<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:33:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:33:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا ڈائری (دوسرا دن): قطریوں کو ورلڈ کپ کا بخار آخر کب چڑھے گا؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1192232/</link>
      <description>&lt;p&gt;اس سلسلے کی بقیہ اقساط &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/trends/FIFADiary"&gt;&lt;strong&gt;یہاں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; پڑھیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;آج کا ایک اہم ایونٹ فیفا ورلڈ کپ کی دفاعی چیمپیئن فرانس کی پریس کانفرنس تھی۔ پریس کانفرنس کا وقت 12 بجے کا تھا لیکن اس سے پہلے سب سے اہم کام جمعے کی نماز کی ادائیگی کا تھا جس کا قطر میں وقت ساڑھے 11 بجے ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں نے ماضی میں جتنے ورلڈ کپ کور کیے ہیں ان کی نسبت قطر کا ورلڈ کپ اس وجہ سے مختلف ہے کہ اسلامی ملک ہونے کے باعث یہاں مساجد بہت ہیں اور نماز کی ادائیگی میں کسی قسم کی مشکل نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کی نماز ادا کرنے کے بعد فرانس کی پریس کانفرنس کور کرنے پہنچا اور ظاہر ہے کہ فرانس کے دفاعی چیمپئین ہونے کے ناطے یہ ایک اہم پریس کانفرنس تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/11/19084242a7765aa.jpg'  alt='فرانس کے مڈ فیلڈر یڈرین رابیوٹ پریس کانفرنس میں موجود ہیں&amp;mdash; تصویر: اے ایف پی  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فرانس کے مڈ فیلڈر یڈرین رابیوٹ پریس کانفرنس میں موجود ہیں— تصویر: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پریس کانفرنس میں فرانس کے 2 کھلاڑی لوکس ہرنینڈز اور ایڈرین رابیوٹ موجود تھے۔ یہ اچھی پریس کانفرنس رہی۔ چونکہ فرانس دفاعی چیمپئن ہے اور اس مرتبہ اس کے کئی کھلاڑی انجری کا شکار ہیں لہٰذا اس پر دباؤ بھی کچھ زیادہ ہے۔ پریس کانفرنس میں بھی یہی بات ہوئی کہ اس صورتحال میں فرانس کس طرح کھیلے گا۔ فرانس کی پریس کانفرنس کور کرنے کے بعد میں ویلز کی پریس کانفرس میں بھی گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس کانفرنس کے فارغ ہونے کے بعد میں اپنے دوست کے ساتھ کچھ کام نمٹانے چلا گیا۔ ان میں سب سے اہم کام یہ تھا کہ قطر کے ایئرپورٹ پر ہمیں جو مفت موبائل سم ملی تھی اسے ری چارج کروانا تھا۔ ہم نے سم ری چارج تو کروالی لیکن ابھی بھی جو انٹرنیٹ میرے پاس ہے وہ صرف 14 دن کے لیے ہے۔ یعنی اس ورلڈکپ کے دوران مجھے درمیان میں ایک بار پھر اسے ری چارچ کروانا پڑے گا۔ یہ مسئلہ صرف ووڈا فون کی مفت سم کے ساتھ ہے، اگر آپ اووریڈو کی سم لیں تو آپ کو پورے مہینے کا انٹرنیٹ مل سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/watch/?v=672693767706018" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد ہم دوحہ کارنیش گئے۔ یہ کارنیش ٹریفک کے لیے بند ہے اور ہم نے سوچا تھا کہ یہاں ہمیں شائقین کی بڑی تعداد نظر آئے گی مگر وہاں امید سے بہت کم لوگ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منظر بھی دیکھنے کو ملا کہ ایک شاہراہ کا حصہ خصوصی طور پر شائقین کے لیے مختص کیا گیا جسے برقی قمقموں اور ورلڈ کپ کی برینڈنگ سے سجایا گیا۔ یہی نہیں بلکہ اطراف کی عمارتوں پر بھی فٹبال کھلاڑیوں کی جہازی سائز کی تصاویر بھی لگائی گئیں لیکن اس شاہراہ پر اکا دکا افراد ہی نظر آئے۔ یہ ورلڈ کپ دنیا کے کسی اور حصے میں ہورہا ہوتا تو یقینی طور پر وہاں یہ جگہ بھری ہوئی ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ بہت سارے شائقین قطر کے بجائے دبئی میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ وہ میچ دیکھنے کے لیے دبئی سے یہاں آئیں گے اور پھر واپس دبئی چلے جائیں گے کیونکہ دبئی میں رہائش سستی ہے اور وہاں پابندیاں بھی کچھ کم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ کپ میں اب بس 2 دن ہی رہ گئے ہیں اور قطر نے اپنے آپ کو سجایا بھی خوب ہے لیکن اب تک شائقین کا رش نظر نہیں آیا۔ امید یہی ہے کہ جیسے جیسے ورلڈ کپ قریب آئے گا تو شاید لوگوں میں جوش و خروش بھی بڑھے گا۔ تو دیکھتے ہیں یہاں لوگوں کو ورلڈ کپ کا بخار کب چڑھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/watch/?v=931792837793777" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں تک قطر میں کھانے پینے کا تعلق ہے تو یہاں کوئی مخصوص قطری کھانے نظر نہیں آتے بلکہ عرب اور جنوبی ایشیائی کھانوں کا ایک مرکب سا نظر آتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں جتنے ریسٹورنٹس ہیں ان میں سے زیادہ تر بھارتی ریسٹورنٹس ہیں۔ عمومی طور یہاں آپ کو باربی کیو، پراٹھہ رول، شوارما وغیرہ مل جاتا ہے، یوں کھانے کے حوالے سے یہ ورلڈ کپ بہت حد تک پاکستان جیسا ہی محسوس ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اس سلسلے کی بقیہ اقساط <a href="https://www.dawnnews.tv/trends/FIFADiary"><strong>یہاں</strong></a> پڑھیے۔</p>
<hr />
<p>آج کا ایک اہم ایونٹ فیفا ورلڈ کپ کی دفاعی چیمپیئن فرانس کی پریس کانفرنس تھی۔ پریس کانفرنس کا وقت 12 بجے کا تھا لیکن اس سے پہلے سب سے اہم کام جمعے کی نماز کی ادائیگی کا تھا جس کا قطر میں وقت ساڑھے 11 بجے ہوجاتا ہے۔</p>
<p>میں نے ماضی میں جتنے ورلڈ کپ کور کیے ہیں ان کی نسبت قطر کا ورلڈ کپ اس وجہ سے مختلف ہے کہ اسلامی ملک ہونے کے باعث یہاں مساجد بہت ہیں اور نماز کی ادائیگی میں کسی قسم کی مشکل نہیں ہوتی۔</p>
<p>جمعے کی نماز ادا کرنے کے بعد فرانس کی پریس کانفرنس کور کرنے پہنچا اور ظاہر ہے کہ فرانس کے دفاعی چیمپئین ہونے کے ناطے یہ ایک اہم پریس کانفرنس تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/11/19084242a7765aa.jpg'  alt='فرانس کے مڈ فیلڈر یڈرین رابیوٹ پریس کانفرنس میں موجود ہیں&mdash; تصویر: اے ایف پی  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فرانس کے مڈ فیلڈر یڈرین رابیوٹ پریس کانفرنس میں موجود ہیں— تصویر: اے ایف پی</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس پریس کانفرنس میں فرانس کے 2 کھلاڑی لوکس ہرنینڈز اور ایڈرین رابیوٹ موجود تھے۔ یہ اچھی پریس کانفرنس رہی۔ چونکہ فرانس دفاعی چیمپئن ہے اور اس مرتبہ اس کے کئی کھلاڑی انجری کا شکار ہیں لہٰذا اس پر دباؤ بھی کچھ زیادہ ہے۔ پریس کانفرنس میں بھی یہی بات ہوئی کہ اس صورتحال میں فرانس کس طرح کھیلے گا۔ فرانس کی پریس کانفرنس کور کرنے کے بعد میں ویلز کی پریس کانفرس میں بھی گیا۔</p>
<p>پریس کانفرنس کے فارغ ہونے کے بعد میں اپنے دوست کے ساتھ کچھ کام نمٹانے چلا گیا۔ ان میں سب سے اہم کام یہ تھا کہ قطر کے ایئرپورٹ پر ہمیں جو مفت موبائل سم ملی تھی اسے ری چارج کروانا تھا۔ ہم نے سم ری چارج تو کروالی لیکن ابھی بھی جو انٹرنیٹ میرے پاس ہے وہ صرف 14 دن کے لیے ہے۔ یعنی اس ورلڈکپ کے دوران مجھے درمیان میں ایک بار پھر اسے ری چارچ کروانا پڑے گا۔ یہ مسئلہ صرف ووڈا فون کی مفت سم کے ساتھ ہے، اگر آپ اووریڈو کی سم لیں تو آپ کو پورے مہینے کا انٹرنیٹ مل سکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'><div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/watch/?v=672693767706018" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure></p>
<p>اس کے بعد ہم دوحہ کارنیش گئے۔ یہ کارنیش ٹریفک کے لیے بند ہے اور ہم نے سوچا تھا کہ یہاں ہمیں شائقین کی بڑی تعداد نظر آئے گی مگر وہاں امید سے بہت کم لوگ تھے۔</p>
<p>یہ منظر بھی دیکھنے کو ملا کہ ایک شاہراہ کا حصہ خصوصی طور پر شائقین کے لیے مختص کیا گیا جسے برقی قمقموں اور ورلڈ کپ کی برینڈنگ سے سجایا گیا۔ یہی نہیں بلکہ اطراف کی عمارتوں پر بھی فٹبال کھلاڑیوں کی جہازی سائز کی تصاویر بھی لگائی گئیں لیکن اس شاہراہ پر اکا دکا افراد ہی نظر آئے۔ یہ ورلڈ کپ دنیا کے کسی اور حصے میں ہورہا ہوتا تو یقینی طور پر وہاں یہ جگہ بھری ہوئی ہوتی۔</p>
<p>اس حوالے سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ بہت سارے شائقین قطر کے بجائے دبئی میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ وہ میچ دیکھنے کے لیے دبئی سے یہاں آئیں گے اور پھر واپس دبئی چلے جائیں گے کیونکہ دبئی میں رہائش سستی ہے اور وہاں پابندیاں بھی کچھ کم ہیں۔</p>
<p>ورلڈ کپ میں اب بس 2 دن ہی رہ گئے ہیں اور قطر نے اپنے آپ کو سجایا بھی خوب ہے لیکن اب تک شائقین کا رش نظر نہیں آیا۔ امید یہی ہے کہ جیسے جیسے ورلڈ کپ قریب آئے گا تو شاید لوگوں میں جوش و خروش بھی بڑھے گا۔ تو دیکھتے ہیں یہاں لوگوں کو ورلڈ کپ کا بخار کب چڑھتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'><div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/watch/?v=931792837793777" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure></p>
<p>جہاں تک قطر میں کھانے پینے کا تعلق ہے تو یہاں کوئی مخصوص قطری کھانے نظر نہیں آتے بلکہ عرب اور جنوبی ایشیائی کھانوں کا ایک مرکب سا نظر آتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں جتنے ریسٹورنٹس ہیں ان میں سے زیادہ تر بھارتی ریسٹورنٹس ہیں۔ عمومی طور یہاں آپ کو باربی کیو، پراٹھہ رول، شوارما وغیرہ مل جاتا ہے، یوں کھانے کے حوالے سے یہ ورلڈ کپ بہت حد تک پاکستان جیسا ہی محسوس ہوتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1192232</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Nov 2022 00:15:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمید وسیم)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/11/19084242ef9a18f.jpg?r=084338" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/11/19084242ef9a18f.jpg?r=084338"/>
        <media:title>Soccer Football - FIFA World Cup Qatar 2022 Preview, Doha, Qatar - November 18, 2022 .Fans take pictures with the FIFA World Cup logo on the Corniche Promenade ahead of the FIFA World Cup Qatar 2022 REUTERS/Fabrizio Bensch
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
