<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 20:57:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 20:57:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹریڈنگ کارپوریشن کو چین اور آذربائیجان سے یوریا درآمد کرنے کی اجازت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1192245/</link>
      <description>&lt;p&gt;کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کو حکومت سے حکومت  (جی ٹو جی) کے درمیان معاہدے کے تحت چین اور آذربائیجان سے ایک لاکھ 60 ہزار  ٹن یوریا درآمد کرنے کی اجازت دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1721775/ecc-allows-tcp-to-import-urea-from-china-and-azerbaijan"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی زیر صدارت ای سی سی اجلاس میں وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے اسٹریٹجک ذخائر کے لیے 2 لاکھ ٹن یوریا کی خریداری کے لیے جمع کرائی گئی سمری پر غور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت صنعت و پیداوار نے اجلاس کو چینی کمپنیوں سے درآمد کرنے کے حوالے سے پہلے سے طے شدہ مختلف آپشنز کے بارے میں بھی آگاہ کیا جنہوں نے کم ترین ریٹ پر یوریا کی فراہمی  پر رضا مندی ظاہر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی سی پی کو جی ٹو جی  کی بنیاد پر چین سے ایک لاکھ 25 ہزار ٹن یوریا اور آذربائیجان سے 35 ہزار ٹن یوریا درآمد کرنے کی اجازت دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1190576"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی نے ٹی سی پی کو بقیہ 40 ہزار ٹن یوریا درآمد کے لیے قابل عمل مواقع تلاش کرنے کی بھی ہدایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی نے وزارت توانائی کی جانب سے ڈیزل کی طلب و رسد کے درمیان موجود فرق کو پورا کرنے کے لیے پیش کی گئی سمری پر بھی غور کیا جب کہ  آئل مارکیٹنگ کمپنیاں عالمی منڈیوں میں بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر ہائی اسپیڈ ڈیزل
درآمد نہیں کر رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی نے تجویز کیا کہ لاگو پالیسی کے مطابق  پی ایس او  کا اوسط پریمیم
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی  قیمتوں پر لاگو کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اگر  آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ہائی اسپیڈ ڈیزل پی ایس او کے اوسط پریمیم   کے مقابلے میں زیادہ پریمیم پر   درآمد کرتی  ہیں تو قیمت کے فرق کو مد نظر رکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، وزارت توانائی کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ 31 دسمبر تک کسی بھی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے ہائی اسپیڈ ڈیزل کو زیادہ شرح پر درآمد کرنے کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے ذریعے فرق کی ادائیگی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توقع ہے کہ اس اقدام سے  آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ڈیزل درآمد کرنے کی جانب راغب کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گندم کی بوائی اور سیلاب کے بعد بحالی کے لیے جاری اقدامات کے باعث ملک میں ڈیزل کی  طلب میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ای سی سی نے وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے  لیے 11 کروڑ 50 روپے کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ کی بھی منظوری دی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کو حکومت سے حکومت  (جی ٹو جی) کے درمیان معاہدے کے تحت چین اور آذربائیجان سے ایک لاکھ 60 ہزار  ٹن یوریا درآمد کرنے کی اجازت دے دی۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1721775/ecc-allows-tcp-to-import-urea-from-china-and-azerbaijan">رپورٹ</a></strong> کے مطابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی زیر صدارت ای سی سی اجلاس میں وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے اسٹریٹجک ذخائر کے لیے 2 لاکھ ٹن یوریا کی خریداری کے لیے جمع کرائی گئی سمری پر غور کیا گیا۔</p>
<p>وزارت صنعت و پیداوار نے اجلاس کو چینی کمپنیوں سے درآمد کرنے کے حوالے سے پہلے سے طے شدہ مختلف آپشنز کے بارے میں بھی آگاہ کیا جنہوں نے کم ترین ریٹ پر یوریا کی فراہمی  پر رضا مندی ظاہر کی۔</p>
<p>ٹی سی پی کو جی ٹو جی  کی بنیاد پر چین سے ایک لاکھ 25 ہزار ٹن یوریا اور آذربائیجان سے 35 ہزار ٹن یوریا درآمد کرنے کی اجازت دی گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1190576"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ای سی سی نے ٹی سی پی کو بقیہ 40 ہزار ٹن یوریا درآمد کے لیے قابل عمل مواقع تلاش کرنے کی بھی ہدایت کی۔</p>
<p>ای سی سی نے وزارت توانائی کی جانب سے ڈیزل کی طلب و رسد کے درمیان موجود فرق کو پورا کرنے کے لیے پیش کی گئی سمری پر بھی غور کیا جب کہ  آئل مارکیٹنگ کمپنیاں عالمی منڈیوں میں بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر ہائی اسپیڈ ڈیزل
درآمد نہیں کر رہیں۔</p>
<p>ای سی سی نے تجویز کیا کہ لاگو پالیسی کے مطابق  پی ایس او  کا اوسط پریمیم
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی  قیمتوں پر لاگو کیا جائے گا۔</p>
<p>تاہم، اگر  آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ہائی اسپیڈ ڈیزل پی ایس او کے اوسط پریمیم   کے مقابلے میں زیادہ پریمیم پر   درآمد کرتی  ہیں تو قیمت کے فرق کو مد نظر رکھا جائے گا۔</p>
<p>دوسری جانب، وزارت توانائی کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ 31 دسمبر تک کسی بھی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے ہائی اسپیڈ ڈیزل کو زیادہ شرح پر درآمد کرنے کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے ذریعے فرق کی ادائیگی کی جائے گی۔</p>
<p>توقع ہے کہ اس اقدام سے  آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ڈیزل درآمد کرنے کی جانب راغب کرے گا۔</p>
<p>گندم کی بوائی اور سیلاب کے بعد بحالی کے لیے جاری اقدامات کے باعث ملک میں ڈیزل کی  طلب میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ ای سی سی نے وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے  لیے 11 کروڑ 50 روپے کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ کی بھی منظوری دی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1192245</guid>
      <pubDate>Sat, 19 Nov 2022 14:55:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (کلبِ علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/11/19111006a170a03.jpg?r=111010" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/11/19111006a170a03.jpg?r=111010"/>
        <media:title>وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا—تصویر: پی آئی ڈی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
