<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 16:59:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 16:59:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا ڈائری (پہلا دن): میں نے قطر پہنچتے ہی کیا دیکھا؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1192150/</link>
      <description>&lt;p&gt;اس سلسلے کی بقیہ اقساط &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/trends/FIFADiary"&gt;&lt;strong&gt;یہاں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; پڑھیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;حسبِ روایت فیفا ورلڈ کپ 2022ء کور کرنے کی ذمہ داری ملی تو رخت سفر باندھا اور فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والے ملک قطر کے دارالحکومت دوحہ کی فلائٹ پکڑی۔ بس اس مرتبہ سوچا کہ صحافتی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اپنے تجربات بھی قلمبند کیے جائیں، تو یہ ڈائری حاظر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں 16 نومبر کی شب دوحہ پہنچا، ایئر پورٹ سے باہر نکلنے اور اپنی قیام گاہ تک کے پورے سفر کے دوران دوحہ میں ورلڈ کپ کی برینڈنگ تو خوب نظر آئی لیکن لوگوں میں وہ جوش و خروش نظر نہیں آیا جو فیفا ورلڈ کپ کے دیگر میزبان ممالک میں نظر آتا تھا۔ ممکن ہے کہ جیسے جیسے ورلڈ کپ کا پہلا میچ نزدیک آتا جائے ویسے ویسے عوام میں جوش و خروش بھی بڑھتا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/watch/?v=824255292165025" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوحہ میں ابتدائی چند دن میرا قیام ایک دوست کے گھر پر ہے۔ ایئرپورٹ سے اس کے گھر پہنچا تو رات کا وقت تھا۔ بلند و بالا عمارت کی کھڑکی سے باہر دُور تک جگمگاتی روشنیاں ہی نظر آرہی تھیں۔ اگلے روز سو کر اٹھا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک اچھا خاصا گنجان آباد علاقہ ہے۔ دُور ایک اسٹیڈیم بھی نظر آرہا تھا۔ بہرحال اس دن کا پہلا کام فیفا ورلڈ کپ کے لیے تیار کیے گئے میڈیا سینٹر جاکر اپنے صحافتی دستاویزات وصول کرنے کا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا نے اس ورلڈ کپ کے لیے ایک مرکزی میڈیا حب تیار کیا ہے جہاں تمام براڈ کاسٹرز اور پریس کام کریں گے۔ یقین جانیے کہ میڈیا سینٹر کو دیکھ کر آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اس ورلڈ کپ پر ہونے والے اخراجات کا اندازہ اس میڈیا سینٹر کو دیکھ کر ہی ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا سینٹر کے داخلی دروازے پر آپ کا استقبال ایک بہت بڑی سی مکڑی کرتی ہے۔ اس سے بچ کر آپ میڈیا سینٹر کے مرکزی ہال میں پہنچتے ہیں جہاں ڈھیروں میز کرسیاں لگی ہیں۔ ہال کی چھت بھی بہت خوبصورت انداز میں بنائی گئی ہے جہاں سے آنے والی قدرتی روشنی دن کے وقت ہال کو روشن رکھتی ہے۔ اس میڈیا سینٹر میں صحافیوں کے لیے ریسٹورینٹس اور اے ٹی ایم کی سہولت بھی موجود ہے۔ میڈیا سینٹر میں اس وقت معمول سے بہت ہی کم رش تھا لیکن مجھے یقین ہے کہ میچ کے دنوں میں یہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہرحال اس پہلے دن کا مجموعی احساس تو یہی ہے کہ بلاشبہ قطر نے اس ورلڈ کپ کے لیے بے تحاشہ خرچہ کیا ہے لیکن پھر بھی اب تک وہ جوش خروش نظر نہیں آرہا جو فیفا ورلڈ کپ کی روایت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/watch/?v=659229532354866" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں نے اس سے پہلے بھی 2 فیفا ورلڈ کپ کور کیے ہیں لیکن ان میں سے کوئی ورلڈ کپ بھی اتنا خشک نہیں تھا۔ اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ قطر کی آبادی ویسے بھی بہت کم ہے تو ممکن ہے کہ اس وجہ سے بھی عوامی سطح پر اس طرح کا جوش و جذبہ اور رونق نظر نہیں آئی۔ لیکن وہی بات کہ یہ ابھی پہلا دن ہے اور ممکن ہے کہ جیسے جیسے میچ قریب آئیں ویسے ویسے یہاں کا ماحول بھی تبدیل ہوتا رہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اس سلسلے کی بقیہ اقساط <a href="https://www.dawnnews.tv/trends/FIFADiary"><strong>یہاں</strong></a> پڑھیے۔</p>
<hr />
<p>حسبِ روایت فیفا ورلڈ کپ 2022ء کور کرنے کی ذمہ داری ملی تو رخت سفر باندھا اور فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والے ملک قطر کے دارالحکومت دوحہ کی فلائٹ پکڑی۔ بس اس مرتبہ سوچا کہ صحافتی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اپنے تجربات بھی قلمبند کیے جائیں، تو یہ ڈائری حاظر ہے۔</p>
<p>میں 16 نومبر کی شب دوحہ پہنچا، ایئر پورٹ سے باہر نکلنے اور اپنی قیام گاہ تک کے پورے سفر کے دوران دوحہ میں ورلڈ کپ کی برینڈنگ تو خوب نظر آئی لیکن لوگوں میں وہ جوش و خروش نظر نہیں آیا جو فیفا ورلڈ کپ کے دیگر میزبان ممالک میں نظر آتا تھا۔ ممکن ہے کہ جیسے جیسے ورلڈ کپ کا پہلا میچ نزدیک آتا جائے ویسے ویسے عوام میں جوش و خروش بھی بڑھتا جائے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'><div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/watch/?v=824255292165025" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure></p>
<p>دوحہ میں ابتدائی چند دن میرا قیام ایک دوست کے گھر پر ہے۔ ایئرپورٹ سے اس کے گھر پہنچا تو رات کا وقت تھا۔ بلند و بالا عمارت کی کھڑکی سے باہر دُور تک جگمگاتی روشنیاں ہی نظر آرہی تھیں۔ اگلے روز سو کر اٹھا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک اچھا خاصا گنجان آباد علاقہ ہے۔ دُور ایک اسٹیڈیم بھی نظر آرہا تھا۔ بہرحال اس دن کا پہلا کام فیفا ورلڈ کپ کے لیے تیار کیے گئے میڈیا سینٹر جاکر اپنے صحافتی دستاویزات وصول کرنے کا تھا۔</p>
<p>فیفا نے اس ورلڈ کپ کے لیے ایک مرکزی میڈیا حب تیار کیا ہے جہاں تمام براڈ کاسٹرز اور پریس کام کریں گے۔ یقین جانیے کہ میڈیا سینٹر کو دیکھ کر آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اس ورلڈ کپ پر ہونے والے اخراجات کا اندازہ اس میڈیا سینٹر کو دیکھ کر ہی ہوجاتا ہے۔</p>
<p>میڈیا سینٹر کے داخلی دروازے پر آپ کا استقبال ایک بہت بڑی سی مکڑی کرتی ہے۔ اس سے بچ کر آپ میڈیا سینٹر کے مرکزی ہال میں پہنچتے ہیں جہاں ڈھیروں میز کرسیاں لگی ہیں۔ ہال کی چھت بھی بہت خوبصورت انداز میں بنائی گئی ہے جہاں سے آنے والی قدرتی روشنی دن کے وقت ہال کو روشن رکھتی ہے۔ اس میڈیا سینٹر میں صحافیوں کے لیے ریسٹورینٹس اور اے ٹی ایم کی سہولت بھی موجود ہے۔ میڈیا سینٹر میں اس وقت معمول سے بہت ہی کم رش تھا لیکن مجھے یقین ہے کہ میچ کے دنوں میں یہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوگی۔</p>
<p>بہرحال اس پہلے دن کا مجموعی احساس تو یہی ہے کہ بلاشبہ قطر نے اس ورلڈ کپ کے لیے بے تحاشہ خرچہ کیا ہے لیکن پھر بھی اب تک وہ جوش خروش نظر نہیں آرہا جو فیفا ورلڈ کپ کی روایت ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'><div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/watch/?v=659229532354866" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure></p>
<p>میں نے اس سے پہلے بھی 2 فیفا ورلڈ کپ کور کیے ہیں لیکن ان میں سے کوئی ورلڈ کپ بھی اتنا خشک نہیں تھا۔ اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ قطر کی آبادی ویسے بھی بہت کم ہے تو ممکن ہے کہ اس وجہ سے بھی عوامی سطح پر اس طرح کا جوش و جذبہ اور رونق نظر نہیں آئی۔ لیکن وہی بات کہ یہ ابھی پہلا دن ہے اور ممکن ہے کہ جیسے جیسے میچ قریب آئیں ویسے ویسے یہاں کا ماحول بھی تبدیل ہوتا رہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1192150</guid>
      <pubDate>Sat, 19 Nov 2022 13:15:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمید وسیم)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/11/18135932f92cd0d.jpg?r=135939" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/11/18135932f92cd0d.jpg?r=135939"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
