<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:34:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:34:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا ڈائری (تیسرا دن): سہولیات دینے میں قطر نے روس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1192326/</link>
      <description>&lt;p&gt;اس سلسلے کی بقیہ اقساط &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/trends/FIFADiary"&gt;&lt;strong&gt;یہاں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; پڑھیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;کل کے دن کا آغاز فیفا کے صدر گیانی انفینٹینو کی دھماکے دار پریس کانفرنس سے ہوا۔ اس پریس کانفرنس میں انہوں نے قطر پر تنقید کرنے والے مغربی میڈیا اور یورپ پر ایک سخت حملہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’میں یورپی ہوں، دوسروں کو اخلاقی درس دینے سے قبل ہمیں چاہیے کہ 3 ہزار سال سے دنیا بھر میں ہم جو کچھ کرتے رہے ہیں، اس پر اگلے 3 ہزار سال تک معافی مانگیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید اس تند و تیز پریس کانفرنس کا مقصد یہی تھا کہ ساری توجہ قطر سے ہٹ کر فیفا ورلڈ کپ پر آجائے اور ایسا ہوا بھی۔ اس کے بعد بھی کچھ پریس کانفرنسیں ہوئیں لیکن اگر وہ نہ بھی ہوتیں تو نقصان نہ ہوتا کیونکہ فیفا کے صدر کی پریس کانفرنس نے ہی سارا کام کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SkyNews/status/1593903373061083137"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہرحال دن بھر کی رپورٹیں لکھنے کے بعد میرا فیفا فین فیسٹیول جانا ہوا اور وہاں جاکر لگا کہ اب قطر میں ورلڈ کپ کی گہما گہمی شروع ہوگئی ہے۔ وہاں دنیا بھر سے آئے ہوئے شائقین نظر آئے۔ مجھے ارجنٹینا اور میکسیکو کے علاوہ کولمبیا کے فینز بھی نظر آئے حالانکہ کولمبیا اس ورلڈ کپ میں نہیں ہے۔ وہاں تونس کے فینز بھی تھے جو بہت ہی پُرجوش تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فین فیسٹیول میں میری ملاقات ایک بھارتی فین سے ہوئی جس نے برازیل میں ہونے والے ورلڈ کپ میں بھی شرکت کی تھی۔ اس نے قطر کے فین فیسٹیول کے حوالے سے بتایا کہ یہ برازیل میں ہونے والے فین فیسٹیول سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/watch/?v=533725818610345" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر نے کچھ سڑکیں گاڑیوں کے لیے بند کی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے کافی پیدل چلنا پڑا لیکن اس سے فائدہ یہ ہوا کہ ہمیں شائقین کی تعداد کا کچھ اندازہ ہوگیا۔ ہمیں پیدل چلتے ہوئے، بس اور میٹرو لیتے ہوئے ہزاروں شائقین نظر آئے۔ پھر قطر کا موسم بھی کچھ تبدیل ہوا ہے، کل رات کے وقت ٹھنڈی ہوائیں چلنا شروع ہوگئی تھیں جس سے گرمی میں کمی آئی۔ یوں قطر میں اب تک جو بوریت کا احساس تھا وہ ختم ہوتا محسوس ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ورلڈ کپ میں روس نے شائقین کو سہولیات دینے کا آغاز کیا تھا جس میں ویزا آن آرائیول اور میٹرو میں مفت سفر جیسی سہولیات شامل تھیں۔ یہاں قطر نے بھی ایسا ہی کچھ کیا ہے۔ میں نے اوپر ذکر کیا کہ قطر میں ورلڈ کپ کے دوران کچھ سڑکیں ٹریفک کے لیے بند ہیں تو قطر نے ان سڑکوں پر شائقین کے لیے مفت بسیں چلائی ہیں جن کے ذریعے شائقین پورے کارنیش پر ایک مقام سے دوسرے مقام تک سفر کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویسے تو ایونٹ شروع ہونے سے پہلے ہی تمام ٹکٹس فروخت ہوچکے ہیں مگر اس ورلڈکپ کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ہم ایشیائی لوگوں کو یہ اپنا ایونٹ لگ رہا ہے۔ یہاں جو فینز بھی آئیں گے وہ ہم پاکستانیوں یا جنوبی ایشیائی باشندوں کے لیے کچھ اپنے جیسے ہوں گے۔ کل فین فیسٹیول میں بھی میں نے دیکھا کہ یہاں امریکی اور یورپی فینز سے زیادہ جنوبی امریکا، ایشیا اور خاص طور پر جنوبی ایشیا کے فینز تھے۔ اس وجہ سے ایسا لگ رہا ہے کہ یہ ورلڈ کپ اس خطے کا ورلڈ کپ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اس سلسلے کی بقیہ اقساط <a href="https://www.dawnnews.tv/trends/FIFADiary"><strong>یہاں</strong></a> پڑھیے۔</p>
<hr />
<p>کل کے دن کا آغاز فیفا کے صدر گیانی انفینٹینو کی دھماکے دار پریس کانفرنس سے ہوا۔ اس پریس کانفرنس میں انہوں نے قطر پر تنقید کرنے والے مغربی میڈیا اور یورپ پر ایک سخت حملہ کیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ’میں یورپی ہوں، دوسروں کو اخلاقی درس دینے سے قبل ہمیں چاہیے کہ 3 ہزار سال سے دنیا بھر میں ہم جو کچھ کرتے رہے ہیں، اس پر اگلے 3 ہزار سال تک معافی مانگیں‘۔</p>
<p>شاید اس تند و تیز پریس کانفرنس کا مقصد یہی تھا کہ ساری توجہ قطر سے ہٹ کر فیفا ورلڈ کپ پر آجائے اور ایسا ہوا بھی۔ اس کے بعد بھی کچھ پریس کانفرنسیں ہوئیں لیکن اگر وہ نہ بھی ہوتیں تو نقصان نہ ہوتا کیونکہ فیفا کے صدر کی پریس کانفرنس نے ہی سارا کام کردیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SkyNews/status/1593903373061083137"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>بہرحال دن بھر کی رپورٹیں لکھنے کے بعد میرا فیفا فین فیسٹیول جانا ہوا اور وہاں جاکر لگا کہ اب قطر میں ورلڈ کپ کی گہما گہمی شروع ہوگئی ہے۔ وہاں دنیا بھر سے آئے ہوئے شائقین نظر آئے۔ مجھے ارجنٹینا اور میکسیکو کے علاوہ کولمبیا کے فینز بھی نظر آئے حالانکہ کولمبیا اس ورلڈ کپ میں نہیں ہے۔ وہاں تونس کے فینز بھی تھے جو بہت ہی پُرجوش تھے۔</p>
<p>اس فین فیسٹیول میں میری ملاقات ایک بھارتی فین سے ہوئی جس نے برازیل میں ہونے والے ورلڈ کپ میں بھی شرکت کی تھی۔ اس نے قطر کے فین فیسٹیول کے حوالے سے بتایا کہ یہ برازیل میں ہونے والے فین فیسٹیول سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'><div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/watch/?v=533725818610345" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure></p>
<p>قطر نے کچھ سڑکیں گاڑیوں کے لیے بند کی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے کافی پیدل چلنا پڑا لیکن اس سے فائدہ یہ ہوا کہ ہمیں شائقین کی تعداد کا کچھ اندازہ ہوگیا۔ ہمیں پیدل چلتے ہوئے، بس اور میٹرو لیتے ہوئے ہزاروں شائقین نظر آئے۔ پھر قطر کا موسم بھی کچھ تبدیل ہوا ہے، کل رات کے وقت ٹھنڈی ہوائیں چلنا شروع ہوگئی تھیں جس سے گرمی میں کمی آئی۔ یوں قطر میں اب تک جو بوریت کا احساس تھا وہ ختم ہوتا محسوس ہورہا ہے۔</p>
<p>گزشتہ ورلڈ کپ میں روس نے شائقین کو سہولیات دینے کا آغاز کیا تھا جس میں ویزا آن آرائیول اور میٹرو میں مفت سفر جیسی سہولیات شامل تھیں۔ یہاں قطر نے بھی ایسا ہی کچھ کیا ہے۔ میں نے اوپر ذکر کیا کہ قطر میں ورلڈ کپ کے دوران کچھ سڑکیں ٹریفک کے لیے بند ہیں تو قطر نے ان سڑکوں پر شائقین کے لیے مفت بسیں چلائی ہیں جن کے ذریعے شائقین پورے کارنیش پر ایک مقام سے دوسرے مقام تک سفر کرسکتے ہیں۔</p>
<p>ویسے تو ایونٹ شروع ہونے سے پہلے ہی تمام ٹکٹس فروخت ہوچکے ہیں مگر اس ورلڈکپ کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ہم ایشیائی لوگوں کو یہ اپنا ایونٹ لگ رہا ہے۔ یہاں جو فینز بھی آئیں گے وہ ہم پاکستانیوں یا جنوبی ایشیائی باشندوں کے لیے کچھ اپنے جیسے ہوں گے۔ کل فین فیسٹیول میں بھی میں نے دیکھا کہ یہاں امریکی اور یورپی فینز سے زیادہ جنوبی امریکا، ایشیا اور خاص طور پر جنوبی ایشیا کے فینز تھے۔ اس وجہ سے ایسا لگ رہا ہے کہ یہ ورلڈ کپ اس خطے کا ورلڈ کپ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1192326</guid>
      <pubDate>Tue, 22 Nov 2022 21:36:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمید وسیم)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/11/20140536dcf55bc.jpg?r=140540" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/11/20140536dcf55bc.jpg?r=140540"/>
        <media:title>Soccer Football - FIFA World Cup Qatar 2022 - FIFA Fan Festival Opening - FIFA Fan Festival at Al Bidda Park, Doha, Qatar - November 19, 2022.Fans watching a stage during the opening of the FIFA fan festival REUTERS/Marko Djurica
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
