید بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی بینک اور دیگر ادارے ہنگامی بنیادوں پر ضرورت مند لوگوں کی مدد کریں۔</p>
<p>انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ پاکستان میں عالمی بینک کو جانب سے شروع کیے جانے والے تمام منصوبوں کو وزارتِ مکمل سپورٹ کرے گی۔</p>
<p>رواں مہینے کے آغاز میں عالمی بینک نے پاکستان کو توانائی کے شعبے میں انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کے لیے 3 ارب ڈالر سے زیادہ فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1192065</guid>
      <pubDate>Wed, 16 Nov 2022 20:52:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر شیرانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/11/1620494766ce882.jpg?r=204958" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/11/1620494766ce882.jpg?r=204958"/>
        <media:title>— فائل فوٹو:اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
