<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 09:08:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 22 Jun 2026 09:08:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیر آباد فائرنگ: حکومتِ پنجاب کی تشکیل کردہ جے آئی ٹی وفاق نے مسترد کردی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1192079/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران وزیرآباد میں عمران خان پر قاتلانہ حملے کے معاملے پر پنجاب حکومت کی جانب سے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) پر وفاقی حکومت نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1721352/centre-rejects-punjab-led-jit-on-wazirabad-shooting"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق وفاقی حکومت کا کہنا تھا کہ شفاف تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی میں خفیہ ادارے کا نمائندہ شامل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1191648"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کو مراسلہ ارسال کردیا جس میں کہا گیا کہ جےآئی ٹی میں شامل پولیس افسرغلام محمود ڈوگر نے ماضی میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے احکامات کی خلاف ورزی کی تھی اس لیے وفاقی حکومت انہیں جے آئی ٹی میں قبول نہیں کرےگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت داخلہ نے پنجاب حکومت کی تشکیل کردہ جے آئی ٹی میں قانونی خامیوں پر اعتراضات اٹھائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران وزیرآباد کی سیشن عدالت نے پنجاب حکومت کی تشکیل کردہ جے آئی ٹی کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کا بیان ریکارڈ کیا جائے، عدالت نے کہا کہ نئی معلومات کی بنیاد پر الگ ایف آئی آر درج کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈسٹرکٹ اور سیشن عدالت کے سیشن جج قاسم علی بھٹی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر کے اندراج کے بعد تفتیشی افسر پر لازم ہے کہ وہ ایف آئی آر میں وضاحتی بیان سے قطع نظر واقعہ کی شفاف تحقیقات کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جج نے وضاحت کی کہ تفتیشی افسر کو واقعہ سے متعلق موصول ہونے والی نئی معلومات پر ایک اور نئی ایف آئی آر درج نہیں کی جاسکتی اور نہ اس کی ضرورت ہے، عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے پی ٹی آئی لاہور کے سیکریٹری جنرل زبیر خان نیازی کی  درخواست نمٹا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پنجاب حکومت کو بھیجے گئے مراسلے میں وزارت داخلہ نے کہا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 19 (1) کے تحت جے آئی ٹی کی تشکیل کے لیے خفیہ ایجنسی سمیت کسی بھی دوسرے تحقیقاتی ایجنسی کے افسر کا شامل ہونا لازمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1191061"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزارت داخلہ کے مطابق جے آئی ٹی میں کُل 5 ارکان ہیں اور تمام ارکان کا تعلق پنجاب پولیس سے ہے،جے آئی ٹی میں کسی اور ایجنسی اور خفیہ ادارے کا نمائندہ شامل نہیں ہے جوانسداد دہشت کردی ایکٹ (اے ٹی اے) کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ پنجاب حکومت نے جے آئی ٹی کا سربراہ سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کو بنایا ان کو اسٹیبلیشمنٹ ڈویژن نے 5 نومبر کو معطل کر دیا تھا اور عارضی طورپر فیڈرل سروس ٹربیونل سے ریلیف ملا، ایسے آفیسر کو سربراہ مقرر کرنے سے شفاف تحقیق ممکن نہیں ہوں گیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مراسلے میں کہا گیا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی جے آئی ٹی مذکورہ ایکٹ کی خلاف ورزی ہے کیونکہ اس میں خفیہ ادارے سمیت کسی اور تحقیقاتی ایجنسی کے نمائندہ کو شامل نہیں کیا گیا اور ایک متنازع پولیس افسر کو جے آئی ٹی میں شامل کیا گیا ہے، اس پولیس افسر کے خلاف تادیبی کارروائی جاری ہے اور انہیں عارضی طور پر بحال کیا گیا ہے،  ایسے آفیسر کو سربراہ مقرر کرنے سے شفاف تحقیق ممکن نہیں ہوں گیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت داخلہ نے کہا کہ 6 روز کے اندر تشکیل دی گئی جے آئی ٹی شفاف تحقیقات کی عکاسی نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کو جے آئی ٹی میں آئی ایس آی اورانٹیلی جنس بیورو (آئی بی)  کے نمائندے شامل کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ یہ اچھا ہوگا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 19 (1) کے تحت تحقیقات کو شفاف بنانے کے لیے پنجاب حکومت اس جے آئی ٹی میں وفاقی ایجنسیز کے پیشہ ورانہ اور تجربہ کار افسران کو بھی شامل کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="جے-آئی-ٹی-نے-وفاقی-حکومت-کے-اعتراضات-نظرانداز-کردیے" href="#جے-آئی-ٹی-نے-وفاقی-حکومت-کے-اعتراضات-نظرانداز-کردیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;جے آئی ٹی نے وفاقی حکومت کے اعتراضات نظرانداز کردیے&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1190992"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جے آئی ٹی کے سربراہ لاہورکے سی سی پی او غلام محمود ڈوگر نے وفاقی حکومت کے تحفظات کو نظر انداز کرتے ہوئے پہلا اجلاس 16 نومبر کو بلایا تھا، سرکاری ذرائع کا کہنا تھا کہ اجلاس میں دیگر ارکان بھی شامل تھے جس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیرآباد میں جائے وقوع  کا دورہ کیا جائے گا اور گرفتار مشتبہ شخص کو تحویل  میں لے کرعینی شاہدین کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہناتھا کہ جے آئی ٹی کے اجلاس میں سابق وزیراعظم عمران خان پر قاتلانہ حملے کے پیچھے اصل مجرموں کا سراغ لگانے کے لیے دیگر نقطہ نظر پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، ذرائع کا کہنا تھا کہ واقعہ میں زخمی ہونے والے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان سمیت دیگر افراد کی میڈیکل رپورٹس کا اگلے اجلاس میں جائزہ لیا جائے گا&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران وزیرآباد میں عمران خان پر قاتلانہ حملے کے معاملے پر پنجاب حکومت کی جانب سے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) پر وفاقی حکومت نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1721352/centre-rejects-punjab-led-jit-on-wazirabad-shooting">رپورٹ</a></strong> کے مطابق وفاقی حکومت کا کہنا تھا کہ شفاف تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی میں خفیہ ادارے کا نمائندہ شامل کیا جائے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1191648"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کو مراسلہ ارسال کردیا جس میں کہا گیا کہ جےآئی ٹی میں شامل پولیس افسرغلام محمود ڈوگر نے ماضی میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے احکامات کی خلاف ورزی کی تھی اس لیے وفاقی حکومت انہیں جے آئی ٹی میں قبول نہیں کرےگی۔</p>
<p>وزارت داخلہ نے پنجاب حکومت کی تشکیل کردہ جے آئی ٹی میں قانونی خامیوں پر اعتراضات اٹھائے۔</p>
<p>اسی دوران وزیرآباد کی سیشن عدالت نے پنجاب حکومت کی تشکیل کردہ جے آئی ٹی کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کا بیان ریکارڈ کیا جائے، عدالت نے کہا کہ نئی معلومات کی بنیاد پر الگ ایف آئی آر درج کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔</p>
<p>ڈسٹرکٹ اور سیشن عدالت کے سیشن جج قاسم علی بھٹی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر کے اندراج کے بعد تفتیشی افسر پر لازم ہے کہ وہ ایف آئی آر میں وضاحتی بیان سے قطع نظر واقعہ کی شفاف تحقیقات کرے۔</p>
<p>جج نے وضاحت کی کہ تفتیشی افسر کو واقعہ سے متعلق موصول ہونے والی نئی معلومات پر ایک اور نئی ایف آئی آر درج نہیں کی جاسکتی اور نہ اس کی ضرورت ہے، عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے پی ٹی آئی لاہور کے سیکریٹری جنرل زبیر خان نیازی کی  درخواست نمٹا دی۔</p>
<p>دوسری جانب پنجاب حکومت کو بھیجے گئے مراسلے میں وزارت داخلہ نے کہا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 19 (1) کے تحت جے آئی ٹی کی تشکیل کے لیے خفیہ ایجنسی سمیت کسی بھی دوسرے تحقیقاتی ایجنسی کے افسر کا شامل ہونا لازمی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1191061"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وفاقی وزارت داخلہ کے مطابق جے آئی ٹی میں کُل 5 ارکان ہیں اور تمام ارکان کا تعلق پنجاب پولیس سے ہے،جے آئی ٹی میں کسی اور ایجنسی اور خفیہ ادارے کا نمائندہ شامل نہیں ہے جوانسداد دہشت کردی ایکٹ (اے ٹی اے) کی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ پنجاب حکومت نے جے آئی ٹی کا سربراہ سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کو بنایا ان کو اسٹیبلیشمنٹ ڈویژن نے 5 نومبر کو معطل کر دیا تھا اور عارضی طورپر فیڈرل سروس ٹربیونل سے ریلیف ملا، ایسے آفیسر کو سربراہ مقرر کرنے سے شفاف تحقیق ممکن نہیں ہوں گیں۔</p>
<p>مراسلے میں کہا گیا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی جے آئی ٹی مذکورہ ایکٹ کی خلاف ورزی ہے کیونکہ اس میں خفیہ ادارے سمیت کسی اور تحقیقاتی ایجنسی کے نمائندہ کو شامل نہیں کیا گیا اور ایک متنازع پولیس افسر کو جے آئی ٹی میں شامل کیا گیا ہے، اس پولیس افسر کے خلاف تادیبی کارروائی جاری ہے اور انہیں عارضی طور پر بحال کیا گیا ہے،  ایسے آفیسر کو سربراہ مقرر کرنے سے شفاف تحقیق ممکن نہیں ہوں گیں۔</p>
<p>وزارت داخلہ نے کہا کہ 6 روز کے اندر تشکیل دی گئی جے آئی ٹی شفاف تحقیقات کی عکاسی نہیں کرتی۔</p>
<p>وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کو جے آئی ٹی میں آئی ایس آی اورانٹیلی جنس بیورو (آئی بی)  کے نمائندے شامل کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ یہ اچھا ہوگا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 19 (1) کے تحت تحقیقات کو شفاف بنانے کے لیے پنجاب حکومت اس جے آئی ٹی میں وفاقی ایجنسیز کے پیشہ ورانہ اور تجربہ کار افسران کو بھی شامل کرے۔</p>
<h3><a id="جے-آئی-ٹی-نے-وفاقی-حکومت-کے-اعتراضات-نظرانداز-کردیے" href="#جے-آئی-ٹی-نے-وفاقی-حکومت-کے-اعتراضات-نظرانداز-کردیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>جے آئی ٹی نے وفاقی حکومت کے اعتراضات نظرانداز کردیے</h3>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1190992"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دوسری جانب جے آئی ٹی کے سربراہ لاہورکے سی سی پی او غلام محمود ڈوگر نے وفاقی حکومت کے تحفظات کو نظر انداز کرتے ہوئے پہلا اجلاس 16 نومبر کو بلایا تھا، سرکاری ذرائع کا کہنا تھا کہ اجلاس میں دیگر ارکان بھی شامل تھے جس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیرآباد میں جائے وقوع  کا دورہ کیا جائے گا اور گرفتار مشتبہ شخص کو تحویل  میں لے کرعینی شاہدین کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے۔</p>
<p>ان کا کہناتھا کہ جے آئی ٹی کے اجلاس میں سابق وزیراعظم عمران خان پر قاتلانہ حملے کے پیچھے اصل مجرموں کا سراغ لگانے کے لیے دیگر نقطہ نظر پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، ذرائع کا کہنا تھا کہ واقعہ میں زخمی ہونے والے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان سمیت دیگر افراد کی میڈیکل رپورٹس کا اگلے اجلاس میں جائزہ لیا جائے گا</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1192079</guid>
      <pubDate>Thu, 17 Nov 2022 09:45:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آصف چوہدریوجیہ احمد شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/11/1708234926a5b01.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/11/1708234926a5b01.png"/>
        <media:title>وفاقی حکومت نےکہا کہ  پنجاب حکومت جے آئی ٹی میں وفاقی ایجنسیز کے نمائندوں کو بھی شامل کرے—فائل فوٹو: ٹوئٹر پی ٹی آئی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
