<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 10:57:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 10:57:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دنیا بھر کے مرد حضرات کی تولیدی صلاحیت متاثر ہونے کا انکشاف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1192275/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک حالیہ جامع تجزیے اور تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یورپ اور امریکی افراد کے بعد اب ایشیائی اور افریقی مرد حضرات کی تولیدی صلاحیت گزشتہ ایک دہائی میں کم ہوگئی اور اگر یہی سلسلہ برقرار رہا تو مستقبل میں شرح پیدائش میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آکسفورڈ اکیڈمی کے طبی جریدے ’ہیومن ری پروڈکشن اپڈیٹ‘ میں &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://academic.oup.com/humupd/advance-article/doi/10.1093/humupd/dmac035/6824414?login=false"&gt;&lt;strong&gt;شائع رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق مرد حضرات کی تولیدی صلاحیت سے متعلق امریکا، اسرائیل، برازیل، اسپین اور ڈنمارک سمیت دیگر ممالک کے ماہرین نے جامع ڈیٹا کا جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے دنیا بھر کے 53 ممالک کے مرد حضرات کے ’اسپرم کاؤنٹ‘ اور ’اسپرم کنسنٹریشن‘ کے ڈیٹا کا جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے پہلی بار ایشیائی، لاطینی امریکی اور افریقی ممالک کے ڈیٹا کا بھی جائزہ لیا اور پہلے سے جاری تحقیق میں مزید سالوں کے ڈیٹا کو بھی شامل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے سے جاری رہنے والی تحقیق میں ماہرین نے 1990 سے 2000 تک کے ڈیٹا کا جائزہ لیا تھا مگر ماہرین نے 2011 سے 2018 کے ڈیٹا کو بھی تحقیق کا حصہ بنایا اور آخری سات سال کا ڈیٹا براعظم افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکا سے لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1112436"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق سے معلوم ہوا کہ گزشتہ ایک دہائی سے بھی کم عرصے کے دوران دنیا بھر کے مرد حضرات کے ’اسپرم کاؤنٹ‘ کی تعداد میں نمایاں یعنی ڈھائی فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی جب کہ اس سے قبل والی دہائی میں یہ کمی دو فیصد سے بھی کم تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جائزے سے معلوم ہوا کہ گزشتہ ایک دہائی میں مرد حضرات کے اسپرم کاؤنٹ اور کنسنٹریشن میں مزید کمی ہوئی اور یہ کمی ڈھائی فیصد تک جا پہنچی اور اگر یہی رفتار رہی تو مستقبل میں جوڑوں کو اولاد کے حصول میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں اور اس سے انسانی نسل کی بقا کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق فوری طور پر یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اسپرم کاؤنٹ کی تعداد میں کمی سے مرد حضرات کی زرخیزی بھی متاثر ہوئی ہے، یعنی کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ مرد حضرات میں باپ بننے کی صلاحیت میں بھی اتنی ہی کمی ہوئی جتنی ان کے اسپرم کاؤنٹ می ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم جائزے سے معلوم ہوا کہ نہ صرف اسپرم کاؤنٹ بلکہ اسپرم کنسنٹریشن میں کمی ہونے سے مرد حضرات کی تولیدی صلاحیت متاثر ہوئی ہے اور اس کی مزید تنزلی کا سلسلہ جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں مرد حضرات کی تولیدی صلاحیت متاثر ہونے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں، البتہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی، طرز زندگی، غیر صحت مند غذا، کیمیکلز کے زیادہ اخراج اور استعمال سمیت بعض جینیاتی بیماریوں کے بڑھ جانے کی وجہ سے اسپرم کاؤنٹ متاثر ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے مرد حضرات کے اسپرم کاؤنٹ کی تعداد میں کمی کا ایک ممکنہ سبب خواتین کی ناقص تولیدی صحت بھی بتایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسدانوں نے دنیا بھر کے ماہرین کو تجویز دی کہ مرد حضرات کے اسپرم کاؤنٹ اور کنسنٹریشن کو بڑھانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، دوسری صورت میں معاملہ اس نہج پر پہنچ سکتا ہے، جہاں پر اسے قابو کرنا مشکل ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک حالیہ جامع تجزیے اور تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یورپ اور امریکی افراد کے بعد اب ایشیائی اور افریقی مرد حضرات کی تولیدی صلاحیت گزشتہ ایک دہائی میں کم ہوگئی اور اگر یہی سلسلہ برقرار رہا تو مستقبل میں شرح پیدائش میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔</p>
<p>آکسفورڈ اکیڈمی کے طبی جریدے ’ہیومن ری پروڈکشن اپڈیٹ‘ میں <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://academic.oup.com/humupd/advance-article/doi/10.1093/humupd/dmac035/6824414?login=false"><strong>شائع رپورٹ</strong></a> کے مطابق مرد حضرات کی تولیدی صلاحیت سے متعلق امریکا، اسرائیل، برازیل، اسپین اور ڈنمارک سمیت دیگر ممالک کے ماہرین نے جامع ڈیٹا کا جائزہ لیا۔</p>
<p>ماہرین نے دنیا بھر کے 53 ممالک کے مرد حضرات کے ’اسپرم کاؤنٹ‘ اور ’اسپرم کنسنٹریشن‘ کے ڈیٹا کا جائزہ لیا۔</p>
<p>ماہرین نے پہلی بار ایشیائی، لاطینی امریکی اور افریقی ممالک کے ڈیٹا کا بھی جائزہ لیا اور پہلے سے جاری تحقیق میں مزید سالوں کے ڈیٹا کو بھی شامل کیا۔</p>
<p>پہلے سے جاری رہنے والی تحقیق میں ماہرین نے 1990 سے 2000 تک کے ڈیٹا کا جائزہ لیا تھا مگر ماہرین نے 2011 سے 2018 کے ڈیٹا کو بھی تحقیق کا حصہ بنایا اور آخری سات سال کا ڈیٹا براعظم افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکا سے لیا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1112436"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تحقیق سے معلوم ہوا کہ گزشتہ ایک دہائی سے بھی کم عرصے کے دوران دنیا بھر کے مرد حضرات کے ’اسپرم کاؤنٹ‘ کی تعداد میں نمایاں یعنی ڈھائی فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی جب کہ اس سے قبل والی دہائی میں یہ کمی دو فیصد سے بھی کم تھی۔</p>
<p>جائزے سے معلوم ہوا کہ گزشتہ ایک دہائی میں مرد حضرات کے اسپرم کاؤنٹ اور کنسنٹریشن میں مزید کمی ہوئی اور یہ کمی ڈھائی فیصد تک جا پہنچی اور اگر یہی رفتار رہی تو مستقبل میں جوڑوں کو اولاد کے حصول میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں اور اس سے انسانی نسل کی بقا کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق فوری طور پر یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اسپرم کاؤنٹ کی تعداد میں کمی سے مرد حضرات کی زرخیزی بھی متاثر ہوئی ہے، یعنی کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ مرد حضرات میں باپ بننے کی صلاحیت میں بھی اتنی ہی کمی ہوئی جتنی ان کے اسپرم کاؤنٹ می ہوئی۔</p>
<p>تاہم جائزے سے معلوم ہوا کہ نہ صرف اسپرم کاؤنٹ بلکہ اسپرم کنسنٹریشن میں کمی ہونے سے مرد حضرات کی تولیدی صلاحیت متاثر ہوئی ہے اور اس کی مزید تنزلی کا سلسلہ جاری ہے۔</p>
<p>تحقیق میں مرد حضرات کی تولیدی صلاحیت متاثر ہونے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں، البتہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی، طرز زندگی، غیر صحت مند غذا، کیمیکلز کے زیادہ اخراج اور استعمال سمیت بعض جینیاتی بیماریوں کے بڑھ جانے کی وجہ سے اسپرم کاؤنٹ متاثر ہوئے ہیں۔</p>
<p>ماہرین نے مرد حضرات کے اسپرم کاؤنٹ کی تعداد میں کمی کا ایک ممکنہ سبب خواتین کی ناقص تولیدی صحت بھی بتایا۔</p>
<p>سائنسدانوں نے دنیا بھر کے ماہرین کو تجویز دی کہ مرد حضرات کے اسپرم کاؤنٹ اور کنسنٹریشن کو بڑھانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، دوسری صورت میں معاملہ اس نہج پر پہنچ سکتا ہے، جہاں پر اسے قابو کرنا مشکل ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1192275</guid>
      <pubDate>Sat, 19 Nov 2022 16:45:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/11/191622071f8853a.jpg?r=162254" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/11/191622071f8853a.jpg?r=162254"/>
        <media:title>اسپرم کاؤنٹ میں سالانہ ڈھائی فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی، تحقیق—فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
